یورپی یونین میں انگریزی پر پابندی کا امکان | Daily Jang News
| |
Home Page
ہفتہ 28 رمضان المبارک 1438ھ 24 جون 2017ء
June 30, 2016 | 01:51 pm
یورپی یونین میں انگریزی پر پابندی کا امکان

European Union May Imposed Ban On English Language

European Union May Imposed Ban On English Language
انگریزی یورپ میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے تاہم برطانیہ کی علیحدگی کے بعد یورپی یونین میں انگریزی کوبطور سرکاری زبان منسوخ کرنےکا امکان ہے۔

یورپی یونین میں ہر رکن ملک کو برسلز میں بنیادی زبان نامزد کرنے کا حق حاصل ہےلیکن سوائے برطانیہ کے کسی نے بھی انگریزی زبان کو رجسٹرڈ نہیں کرایا ۔خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یورپی یونین سے برطانیہ کے اخراج کے بعد اس کی قانونی حیثیت ختم ہوجائے گی۔

پولینڈ سے تعلق رکھنے والی یورپی یونین کی رکن پارلیمان دانوتا ہبنر نے کہا کہ’’ انگریزی کام کاج کی زبان کے طور پر زیر استعمال رہ سکتی ہے۔ اسے سرکاری زبان کے طور پر برقرار رکھنے کے لیے تمام رکن ممالک کی رضامندی ضروری ہوگی۔‘‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ’’ اس کے علاوہ رکن ممالک کو ایک سے زیادہ سرکاری زبان اختیار کرنے کی اجازت دینے کےلیے قوانین تبدیل بھی کیے جاسکتے ہیں۔‘‘

انگریزی کا شمار ان تین زبانوں میں ہوتا ہے جو یورپی یونین کے پیٹنٹس نافذ کرنے کےلیے استعمال کی جاتی ہیں۔اس سے انگریزی زبان بولنے والے محققین اور کمپنیوں کو دوسری زبانیں بولنے والے حریفوں پر ایک طرح کی سبقت حاصل ہوجاتی ہے۔

یورپی یونین کی دستاویزات اور قانونی متن کا رکن یونین کی تمام 24 سرکاری زبانوں میں ترجمہ کیا جاتا ہے۔ اگر انگریزی کی حیثیت ختم ہوگئی تو پھر برطانویوں کو بھی ترجمے کرنے پڑیں گے۔

یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ انگریزی روز مرہ کے استعمال کی بنیادی زبان کے طور پر اپنی حیثیت برقرار رکھے گی۔

1990 کے عشرے تک یورپی یونین کے اداروں پر فرانسیسی زبان کا غلبہ تھا، پھر سوئیڈن، فن لینڈ اور آسٹریا کی یونین میں شمولیت سے توازن بگڑ گیا، جسے وسطی اور مشرقی یورپی ممالک نے مزید شدید کردیا، جنہوں نے انگریزی کو دوسری زبان کے طور پر اپنالیا۔

برٹش کونسل کے مطابق برطانیہ کے مستقبل کے لیے 10 اہم ترین زبانیں ہیں جن میں ہسپانوی، عربی، فرانسیسی، مندارن چینی، جرمن، پرتگالی، اطالوی، روس، ترک اور جاپانی شامل ہیں۔