ٹیم کی خراب کارکردگی کا پوسٹ مارٹم کر رہے ہیں

May 22, 2018
 

پاکستان سپر لیگ کی فرنچائز لاہور قلندر نے تین سالوں میں لاکھوں دلوں کو توڑا اور لاکھوں دلوں کو جوڑا ہے۔ٹورنامنٹ کی سب سے مقبول ٹیم نے پی ایس ایل کے تین ایڈیشن میں میچ کم جیتے ہیں لیکن اس ٹیم کا فین کلب دیگر پانچ ٹیموں سے زیادہ ہے۔لاہور قلندر کی مقبولیت سے کسی کو انکار نہیں ہے۔لیکن اس ٹیم کے مالک فواد رانا اپنے منفرد انداز اور شخصیت کی وجہ سے کئی اسٹار کھلاڑیوں سے زیادہ مقبول ہیں۔ فواد رانا میدان میں اپنی قلندرانہ طبعیت کے سبب سب سے منفرد نظر آتے ہیں۔ ان کی ٹیم جیتے، چوکا، چھکا، لگائے یا وکٹ حاصل کرے تو وہ میدان میں بھنگڑا اور کبھی کبھی منفرد ا سٹائل انداز میں رقص کرنا شروع کردیتے ہیں۔ان کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاتا ہے کہ وہ پی ایس ایل کے پہلے ٹورنامنٹ سے شائقین میں بے حد مقبول ہیں۔شائقین کے ساتھ خوشی خوشی سلیفیاں بناتے ہیں اور جب ٹیم ہار جائے تو مایوسی کے عالم میں سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں۔پاکستان سپر لیگ کے پہلے دو ایڈیشن میں لاہور قلندر نے پانچ ٹیموںمیں آخری پوزیشن حاصل کی۔اس سال جب ملتان کی چھٹی ٹیم نے ٹورنامنٹ میں انٹری دی تو لاہور قلندر کی کارکردگی میں بہتری نہ آسکی۔اس بار لاہور قلندر نے چھٹی پوزیشن حاصل کی۔پاکستان سپر لیگ میں لاہور کی ٹیم کی کارکردگی لاہور کی کرکٹ روایات کے برعکس ہے۔لیکن قلندرز کی ٹیم نے خراب کارکردگی کے باوجود لاکھوں دلوں کو جیتا ہے۔ فواد رانااس ٹیم کی مقبولیت میں سب سے اہم کردار ہیں اسی لئے لاہور چیمبر نے فواد راناکو پرائیڈ آف لاہور کے اعزاز سے نوازا۔لاہور میں ہونے والی ایک پر وقار تقریب میں فواد راناکو وزیر اعظم پاکستان شاہد خافان عباسی نے پرائیڈ آف لاہور کے ایوارڈ سے نوازا۔جبکہ لاہور قلندر کے ڈائر یکٹر اور کوچ عاقب جاوید کو گولڈ میڈل دیا گیا۔ فواد رانا سے جب کرکٹ پر بات کریں تو وہ لاہوریوں کے مخصوص انداز میں کہتے ہیں کہ میں کرکٹ سے جنون کی حد تک پیار کرتا ہوں اور جب میچ ہوتے ہیں تو ان میں کھو ہوجاتا ہوں۔

