کراچی کی تاریخ سے جڑے ایرانی کیفے اور پارسی بیکری

January 08, 2018
 

برطانیہ کے سابق وزیراعظم ونسٹن چرچل کا مشہور فقرہ ہے ’ہم شہر بناتے ہیں اور پھر یہ ہمیں بناتے ہیں‘ ۔۔ یعنی ہرشہر اپنے شہریوں کے مزاج کاعکاس ہوتاہے۔ جیسے کراچی میں 80ء کی دہائی تک کتاب پڑھنے کا عام رجحان تھا۔ سنیما، ریسٹورینٹ، کیفے اورکافی ہاؤسز جگہ جگہ قائم تھے جہاں عام آدمی سے لے کر ادیب، شعرا ءاور فنکار بیٹھ کر لطف اندوز ہوتے تھے۔

پھرآہستہ آہستہ رجحانات بدلے ،سنیما کی جگہ شاپنگ سینٹر بنے، کافی ہاؤسز اور کیفے کی جگہ فاسٹ فوڈ اور فوڈ اسٹریٹ نے لے لی اور آج یہی چیزیں کراچی اور کراچی والوں کی پہچان ہیں۔

پارسی یا ایران کی تہذیبی روایات کے امین کراچی کے ایرانی کیفے ہوں یا پھر پارسی بیکریز۔ دونوں ہی کراچی کی تاریخ سے جڑے خوبصورت پہلو ہیں لیکن زمانہ بدل رہا ہے تو آہستہ آہستہ ان کا وجود بھی تقریباً ختم ہوتا جارہا ہے۔

ایرانی کیفے کے بغیر کراچی کی تاریخ مکمل نہیں ہو سکتی کیونکہ ان کیفوں کا کراچی سے رشتہ ستر سال سے بھی زیادہ پرانا ہے۔ آج بیشتر ایرانی کیفے باپ سے شروع ہو کر پوتوں اور پڑ پوتوں کے ہاتھوں میں پھل پھول رہے ہیں۔

ایک وقت تھا کہ کراچی میں ان کیفیز کی تعداد سو سے زیادہ تھی۔ اب ان کی تعداد گھٹ کر دس بارہ تک جا پہنچی ہے۔ صرف صدر میں ہی پانچ ایرانی کیفے تھے۔

ساٹھ اور ستر کی دہائی میں کراچی کے متوسط طبقے کے لئے کھانے کی پہلی پسندپہلوی ، کیفے پراسان، کیفے سرتاج ،کیفے گلوریا، کیفے یوناٹیڈ ، کیفے گلزاراورکیفے پیراڈائز ہوتے تھے۔ جبکہ کیفے شیزان، لیبرٹی اور پائنیر، وکٹوریا، انڈین کافی ہاؤس، ایسٹرن اور فیڈرک کیفے ٹیریا۔ ۔امراء کی اولین پسندتھے۔ اب ان میں سے بیشتر اپنا وجود کھو چکے ہیں اور کیفے پراسان بیکری میں بدل چکا ہے۔

اس بات کی تائید ریٹائرڈ بینکر سعیدصاحب بھی کرتے ہیں ۔ وہ بتاتے ہیں کہ انہیں ایرانی کیفے کی سپرئٹ چائے اور پیٹیس توبہت پسند ہیں۔ وہ ایک زمانے تک اپنی فیملی کے ساتھ وہاںجاتے رہے۔ ان کے برتن اور مخصوص انداز کی ماربل اور گلاس کی میزیں، لکڑی کی کرسیاں اور سحر انگیز پر سکون ماحول ،سب بہت اچھا تھا۔ صاف ستھرے ماحول کے ساتھ ساتھ کیفے کے مالک کی مسکراہٹ اور ویٹروں کی خوش اخلاقی ہی ان کیفوں کی پہچا ن تھی ۔کبھی سفر میں ہوں اورمجھے ایرانی کیفے مل جائے تو سارے دن کی تھکن اتر جاتی۔ آپ بھی چینک کی چائے کا مزہ ضرور لیجئے، دودھ پتی کو بھول جائیں گے۔

ناظم آباد میں واقع سبحان بیکری کے مالک کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں پانچ سے چھ ایرانی کیفے تھے۔سبحان بیکری کا افتتاح فلم اسٹار محمد علی اور زبیا نے کیا تھا۔اورآغا جوس کی پہلی دکان بھی الحسن پر ہی کھلی تھی اور کیفے خراسان تو ابھی پانچ سال پہلے ہی بند ہوا ہے۔

جہاں سیکورٹی خدشات نے ان کیفوں کی تعداد گھٹائی ہے، وہیں نئی نسل بھی اپنے خاندانی کاروبار سے منسلک نہیں رہنا چاہتی۔ یہ کہنا تھا گارڈن کے علاقے میں واقع کیفے مبارک کے مالک محمد علی صاحب کا۔

