آئی ایم ایف سے قرض ناگزیر

September 18, 2017
 

مسلم لیگ (ن) نے جب 2013ء میں حکومت سنبھالی تو اس کی ترجیحات میں امن و امان کی بہتر صورتحال، ملک میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ اور اونچی معاشی گروتھ حاصل کرناتھا جس میں اس نے ابتدائی 3 سالوں میں کسی حد تک کامیابی حاصل کی۔ آپریشن ضرب عضب، ردالفساد اور کراچی آپریشن سے ملک بالخصوص کراچی میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی جس پر پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مبارکباد کے مستحق ہیں۔ حکومت نے ایک ارب ڈالر کی قطر سے ایل این جی امپورٹ اور بجلی کے نئے منصوبوں سے صنعتوں کو مہنگی بجلی اور گیس فراہم کرکے لوڈشیڈنگ پر قابو پایا، پاکستان اسٹاک ایکسچینج 54,000 انڈیکس کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا، وزیر خزانہ نے ہر سال 20 فیصد اضافی ریونیو کے ہدف سے گزشتہ مالی سال 3500 ارب روپے سالانہ ریکارڈ ریونیو حاصل کئے، وزیر خزانہ کی ٹیکس اصلاحات میں ٹیکس نیٹ بڑھانے کے بجائے موجودہ ٹیکس پیئرز پر یہ ڈائریکٹ ٹیکسز عائد کرکے زیادہ سے زیادہ ریونیو حاصل کرنا تھا جس نے ہماری صنعت اور ایکسپورٹس کو غیر مقابلاتی بنادیا۔ ایکسپورٹرز کے 250 ارب روپے سیلز ٹیکس ریفنڈ 2 سال سے ادا نہ کئے گئے، بزنس کمیونٹی کے پرزور احتجاج پر حال ہی میں 10 لاکھ روپے تک کے سیلز ٹیکس ریفنڈ ادا کئے گئے لیکن اب بھی تقریباً 200 ارب روپے کے ریفنڈز ادا کرنا باقی ہیں۔ پاور سیکٹر کے گردشی قرضے دوبارہ بڑھ کر 600ارب روپے تک پہنچ گئے اور نقصان میں چلنے والے حکومتی اداروں پی آئی اے، اسٹیل ملز، ریلوے، واپڈا کی نجکاری نہ کرنے کی وجہ سے ان اداروں کو چلانے کیلئے حکومت نے 980ارب روپے قومی خزانے سے ادا کئے ہیں جو ایک المیہ ہے۔ ملکی ترسیلات زر میں بھی تقریباً ایک ارب ڈالر کی کمی آئی۔ ہماری ایکسپورٹ 25 ارب ڈالر سے کم ہوکر 20 ارب ڈالر جبکہ امپورٹ 52 ارب ڈالر کی اونچی ترین سطح تک پہنچ گئی جس کی وجہ سے حکومت کو 32 ارب ڈالر کا تجارتی خسارے کا سامنا ہے جس سے اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر پر دبائو ہے جو کم ہوکر تقریباً 3 مہینے کی امپورٹ کے برابر 14.75ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔ پاکستانی روپے کو حکومتی مداخلت سے موجودہ سطح پر رکھا جارہا ہے جبکہ انٹرنیشنل مالیاتی اداروں کے مطابق پاکستانی روپے کی قیمت 10سے 15فیصد زیادہ ہے جبکہ گرتی ہوئی ایکسپورٹ کے پیش نظر ایکسپورٹرز روپے ڈی ویلیوایشن کا مطالبہ کررہے ہیں۔ کرنٹ اکائونٹ خسارہ بڑھ کر 12 ارب ڈالر اور بجٹ کا خسارہ جی ڈی پی کا 6 فیصد تک پہنچ گیا ہے جبکہ بجٹ خسارے کا ہدف 4 فیصد تھا۔حکومت کا 2016ء بیرونی قرضے لینے کا ریکارڈ سال تھا جب پاکستان پر واجب الادا بیرونی قرضے 72.98 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ اس سال حکومت نے گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 7.9 ارب ڈالر اضافی قرضے لئے ہیں۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق 2017ء میں ہمارے بیرونی قرضے بڑھ کر 75.54 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے جس میں سے ہمیں آئندہ 18 ماہ 11.5 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو واپس کرنے ہیں۔ حکومت نے حال ہی میں ملکی موٹرویز گروی رکھنے کے عیوض ایک ارب ڈالر کے نئے سکوک بانڈ کے اجراء کا اعلان کیا ہے۔