قصہِ نیلوفر

November 04, 2014
 

گُذشتہ شب میرے دُوست جنرل مسعود اسلم اور ان کی اہلیہ ہمارے ہاں تشریف لائے۔میری سٹَڈی میں بیٹھے جب بیگمات نے مولانا طارق جمیل کے حالیہ بیان پر گفتگو شروع کی تو ہم دونوں مرد حضرات نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نیلوفر کا ذکر شروع کر دیا۔ بیچاری نیلوفر کا ابھی نام ہی لیا تھا کہ دونوں خواتین نے اپنا بیان چھوڑ چھاڑ کر ہمارا بیان ریکارڈ کرنا شروع کر دیا۔ اللہ بھلا کرے خبرنامے کا جس نے طوفانی نیلوفر کا پول کھول کر اس کی ممکنہ تباہی سے ہماری جان بچائی۔ ان مہمانوں کے چلے جانے کے بعد البتہ میری بیگم مجھ سے اصلی نیلوفر کے بارے میں پوچھتی رہیں اور میںان کو یقین دلاتا رہا کہ یہ نام طوفان کا ہے جو ابھی کراچی کے ساحل سے پانچ سو میل دور کھڑا ہے۔ میرے اس جواب سے ان کے دل کی تسلی تو ہوتی نظر آئی مگرذہنی طور پرمطمن نہ ہونے کے باعث وہ بولیں کہ یہ کس قسم کا طوفان ہے جس کا نام تو مُونثانہ ہے مگر کام خالصتاً مردانہ۔ مزید خبریں کہ نیلوفر کی شدّت برقرار ہے،یہ کہ وہ4 1 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے اور جب کراچی کے ساحل سے ٹکرائے گا تو بجلی چمکے گی ، بادل گرجیں گے اور ہر سمت تباہی ہو گی ۔یہ سب کچھ سن کر مجھے سارے معاملے پر خود بھی شک ہونے لگا۔لہذااس معاملے کو سلجھانے کیلئے میں نے آج اپنا کالم بھی نیلوفر کے نام کر دیاہے تاکہ صنفِ نازک کے ساتھ جڑی اس تباہی کی وجوہات کا کھوج لگاسکوں۔اس موضوع پر خاصہ مواد میسر آیا مگر جہاںتشنگی محسوس کی وہاں اپنے مشائدے سے مستفید ہُوا۔ آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ جنگِ عظیم دوئم کے بعد امریکہ کے ہوا بازوں اور بحریہ کے محکمہ موسمیات کے افسران نے اپنی بیگمات اور جو اس نعمت سے محروم تھے انہوں نے اپنی گرل فرینڈز کے ناموں پر HURRICANES کے نام رکھنے شروع کردئیے۔ یوں 1979؁ء تک خواتین کے ناموں سے ہی طوفان جاری رہے البتہ نسوانی انجمنوں کے دبائوکے نتیجے میں اس بربادی کی آگاہی کے لـــیٔے رکھے جانے والے ناموں میں مرد حضرات بھی شامل کر لئے گئے۔ جنسی امتیاز کو مدِنظر رکھتے ہوئے ناموں کے استعمال میں برابری رکھئی جانے لگی مگر ایشیا ء اور امریکہ میں اب بھی ترجیح خواتین کے ناموں کو ہی دی جا رہی ہے۔ موجودہ دور کے مشہور طوفانوں میں کترینہ ، سینڈی ، سارا،کِٹی ، جینی اور ریٹا قابل ِ ذکر ہیں۔ مشہور اداکارہ کترینہ کیف نوجوان مرد نسل اور نوجوان دل رکھنے والے بزرگوں کے اعصاب پر جو تباہی برپا کر سکی اس کا تخمینہ تو دستیاب نہیں البتہ کترینہ نامی طوفان نے ۲۰۰ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے 1833 انسانی جانوں کے علاوہ 108ارب امریکی ڈالر کا مالی نقصان کیا۔قارئین کرام! 2004 سے ہمارہ خطّہ ان طوفانوں کے حوالے سے ہندوستانی محکمہ موسمیات سے منسلک ہے جس میں بنگلہ دیش ، ہندوستان، مالدیپ ، میانمار، عُمان، پاکستان، تھائی لینڈاور سری لنکا شامل ہیں۔ یہ ممالک پہلے سے اپنے تجویز کردہ نام محکمے کے حوالے کر دیتے ہیں جسے وہ موقع اور محلِ وقوع کی مناسبت سے استعمال کرتا ہے۔ جیسے عمان نے طوفان کا نام سدر، ہندوستان نے ہُدہُد اور پاکستان نے نرگس رکھا۔ اسی طرح نیلوفر بھی پاکستانی تجویز کردہ نام ہے ۔ مزے کی بات کہ نرگس اپنی بے نوری پہ روتی رہی اور نیلوفر آدھے سمندر میں کھڑی کراچی کے ساحل کا منہ تکتی رہی ۔ پاکستان نے پہلے نرگس نام رکھا جو پھول ہے اب نیلوفر رکھا وہ بھی ایک پھول ہے فرق صرف اتنا کہ ایک زمینی اور دوسرا پانی کا ۔تخّیل تو خوبصورت مگر سمندری حقائق کے لحاظ سے خاصہ بھونڈا۔ آپ خود ہی سوچئے کہ طوفان نے جو تباہی کرنا تھی وہ اپنی جگہ مگر نام نے جو اردوزبان کی تباہی مچای وہ ناقابلِ تلافی ہے خاص طور پر کراچی کے شہریوں کے لئے جو مذّکر اور مونّث کے صیح استعمال پر عبور رکھتے ہیںالبتہ اگر یہ طوفان خیبر پختونخواں کے پہاڑوں سے نمودار ہوتا تو پھر شائدمذّکر، مونّث والا معاملہ سر نہ ـ"اٹھاتی"۔اس قصے کا سب سے منفی پہلو یہ ہے کہ جس روز یہ خبر نشر ہو رہی تھی کہ آئندہ ۴۸ گھنٹوں میں نیلوفر سے تباہی متوقع ہے اسی وقت نہ جانے کتنی نیلوفر یں دُلہن کے لباس میں رخصتی کی منتظر ہوں گی۔ ان کے اپنے دل اور ان کے ماں باپ ، بھائی بہنوں ، ساس سُسر اور دلہا کے دل پر کیا گزری ہو گی یہ تو یا وہی جانتے ہیں یا پھر اللہ۔ دوسری طرف ان منچلوں کا کیا کہیے جو فقط ہیڈ لائن سننے کے عادی ہونے کی وجہ سے نیلوفر کا نام ہی سن کر رات بھر اپنے گھروں کے دروازے کھول کر انتظار کرتے رہے۔قارئین کرام! ان طوفانوں کے مونّث ناموں کی مصدقہ وجہ تو میں نہ ڈھونڈ سکا البتہ یہ ہوسکتاہے کہ چونکہ خواتین بے شمار مثبت صلاحیتوں کی مالک ہونے کے ساتھ ساتھ بوقت ضرورت خاصی طوفانی اور پرشور ہونے کی وجہ سے اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو تباہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ چونکہ موسم اور خواتین کے بارے میں کوئی پیشین گوئی کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے اسی لئے شائد محکمہ موسمیات نے اپنی کم علمی کو چھپانے کے لئے خواتین کے ناموں کے پیچھے پناہ حاصل کی ۔ میرا مشورہ ہو گا کہ آئندہ نام تجویز کرتے وقت صنفِ نازک کی بجائے بلائوںکے ناموں پر غور کیا جائے تو اچھا رہے گا۔ اگر کسی وجہ سے پھول سے منسوب نام ہی مقصود ہے تو گُلو بٹ کی بجائے گل بٹ ہی مناسب رہیگا ۔ کالم کے اختتام پر اطلاع ملی کہ نیلوفر تو بیچاری ہچکیاں لیتی وفات پاگئی۔


مکمل خبر پڑھیں