سی پیک پر رائونڈ ٹیبل کانفرنس

October 16, 2017
 

میں نے 25ستمبر کے کالم میں ملک کے کچھ معیشت دانوں کے سی پیک پر تحفظات کی وضاحت کی تھی اور سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین جو چین کے چیف اکانومسٹ رہے ہیں، کے مقامی انگریزی اخبار میں سی پیک کے حق میں لکھے گئے آرٹیکل کا حوالہ دیا تھا جسے قارئین نے نہایت پسند کیا۔ گزشتہ دنوں پاکستان کے تھنک ٹینک ’’101فرینڈز آف چائنا‘‘ نے کراچی میں سی پیک پر ایک رائونڈ ٹیبل کانفرنس کا انعقاد کیا جس کے مہمان خصوصی گورنر سندھ محمد زبیر تھے۔ تقریب میں شرکت کیلئے تھنک ٹینک کے چیئرمین جنرل (ر) احسان الحق اسلام آباد سے خصوصی طور پر کراچی آئے تھے۔ مجھے بھی اس اہم رائونڈ ٹیبل کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار، ڈاکٹر عطاء الرحمن، کراچی میں چین کے قونصل جنرل مایوو، حبیب میٹروپولیٹن بینک کے صدر سراج الدین عزیز، بزنس لیڈر ایس ایم منیر، فیڈریشن کے نائب صدر اشتیاق بیگ، کراچی چیمبرز کے صدر شمیم فرپو، عارف حبیب، بشیر جان محمد، عبدالسمیع خان، فیصل، گوہر اور عمر زاہد ملک، سابق سفیر شاہد امین، آئی بی اے کی ہما بقائی اور مرزا شاہنواز آغا نے بھی رائونڈ ٹیبل کانفرنس میں شرکت کی۔ واضح ہو کہ ’’101فرینڈز آف چائنا‘‘ تھنک ٹینک مقامی اخبار کے چیف ایڈیٹر زاہد ملک مرحوم نے چند سال پہلے بنایا تھا جس میں ملک کے ممتاز دانشور، کالم نگار، معیشت دان اور سیاستدانوں کو شامل کیا گیا تھا۔ زاہد ملک جو میرے کالم باقاعدگی سے پڑھتے تھے، نے مجھے بھی اس تھنک ٹینک میں شامل کیا۔
تقریب کے آرگنائزر فیصل زاہد ملک نے اپنے والد زاہد ملک کی چین کے ساتھ قریبی دوستی اور 101 تھنک ٹینک کے بارے میں شرکاکو بتایا۔ کانفرنس کے مقررین نے کہا کہ چین اپنا 80 فیصد تیل خلیج سے بحری جہازوں کے ذریعے بحیرہ ہند سے بحرالکاہل اور بیجنگ تک 13 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے حاصل کرتا ہے لیکن گوادر پورٹ کے ذریعے یہ تیل اور تجارتی اشیا صرف 6 ہزار کلومیٹر طے کرکے ایک تہائی وقت اور لاگت میں بیجنگ پہنچ سکیں گی جس سے چین اور سی پیک ممالک کو گوادر پورٹ سے تجارت میں اربوں ڈالر کی بچت ہوگی جس سے خطے میں امن اور معاشی خوشحالی آئے گی۔عارف حبیب نے اس تاثر کہ سی پیک منصوبوں سے پاکستان قرضوں میں جکڑگیا ہے، کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ سی پیک کے 46 ارب ڈالر کے منصوبے جو اب بڑھ کر 56 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، میں انفرااسٹرکچر اور گوادر پورٹ کی تعمیر و ترقی کیلئے چینی حکومت کا 20 ارب ڈالر کا 2.4 فیصد شرح سود پر 20 سال کیلئے قرضہ ECA کریڈٹ ہے جس کی حکومت کو 1.2 ارب ڈالر سالانہ ادائیگی کرنی ہے۔ سی پیک کے منصوبوں سے ملکی جی ڈی پی 1.5 سے 2 فیصد سالانہ بڑھنے کی توقع ہے جس سے پاکستان مجموعی 5 ارب ڈالر قرضوں کی سالانہ ادائیگی کرسکے گا۔ انہوں نے بتایا کہ بقایا 40 ارب ڈالر متبادل انرجی کے مختلف منصوبے پاکستانی نجی شعبے اور چینی کمپنیوں کے جوائنٹ وینچرز (JV) میں سرمایہ کاری ہے جس کی فنانسنگ چینی اور بین الاقوامی بینک کررہے ہیں۔ ان منصوبوں سے مجموعی 16000 میگاواٹ اضافی بجلی پیدا ہوگی جس میں مارچ 2018 تک Early Harvest منصوبوں سے 10,000 میگاواٹ اور 2030ء تک طویل المیعاد منصوبوں سے بقایا 6,000 میگاواٹ بجلی حاصل ہوگی۔حکومت پاکستان نے ان منصوبوں میں سرمایہ کاری پر 17 فیصد پرکشش منافع اور پیدا کی گئی بجلی خریدنے کی گارنٹی دی ہے۔متبادل توانائی کے منصوبوں کی تکمیل سے ہمارے بجلی کے اوسط نرخ کم ہوجائیں گے جو ملکی ایکسپورٹس بڑھانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔سراج الدین عزیز نے پاک چین تعلقات کا تاریخی پس منظر بتاتے ہوئے کہا کہ 1949ء سے 1973ء تک چین کے صرف دو ممالک البانیا اور پاکستان دوست تھے۔
