• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعظم ، وزرائے اعلیٰ کے انتخابات اور کابینہ کی تشکیل کے بعد گورنرز کی تقرری اور نئے صدر مملکت کے حلف اٹھانے کے ساتھ جہاں ایک طرف انتقال اقتدار کے تمام مراحل مکمل ہوئے ، وہاں پی ٹی آئی حکومت کے پہلے سو دنوں میں سے 24دن بھی گزر گئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیراعظم عمران خان نے پہلے سو دنوں میںجس تبدیلی کے ایجنڈے پر عمل کرنے کا اعلان کیا تھا ، اُنکی حکومت نے اس سمت سفر کا آغاز بھی کر دیا ہے۔ لیکن جہاں اپوزیشن حکومت کی کاکردگی کو بڑی تنقیدی نظروں سے دیکھ رہی ہے وہاں عوام بھی حکومت کے چھوٹے سے چھوٹے فعل کو باریک بینی سے مانیٹر کر رہےہیں۔ عوام میں بلا تفریق ہر طبقے کے افراد شامل ہیں کیونکہ عمران خان سےعوام نے اتنی توقعات وابستہ کرلی ہیں کہ اب وہ ہر پل یہ نوٹ کرتے ہیں کہ تبدیلی اور بہتری آرہی ہے یا نہیں اور یہ اُسی کا نتیجہ ہے کہ اگر انتظامی معاملات میں کوئی سیاسی مداخلت ہوتی ہے یا حکومتی دعوئوں کے برعکس کوئی عمل سامنے آتا ہے تو وہ نہ صرف سوشل میڈیا کے ذریعے اس پر اپنا ردعمل دیتے ہیں بلکہ مین سٹریم میڈیا بھی اس کو اپنا ایجنڈا بنا لیتا ہے۔ نتیجتاًمعاملات سلجھائو کی بجائے الجھائو اور نا ن ایشو کی طرف چلنا شروع ہو جاتے ہیں ، جس کا نقصان صرف اور صرف ملک کا ہے کیونکہ اب اگر ملک کی بہتری کیلئے کوئی کام ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے تو ایک خاص سوچ رکھنے والوں کی یہی کوشش ہوگی کہ مایوسی پھیلائی جائے تاکہ حکومت بہتری کا ایجنڈا پورا نہ کر سکے ۔ ایسے حالات میں بہترین نتائج کیلئے سیاسی ٹوٹکے ہی کار آمد ہو سکتے ہیں، بالکل زبیدہ آپا ( مرحومہ) کے گھریلو ٹوٹکوں کی طرح، کیونکہ کچھ رپورٹس یہ سامنے آئی ہیں کہ گزشتہ دو دہائی میں گھریلو جھگڑوں میں کمی اور ا سموتھ خاندانی تعلقات میں ان ٹوٹکوں کا بڑا مثبت کردار رہاہے۔ ذیل میں چند سیاسی ٹوٹکے حاضرہیںجن پر عمل کرکے مطلوبہ نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں۔

-1حکومت کوچاہئے کہ وہ اپنے کان اور آنکھیں کھلی رکھے ، لیکن زبان بند رکھے، اُس پر جو منفی تنقید ہوتی ہے اُسکو بڑے غور سے سُنے اور کھلی آنکھوں سے محفوظ بھی کرے ۔ پھر اسمیں سے بہتری کا پہلو نکال کر زبان سے منفی رد عمل دینے کی بجائے مثبت حل نکالے تو عوام خود کھلی آنکھوں سے دیکھ لیںگے۔

-2تمام قومی و صوبائی وزارتوں ، محکموں اور افسران کی ضرورت کے مطابق آٹھ سو سی سی سے لیکر 18سو سی سی تک کی صرف ایک گاڑی کی سہولت کے بعد باقی تمام گاڑیاں اُسی طرح نیلام کر دی جائیں جس طرح وزیراعظم ہائوس کی نیلام کی جارہی ہیں۔ فروخت سے حاصل ہونیوالا پیسہ فوری طو ر پر قومی اور صوبائی خزانے میں جمع کرا کے عوام کو یہ یقین دلایا جائے کہ اُن کے ٹیکسوں کے پیسے کا ضیاع نہیں ہورہا ، عوام بھی اسی جذبے سے کفایت شعاری اختیار کرے ، اس سے اربوں روپے کی پٹرول کی مد میں بھی بچت ہوگی ۔

-3ایک اندازے کے مطابق ملک بھر میں گیارہ سو بڑی سرکاری رہائش گاہیں ہیں جن کی دیکھ بھال اور آرائش پر سالانہ اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں ان سب کو فروخت کر کے قومی خزانے کو بھرا جائے اور ہر شہر اور ضلع میں ضلع بھر کی انتظامیہ کوایک کالونی میں رہائش دی جائے ۔ سب سے بڑا گھر کمشنر کا ایک کینال سے بڑا نہ ہو—باقی نیچے تک اسی فارمولے کے تحت الاٹ منٹ ہو۔ یہ سیاسی ٹوٹکہ پہلے 60دنوں میں ہی مطلوبہ نتائج دے سکتاہے۔

-4ملک بھر میں ریلوے کی لاکھو ں ایکڑ اراضی قبضے میں ہے۔ اس کو قانونی تحفظ کے ساتھ نیلام کر کے کھربوں روپے اکٹھے کئے جاسکتے ہیں۔


