Dr Hussain Ahmed Paracha - کرم مانگتا ہوں عطا مانگتا ہوں - column - 2016-06-30
| |
Home Page
بدھ 03 شوال المکرم 1438ھ 28 جون 2017ء
ڈاکٹرحسین احمد پراچہ
June 30, 2016 | 12:00 am
کرم مانگتا ہوں عطا مانگتا ہوں

Karam Mangta Hoon Atta Mangta Hoon

مشہور نعت خواں اور روح کے تاروں کو وجد میں لانے والے امجد فرید صابری کے بہیمانہ قتل نے مجھے لرزہ براندام کر رکھا ہے۔ مجھے کئی بار شہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں اذنِ باریابی نصیب ہوا ہے۔ ہر بار مدینہ سے وقت رخصت میں بار دیگر حاضری کی درخواست پیش کرکے آتا ہوں۔ مدینہ میں کئی بار کی باسعادت حاضری کے باوجود میں جب امجد فرید صابری کی انتہائی گمبھیر اور پرتاثیر آواز میں ان کی شہرہ آفاق نعت، کہ جو ایک طرح سے ان کا خاندانی ورثہ بن چکی ہے، کا پہلا مصرع سنتا ہوں تو میرے بدن پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے اور آنسو میری آنکھوں سے برسات کی مانند رواں ہوجاتے اور روضہ رسول پر حاضری کی تڑپ مجھے بے چین کردیتی ہے۔
تاجدارِ حرم ہو نگاہِ کرم
امجد فرید صابری کے جنازے میں بلامبالغہ لاکھوں سوگوار موجود تھے۔ گویا سارا شہر امڈ آیا تھا ایسے مواقع کے لئے شاعر نے یہ مصرع کہا تھا۔
اک شخص سارے شہر کو ویران کرگیا۔
ویرانی سی کوئی ویرانی ہے، اداسی سی کوئی اداسی ہے، بے چینی سی کوئی بے چینی ہے اور بے بسی سی کوئی بے بسی ہے۔ اس سے بڑی اور کیا بے بسی ہوگی کہ گزشتہ تیس برس سے شہر پر قاتلوں، بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلرز کا راج ہے اور پوری قوم اس درد کا مستقل درماں دریافت کرنے سے عاجز ہے۔ ایک طرف چیف جسٹس آف سندھ ہائی کورٹ کے بیٹے کو اغوا کرکے پیغام دیا گیا کہ ہم کہاں تک جاسکتے ہیں اور دوسری طرف درویش صفت قوال کو بے دردی سے ان کے اپنے علاقے میں موت کے گھاٹ اتار کر یہ جتلایا گیا کہ ہم اب بھی وہ سب کچھ کرسکتے ہیں جو ہم گزشتہ کئی دہائیوں سے کرتے چلے آرہے ہیں۔ میں سوچ رہا تھا کہ اس موقع پر ہر طرح کی مصلحت کو بالائے طاق رکھ کر پورا اور کھرا سچ کون بولےگا۔ بالآخر یہ عظیم سعادت جس شخص کے حصے میں آئی ہے اسی کا نام مصطفی کمال ہے۔ مصطفی کمال نے بالکل درست کہا کہ لوگ پوچھتے ہیں کہ قاتل کون ہے آئو میں بتاتا ہوں کہ امجد فرید صابری کے قاتل بھی وہی ہیں جو کراچی کی دیگر اہم شخصیات کے قاتل ہیں۔ ان اہم شخصیات کا خیال کرتا ہوں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ کس کس کا ذکر کروں جنہیں قاتلوں نے گزشتہ تیس برس میں قتل کردیا۔ سینکڑئوں بلکہ ہزاروں مقتولین کی اس فہرست میں قاتلوں کے اپنے بھی تھے اور پرائے بھی۔ کبھی شہر پر دھاک بٹھانے اور کبھی خوف و دہشت کی فضا پیدا کرنے کے لئے ڈاکٹروں کو قتل کردیا جاتا، کبھی علمائے کرام کو موت کے گھاٹ اتارا جاتا، کبھی وکیلوں کو موت کی اندھی وادی میں دھکیلا جاتا اور کبھی اساتذہ کرام کو موت کی نیند سلادیا جاتا۔ قتل کئے جانے والوں میں کیسی کیسی شہرہ آفاق اور نامور شخصیات شامل تھیں۔ ان میں آسمان علم و ادب کے مہتاب اور خدمت خلق کے لئے اپنا سب کچھ تہج دینے والے حکیم محمد سعید بھی شامل تھے۔ سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید کے قاتلوں کا ڈی آئی جی کراچی فاروق امین قریشی نے سراغ لگالیا۔ اس ضمن میں ایک سیاسی جماعت کے کئی ورکر گرفتار کرلئے گئے جنہیں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔ حکیم صاحب سے ہماری بھی عرصے سے یاداللہ تھی۔ سچا قومی درد اگر کسی کے سینے میں دیکھا تو وہ حکیم سعید تھے۔ وہ ریاض سعودی عرب پاکستان فورم کی ایک تقریب میں آئے تو منتظمین نے انہیں انٹرکانٹی نینٹل ہوٹل ٹھہرایا۔ حکیم صاحب نے وہاں ٹھہرنے سے انکار کردیا کہ میں کسی دوست کے ہاں ٹھہر جائوں گا۔ یہ اسراف نہ کریں۔ جب انہیں بتلایا گیا کہ ہماری تقریب بھی اسی ہوٹل میں منعقد ہوگی اور اس حوالے سے ہوٹل کی انتظامیہ نے مہمانوں کے لئے ایک دو کمرے بلامعاوضہ پیش کئے ہیں تو تب کہیں جاکر حکیم صاحب رضا مند ہوئے۔ حکیم صاحب نے اہل وطن کے لئے تادیر قائم رہنے والی علمی دانش گاہیں قائم کیں اور اعلیٰ درجے کی تحقیقی و علمی اور تہذیبی روایات کو فروغ دیا۔ کیسا المیہ ہے کہ تاریخ علم و دانش میں ہمارا نام ایک علم دشمن قوم کے طور پر لکھا جائے گا۔ ایک ایسی قوم جو علم دشمن ہی نہیں محسن کش بھی ہے۔