1949ء سے 1972ء تک چین کے بینک آف چائنا کی برانچ کراچی میں تھی، 1972ء میں چین نے اپنی برانچ کسی بینک کو فروخت کرنے کے بجائے نیشنل بینک آف پاکستان کو تحفے میں دے دی۔ ایک طویل عرصے تک پاکستان کی ایئرلائن PIA چین میں لینڈ کرسکتی تھی لہٰذا بین الاقوامی مسافر چین جانے کیلئے پی آئی اے سے سفر کرتے تھے۔ پاکستان نے جب امریکہ کے ہنری کسنجر کو پہلی بار چینی رہنما چو این لائی سے ملوایا تو انہوں نے ہنری کسنجر سے کہا کہ پاکستان، چین اور امریکہ کے مابین ایک پل ہے جسے آپ کو ہمیشہ استعمال کرنا چاہئے۔ سراج الدین عزیز نے بتایا کہ چین دنیا میں اسپیشل اکنامک زونز (SEZs) کی مہارت رکھتا ہے اور ہمیں بھی سی پیک میں SEZ منصوبوں کیلئے چینی مہار ت سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ ایس ایم منیر نے کہا کہ پاکستان اور چین کے مابین FTA چینی ایکسپورٹرز کے حق میں ہے جبکہ پاکستان کی اہم ٹیکسٹائل مصنوعات کی چین کو ڈیوٹی فری ایکسپورٹ FTA میں شامل نہیں۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ چین دنیا میں بہترین لوکل گورنمنٹ سسٹم رکھتا ہے جس سے ہمیں فائدہ اٹھانا چاہئے۔ انہوں نے کراچی سرکلر ریلوے کو سی پیک منصوبے میں شامل کرنے پر چینی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ کراچی میں چین کے قونصل جنرل مایوو نے کہا کہ پاک چین دوستی ہر آزمائش پر پوری اتری ہے۔ گورنر سندھ محمد زبیر نے اس کا اعتراف کیا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے لیکن نواز شریف نے حکومت میں آنے کے بعد سی پیک کے عظیم منصوبے پر عملدرآمد کروایا جس سے چین کے ساتھ ہمارے برادرانہ تعلقات معاشی تعلقات میں تبدیل ہوئے۔ جنرل (ر) احسان الحق نے چین کی ترقی پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 1975ء میں جب وہ چین گئے تو بیجنگ میں انہیں صرف ایک کار نظر آئی تھی لیکن چین نے اس مختصر عرصے میں جو ترقی کی ہے، اس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ ڈاکٹر ہما بقائی نے موجودہ سیاسی صورتحال کے باعث ملک کو درپیش معاشی چیلنجز کا ذکر کیا۔
حال ہی میں پاکستان میں چین کے سفیر سن لیک ڈون نے کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس کا الوداعی دورہ کیا۔فیڈریشن کے نائب صدر اشتیاق بیگ کے دریافت کرنے پرکہ موجودہ سیاسی حالات اور نواز شریف کے نااہل ہونے کی وجہ سے کیا سی پیک منصوبے پر کچھ اثر پڑسکتا ہے، چینی سفیر نے بتایا کہ سی پیک منصوبے پر تمام سیاسی جماعتوں، اسٹیک ہولڈرز اور سول و عسکری قیادت متفق ہے اور موجودہ حالات سے سی پیک پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سی پیک منصوبہ آصف علی زرداری دور حکومت کے آخر میں طے پایا تھا لیکن نواز شریف نے حکومت سنبھالنے کے بعد اس منصوبے کو آگے بڑھایا۔ رائونڈ ٹیبل کانفرنس کے شرکاء نے چین کے ون بیلٹ ون روڈ اور پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو خطے میں امن و امان، ہم آہنگی اور معاشی ترقی کا منصوبہ قرار دیا جس سے خطے کے ممالک معاشی ترقی کیلئے ایک دوسرے کے قریب آئیں گے اور خطے میں امن و امان قائم ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاک چین اقتصادی راہداری خطے کے ممالک کیلئے ایک معاشی پل کا کردار ادا کرے گی۔


مکمل خبر پڑھیں