کون بنے گا چیمپئن؟

March 25, 2018
 

کون بنے گا پاکستان سپر لیگ چیمپین،اگلے بارہ ماہ پاکستان کی سب سے بڑی اور دنیا کی دوسری سب سے بڑی لیگ میں حکمرانی کا تاج کس کے سر سجے گا اس کا فیصلہ آج شب نیشنل اسٹیڈیم میں ہوگا۔شہر میں فائنل کے لئے کرکٹ فیور عروج پر ہے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے چار بڑے کھلاڑی شاہد خان آفریدی،سرفراز احمد،رومان رئیس اور اسد شفیق فائنل میں ایکشن میں نہیں ہوں گے۔ان کی ٹیمیں فائنل کی ریس سے باہر ہوچکی ہیں۔فاسٹ بولر محمد سمیع اپنے شہریوں کے سامنے دنیا کے بڑے بیٹسمینوں کے خلاف بولنگ کریں گے۔ماضی کے عظم فاسٹ بولر وقار یونس کہتے ہیں کہ محمد سمیع کی اب بھی کرکٹ باقی ہے اسے ایک اور موقع ملنا چاہیے۔

اسٹار کھلاڑیوں کی کہکشاں کراچی میں جگمگائے گی۔ہائی وولٹیج میچ کے لئے تماشائیوں نے بھرپور تیاری کی ہے۔اہلیان کراچی کو بڑے میچ میں مثالی نظم و ضبط دکھا کر اس میچ کو کامیاب کرانا ہوگا۔اس میچ سے کراچی میں انٹر نیشنل کرکٹ کے دروازے ہمیشہ کے لئے کھل جائیں گے۔

نیشنل اسٹیڈیم کراچی کا شمار پاکستان کے تاریخی میدانوں میں ہوتا ہے۔اس گراونڈ میں2000تک پاکستانی ٹیم کوئی ٹیسٹ نہیں ہاری تھی۔اس گراونڈ کو دو ورلڈ کپ میچوں کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہے۔

1996کے ورلڈ کپ میں یہاں ورلڈ کپ کوارٹر فائنل ہوا تھا۔پہلی بار ملک کا یہ گراونڈ پاکستان سپر لیگ فائنل کی میزبانی کررہا ہے۔پہلا فائنل دبئی اسٹیڈیم میں ہوا تھا جبکہ گذشتہ سال فائنل قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ہوا تھا۔پاکستان سپر لیگ کے سپر فائنل کے لئے نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں اسٹیج تیار ہے۔

ملک کے سب سے بڑے شہر میں 9سال کے طویل عرصے بعد ایک بڑا میچ ہورہا ہے۔پشاور زلمی کی ٹیم کراچی میں ہونے والے فائنل میں اسلام آباد یونائیٹڈ کے مد مقابل ہوگی۔

شائقین دنیا کے بہتر ین کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے صف اول کے کھلاڑیوں کو ایکشن میں دیکھیں گے۔کراچی پی ایس ایل فائنل کے لئے دلہن کی طرح سجایا گیا ۔شہرمیں میچ کے لئے ٹکٹ نایاب ہیں۔دو کروڑ کے لگ بھگ آبادی والے شہر میں کون کون خوش قسمت ہوگا جو نیشنل اسٹیڈیم میں جاکر یہ فیصلہ کن معرکہ دیکھے گا۔

دبئی میں پاکستان سپر لیگ کے کامیاب بیٹسمین لیوک رائٹ سے جب دریافت کیا گیا کہ آپ کراچی جاکر اسلام آباد یونائیٹیڈ کی نمائندگی کریں گے۔تو انہوں نے کہا کہ فائنل کے لئے تیس ہزار سے زائد ٹکٹ تین گھنٹے میں فروخت ہوگئے ۔اس لئے میری دلی خواہش ہے کہ پر جوش تماشائیوں کے سامنے کارکردگی دکھاوں۔کراچی میں بڑے میچ کے لئے بڑی تیاریاں ہیں۔

لاہور گذشتہ چند سالوں سے کئی انٹر نیشنل میچوں کی میزبانی کر چکا ہے۔لیکن 2009کے بعد کراچی میں پہلا بڑا میچ ہورہا ہے۔2009میں جب نیشنل اسٹیڈیم نے آخری بارٹیسٹ میچ کی میزبانی کی تھی تو اس میچ میں یونس خان نے سری لنکا کے خلاف ٹرپل سنچری بنائی تھی۔