مجھے کسی نے بتایا کہ آپ کے بارے میں کمنٹیٹرز یہ کہتے ہیں کہ فواد رانا کو یہ معلوم ہی نہیں ہے کہ مالک کی حیثیت سے کس طرح کا انداز اختیار کیا جانا چاہیے۔ تو یہ بات درست ہے کہ میں یہ بات بھول جاتا ہوں کہ میں کسی ٹیم کا مالک ہوں۔ میری ٹیم مجھ سے کہتی ہے کہ جب آپ خوشی سے ناچتے گاتے ہیں تو ہمیں بھی خوشی ہوتی ہے اور حوصلہ بڑھتا ہے۔ہماری ٹیم تینوں سالوں میں بدقسمت رہی ہے لیکن مجھے جو پیار میرے پرستاروں اور شائقین کی جانب سے ملتا ہے وہی میرا سرمایہ ہے۔پاکستان سپر لیگ کے تیسرے ایڈیشن میں لاہور کا نمبر چھٹا رہا ۔ٹیم کی شکست کے باعث نت نئی کہانیاں میڈیا میں سامنے آئیں۔فواد رانا کہتے ہیں کہ خراب کارکردگی کی وجہ خراب ٖضرور ہے لیکن اختلافات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔کوشش کریں گے کہ چوتھے سال بہتر کارکردگی دکھائیں اور ہوسکتا ہے کہ ہم ہی چیمپین بن جائیں۔اتنی پستی کے بعد بلندی کی جانب سفر کرنا چا ہتے ہیں۔ فواد رانا نے پی ایس ایل میں کپتان برینڈن میکالم اور پاکستانی بیٹسمین عمر اکمل کے درمیان اختلافات کی تردید کی ہے اور کہا ہے دونوں کیربین لیگ میں ایک ہی ٹیم کی جانب سے کھیلتے رہے ہیں۔ہم نے عمر اکمل کو بڑی عزت دی۔ٹیم کی مسلسل تیسرے ایڈیشن میں خراب کارکردگی کا پوسٹ مارٹم کررہے ہیں۔خراب کارکردگی پر ہم سب جواب دے ہیں۔اب ہم اچھے انداز میں واپس آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو غیر ملکی پاکستان نہیں آنا چاہتے انہیں ٹیم میں شامل نہ کیا جائے۔برینڈن میکالم بڑا نام ہے اس کے مستقبل کا فیصلہ پوری ٹیم کے ساتھ مل کر کریں گے۔فواد رانانے کہا کہ پی ایس ایل جیتنے کی خواہش ضرور ہے ۔انہوں نے کہا کہ برینڈن نے خراب کارکردگی کے بعد کپتانی سے دستبردار ہونے کی پیشکش کی تھی۔میں نے کہا کہ اگر ٹورنامنٹ کے دوران ایسا ہوا تو یہ ٹورنامنٹ بدنام ہوگا۔فواد رانا قطر میں پیٹرولیم انجنیئر ہیں لیکن تھیٹر اور ٹی وی سے ان کا پرانا تعلق رہا ہے۔ وہ پاکستان ٹیلی ویژن کے پروڈیوسر یاور حیات کے ہونہار شاگرد کے طور پر مشہور ہیں۔ اجوکا تھیٹر سے بھی ان کا گہرا تعلق رہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بھائیوں نے مل کر لاہور کی ٹیم خریدنے کا پلان کیا۔جب میرے بھائی نے ٹیم کا نام قلندر تجویز کیا تو مجھے اس میں اپنی والدہ کی یاد محسوس ہوئی۔ پھر میں نے اقبال کی شاعری کا مطالعہ کیا۔ انھوں نے قلندر کے بارے میں بہت کچھ کہا ہے۔ برصغیر میں لاہور اور دہلی دو ایسے شہر ہیں جہاں بادشاہوں صوفیاؤں اور اولیائے کرام کا گزر ہوا ہے۔اس میں کنیزوں کا بھی ذکر ہے اور غلاموں کا بھی۔ یہ سب کچھ میں لکھتا رہا اور گنگناتا رہا اسی کوشش میں لاہور قلندر کا گانا لکھ دیا۔میں نے اس گانے کے لیے گلوکار اسرار احمد کا انتخاب اس لیے کیا کہ وہ ایک منفرد انداز کے گلو کار ہیں۔ میں نے انھیں بتایا کہ مجھے اس گانے میں لاہور کا روایتی رنگ چاہیے جو انھوں نے دیا۔جے علی کی موسیقی نے اس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔فواد رانالاہور قلندر کے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کو ایک بڑی کامیابی سے تعبیر کرتےہیں۔ لاہور قلندر آخری نمبر پر آئی تو ہم نے پورے پنجاب اور کشمیر میں ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام شروع کیا جس میں ایک لاکھ تیرہ ہزار نوجوان کرکٹرز آئے ان میں سے 128 کرکٹرز کا انتخاب کیا گیا جن کے قذافی ا سٹیڈیم لاہور میں میچ کرائے گئے اور ان میں سے 16 کرکٹرز کو منتخب کرکے آسٹریلیا بھیجا گیا اور اب چار کرکٹرز لاہور قلندر کا حصہ ہیں ۔یہ ہماری بہت بڑی کامیابی ہے۔اس سال فاٹا اور کےپی کے میں بھی اپنی اس اسکیم کو لے جانا چاہتے ہیں۔فاٹا سے ہمارے فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کا تعلق ہے جبکہ مردان سے قلندرز کے نائب کپتان فخر زمان کھیلتے ہیں۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے لاہور قلندرز کی پذیرائی نہیں کی۔اور ان کے کامیاب ٹیلنٹ ھنٹ پروگرام پر فواد رانا کو پرائیڈ آف لاہور کے اعزاز سے نوازا گیا۔فواد رانا کے دو بھائی عاطف رانا اور ثمین رانا لاہور قلندرز کی کامیابیوں میں شریک ہیں۔دونوں نے سابق ٹیسٹ فاسٹ بولر عاقب جاوید کے ساتھ مل کر لاہور قلندر کے ٹیلنٹ ھنٹ پروگرام کو فروغ دیا۔جولائی میں یہ ٹیلنٹ ھنٹ پروگرام دوبارہ شروع ہوگا اس بار اس پروگرام کو بڑے پیمانے پر کرانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔لاہور قلندر کا پاکستان سپر لیگ میں قسمت نے ساتھ نہیں دیا لیکن پاکستان سپر لیگ کے علاوہ پلیئرز ڈیو لمپنٹ پروگرام کا پورے ملک میں چرچا ہے اس پروگرام سے کئی باصلاحیت کھلاڑی سامنےآئے ۔عاطف رانا پر امید ہیں کہ 2018کا پروگرام مزید کامیابیاں لائے گا۔ہمارا مشن پاکستان میں کرکٹ کا فروغ ہے اسی مشن ایمپوسیبل کے لئے اپنی کوششیں کرتے رہیں گے۔


مکمل خبر پڑھیں