بلوچ روایت کی پاسداری

November 07, 2017
 

بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال بتدریج بہت بہتر ہو رہی ہے اور ریاست مخالف آوازوں میں پہلے جیسی گھن گرج نہیں رہی۔ اس لحاظ سے مجموعی تاثر تو یہی بنتا ہے کہ صوبے میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت کے باوجود سب اچھا ہے، فکر کی کوئی بات نہیں۔ لیکن فضا میں وقفے وقفے سے اس وقت ناگوار ارتعاش بھی پیدا ہوتا ہے جب کہیں کوئی بارودی سرنگ پھٹتی ہے ،کوئی بم دھماکہ ہوتا ہے یا کہیں نامعلوم افراد کی فائرنگ کا واقعہ پیش آتا ہے۔ یعنی بہت کچھ اچھا ہونے کے باوجود راوی چین نہیں لکھتا۔ بعض قوم پرست پارٹیوں اور لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے مہم چلانے والی تنظیم وائس فار مسنگ پرسنز کا اصرار ہے کہ ریاست مخالف سرگرمیوں کے الزام میں صوبے کے ’’ہزاروں‘‘ افراد اُٹھائے جاچکے ہیں جن کا کوئی پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں۔ حکومتی ذرائع کے نزدیک ایسے افراد کی تعداد دو تین درجن سے زیادہ نہیں، نہ ان کی گمشدگی میں سرکاری ایجنسیوں کا ہاتھ ہے۔ ایسے لوگوںکی بازیابی کیلئے کئی سال سے مہم چلائی جارہی ہے اور کوئٹہ سے کراچی کے راستے اسلام آباد تک لانگ مارچ بھی ہوچکا ہے لیکن مسئلہ ابھی تک جوں کا توں ہے۔ چند روز قبل کچھ بلوچ خواتین اور ان کے بچوں کے اُٹھائے جانے کا معاملہ منظرعام پر آیا۔ پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا پر تو خاموشی طاری تھی لیکن سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا تھا۔ بلوچ نیشنل موومنٹ کا دعویٰ تھا کہ انہیں سریاب روڈ کوئٹہ سے اُٹھایا گیا۔ سینیٹ میں سینیٹر جہانزیب جمالدینی، فرحت اللہ بابر، محمد عثمان کاکڑ اور سردار اعظم خان موسیٰ خیل نے مشترکہ توجہ دلائو نوٹس کے ذریعے یہ مسئلہ اُٹھایا حکومت نے تسلیم کیا کہ تین خواتین سیکورٹی فورسز کی تحویل میں ہیں تاہم وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ وہ مکمل معلومات حاصل کرکے جواب دیں گے۔ معاملے کی نزاکت کے پیش نظر حکومت بلوچستان متحرک ہوئی اور وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے پریس کانفرنس بلاکر صحافیوں کو حقیقی صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بلوچ لبریشن فرنٹ کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کی اہلیہ فضیلہ بلوچ بیٹی پوپل بلوچ، بی ایل اے کے مارے جانے والے کمانڈر اسلم عرف اچھو کی بہن سمیت چار خواتین اور تین بچوں کو چمن سرحد عبور کرکے افغانستان جانے کی کوشش میں 30 اکتوبر کو حراست میں لیا گیا۔وہ افغانستان کے راستے کسی دوسرے ملک میں جانا چاہتی تھیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ فضیلہ بلوچ نے دوران تفتیش اعتراف کیا ہے کہ وہ بی ایل ایف اور بی ایل اے کے لوگوں میں پیسے تقسیم کرتی تھیں۔ وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری نے زیر حراست خواتین کی فوری رہائی اور انہیں ان کے اہلخانہ کے حوالے کرنے کا حکم دیا، بلوچ رسم و رواج کے مطابق انہیں وزیراعلیٰ ہائوس بلایا۔ خواتین کے سروں پر چادریں ڈالیں۔ ان میں تحائف تقسیم کئے اور مالی امداد بھی دی۔ پھر ان کی خواہش کے مطابق فضیلہ بلوچ کے بھائی مہر اللہ کے ہمراہ کراچی بھجوا دیا۔ رہا ہونیوالوں میں اسلم عرف اچھو کی بہن اور ایک فراری کمانڈر کی بیوی بھی شامل تھی۔ اسلم وہ تھا جس نے مبینہ طور پر زہری میں وزیراعلیٰ کے بیٹے بھائی اور بھتیجے کو شہید کر دیا تھا۔ وزیراعلیٰ نے عالی ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام خواتین کو عزت دی۔ بلوچ جنگوں میں عورتوں اور بچوں کو فریق نہیں بناتے۔ زیرحراست خواتین اور بچوں کو باعزت رہا کرکے نواب زہری نےبلوچ روایت کو زندہ کیا۔ ان خواتین اور بچوں کو اغوا کرنے کا الزام غلط ثابت کرنے کے لئے ان کے حراست میں لینے کی فوٹیج بھی دکھائی گئی۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ بہت سے دہشتگرد افغانستان جاچکے ہیں۔ جن کے بیوی بچے اور دوسرے اہلخانہ پاکستان میں ہیں۔ ہم سب کچھ جانتے ہوئے بھی انہیں کچھ نہیں کہتے۔ درحقیقت اس سال فروری سے اب تک18 ہزار افراد افغانستان سے غیرقانونی طور پر سرحد عبورکرتے ہوئے پکڑے جاچکے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ بی ایل ایف کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر بھی افغانستان ہی میں ہیں۔ ان کی تنظیم کا زیادہ زور مکران تربت اور پنگجور میں ہے لیکن صوبے کے دوسرے علاقوں میں بھی اس کا کافی اثروسوخ ہے۔ بی ایل اے اور بی آر اے جو سرداروں اور سردار زادوں کی تنظیمیں شمار کی جاتی ہیں کے برخلاف بی ایل ایف عام لوگوں کی تنظیم ہے۔ دراصل مکران بیلٹ میںسرداری نظام ہے ہی نہیں۔ ڈاکٹر اللہ نذر ایک صلح جو قسم کا قوم پرست نوجوان تھا جو بی ایس او کے پلیٹ فارم سے بلوچستان کے حقوق کی بات کرتا تھا۔ قید کے دو دن اس پر اتنا تشدد کیا گیا کہ وہ باہر نکل کر مکمل جنگجو بن گیا۔ اس کی بیوی بیٹی دوسری دو خواتین اور تین بچوں کی باعزت رہائی اس امر کی غماز ہے کہ بلوچستان سے متعلق وفاقی وصوبائی حکومتوں اور اداروں کی پالیسی میں نمایاں تبدیلی آرہی ہے اور مفاہمانہ طرز عمل اختیار کرتے ہوئے صوبے کی ترقی و خوشحالی اور بلوچ عوام کو گلے لگانے پر زور دیا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں کئی اقدامات کئے گئے ہیں، خاص طور پر فوج نے بلوچستان میں تعلیم اور انفراسٹرکچر کی ترقی کیلئے غیر معمولی اقدامات کئے ہیں جن کے نتائج زمین پر نظر بھی آرہے ہیں۔ فوج میں بلوچ نوجوانوں کی شمولیت کیلئے بھرتی کے قواعد میں بھی نرمی کی گئی ہے جس سے تقریباً دس ہزار نوجوان فوج کا حصہ بن چکے ہیں۔لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال بہتر ہونے اور سی پیک پر عملدرآمد سے ترقیاتی سرگرمیاں تیز ہوئی ہیں لیکن ابھی سیاسی سطح پر بہت کچھ کرنا باقی ہے، بلوچ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں ساحل ووسائل پر اختیار اور فیصلہ سازی کا حق چاہتے ہیں۔ نئی مردم شماری میں صوبے کی آبادی 65 لاکھ سے بڑھ کر ایک کروڑ 23 لاکھ یعنی تقریباً دگنا ہوگئی ہے لیکن قومی اسمبلی میں اس کی صرف 5 نشستیں بڑھائی گئی ہیں۔ صوبے کی سیاسی جماعتیں اس پر برہم ہیں اور نشستیں دگنی نہیں تو کم سے کم ان میں معقول حد تک اضافے کا مطالبہ کر رہی ہیں، صوبائی اسمبلی کی نشستیں بھی بڑھانی چاہئیں لیکن انہیں موجودہ سطح پر برقرار رکھا گیا ہے۔ گوادر تیزی سے ترقی کر رہا ہے ماہی گیری کے جدید ترین طریقے اپنائے جارہے ہیں لیکن چھوٹے اور غریب ماہی گیروں کے بارے میں زیادہ نہیں سوچا گیا جو جدید طریقے اپنانے کے قابل نہیں۔ گوادر کی اپنی آبادی اس وقت 70 ہزار ہے۔
سی پیک پر عملدرآمد کے بعدیہاں بیس تیس لاکھ افراد باہر سے آجائیں گے جس سے مقامی آبادی اقلیت بن جائے گی۔ بلوچوں کو اس پر بھی تحفظات ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبے کے تمام علاقوں کی متوازن ترقی کیلئے اقدامات کئے جائیں، خاص طور پر لاپتہ افراد کی بازیابی کا مسئلہ حل کیا جائے اور گمشدہ افراد کو بازیاب کرکے ان کے ساتھ اسی طرح کا سلوک کیا جائے جس طرح ڈاکٹر اللہ نذر کے اہلخانہ کے ساتھ کیا گیا۔ بلوچوں کو دیوار سے لگانے کی بجائے گلے سے لگانا وقت کا اشد ضروری تقاضا ہے۔


مکمل خبر پڑھیں