پی ایس ایل تھری میں گذشتہ دو ایڈیشنز کے برعکس اس مرتبہ ٹورنامنٹ میں چھ ٹیمیں پشاور زلمی، لاہور قلندرز، کراچی کنگز، اسلام آباد یونائیٹڈ، کوئٹہ گلیڈیئٹرز اور ملتان سلطانز شریک ہوئیں۔۔ٹورنامنٹ کے ابتدائی مراحل کے31 متحدہ عرب امارات میں دبئی اور شارجہ میں منعقد ہوئے تاہم دونوں ایلیمنیٹر مقابلے لاہور میں ہوئےور فائنل میچ کراچی میں ہو رہا ہے۔

کراچی کو ایک ٹی ٹوئینٹی انٹر نیشنل میچ کرانے کا اعزاز ہے جب دنیا میں ٹی ٹوئینٹی کو مقبولیت ملی پاکستان میں انٹر نیشنل کرکٹ کے دروازے بند ہوگئے تھے۔قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے جانے والے پہلے ایلیمینیٹر میں پشاور زلمی نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو ایک رن سے شکست دی۔دوسرے ایلیمنیٹر میںدفاعی چیمپین پشاور زلمی نے کراچی کنگز کو13رنز سے شکست دی۔پی ایس ایل میں اس سال34میچ ہونا تھے۔اتوار کی شام سات بجے فائنل کے آغاز کے ساتھ شائقین کرکٹ کے انتظار کی گھڑیاں ختم ہوجائیں گی۔

پاکستان سپر لیگ کی سب سے مقبول ٹیم پشاور زلمی اپنے کپتان ڈیر سیمی کی کپتانی میں یہ ٹورنامنٹ جیتنے کے لئے پرعزم ہے۔سیمی پہلی بار کراچی میں ایکشن میں دکھائی دیں گے۔پشاور کے پاس کامران اکمل،وہاب ریاض جیسے ورلڈ کلاس کھلاڑی ہیں لیکن اس کی فائنل میں جانے کی مہم میں کامران اکمل کی بیٹنگ نے بڑا کردار ادا کیا ہے۔کامران اکمل نے شارجہ میں لاہور قلندر کے خلاف پی ایس ایل کی تیسری اور اس سال کی پہلی اب تک کی واحد سنچری اسکور کی ہے۔

وہ ٹورنامنٹ میں424رنز بناچکے ہیں ۔پشاور کی ٹیم جب بھی مسائل میں پھنسی کامران اکمل نے اپنی بیٹنگ سے اسے جیت دلوادی۔لاہور میںکامران اکمل نے پاکستان سپر لیگ کی تیز ترین نصف سنچری اسکور کی، انہوں نے صرف 17گیندوں پر 54 رنز کی جارحانہ اننگز کھیل کر یہ ریکارڈ اپنے نام کیا۔

اس سے قبل اسلام آباد یونائیٹڈ کے اوپننگ بلے باز لیوک رونکی نے پہلے پلے آف میچ میں کراچی کنگز کے خلاف ہی 19 گیندوں پر نصف سنچری اسکور کی تھی۔پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی اس کامیابی کو ٹیم اسپرٹ قرار دیتے ہیں۔جبکہ ہیڈ کوچ محمد اکرم لو پرو فائل میں رہ کر خاموشی سے کام کررہے ہیں۔

پشاور زلمی نے گذشتہ سال فائنل میں کوئٹہ کو شکست دی تھی۔اس سال فائنل میں اس کا مقابلہ2016کی فاتح اسلا م آباد یونائیٹیڈ سے ہورہا ہے۔اسلام یونائیٹیڈ میں اس سال وسیم اکرم نہیں ہیں لیکن وسیم اکرم کی جگہ وقار یونس نے لی ہے۔ڈین جونز کی کوچنگ میں یہ ٹیم فتوحات حاصل کررہی ہے۔

ڈین جونز کہتے ہیں کہ ہر کھلاڑی کو جو رول دیا گیا ہے وہ اسے ادا کررہا ہے۔اسلام آباد کی ٹیم بدقسمت ہے کہ فائنل میں اسے اپنے تین صف اول کے کھلاڑیوں رومان رئیس ،آندرے رسل اور کپتان مصباح الحق کی خدمات حاصل نہیں ہے۔مصباح اور نائب کپتان رومان رئیس کی عدم موجودگی میں کپتانی جے پی ڈومینی کریں گے۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم پاکستان سپر لیگ کے تیسرے ایڈیشن کے پلے آف میں قدم رکھنے والی پہلی ٹیم بنی جس میں مصباح الحق کی قائدانہ صلاحیتوں کا عمل دخل کافی نمایاں رہا لیکن بحیثیت بیٹسمین ان کی جانب سے اس سال کوئی بڑی اننگز دیکھنے کو نہیں ملی۔

