بچوں کی تربیت

January 16, 2018
 

قصور میں7سالہ معصوم زینب کے قتل نے سوشل میڈیا پر تمام ٹرینڈز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔اس کیس کی تفتیش جنگی بنیادوں پر جاری ہے جلد ہی مجرم ضرور سامنے آئیگا اور وہ بھی یقیناً کوئی قریبی شخص ہی نکلے گا۔اس ضمن میں ریسرچ کرنے پر پتہ چلا کہ عصمت دری میں ملوث ٹاپ ٹین ممالک میں پہلے نمبر پرجنوبی افریقہ، دوسرے نمبر پر سویڈن ،تیسرے نمبر پرسپر پاور امریکہ، چوتھے پر برطانیہ ، پانچویں پربھارت، چھٹے پر نیوزی لینڈ ، ساتویں پر کینیڈا، آٹھویں پر ا ٓسٹر یلیا ، نویں پر زمبابوے اور دسویں نمبر پر ڈنمارک اور فن لینڈ ہیں۔ ان واقعات میں دیکھا گیا ہے کہ آسٹریلیا میں 92 فیصد،برطانیہ میں89 فیصد اور امریکہ میں 74 فیصد قریبی رشتہ دار اور دوست ہی ملوث پائے گئے۔ان ممالک میںصرف دو ہی غریب ممالک ہیں باقی وہ ہیں جو تہذیب یافتہ اور جمہوریت کا راگ الاپتے ہیں اور خود کو فلاحی معاشرہ کہلواتے ہیں۔ یہ ممالک مذہب سے لاتعلق ہیں لیکن ہم تو رسول عربی کے ماننے والے ہیں۔ہمارے ہاں یہ سب کچھ کیوں ہورہا ہے ؟اس کے پیچھے بہت سی وجوہات ہیں۔ایک طرف اس الم ناک واقعہ کے بعدقصور کے حالات شدید کشیدہ ہیں تو دوسری طرف انصاف کا نعرہ لگانے والی پارٹی اور کینیڈا پلٹ شخص اس واقعہ سے اپنے مذموم عزائم پورے کرنے کیلئے سارا ملبہ حکومت کے سر تھوپنے پر مصر ہیںاپنے اس منافقانہ رویہ کی وجہ سے وہ قصور میں سیاسی انتشار کو ہوا دینے میں مصروف عمل ہیں۔ یہی وہ بے حس ترین سیاسی طفیلئے ہیں جو اس قسم کے واقعات میں آگ پر تیل ڈالنے کا کام کرتے ہیں ۔ ان کی زبانیں کچھ کہہ رہی ہوتی ہیں جبکہ ان کے اعمال بالکل اس کے برعکس ہوتے ہیں۔مظاہروں اور احتجاج کی آڑ میںجرائم پیشہ عناصر بھی باہر نکل آتے ہیں جو مظاہروں کی آڑ میں اپنا کھیل کھیلتے ہیں۔قوم کی بیٹی کی حمایت میں جسٹس فار زینب کی آواز اس قدر شدت سے ابھری ہے کہ عوام سے لیکر فنکاروں تک ہر جگہ اور قانون ساز اسمبلیوں میں نیا بیانیہ جنم لے رہا ہے۔ عوامی مطالبہ جڑ پکڑ رہا ہے کہ قاتل کو سر عام عبرت ناک پھانسی دی جائے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف پھانسی ہی اس جرم کا حل ہے ؟ ہم میں سے ہر کوئی اس سے آگاہ ہے کہ قتل کی سزا موت ہےتو کیا قتل ہونا بند ہو چکے ہیں ؟ بالکل اسی طرح کیا سر عام پھانسی اس جرم کو ختم کردے گی؟اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کیس میں مجرم کو پھانسی نہ دی جائے بلکہ اس جرم کا ٹھوس سد باب کیا جائے۔ سنجیدہ حلقے ،فنکار اور پارلیمینٹیرین سمیت سب یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ سیکس ایجوکیشن کو نصاب میں شامل کیا جائے اور مذہبی حلقوں کو اس ضمن میں اعتماد میں لیا جائے۔بطور ماں میں بخوبی آگاہ ہوں کہ ایک بچے کی زندگی میں دو ادوار بہت ہی اہمیت کےحامل ہوتے ہیں ۔پہلا دور پرائمری کا ہوتا ہے جب بچے ننھے پھول کی مانند ہوتے ہیں انھیں دھوپ، طوفان و بادوباراں سے بچانا پڑتا ہے۔ دوسرا دور نوجوانی کا ہوتا ہے جب اس کی سوچ، آواز اور خدوخال میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہورہی ہوتی ہیں۔ بچوں کو ایام طفولیت میں یہ نہیں سکھایا جاتا کہ کونسی ریڈ لائنز ہیں جنھیں نہ خود پار کرنا ہے اور نہ کسی کو کرنے دینا ہے۔جب کوئی ایسا عمل کرے تو اسے فوراً رپورٹ کرنا ہے کسی سے ہرگزڈرنا نہیں ہے۔کہنے کو تو ہم اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں لیکن آج بھی جنس کے موضوع پر بات کرنا شجر ممنوعہ قرار دیا جاتا ہے۔ بلوغت کے ابتدائی دورمیں نہ صرف والدین بچوں کوتنہا چھوڑ دیتے ہیں بلکہ بیالوجی اور سائنس کے بچےبچیوں کو تعلیمی اداروں میںاساتذہ بھی تفصیلات پڑھانے کی بجائے یہ کہہ اپنی جان چھڑا لیتے ہیں کہ گھر سے پڑھ کر آنا سب کچھ خود بخود سمجھ آجائیگا۔ اگر کوئی سوال اٹھاتا ہے تو اسے بے شرم جیسے القاب سے نوازا جاتا ہے۔ یہ محض غلطی نہیں بلکہ اجتماعی سنگین غفلت ہے جس کا مظاہرہ ہم کئی دہائیوں سے کرتے چلے آرہے ہیں ۔خدائے بزرگ و برتر نے نسل انسانی کی بقا کیلئے انسانوں میں نئے انسان پیدا کرنےکی صلاحیت ودیعت کی تھی جسے آفرنیش سے ہی غلط استعمال کیا جارہاہے۔ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب قوم لوط کی بدکاریاں اتنی بڑھ گئی تھیں کہ اس پر خدائی عذاب نازل ہوا۔زیادتی اور عصمت دری کے واقعات کی روک تھام کیلئے سائنسی بنیادوں پر کام کرنا ازحد ضروری ہے۔سب سے پہلے تو اس قسم کےکیس میں ریاست مدعی بنے اور قصاص کے نظام کو بحال کیا جائے اور کسی رشتہ دار کو مجرم سے صلح کرنے کا حق نہ ہو ۔مجرموں کی سرکوبی کیلئے پھانسی کا عمل سرعام سر انجام دیا جائے۔سیکس ایجوکیشن کو مناسب انداز میں نہ صرف نصاب میں شامل کیا جائے بلکہ اساتذہ سے تحریری حلف لیا جائے کہ انھوں نے بچوں کو اسکی مکمل آگاہی فراہم کردی ہے۔ ہر کلاس میں نمایاں جگہوں پرچارٹ لگا ئے جائیں جن پر بچوں کے حقوق اور اساتذہ کی ذمہ داریاں واضح تحریر ہوں۔ان پر اہم ترین موبائل نمبرز بھی درج ہوں جن پر شکایت کا پیغام بھیجا جاسکے۔لفظ Molestation کا مطلب بچوں کو سمجھایا جائے اور کہا جائے صرف MAلکھ دے یا بول دے جس سے تمام لوگ اور ادارے الرٹ ہوجائیں ۔گمشدگی کی اطلاع پرفوری رپورٹ کا اندراج ہو۔ موبائل اپلیکشن کے ذریعےتھانیدار کی عملی کارکردگی سے لیکر آئی جی تک تمام لوگ آگاہ ہوں۔سوشل میڈیا پر تصاویر معہ تفصیلات جاری ہوں ۔میڈیا بھی اس پرا ٓگاہی پروگرام نشر کرکے اپنی ذمہ داری پوری کرے ۔کسی مرحلہ پر رکاوٹ بننے والے اہلکاروں کو معطل نہیں بلکہ برطرفی اور قید بامشقت کی سزا دی جائے۔ اسپیڈی کورٹس ایسےکیسوں کا مختصر ترین عرصہ میں فیصلہ کریں۔ ٹی وی چینلز کو پابند کیا جائے کہ وہ ایسے پروگرام نشر نہ کریں جو ہمارے کلچر کو تباہ کررہے ہیں۔ نوجوانوں کو بے راہ روی سے بچانے کیلئےمیدان بنائے جائیں جہاں اتھلیٹکس، ریسوں ، ویٹ لفٹنگ جیسے کھیلوں میں انھیںحصہ لینے پر راغب کیا جائے۔ روزگار کا بندوبست کیا جائے ۔ ٹی وی پرہر اذان نماز کے بعد باترجمہ دعا نشر کی جائے۔ جب تک ہم اس ملک میں اللہ کے احکامات کو نافذ نہیں کریں گے، معاشرے کی اصلاح ممکن نہیں ۔ اللہ ہمیں اپنے حفظ و امان میں رکھے۔


مکمل خبر پڑھیں