ملکی ترقی میں پیشہ وارانہ تربیت کا کردار

September 11, 2017
 

گزشتہ دنوں نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹریننگ کمیشن (NAVTTC) اور کولمبو اسٹاف کالج پلان (CPSC) کے اشتراک سے تعلیمی اداروں اور صنعت کے روابط سے نوجوانوں کو فنی تربیت اور ملازمتوں کے مواقع کے بارے میں اسلام آباد میں 4 روزہ ریجنل کانفرنس منعقد کی گئی جس میں ملائیشیا، تھائی لینڈ، سنگاپور، فلپائن، بھارت، بنگلہ دیش، افغانستان، نیپال، بھوٹان، مالدیپ، فجی آئرلینڈ، برما اور منگولیا کے ماہرین نے شرکت کی اور اپنے ممالک میں فنی اور ووکیشنل ٹریننگ کے فروغ اور اس کے فوائد پر پریذنٹیشن دیں۔ نیوٹیک پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ذوالفقار چیمہ پروگرام کے روح رواں تھے جبکہ اہم اسپیکرز میں فلپائن کے ڈاکٹر رام ہری لیمی چون، نیپال کے پروگرام کوآرڈی نیٹر ڈاکٹر پروموت شرستا، پاکستان سے ڈاکٹر ناصر خان نے فنی اور پیشہ وارانہ ٹریننگ کے جدید تقاضے اور تکنیک پر تقاریر کیں۔ کانفرنس میں ’’پائیدار ترقی کیلئے صنعت و تعلیمی اداروں میں روابط کی ضرورت‘‘ پر پریذنٹیشن کیلئے مجھے بھی مدعو کیا گیا جبکہ اسی موضوع پر خیبر پختونخوا کی سیکریٹری انڈسٹریز فرح حامد خان نے بھی پریذنٹیشن دی۔ میں نے اپنی پریذنٹیشن میں مندوبین کو بتایا کہ پاکستان میں صنعت اور تعلیمی اداروں میں موثر روابط نہیں جس کی وجہ سے تعلیمی اداروں کا نصاب صنعت کی ضرورت اور تقاضوں کو پورا نہیں کرپارہا۔ یہ المیہ ہے کہ ایک طرف نوجوان ملازمتوں کیلئے صنعتوں اور دیگر اداروں کے دھکے کھارہے ہیں جبکہ دوسری طرف صنعتکاروں کو ٹیکنیکل تربیت یافتہ نوجوان دستیاب نہیں اور صنعتکار تجربہ کار ٹیکنیکل اسٹاف کو اپنی فیکٹری میں زیادہ تنخواہیں اور مراعات پیشکش کررہے ہیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہم نے جب اپنا ڈینم مل لگایا تھا تو ملک میں انڈیگو ڈائنگ ماسٹرز دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے ہم فلپائن سے ٹیکنیکل اسٹاف نہایت پرکشش پیکیج پر پاکستان لے کر آئے تھے۔ اسی طرح ترکی سے ڈینم فیبرک کے واشنگ ایکسپرٹس کو ہر طرح کی مراعات دے کر دو سالہ معاہدے پر کراچی لائے تھے۔ان غیر ملکی ٹیکنیکل ایکسپرٹس نے پاکستانی کاریگروں کو ڈینم ڈائنگ اور واشنگ کی تربیت دی اور پاکستان آج دنیا میں ڈینم کا حب بن چکا ہے لیکن آج بھی ہمیں ڈینم میں مقامی ٹیکنیکل ایکسپرٹس بمشکل دستیاب ہیں جبکہ انڈسٹری اور تعلیمی اداروں کے درمیان موثر روابط سے مطلوبہ ٹرینڈ اسٹاف مہیا کیا جاسکتا ہے۔ میں نے مشورہ دیا کہ تکنیکی،تربیتی تعلیمی ادارے اپنے بورڈ پر ممتاز صنعتکاروں اور ٹیکنیکل ایکسپرٹس کو نامزد کریں تاکہ وہ نصاب کی تیاری میں صنعت کی ضروریات کو مدنظر رکھ سکیں۔
ہماری ٹیکسٹائل صنعت میں مزدوروں کی ناقص کارکردگی اور پیداواریت اور زیادہ آف نڈل ٹائم کی وجہ سے ہماری پروڈکشن خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں تقریباً 20فیصد کم ہے۔ آف نڈل ٹائم کاریگر کا گارمنٹس بناتے وقت سوئی سے توجہ کا ہٹنا ہے، وہ گفتگو اور حاجت کی وجہ سے وقفہ لیتا ہے جس کی وجہ سے سری لنکا اور بنگلہ دیش میں ایک دن میں ایک ڈیزائن کے اگر 12گارمنٹس بنائے جاتے ہیں تو پاکستان میں 9 یا 10 گارمنٹس بنتے ہیں۔ یاد رہے کہ گارمنٹس انڈسٹریز کی پیداواری صلاحیت آپ کو حریفوں سے مقابلے کے قابل بناتی ہے۔ کچھ پاکستانی صنعتکاروں نے گارمنٹس کی انڈسٹریز بنگلہ دیش میں لگائی تھیں۔ ان کے مطابق بنگلہ دیش اور سری لنکا کے کاریگروں کی کارکردگی اور پیداواری صلاحیت پاکستان سے بہتر ہے۔ ٹیکسٹائل کی سب سے بڑی کنسلٹنسی کمپنی گرزی نے اپنی ایک رپورٹ میں ایک دلچسپ انکشاف کیا ہے کہ گارمنٹس انڈسٹری میں خواتین اور مردوں کی یونیفارم کے علیحدہ علیحدہ کلر تبدیل کرکے ایک ہی کلر کرکے آف نڈل ٹائم میں کمی حاصل ہوئی ہے کیونکہ خواتین ورکرز کے علیحدہ کلر مرد کاریگروں کی توجہ کا باعث بنتے ہیں۔ میں نے شرکاء کو بتایا کہ مشینوں کو چلانے کے انگلش زبان میں کتابچے فراہم کئے جاتے ہیں لیکن انگلش نہ سمجھنے کی وجہ سے کاریگر اٹھاکر انہیں ایک طرف رکھ دیتے ہیں جبکہ ان مینولز میں ہدایات پر عمل کرکے آپ مشینوں سے بہتر کارکردگی اور کوالٹی حاصل کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ مشینوں کی ہفتہ وار، مہینہ وار اور سہ ماہی مینٹی نینس کی ہدایات پر عمل کرکے مشینوں کی عمر بڑھائی جاسکتی ہے۔ میں نے اپنے ملز میں ان مینول کی ہدایات کو اردو میں ترجمہ کرکے ڈپارٹمنٹس میں آویزاں کررکھا تھا تاکہ مشینوں کو زیادہ عرصے کیلئے قابل استعمال بنایا جاسکے۔
آئندہ 5سال کیلئے سی پیک کے منصوبوں کیلئے مزدوروں اور ملازمین کی طلب کا ایک پول بنایا جائے جس میں ورکرز کو فنی اور پیشہ وارانہ تربیت کے ساتھ چینی زبان کی بنیادی تعلیم بھی دی جائے تاکہ چینی سپروائزر ماتحت ورکرز کو با آسانی ہدایات دے سکیں جس پر عمل کرکے بہتر کارکردگی حاصل کی جاسکے۔ چین میں مزدور کی اجرتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور کم از کم اجرت 300 ڈالر ماہانہ سے بڑھ گئی ہیں لہٰذا چینی سرمایہ کاروں کیلئے پاکستان سے مزدور لینا فائدہ مند ہے جن کی کم از کم اجرتیں نصف یعنی 150ڈالر (15,000روپے) ماہانہ ہیں لیکن ہمارے ورکرز اسی صورت میں سود مند ثابت ہوں گے جب وہ فنی اور پیشہ وارانہ تربیت سے لیس ہوں اور بنیادی چینی زبان سمجھ سکتے ہوں۔ بیرون ملک تعلیمی اداروں میں ریسرچ صنعت سے شیئر کی جاتی ہے تاکہ صنعت ان تحقیقات سے استفادہ کرسکے جبکہ ہمارے ملک میں تعلیمی اداروں کی ریسرچ کا صنعت سے باہمی رابطے کا فقدان ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ ترسیلات زر فلپائنی تارکین وطن اپنے ملک بھیجتے ہیں۔
جس کی وجہ فلپائنی ورکرز کا انگلش زبان جاننا اور فنی و پیشہ وارانہ تربیت سے لیس ہونا ہے جس کی بنیاد پر وہ ہمارے ورکرز کے مقابلے میں زیادہ اجرتیں لیتے ہیں۔ پریذنٹیشن کے بعد سوال جواب کے سیشن میں شرکاء نے پاکستان میں صنعت کی پیداواری لاگت میں اضافہ، ایکسپورٹس میں کمی، سروس سیکٹر کے پھیلائو، صنعتی سیکٹر کے سکڑنے اور نئی ملازمتوں کے مواقع پر اہم سوالات کئے۔ شرکاء نے صنعتی گروتھ کیلئے چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کے فروغ اور مزدوروں کی فنی اور پیشہ وارانہ تربیت کی ضرورت پر زور دیا۔
نیوٹیک پاکستان کے سربراہ ذوالفقار چیمہ ملک کے مایہ ناز بیورو کریٹ اور آئی جی پنجاب پولیس تھے، ادارے کا چارج سنبھالنے کے بعد اُن کی انتھک محنت اور لگن کی بدولت آج یہ ادارہ ملک کے ممتاز اداروں سے فنی و پیشہ وارانہ ٹریننگ کورسز کروارہا ہے اور تربیت یافتہ نوجوان نئی ملازمتوں کے علاوہ اپنا روزگار خود کمانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ریجنل کانفرنس کے شرکاء کے اعزاز میں ذوالفقار چیمہ اور ان کی ٹیم نے سمندری سطح سے 1173میٹر کی اونچائی پر واقع ریسٹورنٹ میں ایک عشائیہ دیا جہاں سے مارگلہ ہلز کا خوبصورت نظارہ بھلایا نہیں جاسکتا۔ میں ذوالفقار چیمہ اور ان کی ٹیم کو ایک نہایت کامیاب ریجنل کانفرنس منعقد کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ میری تجویز ہے کہ اس 4روزہ ریجنل کانفرنس کی اہم تجاویز و سفارشات کو نیوٹیک کے مستقبل کے تربیتی پروگراموںمیں شامل کرکے اس سے استفادہ کیا جائے۔


مکمل خبر پڑھیں