کوئی تو ہے جو نظام وطن چلا رہا ہے

March 22, 2018
 

ڈاکٹر شاہد مسعود نے پھانسی مانگی، رحم ملا۔ نہال ہاشمی نے معافی مانگی، سیاسی کیرئیر سے ہاتھ دھونا پڑے۔اہل وطن گواہ رہنا، ایگزیکٹ فراڈ کیس اور خادم حسین رضوی کے معاملے میں نرمی واجب رہے گی۔ جس ملک میں ادارے ضرورت سے زیادہ مضبوط ہوں،ایسے فیصلے اچنبھے کی بات نہیں۔ چنانچہ نہال، دانیال، طلال بدحال مقدر۔قوم تقسیم ہوچکی، تصادم بڑھ رہا ہے۔ بظاہر مسلم لیگ ن کی حکومت ہے، ادارے،محکمے کسی اور جگہ رپورٹ کر رہے ہیں۔آرمی چیف نے چند دن پہلے میڈیا کے معتبر اکابرین کو اکٹھا کیا۔ لب لباب یہی کہ ’’ہم سپریم کورٹ کے پیچھے کھڑے ہیں‘‘ کچھ باتیں اور بھی مگر کسی اور پیرائے میں۔ عمران خان اور نیا رنگروٹ زرداری بھی سپریم کورٹ اور اداروں کے پیچھے کھڑے ہیں۔ یوں اچھے کاموں میں مطابقت ہے۔ نواز شریف اور خاندان کڑے مقدمات میں اس طرح ملوث، آرٹیکل10(A) ابدی نیند میں، مقدمات منطقی انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں، فقط نگران حکومت کا انتظار ہے۔ سپریم کورٹ کی مصروفیات دیدنی، عدالتی ہاتھ انتظامیہ کو دبوچنے، سدھارنے میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد اب سیاست کو ٹھیک کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ آنے والے دنوں میں لیگی سیاستدانوں کو مثال بنانا ہے۔ ن لیگ سے وابستہ لوگوں کی نا اہلیاں آئے دن متوقع ہیں۔ پیغام واضح گھر گھر پہنچایا جا رہا ہے۔ راستے دو ہی ’’ ن لیگ چھوڑنی ہوگی یا نااہلی سمیٹنی ہوگی‘‘۔ سیاست نہیں ریاست بچاؤ،الیکشن دھاندلی، پاناما کیس، نواز شریف نا اہلی،بلوچستان حکومت کی زمین بوسی، نواز شریف کی بحیثیت صدر معزولی،سینٹ چیئرمین کا دن دیہاڑے صاف شفاف انتخاب، عامر لیاقت جیسوں کی تحریک انصاف میں شمولیت، خدا کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوںکہ کسی ایک عمل یا دیگر درجنوں کارنامہ ہائے نمایاں میںزرداری عمران کا کوئی عمل دخل اور نہ ہی کوئی قصور۔ دونوں بھائیوں نے پچھلے چند ماہ میں اپنے تئیں، ’’ بوائز‘‘ کے مجبور کرنے پر جو جو وارداتیں ڈالیں،وقتی فائدہ برطرف، اپنی اپنی سیاست ڈبو چکے۔یہ بات اپنی جگہ کہ پنجاب میں ن لیگ کا مقابلہ کرنے اور کراچی میں ایم کیو ایم کی افراط تفریط سے فائدہ اٹھانے کے لئے، پس پردہ قوتوں نے عمران خان کو اولین فوقیت دے رکھی ہے۔ آنے والے دنوں میں عملاًزرداری کے لئے وفاقی حکومت میں اہم رول اور سندھ حکومت زیادہ اختیارات کے ساتھ ملنے کی قوی امید ہے۔ اصل ذمہ داری عمران کو تفویض، ’’کچرا‘‘ اُٹھانے میں مستعد،وفاق اور kPمیں محدود اور مخلوط حکومت میںثانوی حیثیت سے رہنی ہے۔ تحریک انصاف کے سمجھدار قائدین اور دیگر بڑی سیاسی جماعتوں کے بڑے رہنما برملا کہتے ہیں’’ نواز، شہباز، مریم کی جیل بندی، زبان بندی بلکہ شریف خاندان کی نس بندی بمعہ طابع نگران حکومت کی سہولت میسر ہوگی تو مسلم لیگ ن ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہے گی۔ اگلے الیکشن میں دال دلیا بنے گا‘‘۔بات پرانی، وہی کہانی، 2017 میں نواز شریف کی وزارت عظمیٰ سے معزولی پر ن لیگ نے تتر بتر ہونا تھا،امیدیں خاک رہیں۔نئی ضد سامنے آئی کہ نواز شریف کو صدارت سے ہٹا ؤ،ن لیگ ٹوٹ جائے گی۔ کام پھر بھی نہ بنا۔ شیر کا نشان نہ دے کر بھی دیکھا، قوم دھوکا کھانے پر آمادہ ہوئی۔ دعوے سے کہتا ہوں کہ 2018 میں عام آدمی آزادانہ حق رائے دہی استعمال کر سکا، تو جیت پکی ن لیگ کی رہنی ہے۔ اگرچہ نیا بڑا سیاسی پلیٹ فارم تشکیل پانے کو، کنونشن لیک اور ق لیگ جیسا قومی لیگ ورژن نمبر3 رہنا ہے۔کنونشن لیگ، ق لیگ، آئی جے آئی جو نام بھی رکھ لیں تاریخ نے یہی ثابت رکھا کہ استعمال کے بعد کوڑا دان ہی آخری آرام گاہ رہنی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو یا نواز شریف دونوں کی اٹھان اسٹیبلشمنٹ کی سیاست سے ضرور رہی، بچ گئے کہ بھٹو صاحب 1966 میںاسٹیبلشمنٹ سامنے خم ٹھونک کر جبکہ نواز شریف 1993 میں صدر اسحاق اور اسلم بیگ سامنے سینہ تان کر کھڑے ہوگئے۔ اسٹیبلشمنٹ کے لئے بھی سوچنے کا مرحلہ، جس کسی نے بھی اسٹیبلشمنٹ سے ٹکر لی، حتیٰ کہ افتخار چوہدری کی مثال بھی، رفعت اور مقام پایا۔ آج نواز شریف اپنے سیاسی کیرئیر کے عروج پر ہیں۔ پذیرائی دیدنی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے لئے ایک پہلو اور بھی غور طلب، 1988 میں بے نظیر کو روکنے کے لئے پہاڑ جیسی کاوشیں ہوئیں۔ آئی جے آئی بنی۔شنید،اسامہ بن لادن اور عرب ممالک کا کروڑوں روپے کا سرمایہ پانی کی طرح بہایا گیا۔باقاعدہ مڈ نائٹ جیکال نام کا آپریشن بے نظیر کا راستہ روکنے کے لئے کیا گیا۔ سب بیکار، بے نظیر جیت گئیں۔ 11ماہ بعد جتوئی کی قیادت میں متحدہ اپوزیشن، اداروں کی تائید و تاکید پر اسمبلی کے اندر بے نظیر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائے۔ چھانگا مانگا اور بھوربن میں ممبران کو رکھا گیا،جوڑ توڑ سے بنی بے نظیر حکومت نہ توڑی جا سکی۔ایسی حرکتیں کیوں کہ ناکامی منہ چڑھائے۔ تیسری مثال 2002 کے عام انتخابات، نواز شریف اور بے نظیر ملک بدر، وطن عزیز، اجڑی مسجد ابابیل امام، لگتا تھا، ق لیگ کی2 تہائی اکثریت یقینی ہے۔ شرمناک کہ ق لیگ سادہ اکثریت سے بھی محروم رہی۔ ان مثالوں کا فائدہ نہیں کہ ہمارے ادارے اپنے یقین کامل، عمل پیہم اور عزم صمیم میں بے مثال ہیں۔جب تل جاتے ہیں پیچھے نہیں ہٹتے۔ایک توجہ دلاؤ نوٹس ضروری، مغربی سرحد پر بیٹھے امریکہ کے عزائم بالکل مختلف، للچائی نظروں سے وطنی حالات پر رالیں ٹپکا رہا ہے، تیرا کیا بنے گا ارض وطن؟ 2018 کے وسط میں شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے گوش گزار کیا تھا۔ ایک تاثر یہ بھی ہے کہ سول ملٹری تعلقات کبھی بھی ٹھیک نہیں ہو سکتے، کہ70سالہ تاریخ تائید کرتی ہے۔ سویلین حکومت سے ناچاقی اداروں کی طبیعت میں رچ بس چکی ہے۔
خاطر جمع رکھیں موجودہ سربراہ( جنرل راحیل) چند ماہ بعد ریٹائرڈ ہوجائیں گے۔ نواز شریف صاحب اپنی مرضی کا نیا سربراہ بھی چن لیں گے۔ حالات تبدیل نہیں ہونگے۔ تناؤ اور ٹکرائو مزید بڑھے گا، وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔پچھلے چند دنوں سے شہباز شریف مستعد اور روبہ عمل ہیں، یقین دلاتا ہوں، خدا کے گھر جائیں یا خدا کی شان دیکھیں، اگلوں کے ارادے غیر متزلز مستقل مزاجی شعار ہے۔ ابھی سے ن لیگ کے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کو واضح پیغامات پہنچائے جا رہے ہیں، پی ٹی آئی (نئی ق لیگ) جوائن کرو یا گھر بیٹھ جائو‘‘۔ ایسی جامع تجویزکتنے لوگ پلے باندھتے ہیں، وقت بتائے گا؟ پس پردہ قوتوں کی ساری منصوبہ بندی، باوجودیکہ سب کچھ درست سمت میں جارہا ہے۔ سیاست کا محور و مرکز نواز شریف مزید مستحکم و مضبوط ابھر کر سامنے آچکے ہیں۔ آنے والے عام انتخابات میں کسی طور عام آدمی کو ووٹ استعمال کرنے کی آزادی رہی تو سارے سروے،ماضی کے ضمنی الیکشن، نواز شریف کی پبلک پذیرائی، بے شمار آثارنواز شریف کی جیت یقینی بتا رہے ہیں۔نواز شریف کے لئے سب اچھا نہیں ہے۔ قرائن بتاتے ہیں کہ 2018 کا الیکشن نواز شریف با آسانی جیت جائیں گے۔ زندگی کے در پے ہوسکتے ہیں!فکر نہ کریں کہ جان تو آنی جانی ہے۔ 70سال ما شا اللہ بھرپور زندگی گزار چکے۔ مجھے یقین ہے کہ نواز شریف جان کی پروا نہیں کریں گے۔تاریخ میں درج ایک سبق اوربھی، بے نظیر1988 کے الیکشن میں جیت کر حکومت بنانے میں کامیاب ضرور ہوئیں، وزیر تک اپنی مرضی کے نہ بنا سکیں 2سال 5ماہ بعد گھر بھیج دیا گیا۔ مثال اس لئے کہ، ن لیگ کی کامیابی کی صورت میں نئی حکومت کوہرگز کام کرنے نہیں دیا جائے گا کہ دنگل نے جاری رہنا ہے۔ ہمارے مستعد ادارے، امپائروں نے اپنا اور قوم کا قیمتی وقت جس طرح چار سالوں میں حکومت کی اکھاڑ پچھاڑ میں خرچ کیا۔ نواز شریف کے دوبارہ اقتدار میں آنے پر آنے والے دنوں میں یہی کاروبار جاری رہنا ہے۔ مجھے قوی امید ہے، نگران حکومت کی مطلق العنانی، نواز شریف کی زبان بندی، شریف خاندان کی قید و بند،دیگر رکاوٹوں، دبائو لالچ سے شاید ’’ قومی لیگ‘‘سینٹ ماڈل اسٹائل حکومت بنالے گی۔ نئی حکومت کو بغل گیر کرنے کے لئے امریکہ اور بھارت پہلے سے تڑپ رہے ہیں، انکا کام بن جائے گا۔ فنانشل ٹاسک فورس کے اگلے اجلاس میں گرے سے بلیک ایریا میں جانے کا قوی امکان ابھرے گا۔ حکومت چلانا خالہ جی کا کام نہیں اور وہ بھی چوں چوں کے مربے سے، تاریخی ناکامی مقدر بننی ہے۔شک نہیں کہ بھانت متی کے کنبہ نے شاندار ناکامی دیکھنا ہے۔وطن عزیز کا نقصان ہی نقصان، البتہ نواز شریف کی واضح اور روشن فتح مستند۔ آسودگی ایک ہی جن اداروں کے پاس ڈرائو دھمکائو کے حقیقی اورحتمی اختیارات ہیں۔ قومی لیگ کی صورت میں کچھ ذمہ داریاں بھی مضبوط کندھوں پر آنی ہیں۔ جملہ معترضہ اتنا اگلا وزیر اعظم تحریک انصاف کا نہ پیپلز پارٹی کا بلکہ سنجرانی جیسا ہی۔عزم نواز شریف ان چند سالوں میں اقتدارسے ضرور باہر، ناقابل تسخیر بن جائیں گے۔ ایسے مضبوط و مقبول کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ ایسی مثال پیش کرنے سے قاصر رہے۔دو قومی جماعتیں پیپلزپارٹی، خصوصاً تحریک انصاف سیاسی طور پر سب سے زیادہ نقصان اٹھائیں گی۔ قومی سانحہ کہ قومی پارٹیاں اپنے لیڈروں کی بدمستیوں اور بد نیتیوں کا اس طرح خمیازہ بھگتیں۔ نواز شریف 2018 میں اقتدار میںآنے کا ایک اور فائدہ بھی، 70 سال سے بگڑے سول ملٹری تعلقات کو حالات کے جبر اور نامساعد ملکی حالات، ہمیشہ کیلئے ڈھنگ پر لے آئیں گے۔ نواز شریف کو گارنٹی دیتا ہوں کہ2023 یااس سے بھی ایک آدھ سال پہلے اقتدار خود بخود انکے قدموں میں آنا ہے کہ قومی افق پر ایک ہی سیاسی رہنما، جناب ہی نے توبچنا ہے۔ جبکہ1971 میں عبرتناک شکست کے بعد صدر یٰحییٰ نے نور الامین اور ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار گھر جا کرہی تفویض کیا تھا۔اگلے دو تین سالوں میں مقتدر پارٹیوں کا مقدر ذلت، خواری،رسوائی کے سوا کچھ نہ ہوگا۔ ن لیگ کو جب دوبارہ 2023 میں اقتدار ملے گا، تو سول ملٹری تنازع کی وجہ نزاع کا تدارک ہوچکا ہوگا۔، حالات کا تقاضا بھی یہی رہنا ہے۔ شرط کڑی،اس کھینچا تانی میں، پاکستان کا سلامت رہنا ضروری ہے کہ آنیوالے دن وطن عزیز پر بہت کڑے ہیں۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں