Look Africa ۔ ٹریڈ فورم

November 20, 2017
 

گزشتہ دنوں کراچی ایکسپو سینٹر میں پاکستان کی سب سے بڑی نمائش ایکسپو 2017ء کا انعقاد ہوا۔ پاکستان کی گرتی ہوئی ایکسپورٹس کی ایک بڑی وجہ ہمارے ایکسپورٹرز کا یورپ اور امریکہ کی مارکیٹوں پر زیادہ انحصار ہے لہٰذا ہمیں ایکسپورٹس بڑھانے کیلئے غیر روایتی منڈیاں اور مصنوعات متعارف کرانی پڑیں گی۔ اسی حکمت عملی کے پیش نظر نمائش میں پہلی بار سائیڈ لائنز پر Look Africa ٹریڈ فورم اور ایمرجنگ پاکستان کو متعارف کرایا گیا۔ایکسپو کا افتتاح وفاقی وزیر تجارت و ٹیکسٹائل پرویز ملک نے چیف منسٹر مراد علی شاہ اور گورنر سندھ محمد زبیر کے ساتھ کیا۔ اس کے علاوہ سیکریٹری کامرس یونس ڈاگا، فیڈریشن کے صدر زبیر طفیل، ٹی ڈیپ کے سابق سی ای او ایس ایم منیر اور میں نے بھی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔ 9 سے 12 نومبر تک جاری رہنے والی ایکسپو نمائش گزشتہ سالوں کے مقابلے میں زیادہ بڑے پیمانے پر منعقد کی گئی تھی جس میں 70 ممالک کے تقریباً 800 خریداروں نے شرکت کی جس میں 100 سے زائد ٹیکسٹائل اور فیشن ورلڈ کے غیر ملکی مندوبین تھے جو دنیا کے معروف اسٹورز کو ملبوسات سپلائی کرتے ہیں۔ پاکستان کے ممتاز ایکسپورٹرز نے نمائش میں اپنی مصنوعات ٹیکسٹائل، لیدر، رائس، اسپورٹس گڈز، فوڈ آئٹمز، آٹو پارٹس، کارپیٹ، ہینڈی کرافٹس، ملبوسات کی نمائش کی۔
ایکسپو 2017ء میں پوری دنیا میں پاکستان کے تعینات کمرشل قونصلرز اپنے ممالک کے ممتاز خریداروں کو حکومت پاکستان کی دعوت اور میزبانی پر پاکستان لائے تھے۔ ان کے علاوہ بے شمار بیرونی ممالک کی فیڈریشن، چیمبرز اور بزنس کونسل کے وفود بھی ایکسپو کے مہمان تھے۔ ایکسپو سینٹر میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اور کراچی چیمبرز آف کامرس کے اہتمام بیرونی وفود سے خصوصی میٹنگز کا اہتمام کیا گیا تھا۔ شام میں بیرون ملک سے آئے ہوئے مہمانوں اور ملک کے ممتاز بزنس مینوں کے اعزاز میں موہٹا پیلس میں ’’ایمرجنگ پاکستان‘‘ لائونچ کیا گیا جس کے مہمان خصوصی پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی تھے جن کے ساتھ سندھ کے چیف منسٹر، گورنر سندھ، وزیر دفاع خرم دستگیر، وزیر تجارت پرویز ملک، مفتاح اسماعیل، مجھے اور میرے بھائی کو بھی اس تقریب میں مدعو کیا گیا تھا۔ ہمارے ساتھ فیڈریشن کے صدر زبیر طفیل، ایس ایم منیر، سیکریٹری کامرس یونس ڈاگا اور شہر کے دیگر ممتاز شخصیات نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر سیکورٹی کے نہایت سخت انتظامات کئے گئے تھے۔
ایمرجنگ پاکستان میں پاکستان کی خوبصورت پریذنٹیشن پیش کی گئی جس میں پاکستان کی مختلف شعبوں میں ترقی اور عالمی سطح پر معروف پاکستانی شخصیات کو پیش کیا گیا جنہوں نے مختلف شعبہ ہائےزندگی میں دنیا میں ریکارڈ بنائے۔میں نے وزیر تجارت پرویز ملک اور یونس ڈاگا کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ میں نے بورڈ آف انویسٹمنٹ اور کلچرل ڈپارٹمنٹس کی پاکستان پر بے شمار پریذنٹیشن دیکھی ہیں لیکن ایمرجنگ پاکستان کی آج کی پریذنٹیشن سب سے اچھی ہے۔ میں نے ان کی توجہ پاکستانی نوبل پرائز یافتہ ملالہ یوسف زئی اور آسکر ایوارڈ یافتہ شرمین عبید چنائے کے نام کو ایمرجنگ پاکستان کی معروف پاکستانی شخصیات میں شامل کرنے کی تجویز بھی دی۔ ایمرجنگ پاکستان میں پاکستان کے معروف فیشن ڈیزائنرز کا برائیڈل فیشن شو اور کوک اسٹوڈیو نے پاکستانی موسیقی اور گانوں سے بیرونی ملک سے آئے ہوئے مہمانوں کی مہمان نوازی کی۔ اس موقع پر ایک خوبصورت فائر ورکس بھی پیش کیا گیا۔ وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے بیرون ملک سے آئے ہوئے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے ایمرجنگ پاکستان میں تجارت و سرمایہ کاری کیلئے حکومتی سپورٹ کا یقین دلایا۔
نمائش کے دوسرے دن وزارت تجارت نے کراچی کے مقامی ہوٹل میں "Look Africa Trade Forum" سیمینار منعقد کیا جس میں اسلام آباد سے 18 افریقی ممالک کے سفیر، افریقی ممالک میں تعینات پاکستان کے کمرشل قونصلرز اور ان ممالک کے مندوبین اور ممتاز ایکسپورٹرز نے شرکت کی۔ پاکستان کی تجارت امریکہ اور یورپ کے گرد گھومتی ہے۔ شوکت عزیز کے دور میں ہم نے Look Africa کی پالیسی کے تحت افریقی ممالک میں تجارت بڑھانے کی حکمت عملی کا اعلان کیا تھا لیکن 9 سال گزرنے کے باوجود افریقی ممالک سے تجارت بڑھانے کیلئے کوئی پالیسی نہیں بنائی گئی۔ افریقہ دنیا کا دوسرا بڑا براعظم ہے جس میں 54 ممالک ہیں جن کی مجموعی جی ڈی پی 2.2 ٹریلین ڈالر ہے، ان ممالک کی اوسط جی ڈی پی گروتھ 4.5 فیصد ہے۔ براعظم افریقہ کی آبادی 1.2 ارب نفوس پر مشتمل ہے اور یہ دنیا میں دوسرے نمبر پر آبادی رکھنے والا خطہ ہے۔او آئی سی ممالک کے 57ممالک میں سے 27 افریقی ممالک ہیں۔ افریقہ کے پوٹینشل کے مدنظر امریکہ، چین، یورپ اور دیگر ممالک اس خطے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ افریقی ممالک کی مجموعی تجارت 3ٹریلین ڈالر ہے جس میں پاکستان کی افریقی ممالک کو تجارت صرف 3 بلین ڈالر یعنی 0.3 فیصد ہے۔ افریقہ کے 54 ممالک میں سے صرف 15 ممالک جن میں مصر، لیبیا، نائیجریا، جنوبی افریقہ، سوڈان، تنزانیہ، ماریشس، الیجریا، سینگال، کینیا، نائیجیریا، ایتھوپیا، تیونس، مراکش اور زمبابوے شامل ہیں، میں پاکستانی سفارتخانے قائم ہیں اور صرف 4 ممالک کینیا، جنوبی افریقہ، نائیجریا اور مراکش میں کمرشل قونصلرز تعینات ہیں۔ پاکستان کے 13 افریقی ممالک کے مابین مشترکہ وزارتی کمیشن (JMC) قائم ہے لیکن ان کے اجلاس ایک طویل عرصے بعد ہوتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ پاک مراکش مشترکہ وزارتی کمیشن کا اجلاس 9 سال پہلے رباط میں ہوا تھا جس میں اس وقت کے وزیر صنعت منظور وٹو اور میں نے پاکستان کی طرف سے شرکت کی تھی۔ آخرکار وزارت تجارت نے پاکستان اور افریقی ممالک کے مابین تجارت بڑھانے کیلئے ایک نئی پالیسی میں خصوصی مراعات کا اعلان کیا ہے جن میں 10بڑے افریقی ممالک نائیجریا، کینیا، جنوبی افریقہ، مراکش، سوڈان، الیجریا، تیونس، مصر، تنزانیہ، ماریشس اور ایتھوپیا شامل ہیں جن کی ایکسپورٹ پر 2 فیصد اضاٹی ریبیٹ بھی دیا جائے گا۔
سیمینار میں، میں نے وزیر اور سیکریٹری تجارت کو بتایا کہ ہمارا گروپ 30 سال سے افریقہ ، مراکش میں بزنس کررہا ہے۔ میرے بھائی اشتیاق بیگ مراکش کے اعزازی قونصل جنرل ہیں اور پاکستان کے مراکش میں فاسفورک ایسڈکے منصوبے میں پاکستان کی سب سے بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری ہے۔ مراکش یورپ کا پڑوسی ملک ہے اور بذریعہ سڑک چند گھنٹوں میں کنٹینر یورپ پہنچ جاتا ہے۔ امریکہ نے مراکش کو آزاد تجارتی معاہدے کے تحت بغیر کسٹم ڈیوٹی گارمنٹس کی ایکسپورٹ کی سہولت دی ہوئی ہے جس کیلئے مراکش پاکستان اور دیگر ممالک سے فیبرک خریدکر امریکہ کو ڈیوٹی فری گارمنٹس ایکسپورٹس کرتا ہے۔ ہماری کمپنی نے پہلی بار مراکش میں ڈینم فیبرک کی ایکسپورٹس متعارف کرائی اور آج پاکستان مراکش ڈینم فیبرک ایکسپورٹس کررہا ہے۔ میں نے سیکریٹری کامرس کو افریقہ میں تجارت بڑھانے کیلئے ان ممالک کے ساتھ ترجیحی اور آزادانہ تجارتی معاہدے، ویئر کی ہائوس سہولتیں، پاکستانی بینکوں کا قیام، کمرشل قونصلرز کی تعیناتی اور شپمنٹس پر فریٹ سبسڈی دینے کی سفارشات دیں جن کا شرکا نے خیر مقدم کیا۔ Look Africa میںجنوبی افریقہ، مراکش، تیونس، مصر، ماریشس، کینیا، نائیجریا، سوڈان کے سفیروں نے اپنے اپنے ممالک میں سرمایہ کاری کے مواقع پر تقاریر کیں۔ ایکسپو کے تیسرے دن مجھے پاک مراکو جوائنٹ بزنس کونسل کے اجلاس میں شرکت کا موقع ملا اور ہماری ملاقاتیں بیرون ملک سے آئے ہوئے کمرشل قونصلرز اور بیرونی وفود سے ہوئیں۔ ایکسپو کے آخری روز ٹی ڈیپ نے پاکستان فیشن کونسل کے اشتراک سے مقامی ہوٹل میں ایک فیشن شو کا انعقاد کیا۔ ایکسپو کے دوران بیرونی مندوبین اور مہمانوں نے پاکستان کے امن و امان کی تعریف کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مغربی میڈیا پاکستان کا جو امیج پیش کرتا ہے، وہ حقیقت کے برعکس ہے۔ میرے نزدیک پاکستان ایکسپو کے دو مقاصد تھے۔ ملکی تجارت کو بڑھانا اور پاکستان کا بیرون ملک ایک اچھا امیج پیش کرنا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے دونوں مقاصد حاصل کرلئے لیکن حکومت کی جانب سے نمائش کے دوسرے روز صبح سے رات تک موبائل فون سروس بند کرنے سے غیر ملکی مندوبین کو نہایت دشواری کا سامنا کرنا پڑا جس کی وضاحت دینا ہمارے لئے بھی مشکل تھا۔


مکمل خبر پڑھیں