وزیراعظم کی واپسی پر استقبال کی حکمت عملی اچھی ہے، یہ سیاست کا وقت ہے،نجم سیٹھی
| |
Home Page
پیر یکم شوال المکرم 1438ھ 26 جون 2017ء
June 30, 2016 | 12:00 am
وزیراعظم کی واپسی پر استقبال کی حکمت عملی اچھی ہے، یہ سیاست کا وقت ہے،نجم سیٹھی

Todays Print

کراچی(ٹی وی رپورٹ) سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کی وزیراعظم نواز شریف کی وطن واپسی پر شاندار استقبال کی حکمت عملی بہت اچھی ہے، یہ اخلاقیات کا نہیں سیاست کا وقت ہے، دوستوں اور اپوزیشن کو یہ دکھانا ضروری ہے کہ عوام ہمارے ساتھ ہے، سیلاب سے نمٹنے کیلئے اقدامات وفاقی اور صوبائی حکومتوں دونوں کی ذمہ داری ہیں، وفاقی حکومت کو سیلاب کنٹرول کرنے اور پانی ذخیرہ کرنے کیلئے ڈیم بنانے ہوں گے، دس بلین ڈالر پاکستان کی واٹر اکانومی پر لگادیئے جائیں تو اس کے بہترین معاشی اثرات سامنے آئیں گے، ترکی نے اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے کردوں اور داعش دونوں کو اپنا مخالف بنالیا ہے۔وہ جیو نیوز کے پروگرام ”آپس کی بات“ میں میزبان منیب فاروق سے گفتگو کررہے تھے۔ترکی میں دہشتگردی کی لہر پر تجزیہ کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ ترکی میں کرد علیحدگی پسند اور داعش کے لوگ حملے کررہے ہیں، ترکی نے اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے کردوں اور داعش دونوں کو اپنا مخالف بنالیا ہے، داعش وہاں عوامی مقامات پر جبکہ کرد سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنارہے ہیں، اتاترک ایئرپورٹ پر حالیہ حملہ بھی داعش نے کیا ہے، ترکی پہلے شامی صدر بشار الاسد کے خلاف داعش اور القاعدہ سمیت ہر قسم کے گروپوں کی حمایت کرتا تھا مگر جب ترکی نے داعش پر حملے شروع کردیئے تو انہوں نے بھی ترکی کے خلاف دہشتگردی کی کارروائی شروع کردی، ترکی کا کردوں کے ساتھ معاہدہ تھا لیکن جب اس نے داعش کی مدد شروع کی تو کرد ترکی کے خلاف ہوگئے کیونکہ داعش کرد علاقوں پر قبضے کررہی تھی۔ ”جائیداد کی خرید و فروخت میں ٹیکس چوری اب ممکن نہیں رہے گی“کے موضوع پر تجزیہ کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ جائیداد کی خرید و فروخت میں بڑے پیمانے پر کالا دھن سفید کیا جارہا تھا کیونکہ وہاں پیسہ کم دکھانا پڑتاہے اور اسی حساب سے ٹیکس بھی کم دینا ہوتا ہے، ابھی تک جائیداد کی قیمتوں کا تعین مارکیٹ ویلیو کے مطابق ہوتا آیا ہے لیکن اب مارکیٹ ریٹ کا فیصلہ حکومت کرے گی، یہ ایک قسم کا نیا ڈی سی ریٹ بن جائے گا اور اس سے کم پر رجسٹریشن نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات کے بعد مختصر مدت کیلئے جائیداد کی خرید و فروخت کا کام آہستہ ہوجائے گا، وہی لوگ جائیداد خریدیں گے جن کے پاس وائٹ پیسہ ہے اور وہ پورے پیسے دینا چاہتے ہیں، ٹیکس بڑھنے کے ساتھ جائیداد کی قیمتیں بھی گریں گی جس کی وجہ سے پراپرٹی سیکٹر میں مزید سرمایہ کاری آئے گی۔منیب فاروق کے سوال کیا حکومت سیلابوں سے نمٹنے کیلئے تیار ہے؟ کا جواب دیتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ سیلاب سے نمٹنے کیلئے اقدامات وفاقی اور صوبائی حکومتوں دونوں کی ذمہ داری ہیں، این ڈی ایم اے کا کام پیسے خرچ کر کے چیزوں کو ٹھیک کرنا نہیں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مدد کرنا ہے، وفاقی حکومت کو سیلاب کنٹرول کرنے اور پانی ذخیرہ کرنے کیلئے ڈیم بنانے ہوں گے، پاکستان وہ ملک ہے جہاں سیلاب آتے ہیں لیکن منصوبہ بندی کے فقدان کی وجہ سے اگلے بیس سال میں یہاں پانی کی شدید کمی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبے پر 42بلین ڈالر خرچ کیے جارہے ہیں جس کے آگے جانے کا راستہ بند پڑا ہے، اس میں سے صرف دس بلین ڈالر پاکستان کی واٹر اکانومی پر لگادیئے جائیں تو اس کے بہترین معاشی اثرات سامنے آئیں گے، ہماری زرعی پیداوار بڑھے گی جس سے نہ صرف ملک میں اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں کم ہوجائیں گی بلکہ برآمدات میں بھی اضافہ ہوگا، پنجاب حکومت میٹرو پراجیکٹس کے آدھے پیسے بھی اسپتالوں پر لگادیتی تو عوام کی صحت پر اچھا اثر پڑتا۔ ملکی سیاسی صورتحال پر تجزیہ کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی وزیراعظم نواز شریف کی وطن واپسی پر شاندار استقبال کی حکمت عملی بہت اچھی ہے، کچھ لوگ کہہ رہے ہیں وزیراعظم وطن واپسی پر کراچی جائیں مگر میرا خیال ہے کہ یہ اخلاقیات کا نہیں سیاست کا وقت ہے، اس وقت مسلم لیگ ن چاروں طرف سے گھری ہوئی ہے، مسلم لیگ ن کے لوگ بھی کہتے ہیں ستمبر گزر گیا تو ٹھیک ہے، اس صورتحال میں مسلم لیگ ن کیلئے اپنی طاقت کا مظاہرہ ضروری ہے، دوستوں اور اپوزیشن کو یہ دکھانا ضروری ہے کہ عوام ہمارے ساتھ ہے، اگر اپوزیشن سڑکوں پر نکل سکتی ہے تو ہمارے لوگ بھی سڑکوں پر نکل سکتے ہیں، اگر پی ٹی آئی کے ساتھ دوست نہیں ہوئے تو حکومت انہیں سنبھال لے گی۔پی ٹی آئی کا آئین معطل کیے جانے پر تجزیہ کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے انٹراپارٹی الیکشن اور الیکشن کمیشن کہاں چلے گئے ہیں، جمہوریت نہ پی ٹی آئی میں ہے نہ مسلم لیگ ن میں ہے، پی ٹی آئی نے تو اپنے پارٹی آئین کو معطل کردیا ہے، اگر یہ ملکی آئین کو معطل کر کے پاور میں آجائیں تو خوش ہو ں گے، سب کا حال ایک ہی نظرا ٓتا ہے۔