ای یو چھوڑ نے کے باوجود برطانیہ یورپ سے منہ نہیں موڑے گا، ڈیوڈ کیمروں
| |
Home Page
ہفتہ 28 رمضان المبارک 1438ھ 24 جون 2017ء
June 30, 2016 | 12:00 am
ای یو چھوڑ نے کے باوجود برطانیہ یورپ سے منہ نہیں موڑے گا، ڈیوڈ کیمروں

Todays Print

لندن(جنگ نیوز) ڈیوڈ کیمروں نے کہا کہ برطانیہ یورپی یونین چھوڑ دے تو بھی وہ یورپ سے منہ نہیں موڑے گا اور نہ اسے ایسا کرنا چاہئے۔ یورپی رہنمائوں کے ساتھ ووٹ ٹولیو کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ مستقبل میں تعلقات کی نوعیت چاہئے کچھ بھی ہو مگر ٹریڈا ینڈ سیکورٹی کوآپریشن اہم معاملات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی ووٹرز میں ’’امیگریشن‘‘شدید تشویش کا باعث تھا۔ جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے کہا کہ یورپی یونین کو ووٹ کے نتیجے کا احترام کرنا چاہئے تاہم جرمن سیاستدانوںنے اصرار کیا ہے کہ برطانیہ یورپی یونین کے تصورات سے چیری پک نہیں کرسکتا۔ قبل ازیں منگل کو چانسلر انجیلا مرکل نے کہا کہ برطانیہ اگر سنگل مارکیٹ تک رسائی برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اسے پھر فری موومنٹ کو قبول کرنا چاہئے۔ یورپی یونین کے رہنمائوں کے ڈنر اجلاس میں بریگزٹ ووٹ پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین سے انخلا کے لئے برطانیہ کو لازماً آرٹیکل 50 کے تحت قانون پراسس شروع کرنا چاہئے۔ کیمرون نے کہا کہ میں یہ معاملہ نئی حکومت کو ہینڈ اوور کردوں گا۔ ہم سب نے اتفاق کیا ہے کہ اس سے قبل کوئی رسمی یا غیر رسمی مذاکرات نہیں ہوسکتے۔ مسٹر مرکل نے کیا کہ کیمرون نے اس کا اظہار کیا کہ انہیں کس طرح مختلف نتیجے کی توقع تھا تاہم مرکل نے کہا کے ہم سیاستدان ہیں اور ہم ماتم کرنے میں زیادہ وقت صرف نہیں کرسکتے۔ ہم چاہتے تھے برطانوی نمائندے بتائیں کہ وہ یورپی یونین چھوڑنے سے متعلق کیا آئیڈیا رکھتے ہیں۔ یورپی یونین چھوڑنے کی درخواست میں کہا جائیگا کہ برطاینہ کس قسم کے تعلقات کا خواہاں ہے۔ لیکن کوئی نرم مذاکرات نہیں ہوں گے۔یورپی کمیشن کے صدر ژاں کلاڈ جنکر نے کہا کہ برطانیہ کے پاس آرٹیکل 50 کو متحرک کرنے کے لئے مہینوں کا وقت نہیں ہے اس کے ذریعے برطانیہ کی ای یو سے علیحدگی کا پراسس شروع ہوگا۔ اگر ریمین کیمپ کا کوئی فرد برطانوی وزیراعظم بنتا ہے تو پھر اس کی تقرری کے بعد اس میں دو ہفتے کا وقت لگ سکتا ہے اگر اگلا وزیراعظم لیوکیمپ سے ہوا تو پھر اس کام کو اس کی تقرری کے اگلے دن ہوجانا چاہئے ڈیوڈ کیمرون یورپی لیڈرز کو برطانوی ریفرنڈم کے نتائج سے آگاہ کررہے تھے۔ توقع ہے کہ یہ یورپی کونسل کے ساتھ ان کا آخری اجلاس ہے کیونکہ وہ ریفرنڈم کے بعدعہدہ چھوڑنے کا اعلان کرچکے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ برطانیہ یورپی یونین چھوڑ رہا ہے تو اسے یورپ سے منہ نہیں موڑنا چاہئے اور نہ وہ ایسا کرے گا۔ انہوںنے کہا کہ یہ میرے جانشین وزیر اعظم فیصلہ کریں گے کہ وہ یورپی یونین کی برطانیہ سے علیحدگی کے بارے میں مذاکرات میں کس طرح پیشرفت کرتے ہیں۔ افسوس اور مایوسی کے باوجود ریفرنڈم کے نتائج کو احترام کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے۔ یورپی یونین مذاکرات کے برطانوی پلان کے بارے میں زیادہ معلومات جاننے کی خواہاں ہے۔ میری خواہش تھی کہ میں ریفرنڈم جیت جاتا، لیکن یورپی یونین میں برطانوی کردار کے سوال کو حل کرنے کے لئے یہ ضروری تھا۔ کیمرون نے کہا کہ آپ جس پر یقین رکھتے ہیں اس کے لئے لڑیں اگر آپ فتح یاب ہوئے ہیں تو اچھا اگر ہارتے ہیں تو فیصلہ تسلیم کریں۔ کیمرون نے کہا کہ برطانیہ اور باقی یورپی یونین چاہتی ہے کہ برطانیہ کے انخلاء کے باوجود ہر ممکن قریبی تعلقات برقرار رہنے چاہئیں۔