ان کے بیٹے تعلیم یافتہ ہیں لیکن ان کے کاروبار سے منسلک نہیں رہنا چاہتے۔ تائے اور والد کے ہاتھوں پھلتا پھولتا یہ کیفے آج ان کے ہاتھوں میں ہے۔ امید ہے کہ جب تک وہ زندہ ہیں یہ کیفے بند نہیں ہوگا۔

لیکن کیفے درخشاں کے عباس ہمتی اس بات سے متفق نہیں ۔وہ نوجوان ہیں اوراپنے بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈگری کے ساتھ ساتھ فوڈ اینڈ بیورج ڈپلومہ کی بدولت خاندانی کاروبار کوآگلے بڑھارہے ہیں۔ کچھ توان کے مستقل گاہک ہیں، خاص کر پارسی کمیونٹی کے بڑے بوڑھے شام میں یہاں ضرور آتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے نئے زمانے کے مطابق کچھ تبدیلیاں بھی کی ہیں ۔ نوجوانوں کو متوجہ کرنے کے لئے انھوں نے ایرانی اور چائنز ذائقوں کا امتزاج کیا ہے ۔ عباس نے بتایا کہ نئے نسل کو کچھ نیا چاہئے اس لئے کچھ نہ کچھ نیا کرتے رہتے ہیں اور لوگ اس کو پسند کرتے ہیں۔

کراچی کے چند پرانے ایرانی ہوٹلوں میں آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع کیفے ، خیرآباد ٹی شاپ اور سبحانی بیکری کا نام بھی آتا ہے۔ ہوٹل کے مالک عباس علی صاحب نے اس بارے میں بتایا کہ یہ کیفے اور بیکری ان کے دادا نے 1932 میں قائم کی تھی ۔ پہلے والد اور اب یہ ان کے ہاتھوں میں ہے۔زمانہ بدلتا ہے تو اس کے ساتھ لوگوں کے انداز بھی بدلتے ہیں۔ لوگوں کی پسند بدل چکی ہے اس ہی لئے ہم نے بھی کھانوں میں اور ذائقوں کو تھوڑا ’کراچی والا‘ کر لیا ہے۔ یہاں تک کہ اب اس کی پہچان پاکستانی اور انگریزی کھانوں کا اہم مرکز کے طور پر ہوتی ہے۔ ہماری پوری کوشش ہے کہ ہوٹل میں ایرانی کیفے کا تاثر برقرار رہے۔

یہاں لوگ چائے، ناشتے اور کھانے کے لئے آتے ہیں۔ اس ہی لئے یہ کیفے صبح سے رات گئے تک کھلا رہتا ہے۔ ان کے زیادہ تر گاہک صحافی ،بینکرز اور دوسرے آس پاس کے لوگ ہیں ۔عباس صاحب نے مزید بتایا کہ ہر گاہک ہمارے لئے اہم ہے ۔ ایرانی کیفوں کی طرح یہاں بھی خواتین اور فیملیز کے لئے الگ انتظام ہے۔ یہا ں بیٹھ کر کتنے ہی رشتے بنے اور کتنے ہی بگڑے ہیں۔ ہم نے کتنی ہی سرگوشیوں کو خبر بنتے دیکھا ہے۔ یقیناً آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا یہ کیفے کراچی کی تاریخی کا امین ہے۔ ‘

شاہد صاحب، عام طور پر خیرآباد کی بھنی دال اور قورمہ کھانے آتے ہیں لیکن دوستوں کی دعوت کرنا ہو تو یہ اچھی جگہ ہے۔ وہ اکثر ہی پاکستانی کھانوں کے ساتھ ایرانی ذائقے بھی کھاتے ہیں۔ خاص کر چلو کباب، تلی ہوئی مچھلی اور مرغ مصالحہ۔ ان کھانوں کی تراکیب میں مرچ مصالحہ کم ہوتا ہے بلکہ سرخ مرچ کے بجائے سیاہ اور ہری مرچ کا استعمال عام ہے اس لیے کم مصالحے انہیں پسند ہیں۔

کیفے سبحانی کافی عرصے بند رہنے کے بعد اب نئے نام اور نئے ماحول کے ساتھ چلو کباب ساستانی کے نام سے لوگوں کو مخصوص ایرانی اور پاکستانی ذائقے دے رہے ہیں۔ یہاں کے منیجر شعون یاسر کا کہنا ہے کہ لوگ پاکستانی کھانوں کے ساتھ ساتھ ایرانی ذائقوں میں چلو ماہی اور چلو کباب ، چلو تکہ، مرغ مصالحہ زیادہ پسند کرتے ہیں۔ ایرانی کھانوں کی خاص بات ان کھانوں کو چاول کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ پھر اکثر پرانے لوگ فونج کا تقاضا کرتے ہیں فونج یعنی سوجی کی پڈئنگ۔

ایرانی کیفے اپنے مخصوص اورقدیمی انداز کے ساتھ آج بھی اپنے گاہکوں کے ساتھ جوڑے ہوئے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ کراچی کے یہ کیفےمختلف ذائقوں اور اندازکے ساتھ اپنی روایت آئندہ بھی قائم رہیں گے۔


مکمل خبر پڑھیں