-5قانونی تحفظ کیساتھ اختیارات کی منتقلی نچلی سطح پر کر کے تعلیم ، صحت ، امن و امان اور انصاف کو یقینی بنایا جائے ، چھوٹے اضلاع سے اکٹھا ہونیوالے ریونیو کا زیادہ سے زیادہ حصہ اُسی پر خرچ کا فارمولا اپنایا جائے اور اپنی مدد آپکے تحت مقامی لوگوں کے ذریعے چلایا جائے ۔ بہترین طریقے سے مقامی طرز حکومت چلانے پر وہاں کے لوگوں کو ٹیکسوں میں بہت زیادہ چھوٹ دی جائے تاکہ دوسرے اضلاع بھی اس کی تقلید کریں۔


-6ایک سال سے پانچ سال تک کے قومی منصوبوں کی مکمل تفصیل عوام کے سامنے رکھی جائیں۔ اسمیں اخراجات کا تخمینہ بھی شامل ہو۔ عوام کو یہ یقین دلایا جائے کہ یہ منصوبے دیانتداری سے مکمل کئےجائیں گے ۔ پھر ان منصوبوں کیلئے آدھے پیسے قومی بجٹ سے خرچ کئے جائیں۔ باقی آدھے پیسے کی ذمہ داری عوام پر ڈال دی جائے کہ وہ ہر مہینے اپنی استعداد کے مطابق اس قومی منصوبے کیلئے لازمی حصہ ڈالیں۔ یہ ٹوٹکہ اپنا خوبصورت شہر ، اپنی حکومت اور اپنی ذمہ داری کے نام سے شہرت حاصل کر سکتاہے۔ دیامر بھاشا ڈیم کے حوالے سے وزیراعظم ، چیف جسٹس ڈیم فنڈاور پھر تمام پاکستانیوں سے فنڈ دینے کی جس طرح سے وزیراعظم نے اپیل کی ہے اس پر پوری دنیا سے بہت مثبت پیش رفت شروع ہوچکی ہے۔


ؐٓ7-صحت اور تعلیم کے حوالے سے یکساں قومی پالیسی بنا کر مقامی لوگوں کو ذمہ داری سوپنی جائے، وہ اپنی مدد آپکے تحت تعلیمی ادارے اور اسپتال چلائیں ۔ پھر جس ضلع میں شرح خواندگی90فیصد سے بڑھ جائے ، بیماریوں پر قابو پا لیاجائے،سو فیصد وہاں کی آبادی کو صحت کی سہولت میسر ہو ، اس ضلع سے 70 فیصد تک ٹیکسز ختم کر دیئے جائیں جب تک کہ یہ معیار برقرار رہے ۔


-8ہر ضلع کی آب وہوا ، موسم اور زراعت کے مطابق وہاں انڈسٹری لگانی چاہئے،یہاں ملازمتیں بھی ترجیجی بنیادوں پر مقامی لوگوں کو دینی چاہئیں ۔ اسطرح بیروز گاری کا بھی خاتمہ ہو جائےگا۔


-9یونین کونسل سے ضلعی سطح تک پاکستان بھر کے شہروں میں ایک متعین معیار جیسی ضروری سہولتیں فراہم کرنے کے حوالے سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے قانون پاس کروایا جائے، اس سے فائد یہ ہوگا کہ چھوٹے شہروں سے بڑے شہروں کی طرف منتقلی کم ہوجائے گی اور پاکستان کا ہر شہر ترقی یافتہ اور خوبصورت ہوگا ۔


-10ملک کے اندر پرنٹ ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کیلئے ایک ایسا ضابطہ اخلاق تخلیق کیا جائے جو حکومت ، مالکان ، صحافیوں اور میڈیا میں کام کرنیوالے دوسرے افراد کیلئے نہ صرف قابل قبول ہو بلکہ صحیح معنوں میں ملک کی ترقی اور عوام کو معلومات اور رہنمائی فراہم کرنے کا ذریعہ بھی ہو۔


-11زکوٰۃکا ایسا نظام متعارف کروایا جائے کہ جس ضلع سے یہ اکٹھی ہو سب سے پہلے وہاں کے مستحقین کی ضرورتیں پوری کی جائیں ۔ باقی صوبائی یا مرکزی زکوٰۃفندز میں پول کی جائیں اور جس شہر میں ضرورت ہو وہاں مستحقین پر خرچ کی جائے۔ اسطرح لوگ ذمہ داری سے زکوٰۃ دینگے ۔


-12کرپشن کرنیوالوں کا کڑا احتساب بلا تفریق ضروری ہے اور اس سے خریدی گئی اندرون اور بیرون ملک جائیدادیں بحق سرکار ضبط کر نیکا قانون بنانا ضروری ہے۔ا ممکن ہے کہ ان سیاسی ٹوٹکوں کو ’’ دیوانے کا خواب‘‘ کے نام سے پکارا جائے ،لیکن یہ خواب ہی حقیقت بنے گا تو ہمارا ملک آزاد اور خود مختار ہوگا۔اللہ کرے یہ سیاسی ٹوٹکے ہر سطح پر زیر عمل آئیں۔ آمین


(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین