مزید خرابے سے گریز کریں

February 23, 2018
 

کچھ لوگ مسلسل یاد آرہے ہیں۔ الگ الگ دور کے ہیں۔قدر مشترک ان کا عدلیہ سے تعلق ہے۔ ایک ، جن کے نیاز ستّر کی دہائی کے ابتدائی عرصہ میں ہوئے، جسٹس نورالعارفین ہیں۔ان پر کبھی پھر بات ہوگی۔ دوسرے پچاس کے عشرے سے ساٹھ تک رہے۔ پہلے کا تذکرہ کم ہی ہوتا ہے۔ قانون کی کتابوں میں ان کے فیصلوں کا حوالہ ہے ۔ حوالہ دوسرے صاحب کا بھی ان کتابوں میں ہے۔ تاریخ میں بھی ہے۔ اُن کے فیصلوں کے اثرات اس قوم نے کئی عشروں تک بھگتے۔ جسٹس محمد منیر، نظریہ ضرورت متعارف کرا گئے۔ اس پر بار بار عمل ہوتا رہا۔ جب مارشل لالگا، منتخب حکومت برطرف کی گئی، نظریہء ضرورت ہی کام آیا۔ عدلیہ نے مارشل لاکو اسی فلسفے کے تحت درست قرار دیا۔ ان کا تذکرہ ہوگا۔
اک ذرا بات ہوجائے اس ملک میں پیش آنے والے چند ایک واقعات کی۔ تاریخ کا حصہ ہیں۔ قصہ ہائے پارینہ دہراتے رہنا چاہئے۔ ہم نے اس ملک کی تاریخ فراموش کی تو اس کا جغرافیہ تبدیل ہو گیا۔ ابتدائی دنوں کی ایک مختصر روداد سن لیں۔ ا یوب کھوڑو 15 اگست 1947کو سندھ کے ’پریمیر‘ منتخب ہوئے۔ گورنر سندھ نے 26اپریل 1948کو انہیں بدعنوانی بد انتظامی وغیرہ کے الزامات کے تحت برطرف کردیا۔ ایک ٹربیونل نے 31دسمبر 1948کو اپنی رپورٹ دی۔ 6جنوری 1949 کو وفاقی حکومت نے PRODA نافذ کردیا، مگر اس کو موثر بہ ماضی بنایا، یعنی 14اگست 1947ہے۔ اور اس کے تحت ایوب کھوڑو کو نااہل قرار دیدیا گیا۔ تین سال بعد انہیں پھر سندھ کا پریمیر بنا دیا گیا۔ یہ عہدہ چند ماہ ہی ان کے پاس رہا اور انہیں پھر برطرف کردیا گیا۔ کچھ برس بعد 1954میں پروڈا ختم کردیا گیا اور کھوڑو ایک بار پھر سندھ کے سربراہ بن گئے۔ یہی وہ سال ہے جب 30ستمبر کو بل منظور کرا کے مغربی پاکستان کو ون یونٹ بنا دیا گیا تاکہ نمائندگی مشرقی پاکستان کے برابر ہو سکے ۔
اُدھر وفاق میں ایک سرکاری ملازم، غلام محمد کو گورنر جنرل بنا دیا گیا۔ مشرقی پاکستان کے ممتاز رہنما، خواجہ ناظم الدین، قائد اعظم کے بعد اس عہدہ پر فائز ہوئے تھے۔ انہیں وزیراعظم مقرر کردیا گیا۔ سازشیں بھی کہیں آس پاس ہی اپنے تانے بانے بن رہی تھیں۔ مشرقی پاکستان میں مسلم لیگ کو شکست ہوئی۔ متحدہ محاذ کو اکثریت حاصل ہوئی، مگر حکومت اس کے حوالے نہیں کی گئی۔ اُن کا1970 اسی وقت ہی آگیا تھا۔ خواجہ ناظم الدین نے انڈین انڈیپنڈینس ایکٹ1935میں ترمیم کرکے گورنر جنرل کے اختیارات محدود کرنے کی کوشش کی۔ انہیں کامیابی نہیں ہوئی۔ غلام محمد نے نہایت توہین آمیز انداز میں وزیراعظم کو برطرف کردیا۔ اگلے سال انہوں نے اپنی ’’باصلاحیت کابینہ‘‘ بنائی اور آئین ساز اسمبلی کو برطرف کردیا۔ اس سے پہلے کہ اسپیکر مولوی تمیزالدین عدالت میں مقدمہ دائر کریں، ایک نظراس حادثے کے بعد کے کچھ حالات پہ ڈال لیتے ہیں۔
’’باصلاحیت کابینہ‘‘ کا سربراہ مشرقی بنگال کا ایک کم معروف سیاستدان محمد علی بوگراکو بنایا گیا۔ کابینہ میں سرکاری ملازم چوہدری محمد علی وزیر خزانہ بنائے گئے۔ جنرل ا یوب خان بری فوج کے کمانڈرانچیف بھی رہے اورو زیر دفاع بھی ہوئے۔ میجر جنرل اسکندر مرزا کو سول سروس میں شامل کر کے انہیں مشرقی بنگال (پاکستان) کا گورنر بنادیاگیا، اور وہاں غلام محمد نے گورنر راج نافذ کردیا۔ غلام محمد نے اس طرح وزیر اعظم کے اختیارات کم کردئیے اور پہلی بار عوام کے سامنے یہ حقیقت کھل کر آئی کہ اقتدار میں فوج کا ایک اہم کردار ہے۔
مولوی تمیزالد ین نے آئین ساز اسمبلی کی برطرفی کے خلاف عدالت سے رجوع کیا۔ یہیں سے اس خرابی نے جنم لیا جسے ’نظریہ ضرورت‘ کہتے ہیں۔ جسٹس منیر اسی لئے یاد آرہے تھے۔ انہوں نے پہلے غلام محمد کے اقدام کو درست قرار دیا، پھر جب 1958میں جنرل ایوب خان نے مارشل لالگایا تو اسے بھی حق بجانب بتایا۔ وہ خود تو 1960میں ریٹائر ہوگئے، اپنی خراب روایت چھوڑ گئے۔ بعد میں جنرل ضیاء الحق کا مارشل لا اور جنرل مشرف کا اقتدار پر قبضہ بھی اسی کالے قانون کے تحت درست ٹھہرے۔ سوائے جسٹس منیر کے کسی چیف جسٹس نے اپنے کسی غلط فیصلے پر افسوس کا اظہار نہیں کیا۔ سب نے خوشی خوشی مارشل لاکے بعد عبوری آئین کے تحت حلف اٹھایا، اور قابض جنرل کو نہ صرف حق بجانب قرار دیا، اسے آئین میں ترمیم کا حق بھی دیا۔ اپنی نوعیت کے یہ منفرد فیصلے ہیں جن میں درخواست دینے والوں کو کوئی سہولت فراہم کرنے کی بجائے ، غاصب کو بن مانگے بہت سے اختیارات دئیے گئے۔ جنرل ایوب خان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ایک اور کالا قانون ، EBDOنافذ کیا۔ اس میں پہلے مرحلے میں سات ہزار افراد کو انتخابات لڑنے کیلئے نا اہل قرار دیا گیا۔ اور کہا گیا کہ اگر کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کے خلاف مزید کارروائی نہ ہو تو وہ انتخابات سے ازخود دستبردار ہو جائے۔ مزید 75افراد نے یہ ’سہولت‘ حاصل کی۔تاہم، مشرقی پاکستان کے ایک ممتاز رہنما اور سابق وزیر اعظم، حسین شہید سہروردی کو کراچی میں گرفتار کر لیا گیا۔
سقوط مشرقی پاکستان کے بعد، ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار سنبھالا۔ وہ پہلے سویلین چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنا دئیے گئے۔ ان کے دور میں بھی مخالفین کے خلاف کارروائیاں ہوتی رہیں۔ انہیں پورے پاکستان میں اکثریت نہیں ملی تھی۔ حکومت سنبھالتے ہی انہوں نے بلوچستان کی حکومت برطرف کردی۔ احتجاجاً سرحد، اب خیبر پختونخوا، کی مشترکہ حکومت نے استعفیٰ دیدیا۔ بھٹو نے خان عبدالولی خان کی نیشنل عوامی پارٹی پر1973 میںپابندی لگا دی۔ معاملہ عدالت میں گیا۔ یہ ایک آئینی ضرورت تھی۔ حکومت کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی لگانے کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی پابند ہے۔ ولی خان نے بنچ کے سامنے پیش ہونے سے انکار کردیا کیونکہ اس میں ایک جج وہ تھے جنہوں نے سیکرٹری قانون کی حیثیت سے نیپ پر پابندی کا نوٹی فکیشن جاری کیا تھا۔ایک اور جج پر بھی انہیں اعتراض تھا۔ کسی بھی جج کو بنچ سے ہٹایا نہیں گیا۔ نیپ پر پابندی لگا دی گئی، ولی خان اور ان کے بہت سے ساتھیوں کو جیل میں بند کردیا گیا۔ مقدمہ حیدرآباد جیل میں چلا اور اسے حیدرآباد سازش کیس بھی شاید اسی لئے کہتے ہیں۔ ولی خان اور ان کی ساتھیوں کو رہائی ضیاء الحق کے مارشل لاکے بعد ملی۔
یہ اورآنے والے جمہوری ادوار بھی اپنی ایک داستان رکھتے ہیں۔ ضیاء الحق نے اپنے ہی وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی حکومت برطرف کردی۔ معاملہ عدالت میں گیا۔ عدالت نے برطرفی غلط قرار دی مگر کہا کہ اب کیونکہ انتخابات ہونے والے ہیں، اس لئے فیصلہ عوام پر چھوڑ تے ہیں۔ بینظیر بھٹو 1988میں برسر اقتدار آئیں، صدر غلام اسحاق نے ان کی حکومت 1990 میں برطرف کردی۔ عدالت سے وہ بحال نہیں ہوسکیں۔ نواز شریف اگلے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ ان کی حکومت بھی غلام اسحاق خان نے 1993 میں برطرف کردی۔ تاہم انہیں عدالت نے بحال کردیا، مگر حکومت تین ماہ بعد فوج کے سربراہ جنرل عبدالوحید کاکڑ کی ثالثی کے ذریعے ختم ہوگئی۔ غلام اسحاق خان کو بھی مستعفی ہونا پڑا۔ بینظیر بھٹو 1993 میںایک بار پھر منتخب ہوئیں۔ اس بار صدر ان کی اپنی پارٹی کے ہی تھے، فاروق لغاری۔ انہوں نے بی بی کی حکومت 1996 میں فارغ کردی۔ عدالت سے وہ بھی بحال نہیں ہو سکیں۔ ان کی جگہ اس بار پھر نواز شریف وزیراعظم بنے۔ وہ 1999 میں جنرل مشرف کو چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے سے برطرف کرتے ہوئے خود ہی اپنے حکومت کھو بیٹھے اور جلا وطن بھی ہوئے۔ مشرف کے دور میں منتخب ہونے والی اسمبلی نے پانچ سال مکمل کئے، پہلی بار۔ مگر ان کے وزیراعظم کو یہ اعزاز نصیب نہیں ہو سکا۔ یہی پی پی پی کی حکومت میں ہوا۔ بالکل آخری مرحلےمیں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ نے توہینِ عدالت پر سزا دی اور وہ نا اہل ٹھہرے۔ نواز شریف وزارت عظمیٰ کے لئے بھی عدالت کے ہاتھوں نا اہل قرار پائے اور پارٹی کی سربراہی کے لئے بھی۔ یہ روایت کسی نہ کسی شکل میں برقرار رہی کہ پاکستان میں کوئی وزیراعظم اپنی مدت پوری نہیں کر سکا۔ اس میں زیادہ کردار عدالتوں کا رہا۔ یہ ایک افسوسناک بات ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ پہلے آئین کی دفعہ 58(2)(b) کا سہارا لیا جاتا تھا۔ پارلیمان نے اسے ختم کرکے اپنے پیروں پر کلہاڑی ماری ہے۔ اب آئین کی دفعہ 184(3) وہی کام کرتی ہے۔ پہلے اسمبلیاں بھی جاتی تھیں، اب بات صرف وزیراعظم تک رہ جاتی ہے۔ یہ سب جو کچھ ہوتا رہا، اور جس کا خدشہ ہمیشہ موجود رہتا ہے، بہت تشویشناک ہے، بہت ہی زیادہ۔ اس کے حل کی ضرورت د ن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ ذمہ دار کوئی ایک ادارہ نہیں۔ سب ہی اپنے اپنے حصہ کا خرابہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اس سے گریز جتنی جلد ممکن ہو کیا جائے۔ سب ہی مل بیٹھیں، معاملات حل کریں۔ حکومت اور عہدے آتے جاتے رہتے ہیں۔ ملک ٹھیک چلے گا تو سب کا بھلا ہوگا۔ سب کو اس کے لئے کام کرنا چاہئے۔ یہی وقت کا تقاضا ہے۔


مکمل خبر پڑھیں