ایڈیٹر تکبیر جناب محمد صلاح الدین آج اس غم کی گھڑی میں بے پناہ یاد آرہے ہیں۔ جناب صلاح الدین سعودی عرب تشریف لاتے تو طائف ضرور آتے جہاں کبھی کبھی ان کی میزبانی اس فقیر کے حصے میں بھی آتی۔ صلاح الدین علامہ اقبال کے اس شعر کی عملی تصویر اور تفسیر
ہو حلقہ باراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
ان کا جرم کیا تھا جس کی بنا پر کراچی کے قاتلوں نے 4دسمبر 1994کو انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ان کا جرم صرف اور صرف اتنا تھا کہ وہ حق کو حق کہتے تھے اور اس سلسلے میں کسی مداہنت سے کام نہ لیتے تھے۔ جناب صلاح الدین نے اسلام اور پاکستان کی خاطر اپنے آرام و آسائش ، اپنی عزت و آبرو اور اپنی جان کی سلامتی کو عمر بھر دائو پر لگائے رکھا۔ اسلام اور پاکستان کے د شمنوں کے لئے ان کے دل میں کوئی نرم گوشہ نہ تھا۔ ان دشمنوں کو وہ ان کی کمیں گاہوں سے شاہراہ عام پر لے کر آتے اور ان کے مکروہ چہروں کے خوش رنگ نقاب نہایت مہارت کے ساتھ الٹ دیتے۔ اس جرم کی پاداش میں کراچی کے قاتلوں نے انہیں ہر طرح سے زچ کرنے کی کوشش کی۔ کراچی میں کوئی چھاپہ خانہ تکبیر شائع کرنے کی جرأت و جسارت نہ کرتا۔ اس دوران تکبیر لاہور سے شائع ہوتا رہا۔ جناب صلاح الدین وطن دشمنو ں کے خلاف بھرپور اور دو ٹوک تنقید کو اپنا حق سمجھتے تھے۔ اور اس سلسلے میں وہ کسی مزاحمت یا مصالحت کے قائل نہ تھے۔ جو لوگ دلیل کی زبان میں کسی کو قائل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے وہ بندوق کی نوک پر اپنی زبان منوانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک سیاسی جماعت کے کچھ کارکن پہلے جناب محمد صلاح الدین کا گھر جلانے اور پھر بھی جب وہ ’’راہ راست‘‘ پر نہ آئے تو پھر ماسوا اللہ کے آگے نہ جھکنے والے سر میں ایک دم سترہ گولیوں کی بوچھاڑ کردی گئی۔ 1994کے کراچی میں محمد صلاح الدین کی شہادت کے بعد بھی کئی بہت ہی نازک مقامات آئے ۔ 1998میں جب حکیم محمد سعید صاحب کو شہید کیا گیا تو میاں صاحب نے سندھ کی برسراقتدار جماعت کو تین دن کے اندر اندر قاتل حوالے کرنے کا الٹی میٹم دیا تھا پھر اس شہر بے اماں میں جب شہر آشوب اپنے نقطہ عروج پر پہنچا تو 12مئی 2007کا واقعہ پیش آیا جب قوت و اقتدار کے نشے میں چور ایک جماعت نے اپنی قیادت کے اشارے پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی پذیرائی کے لئے ایئرپورٹ جانے والوں کو تاک تاک کر نشانے مارےاور انہیں چڑیوں کی طرح پھڑکایا ۔ اب 2016میں آپریشن ضرب عضب کے بڑے مثبت نتائج سامنے آئے اور کراچی ایک بار پھر امن کا گہوارہ اور روشنیوں کا شہر بنتے ہوئے دکھائی دینے لگا تھا۔ کراچی کا مسئلہ بڑا پیچیدہ ہے۔ فوجی و نیم فوجی آپریشنوں سے وقتی طور پر ایک سیاسی جماعت کے دہشت گرد ادھر ادھر چھپ جاتے ہیں اور جب آپریشن کی شدت میں قدرے کمی آتی ہے تو وہ پھر سر اٹھا لیتے ہیں۔ ضرب عضب کے دو سالوں میں فوج اور رینجرز نے تو اپنا کام کیا ہے مگر حکمرانوں سیاست دانوں اور پولیس والوں نے اپنی ذمہ داری کما حقہ نہیں سنبھالی۔ اسی لئے پریشاں حال شہری اور کراچی میں امن کے متلاشی کبھی چیف جسٹس کی طرف اور کبھی آرمی چیف کی طرف دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں انتہائی قدم اگر ناگزیر ہے تو اٹھا کیوں نہیں دیتے۔ یقیناً کراچی میں انتہا ئی قدم اٹھانے کی ضرورت ہے اور وہ قدم یہ کہ ہر طرح کی مصالحت، مزاحمت اور مفاہمت سے ماورا ہو کر امن کے ہر دشمن کو ریاست کا دشمن سمجھا جائے اور اسے بلاتاخیر ٹھکانے لگایا جائے۔ آج ساری قوم امجد فرید صابری کی آواز میں آواز ملاکر عرش والے سے جھولی پھیلا کر دعا مانگتی ہے۔
کرم مانگتا ہوں عطا مانگتا ہوں
الٰہی میں تجھ سے دعا مانگتا ہوں