فیصلوں پر عمل نہیں ہورہا، سپریم کورٹ، وفاق اور صوبے فیصلوں کو کمزور سمجھتے ہیں، انہیں پی سی او دور سے 21ویں صدی میں لائینگے
| |
Home Page
ہفتہ 28 رمضان المبارک 1438ھ 24 جون 2017ء
June 30, 2016 | 12:00 am
فیصلوں پر عمل نہیں ہورہا، سپریم کورٹ، وفاق اور صوبے فیصلوں کو کمزور سمجھتے ہیں، انہیں پی سی او دور سے 21ویں صدی میں لائینگے

Todays Print

اسلام آباد( نیوز ایجنسیاں )سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدالتی فیصلوں پر عمل نہیں ہو رہا ہے، وفاق اور صوبے فیصلوں کو کمزور سمجھتے ہیں، حکومتیں سمجھتی ہیں ان کے اقدامات چیلنج نہیں ہوسکتے، انہیں پی سی او دور سے 21؍ ویں صدی میں لائیں گے۔ دوران سماعت جسٹس شیخ عظمت نے ریمارکس دیئے کہ حکومتیں عدالتی فیصلوں کو کمزور رہی ہیں، مارگلہ ہلز نیشنل پارک کی تصاویر دیکھ کر فیصلہ کرینگے ذمہ داران کا کیا کرنا ہے۔عدالت عظمی ٰنے آئندہ سماعت پر متعلقہ ڈی پی اوز، ایس پیز، ایس ایچ اوز اور سی ڈی کے ممبر انوائرمنٹ کو طلب کر لیا،وفاق، پنجاب اورخیبر پختونخوا کی حکومت سے بھی جواب مانگ لیا۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کو سپریم کورٹ میں مارگلہ ہلز پر درختوں کی کٹائی اور سٹون کرشنگ کے حوالے سے از خود نوٹس کی سماعت جسٹس شیخ عظمت کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کی۔ اس موقع پر جسٹس شیخ عظمت کا اپنے ریمارکس میں کہنا تھا کہ عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد نہیں ہو رہا، وفاق اور صوبے عدالتی فیصلوں کو کمزور سمجھتے ہیں۔عدالت عظمیٰ نے اسٹون کرشرز کی درخواست پر وفاق، پنجاب اور کے پی کے حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کہا کہ وفاق اور صوبائی حکومتیں سمجھتی ہیں ان کے اقدامات کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے مارگلہ ہلز نیشنل پارک کی 2013 اورموجودہ سیٹلائٹ تصاویر طلب کر لیں اور جسٹس شیخ عظمت کا کہنا تھا کہ تصاویر دیکھ کر فیصلہ کریں گے کہ ذمہ داران کا کیا کرنا ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر متعلقہ ڈی پی اوز، ایس پیز، ایس ایچ اوز اور سی ڈی کے ممبر انوائرمنٹ کو طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 20جولائی تک ملتوی کردی۔