وہ ہیمسٹرنگ کی تکلیف کے سبب پہلے دو میچ نہیں کھیل سکے تھے جس کے بعد انھوں نے اگلے جن چار میچوں میں بیٹنگ کی اور ان میں وہ مجموعی طور پر صرف 57 رنز بنا پائے۔ ان چار میچوں میں ان کا سب سے بڑا انفرادی سکور صرف 22 رنز رہا جبکہ تین میچوں میں وہ بیٹنگ کرنے نہیں آئے۔

کراچی کنگز کے خلاف آخری لیگ میچ میں مصباح الحق کا ہاتھ ٹائمل ملز کی تیز گیند پر زخمی ہو گیا جس کی وجہ سے انھیں پی ایس ایل سے باہر ہونا پڑا اور کہا جا رہا ہے کہ وہ چار ہفتے تک کرکٹ نہیں کھیل سکتے۔مصباح الحق ٹورنامنٹ کے فائنل میں شریک نہیں ہوں گے۔تاہم اسلام آباد کی فتوحات میں نیوزی لینڈ کے لیوک رائٹ کی دھواں دار بیٹنگ کا بڑا عمل دخل ہے جواس ٹورنامنٹ میں383رنزتین نصف سنچریوں کی مدد سے بنا چکے ہیں جس میں کراچی کنگز کے خلاف 94رنز کی اننگز بھی شامل ہے۔

پاکستان میں انٹر نیشنل کرکٹ کی بحالی پی سی بی کے لئے کئی سالوں سے چیلنج بنا ہوا ہے۔شہریار خان جب بورڈ کے چیئر مین تھے تو انہوں نے زمبابوے کو لاہور مدعو کیا تھا۔پھر شہریار خان کے ساتھ مل کر نجم سیٹھی نے غیر ملکی ٹیموں کو پاکستان لانے کا بیڑا اٹھایا ۔نجم سیٹھی کی کوششوں سے گذشتہ سال پی سی بی کو بڑا بریک تھرو ملا۔

پہلے پی ایس ایل کا فائنل ہوا پھر ورلڈ الیون نے تین ٹی ٹوئینٹی میچ کھیلے اس کے بعد سری لنکا نے ایک ٹی ٹوئینٹی میچ کھیلا۔کراچی میں پی ایس ایل فائنل کے فورا بعد پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے تین ٹی ٹوئینٹی میچ ہوں گے۔اس طرح پاکستان کرکٹ بورڈ بتدریج ملک میں انٹر نیشنل کرکٹ کی بحالی کی کوشش کررہا ہے۔

نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ یہ میچز یکم، دو اور تین اپریل کو نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے ۔نجم سیٹھی نے کہا کہ کراچی والوں کی یہ دیرینہ خواہش تھی کہ وہاں بھی جلد سے جلد انٹرنیشنل کرکٹ دوبارہ شروع ہو۔

یاد رہے کہ ورلڈ الیون گزشتہ سال ستمبر میں تین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز اور پھر سری لنکا کی کرکٹ ٹیم اکتوبر میں لاہور میں ایک ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ کھیلی تھی۔ لاہور پاکستان سپر لیگ کے دو پلے آف میچوں کی بھی میزبانی کررہا ہے۔

نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سکیورٹی ماہر ریگ ڈکیسن پاکستان سپر لیگ کے فائنل کے بارے میں نیشنل ا سٹیڈیم کا دورہ کرنے کے بعد مثبت رپورٹ دے چکے ہیں، ان کی کمپنی کے ماہر فائنل کے موقع پر دوبارہ کراچی میں موجود ہونگے اور وہ ویسٹ انڈین ٹیم کے دورے کے سلسلے میں سکیورٹی کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ دیں گے۔

نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم کو کراچی میں کھیلنے کے لیے قائل کرنا آسان نہ تھا لیکن ان کی کوششیں کامیاب ثابت ہوئیں۔تماشائیوں کو مثالی ڈسپلن دکھا کر ان میچوں کو کامیاب کرانا ہوگا۔تاکہ دنیا بھر میں کراچی کا مثبت ایمیج سامنے آئے۔


مکمل خبر پڑھیں