پاکستانی سفارت کاری کیلئے ایک ٹیسٹ کیس

June 21, 2017
 

زیادہ دن نہیں گزرے کہ ریاض میں عرب، اسلامک، امریکن سمٹ ہوئی تھی، ناسازی طبع کے باوجود امریکی صدر اور ان کے اہل و عیال کا استقبال شاہ سلمان نے بنفس نفیس کیا تھا۔ ’’ شہنشاہ معظم‘‘ کی سلامی کیلئے وزیر اعظم پاکستان سمیت39مسلم ممالک کے سربراہان بھی موجود تھے۔ مگر اس سارے ہنگامے سے کیا برآمد ہوا ؟ مسلم اتحاد کو اس سے کیا حاصل ہوا؟ اور امہ نے من حیث الجمیع اس شو سے کیا فوائد سمیٹے ؟ جواب یقیناً حوصلہ افزا نہیں۔ ایران اس اجتماع سے الگ رہا اور تیغوں کے رقص کی دھوم ابھی کم نہ ہو پائی تھی کہ خطہ میں ایک اور انہونی ہو گئی۔ 10رمضان المبارک کو سعودی عرب سمیت سات ممالک نے دہشت گردی کے الزام میں قطر سے سفارتی تعلقات منقطع کر لئے۔ دیگر ممالک میں مصر، متحدہ عرب امارات،بحرین،لیبیا،یمن، مالدیو اور ماریشس شامل ہیں۔ خطہ میں پاکستان کی منفرد پوزیشن کے پیش نظر ہفت ریاستی قطر مخالف اتحاد بالخصوص سعودی عرب کی خواہش ہو گی کہ پاکستان کو بھی اپنی صف میں شامل کیا جائے۔
کہا جاتا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف پر ذاتی نوازشات کے حوالے سے سعودی حکمران ان پر دبائو ڈالنے کی کوشش کرسکتے ہیں،نواز شریف کو پرویز مشرف کے چنگل سے بچانے، شریف خاندان کو ارض مقدس پر پناہ دینے اور پھر 2014میں نواز شریف سرکار کو اقتصادی بحران سے نکالنے کیلئے ڈیڑھ بلین ڈالر کا ’’تحفہ‘‘ جیسے احسانات چکانے کا وقت شاید آن پہنچا۔
مگر معاملہ اتنا سادہ نہیں اور پاکستان کو ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہو گا خاص طور پر اس سمے، جبکہ تمام مسلم ریاستوں کے ساتھ ہمارے تعلقات مثالی نہیں تو تسلی بخش ضرور ہیں۔ قطر کے ساتھ تو جناب وزیر اعظم کا ذاتی مفاد جڑا ہوا ہے۔ پانامہ کیس کے حوالے سے قطری شریف خاندان کیلئے کس قدر اہمیت کا حامل ہے۔ اسکے بارے میں دو رائے نہیں ہوسکتی۔ پھر قطر کے ساتھ ہمارے افرادی، تجارتی اور اقتصادی مفادات بھی وابستہ ہیں۔ جہاں ایک لاکھ سے زائد پاکستانی بسلسلہ روزگار مقیم ہیں۔ ایک ارب ڈالر کی دو طرفہ تجارت کے علاوہ پچھلے ہی برس قطر کے ساتھ ہمارا 15برس کیلئے LNGکی خریداری کا معاہدہ ہوا تھا جس کیلئے قطر کراچی تا لاہور پائپ لائن بھی بچھا رہا ہے۔ دوسری جانب سعودیہ کے ساتھ جڑے، تجارتی،اقتصادی اور مین پاور کے معاملات قطر سے بھی کہیں زیادہ پھیلے ہوئے ہیں۔ وہاں مقیم پاکستانیوں کی تعداد 20لاکھ کے لگ بھگ ہے جن کی ساڑھے پانچ ارب سالانہ کی ترسیلات زر ہمارے زر مبادلہ کے ذخائر کی آبرو ہیں۔ اربوں ڈالر کی تجارت اسکے علاوہ ہے۔ کچھ اسی طرح کامعاملہ UAEاور دیگر ریاستوں کے ساتھ بھی ہے۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ اس سارے ہنگامے میں مسلکی تقسیم گہری ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ ایران اور یمن کے بعد اب قطر کو سنگل آئوٹ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ وطن عزیز کی آبادی کا ایک بڑا حصہ اہل تشیع پر مشتمل ہے۔ ایسے میں ہم کسی کی بھی سائیڈ نہیں لے سکتے۔ اور پاکستان کیلئے فقط ایک ہی راہ بچتی ہے کہ اپنا دامن بچا کر رکھے۔ پھر دوستوں اور اہم عالمی طاقتوں کے ر جحانات کو بھی دیکھنا ہو گا۔ سفارتی دنیا میں ہمدرد اور ہمنوا پیدا کرنا کچھ آسان نہیں ہوتا۔ برسوں کی محنت اور ریاضت کے بعد بھی کامیابی نصیب سے ملتی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ ہماری طرف سے کوئی غلط اقدام کسی دوست کو ناگوار گزرے اور معاملات بگڑ جائیں۔ قطر کی دستگیری کیلئے ترکی نے حامی بھری کہ اخلاقی،سفارتی اور اقتصادی تعاون کی پیشکش کی۔ ہمیںبڑی طاقتوں،خاص طور پر چین اور امریکہ کے طرز عمل پر بھی نگاہ رکھنا ہو گی کہ اس صورتحال میں وہ کس طرح سے آپریٹ کرتے ہیں۔ امریکہ بظاہر اسلامی اتحاد کی پشت پر ہے۔ مگر اسکے قطر کے ساتھ بھی فوجی اور اقتصادی مفادات وابستہ ہیں۔ ایسے میں واشنگٹن کے بارے میں کوئی حتمی نوعیت کی پیشین گوئی نہیں کی جا سکتی۔چینی عام طور پر اس قسم کے جھگڑوں میں نہیں پڑتے اور سرنیہوڑے ملک کو اقتصادی سپر پاور بنانے کیلئے رات دن ایک کئے ہوئے ہیں۔ مگر بین الاقوامی معاملات میں کچھ بھی بعید نہیں۔ خدانخواستہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مستقبل کی کسی دھڑے بندی میں اسلام آباد اور بیجنگ متضاد و متصادم گروپس میں شامل ہوں جو پاکستان افورڈ نہیں کر سکتا۔ کیونکہ ہم نے اپنے مستقبل کو بڑی حد تک چین کے ساتھ جوڑ رکھا ہے۔
پس چہ باید کرد ؟الحمد اللہ ! منفرد عسکری، دفاعی صلاحیت کے پیش نظر پاکستان کو عالم اسلام میں امتیازی مقام حاصل ہے۔ خطہ میں قیام امن کے لئے پاکستان کی کاوشوں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامرانیوں کو مسلم ورلڈ تحسین کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ اور حتی الامکان کوئی بھی مسلم ریاست اس کے ساتھ بگاڑ نہیں چاہتی،خلیجی ریاستوں میں جاری خلفشار سے نمٹنے کے لئے اس گڈول کے استعمال کا وقت آ گیا ہے۔ جس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ پاکستان سارے معاملہ میں مکمل طور پر غیر جانبداررہے۔ گو ادھر ادھر سے ثالثی کی آوازیں بھی اٹھ رہی ہیں۔ مگر اول تو پاکستان از خود یہ رول اختیار نہیں کر سکتا۔ اس کے لئے فریقین کی جانب سے متفقہ پیشکش ضروری ہے۔ جس کے آثار نہیں، تاہم اگر یہ انہونی ہو بھی جائے تو بھی پاکستان کے مفاد میں نہیں کہ اپنی غیر جانبداری پر کمپرو مائز کرے۔ سوشل میڈیا کی لغویات،افواہوں اور ٹارگٹڈ پروپیگنڈہ پر نظر رکھنے کیلئے فارن آفس میں خصوصی مانیٹرنگ سیل تشکیل دیا جائے۔ جو رات دن کام کرے اور اپنے تجزیات بروقت متعلقہ حکام تک پہنچائے۔ ابھی چند روزپیشتر غیر ملکی میڈیا نے 20ہزار پاکستانی ٹروپس قطر بھیجنے کی درفطنی چھوڑی تھی اور دعویٰ کیا تھا کہ پارلیمنٹ اسکی اجازت دینے ہی والی ہے۔ اس قسم کی حرکت مستقبل میں بھی ہو سکتی ہے۔ ماضی میں بھی جب سعودی عرب، یمن تنائو کا آغاز ہوا تھا،تو بھی پاکستانی ٹروپس کی ارض مقدس روانگی کی باتیں نکلی تھیں۔ ایسے میں پاکستان کیلئے کامل غیر جانبداری کے علاوہ کوئی راہ بچی ہی نہیں تاہم اس راہ میں ایک رکاوٹ بھی ہے۔ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف اسلامک ملٹری الائنس کے دستوں کی کمانڈ کر رہے ہیں جنہیں واپس بلائے بغیر جاری غیر جانبداری کا دعویٰ مشکوک رہے گا ویسے بھی اسلامک ملٹری الائنس خطہ میں دہشت گردی کے قلع قمع کیلئے تشکیل دیا تھا،سیاسی مقاصد کیلئے جس کا استعمال اسکے بنیادی چارٹر سے صریح انحراف ہو گا۔


مکمل خبر پڑھیں