ایبسولیوٹلی ناٹ!

October 01, 2022

پاکستان میں تعینات امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے روزنامہ جنگ اور دی نیوز کو دیئے خصوصی انٹرویو میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے سائفرکے حوالے سے پھیلائے جانے والے تاثر کا استرداد کرتے ہوئے حکومتی تبدیلی بارے سازشی بیانیے کو بدقسمتی پر محمول کیا ہے اور کہا کہ امریکہ کو پاکستان کے ساتھ مل کر بہت سے اہم امور پر کام کرنا ہے جس کا ایجنڈہ اقتصادی ، تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کا فروغ ،توانائی اور تغیر پذیر موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ ہے ،جو نہ صرف پاکستان بلکہ کرہ ارض کیلئے بھی اہم ہے۔ سیکورٹی کے لحاظ سے دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات ہیں۔ علاقائی سلامتی پاکستان اوراس کے پڑوسیوں کیلئے ایک اہم مسئلہ ہے۔ امریکہ خطے میں جاری کشیدگی اور تناؤ کے خاتمے کی خواہش اور جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ پر تحفظات رکھتا ہے۔پاکستان کی اقتصادی، ماحولیاتی اور سیکورٹی ضروریات پوری کرنے کیلئے ہم آہنگ ہوکر راہیں تلاش کرنا ضروری ہے مگر اس ضمن میں امریکہ کی طرف سے کئے گئے بین الاقوامی وعدوں، قوانین اور پالیسیوں کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا ہوگا۔عمران خان کی طرف سے سائفر ایشو پر سامنے آنے والی متنازع باتوں کو درخورِ اعتنا نہ جانتے ہوئے ڈونلڈ بروم نے کہا کہ معمول کی سفارت کاری کے معاملات پر اتفاق یا عدم اتفاق ہوتا رہتا ہے۔ امریکہ ہر ملک میں عوام کی منتخب کردہ حکومت سے ہی بات کرتا ہے اگر کل کلاں عمران خان کو عوام دوبارہ حکومت میں لے آتے ہیں تو امریکہ کو ان سے بات کرنے میں کوئی عار نہیں ہوگا۔انہوں نے موجودہ حکومت کی طرف سے ملکی معیشت کو پٹری پر لانے کی کوششوں کی تحسین کرتے ہوئے تجویزکیا کہ پاکستان کو قومی بجٹ کو منظم کرنے کے ایسی راہ تلاش کرنا چاہئے جن سے اسے بار بار بحرانوں کا سامنا نہ کرنا پڑے اس کیلئے پاکستان کوآئی ایم ایف پروگرام کے فریم ورک میں رہتے ہوئے قومی مفادات کے بارے میں سوچنا ناگزیر ہے ۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998