پاکستان کے قرضوں میں ناقابل برداشت اضافہ

October 09, 2017
 

انسٹیٹیوٹ فار پالیسی ریفارمز (IPPR) کے 2015-16 کی اقتصادی جائزہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے قرضوں میں نہایت تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ 2016ء بیرونی قرضے لینے کا ایک ریکارڈ سال تھا جب پاکستان پر واجب الادا بیرونی قرضے 72.98 ارب ڈالر (7.4 کھرب روپے) تک پہنچ گئے۔ اس سال حکومت نے 7.9 ارب ڈالر اضافی قرضے لئے جبکہ مقامی بینکوں سے بھی 3.1 کھرب (30 ارب ڈالر)کے قرضے لئے گئے۔ پاکستان کے بیرونی اور مقامی قرضوں کا مجموعہ کیا جائے تو حکومت نے گزشتہ 3 سالوں کے دوران 55 ارب ڈالر کے قرضے لئے جن میں چین سے لئے گئے قرضے شامل نہیں۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق توقع کی جارہی ہے کہ 2017ء میں ہمارے بیرونی قرضے بڑھ کر 75.54 ارب ڈالر (7.9 کھرب روپے) تک پہنچ جائیں گے۔ پرانے قرضوں کی ادائیگی کیلئے نئے قرضے لینے کی حکومتی حکمت عملی کے پیش نظر آئندہ مالی سال پاکستان کے بیرونی قرضے 79.35 ارب ڈالر (8.3 کھرب روپے) اور 2020ء تک 87.1 ارب ڈالر (9.12کھرب روپے) کی خطرناک حد تک پہنچ سکتے ہیں جبکہ آئندہ 18 ماہ میں ہمیں 11.5 ارب ڈالر کے قرضے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو واپس بھی کرنے ہیں۔ ان حالات کے باوجود وزارت خزانہ کا قرضوں کا مینجمنٹ آفس (DPCO) ایک عرصے سے بغیر کسی سربراہ کے ہے۔
قرضوں کی حد کے قانون (Debt Limitation Act)کے تحت حکومت جی ڈی پی کا 60 فیصد سے زیادہ قرضے نہیں لے سکتی لیکن ہمارے قرضے 65 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت نے 2.75 ارب ڈالر کے ڈالر اور سکوک بانڈز بھی جاری کئے جن کی ادائیگیاں 2017ء، 2019ء، 2025ء اور 2036ء میں ہیں۔ ان میں 750 ملین ڈالر کا 6.18 فیصد شرح منافع 2017ء میں، ایک ارب ڈالر کا 6.75 فیصد شرح منافع اپریل 2019ء میں، 500 ملین ڈالر کا 8.25 فیصد شرح منافع 30 ستمبر 2025ء میں اور 500 ملین ڈالر کا 7.875 فیصد شرح منافع 31 دسمبر 2036ء میں ہے۔ حکومت نے حال ہی میں اپنے موٹرویز گروی رکھنے کے عوض ایک ارب ڈالر کے نئے سکوک بانڈ کے اجراء کا اعلان کیا ہے۔ گزشتہ سال 3500ارب روپے کے مجموعی ریونیو میں سے حکومت 1,360 ارب روپے مقامی اور بیرونی قرضوں کی سود کی ادائیگی کرے گی جو ہمارے دفاعی بجٹ سے بھی زیادہ ہے جس کی وجہ سے حکومت کے پاس تعلیم، صحت کی بنیادی سہولتوں، پینے کا صاف پانی اور سماجی سیکٹر میں خرچ کرنے کیلئے پیسے نہیں بچتے اور بدقسمتی سے تعلیم اور صحت کیلئے بجٹ میں مطلوبہ رقم مختص نہ کئے جانے کی وجہ سے ایک عام آدمی کے معیار زندگی میں بہتری نظر نہیں آتی۔پاور سیکٹر کے گردشی قرضے دوبارہ بڑھ کر 600 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ حکومت نے گردشی قرضوں کی ادائیگی اور مینجمنٹ کیلئے وزارت پانی و بجلی میں ایک پاور ہولڈنگ کمپنی بنائی ہے جس نے بینکوں کے کنسوریشم سے 185 ارب روپے قرض لے کر بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں کے واجبات ادا کئے ہیں۔ نقصان میں چلنے والے حکومتی اداروں پی آئی اے، اسٹیل ملز اور واپڈا کی نجکاری نہ کرنے کی وجہ سے ان اداروں کو چلانے کیلئے حکومت نے 980 ارب روپے قومی خزانے سے ادا کئے ہیں۔ مالی نقصانات کی وجہ سے 2017ء میں ان حکومتی اداروں کے قرضے بڑھ کر 823 ارب روپے ہوگئے ہیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 45 فیصد زیادہ ہیں جس میں سب سے زیادہ قرضے پی آئی اے 122.4 ارب روپے، دوسرے نمبر پر واپڈا 81.4 ارب روپے، تیسرے نمبر پر پاکستان اسٹیل ملز 43.2 ارب روپے ہیں۔ ان اخراجات کی وجہ سے 2017ء میں بجٹ کا مالی خسارہ 5.8 فیصد تک پہنچ چکا ہے جبکہ وزیر خزانہ نے اس کا ہدف جی ڈی پی کا 4 فیصد رکھا تھا۔ ڈاکٹر حفیظ پاشا کے مطابق ملک کی موجودہ معاشی صورتحال اور قرضوں کی ادائیگی کے پیش نظر پاکستان کیلئے آئی ایم ایف سے نئے قرضے لینا ناگزیر ہوچکا ہے لیکن آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لیگارڈ کے مطابق حالیہ پاک امریکہ کشیدگی کی وجہ سے پاکستان کیلئے آئی ایم ایف سے نئے قرضے کی شرائط پر مذاکرات مشکل ہوں گے۔موجودہ سیاسی صورتحال اور نیب کیسز کی وجہ سے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو سنگین معاشی چیلنجوں کا سامنا ہے۔
1985ء سے اب تک سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے اور امداد جنرل مشرف کے دور میں ملی جبکہ سالانہ اوسط کے حساب سے مسلم لیگ (ن) کی موجودہ حکومت نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لئے۔ مختلف دور حکومت میں لئے گئے قرضوں کے جائزے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جونیجو حکومت سے اب تک مجموعی 59 ارب ڈالرز کے غیر ملکی قرضے حاصل کئے گئے، اس دوران پاکستان کو 13 ارب ڈالرز کی امداد بھی ملی۔ بینظیر بھٹو کے دو ادوار میں 11 ارب 44 کروڑ ڈالرز کے غیر ملکی قرضے اور 2 ارب ڈالرز کی غیر ملکی امداد ملی جبکہ نواز شریف کے گزشتہ دو ادوار میں ساڑھے 13ارب ڈالرز کے غیر ملکی قرضے اور 2 ارب ڈالرز سے زائد کی بیرونی امداد ملی۔ مشرف دور حکومت میں 18 ارب ڈالرز کے غیر ملکی قرضے اور 5 ارب ڈالرز سے زائد غیر ملکی امداد ملی۔ موجودہ حکومت نے اب تک 11 ارب 70 کروڑ ڈالرز کے غیر ملکی قرضے اور 2ارب 31 کروڑ ڈالرز کی غیر ملکی امداد حاصل کی جو سالانہ اوسط کے حساب سے سب سے زیادہ ہیں۔ آج ملک کے مجموعی قرضوں اور واجبات کی ادائیگیاں 25 کھرب روپے یعنی جی ڈی پی کا 78.7فیصد تک پہنچ گئی ہیں جبکہ گزشتہ سال یہ 22.5 کھرب روپے تھیں۔ ان قرضوں کیلئے ہم اپنے موٹر ویز، ڈیمز، ایئرپورٹس اور دیگر قومی اثاثے قرضہ دینے والے اداروں کو گروی رکھواچکے ہیں جو ایک لمحہ فکریہ ہے۔
نواز شریف اپنے پہلے دور حکومت میں ’’قرض اتارو، ملک سنوارو‘‘ کے نام پر ایک اسکیم لائے تھے جس پر ہر مرد، عورت اور بچوں نے ملک کے قرضے اتارنے کیلئے اپنے زیور اور عطیات دیئے۔ مجھے یاد ہے کہ میں، میرے بھائی اور بہنوں نے اپنے تمام جمع شدہ پیسے اس اسکیم میں عطیہ کے طور پر اس عزم کے ساتھ دیئے تھے کہ ہم ملک کو قرضوں کی لعنت سے نجات دلائیں گے لیکن اس اسکیم پر حاصل ہونے والی رقوم کا کوئی حساب نہیں دیا جاسکا جس سے لوگوں میں نہایت مایوسی ہوئی اور آج ملک قرضوں کی دلدل میں بری طرح دھنس چکا ہے۔ ملکی قرضوں کے باعث 2011ء میں ہر پاکستانی 46,000روپے، 2013ء میں 61,000 روپے اور 2016ء میں ایک لاکھ روپے کا مقروض ہوچکا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ بیرونی قرضوں کی ادائیگی کیلئے ایک واضح حکمت عملی کے تحت مہنگے شرح سود کے قرضے فوراً واپس کرے تاکہ ہم اپنی آنے والی نسلوں پر قرضوں کا بوجھ کم کرسکیں۔


مکمل خبر پڑھیں