ماہرین کے مطابق پرانے قرضوں کی ادائیگی کیلئے نئے قرضے لینے کی حکمت عملی کے باعث 2017-18ء میں پاکستان کے بیرونی قرضے 79.35 ارب ڈالر اور 2020ء تک 87.1 ارب ڈالر کی خطرناک حد تک بڑھ سکتے ہیں۔ پاکستان کے قرضوں کی حد کے قانون (Debt Limitation Act)کے تحت حکومت جی ڈی پی کا 60 فیصد سے زیادہ قرضے نہیں لے سکتی لیکن ہمارے قرضے جی ڈی پی کے 65 فیصد سے تجاوز کرچکے ہیں۔ پاکستانی معیشت کا سب سے بڑا سیکٹر ٹیکسٹائل جس کا ملکی ایکسپورٹس میں 55 فیصد حصہ ہے اور یہ مینوفیکچرنگ سیکٹر میں 40 فیصد ملازمتیں پیدا کرتا ہے، آج بحران کا شکار ہے۔ 150ٹیکسٹائل ملز بند ہوچکی ہیں جس سے 30فیصد مزدور بے روزگار ہوگئے ہیں۔ بینکوں کے ٹیکسٹائل سیکٹر کو دیئے گئے قرضوں میں تقریباً 25 فیصد قرضے نادہندہ ہوچکے ہیں۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج انڈیکس 23 فیصد گرنے کی وجہ سے 54,000 کی بلند ترین سطح سے گرکر 40,000کی سطح تک آگیا ہے جس سے سرمایہ کاروں کو اربوں روپے کا نقصان ہوا۔ سی پیک کے منصوبوں کے علاوہ ملک میں مقامی اور بیرونی سرمایہ کاری جمود کا شکار ہے جس سے نئی ملازمتوں کے مواقع محدود ہوگئے ہیں۔ میں نے اپنے معاشی کالموں میں ہمیشہ حکومتی معاشی کارکردگی پر مثبت لکھا ہے لیکن موجودہ معاشی حالات کو دیکھتے ہوئے یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں اپنے قارئین کومستقبل کے معاشی چیلنجز کے بارے میں آگاہ کروں۔ گزشتہ ہفتے ٹی وی کے ایک پروگرام میں پاکستان کے ممتاز معیشت دان اور سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے اپنے انٹرویو میں موجودہ معاشی بدحالی کو دیکھتے ہوئے ملک میں فنانشل ایمرجنسی لگانے کا مشورہ دیا۔ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے خطرناک حد تک بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کو روکنے کیلئے لگژری گڈز کی امپورٹس پر پابندی، ایکسپورٹس بڑھانے کیلئے حکومتی مراعات اور روپے کی قدر کا جائزہ لینے کی تجویز دی۔ ڈاکٹر حفیظ پاشا کے مطابق قرضوں کی ادائیگی کی صورتحال کے پیش نظر پاکستان کیلئے آئی ایم ایف سے نئے قرضے لینا ناگزیر ہوچکا ہے لیکن آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لیگارڈ کے مطابق حالیہ پاک امریکہ کشیدگی کی وجہ سے پاکستان کیلئے آئی ایم ایف سے نئے قرضے کی شرائط پر مذاکرات مشکل ہوں گے۔
امریکہ اور بھارت پاکستان پر دہشت گردی کے نام پر دبائو بڑھارہے ہیں تاکہ سی پیک منصوبے اور سرمایہ کار بے یقینی کا شکار ہوجائیں۔ بیجنگ میں ہونے والی حالیہ برکس کانفرنس میں بھی برازیل،روس،انڈیا، چین، جنوبی افریقہ نے اپنے اعلامیے میں پاکستان میں پائی جانے والی کالعدم دہشت گرد تنظیموں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔بھارت اور امریکہ نے پاکستان میں سی پیک منصوبوں کو کبھی کھلے دل سے تسلیم نہیں کیا اور انہی مقاصد کو حاصل کرنے کیلئے وہ دہشت گردی کے نام پر پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کررہے ہیں۔ عالمی حالات اور موجودہ سیاسی عدم استحکام کو دیکھتے ہوئے پاکستان کو مستقبل میں سنگین سیاسی اور معاشی چیلنجز کا سامنا ہے، یہ ہمارے پالیسی میکرز کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت سے صحیح وقت پر صحیح فیصلے کرکے پاکستان کو موجودہ سیاسی اور معاشی بحران سے نکالیں تاکہ ملک میں سیاسی استحکام یقینی بنایا جائے جو سی پیک کے منصوبوں کی کامیابی کیلئے نہایت ضروری ہے۔


مکمل خبر پڑھیں