افغان مہاجرین کے قیام میں توسیع پر خیبر پختونخوا حکومت کا اعتراض کیمپ افغانستان منتقل کرنے کیلئے مذاکرات کریں، نواز شریف
| |
Home Page
ہفتہ 28 رمضان المبارک 1438ھ 24 جون 2017ء
June 30, 2016 | 12:00 am
افغان مہاجرین کے قیام میں توسیع پر خیبر پختونخوا حکومت کا اعتراض کیمپ افغانستان منتقل کرنے کیلئے مذاکرات کریں، نواز شریف

Todays Print

پشاور(نمائندہ جنگ) خیبر پختونخوا حکومت نے افغان مہاجرین کے قیام میں مزید6ماہ کی توسیع  پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے معاملہ وفاقی حکومت کیساتھ اٹھانے کا فیصلہ کیا  ہے اور کہا ہے کہ اگر مرکزی حکومت نے افغان مہاجرین کو طویل عرصہ تک رکھنا ہے تو پھر تمام مہاجرین کی رجسٹریشن اور قیام کیلئےٹھوس اقدامات کرے کیونکہ افغان مہاجرین کی آڑ میں ازبک اور چیچن پاکستان میں رہ رہے ہیں‘ خیبر پختونخوا میں غیر قانونی طورپر مقیم افغان مہاجرین کیخلاف ایکشن جاری رہے گا جس کا 30جون سے کوئی تعلق نہیں ،دریں اثناء مہاجرین کی پکڑ دھکڑ کے خلاف افغان سفیر آج وزیر اعلیٰ سے ملاقات کریں گے۔کے پی کے حکومت کے ترجمان کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا وفاق کا حصہ ہے اس لئے وہ پاکستان کے بین الاقوامی معاہدات کا احترام کرتا ہے لیکن اگر وفاقی حکومت نے افغان مہاجرین کو پاکستان میں طویل عرصہ تک رکھنا ہے تو ان کے قیام اور رجسٹریشن کیلئے مناسب اقدامات بھی کرے کیونکہ پاکستان میں 50فیصد افغان باشندے غیر قانونی طور پر مقیم ہیں جن کی کوئی رجسٹریشن ہوئی ہے اور نہ ہی ان کا کوئی ریکارڈ ہے بلکہ ان افغان مہاجرین کی آڑ میں کثیر تعداد میں ازبک اور چیچن بھی پا کستا ن میں رہ رہے ہیں جو پورے ملک خاص کر صوبہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورت حال کا موجب بن رہے ہیں لہذا وفاقی حکومت ان غیر قانونی افغان مہاجرین کی رجسٹریشن کا بندوبست کرتے ہوئے تمام افغان مہاجرین کی واپسی کے حتمی ٹائم فریم کا اعلان کرے کیونکہ یہ مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے‘ تر جما ن کے مطابق لاکھوں افغان مہاجرین نہ صرف خیبر پختونخوا کے انفرااسٹرکچر پر بوجھ ہیں بلکہ صوبہ کی معیشت اور کاروبار پر بھی ان لوگوں کا قبضہ ہے‘ غیر قانونی افغان مہاجرین کیخلاف کریک ڈاؤن معمول کی کارروائی کا حصہ ہے جس کا30جون اور افغان مہاجرین کی مدت کے خاتمہ سے کوئی تعلق نہیں، غیر قانونی مہاجرین کیخلا ف کریک ڈاؤن اور ان کو ڈی پورٹ کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا‘ دوسری جانب افغان سفیر ڈاکٹر عمر زخیل وال تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے ملاقات کے بعد خیبر پختونخوا میں افغان مہاجرین کی پکڑ دھکڑ اور ان کےخلاف کریک ڈاؤن کے خاتمہ کیلئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک سے ملاقات کریں گے۔