• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سیانے کہتے ہیں کہ دیوار کی دوسری جانب پر دیس ہے اور پر دیس کی مشکلات صرف وہی شخص جان سکتا ہے جو ان مصائب سے گزراہو ۔ پردیس ایک ایسا لفظ جس کے ادا کرتے ہی کلیجہ منہ کوآتا ہے اور کچھ درد بھری خوشی کا احساس بھی ۔ اس کی کئی وجوہ ہیں۔جب آپ کسی بھی بیرون ملک میں جاتے ہیں اور اسے اپنامسکن بنانا چاہتے ہیں تو آپ کو تین طر ح کے مسائل کا سامنا کر نا پڑتا ہے ۔

نمبر1۔جس ملک میں آپ آئے ہیں وہا ں کا موسم ، رہن سہن اور آئین ۔ان مشکلات کا حل اسی ملک میں رہتے ہو ئے کر نا ہو تا ہے ۔رہن سہن ،معاشرت اورآئین کو سمجھیں، موسم کا عادی بنیں اور جو مسائل پیدا ہو ں وہ مقامی حکومت سے حل کرائیں۔

نمبر2۔اپنے ہی ہم وطنو ں سے مسائل کا پیدا ہو نا ،جس میں لین دین ، کاروبار ، تنخواہ اور دیگر معاملات شامل ہیں۔

نمبر3۔اپنے وطن سے مسائل کا حل کرانا ،جس میں وہ معاملات جو اپنی حکومت سے متعلقہ ہو ں ،یعنی پاکستان واپسی ، ریاستی ادارو ں کے مسائل ، پاسپورٹ اور ائیر پورٹس کے مسائل وغیرہ ہیں،ہم مسئلہ نمبر 3 کے متعلق بات کریں گے،یعنی وہ تمام مسائل جو سمندر پار پاکستانیو ں کو اپنے ملک اور حکومت سے ہو تے ہیں ان کی نشاندہی کریں گے ۔

1۔اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے ہوائی اڈوں کی رونق اوورسیز تارکین وطن کی وجہ سے ہے۔ ہر روز ہزاروں کی تعداد میں ان بین الاقوامی ہوائی اڈوں سے اوورسیز تارکین وطن سفر کا آغاز اور اختتام کرتے ہیں۔ ہم بیرون وطن جن ممالک میں جاتے ہیں وہاں رہائش اختیار کرتےہیں، وہاں تو ہماری آمد پر مسکراہٹ کے ساتھ ہمیں خوش آمدید کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس جب ہم اسلام آباد، پشاور، لاہور اور کراچی کے ہوائی اڈوں پر اترتے ہیں تو امیگریشن اور کسٹم والے بیزار، پریشان اور مایوس چہروں کے ساتھ اس طرح برتاؤ کرتے ہیں جیسے انہیں یہ تکلیف ہورہی ہو کہ ہم لوگ واپس اپنے وطن کیوں آگئے ہیں۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ اپنے تمام ایئر پورٹس پر ڈیوٹی ادا کرنے والے مرد و خواتین کو ٹریننگ دے کہ اوورسیز مسافروں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں۔ اگر ہوسکے تو ایئر پورٹس کے ملازمین کو مسکرانا سکھا دیں تو اس سے پاکستان کا امیج خوب صورت اور اچھا لگنے لگے گا۔ مسکرانے کے لیے کوئی معاوضہ اور قیمت بھی ادا نہیں کرنا پڑتی۔ اگر یہ لوگ اوورسیز مسافروں کو دیکھ کر لبوں پر مسکراہٹ بکھیر دیں تو یہ بھی بڑی بات ہوگی۔

2۔بیرون ملک مقیم بے شمار پاکستانیوں کے جائیدادوں پر قبضے ہیں اور مطالبہ ہے کہ پنجاب میں زمینوں کا ریکارڈ جلد از جلد کمپیوٹرائز کیاجائے، جس سے صورت حال بہتر بنانے میں خاصی مدد ملے گی۔

3۔بیرون ملک مقیم پاکستانیوں پر پاکستان کے قانون ساز اداروں کی رکنیت اور وہاں مختلف عہدے سنبھالنے پر پابندی کے قانون کو ختم کرانااور اس سلسلہ میں پارلیمنٹ میں نئی قانون سازی ہونی چاہیے ۔

4۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل حل کرانے کے لیے پاکستان میں خصوصی اسپیڈی کورٹس کا قیام۔

5۔ تارکین وطن کی نسلوں کو ایسا پیکج دیں تاکہ وہ پاکستان اور آزاد کشمیر میں آکر اپنے علمی جوہر دکھا سکیں ،جس سے نہ صرف خطے کو تعلیمی فائدہ ہوگا۔ وہاں دیار غیر میں بسنے والی نوجوان نسل کا اپنے ملک سے رابط بھی مضبوط ہوگا۔

6۔بیرون ممالک رہنے والے تمام پاکستانیوں کی ایک بہت سستی تفریح اور ضرورت تھی کہ وہ اپنے وطن میں اپنے پیاروں، ماں، باپ، عزیز و ں سے ٹیلیفون کے ذریعے رابطہ رکھتے تھے، حکومت کے چند لوگوں کو اربوں ڈالرز کا فائدہ پہنچوانے کے لئے انٹرنیشنل کال پر دس گنا قیمتیں، ٹیکس وغیرہ کے نام سے بڑھا دیں، ہائیکورٹ کے فیصلے میں اس اضافے کو واپس لینے کی یقین دہانی کروا ئی گئی لیکن تاحال کالز بدستور مہنگی ہیں ۔

9۔دنیا کی بہترین ہوائی سروس ہو نے کے باوجود پاکستانی ہمیشہ قومی ائیر لائن کو ترجیح دیتے ہیں ، لیکن یہ سروس تکلیف دہ ہونے کی وجہ سے بہت زیادہ پر یشانی کا سا منا کر نا پڑتا ہے ، حکومت پاکستان پی آئی اے کی سروس کو بہتر کرے اور انٹرنیشنل لیول کی سہو لیات فراہم کرے ۔ جس میں وقت کی پابندی سب سے اہم ہے ۔

یہ وہ مسائل ہیں جن کی نشاندہی کی جا رہی ہے ،اب اوورسیز کے لیڈران اور پاکستان کی سیاسی جماعتو ں کے ونگز کے صدور کو ان پر نو ٹس لینا چا ہیے اور اپنی کمیونٹی کو سہولیات فراہم کر نی چاہیے ۔

امجدعلی……(شارجہ)

تازہ ترین