سندھ اور پنجاب کے درمیان ڈائیلاگ کی ضرورت

May 25, 2018
 

میں یہ کالم گزشتہ کالم ’’شہباز شریف، کالا باغ ڈیم اور واپڈا‘‘ کے پس منظر میں لکھ رہا ہوں، جس میں شہباز شریف کے سندھ کے ایک اہم گائوں بھانوٹھ میں ایک اجتماع سے خطاب پربات کی تھی۔ اس تقریر میں شہباز شریف نے کہا کہ ’’ہم سندھ کی خاطر ایک کیا دس کالا باغ ڈیم قربان کرسکتے ہیں‘‘ اس بات سے قطع نظر کہ سندھ کے سیاسی حلقے شہباز شریف کے اس بیان کو محض سندھ کے عوام کو خوش کرنے کا ایک حربہ تصور کررہے ہیں، میں نے یہ بات کسی نہ کسی انداز میں اپنے گزشتہ کالم میں بھی کہی تھی مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ سندھ کے کچھ سیاسی حلقے بیان کو سندھ کے لئے مثبت پیغام بھی تصور کررہے ہیں، میں نے یہ بھی کہا تھا کہ سندھ کے سیاسی حلقے اس بات کو گہری نظر سے دیکھ رہے ہیں کہ ان کے اس بیان کے بعد دو تین دنوں کے اندر قومی اسمبلی کی ایک کمیٹی کے اجلاس میں واپڈا کے نمائندے نے پرزور انداز میں کالا باغ ڈیم تعمیر کرنے کا بیان دیا تھا، اس بیان کے پس منظر میں سندھ کے سیاسی حلقے انتظار کررہے تھے کہ دیکھیں شہباز شریف اس بیان پر واپڈا کے اس نمائندے کی سرزنش کرتے ہیں یا نہیں مگر ابھی تک شہباز شریف کی طرف سے ایسا کوئی عمل نظر نہیں آیا۔ اس کی وجہ سے سندھ کے کئی سیاسی حلقے مایوس بھی ہوئے ہیں تاہم کچھ سیاسی حلقے اب بھی شہباز شریف سے امید لگائے بیٹھے ہیں کیونکہ موجودہ ملکی صورتحال کے مدنظر شہباز شریف پی ایم ایل (ن) کے صدر کے علاوہ پنجاب کے حکمران طبقے کی نمائندگی بھی کرتے ہیں۔ لہٰذا سندھ کے یہ سیاسی حلقے سمجھتے ہیں کہ اگر شہباز شریف آگے بڑھ کر ٹھوس انداز میں سندھ کے آگے دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں تو بے شک ملک کی موجودہ صورتحال جو تیزی سے اندھیرے کی طرف جاتی نظر آرہی ہے اور ایسے نظر آرہا ہے کہ کالے بادلوں نے چاروں طرف سے پاکستان کو گھیر لیا ہے، شاید ملک کے عوام کے لئے یہ ایک روشنی کی کرن میں تبدیل ہوجائے۔ اس سلسلے میں ان سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ فوری طور پر سندھ اور پنجاب کے درمیان کسی باہمی ڈائیلاگ کی شدید ضرورت ہے، اس مرحلے پر میں شہباز شریف کی اس تقریر کا حوالہ بھی دوں گا جو انہوں نے جونیجو کے فرزند اسد جونیجو کی دعوت پر ایک اجتماع کے دوران کی۔ جس میں شہباز شریف نے سندھ کے ممتاز قوم پرست رہنما جی ایم سید کو ان مختصر الفاظ میں ہی صحیح خراج تحسین پیش کیا کہ اسمبلی سے پاکستان کی قرارداد منظور کرانے کا سہرا ’’سید‘‘ کے سر ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ شہباز شریف کی طرف سے جی ایم سید کی اس مختصر تعریف کا سندھ کے عوام اور خاص طور پر قوم پرست اور دیگر سیاسی حلقوں کی سیاسی نفسیات پر خاصہ مثبت اثر پڑا ہے اگر اس مرحلے پر شہباز شریف کی طرف سے سندھ کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا جاتا ہے اور سندھ اور پنجاب میں کئی اہم ایشوز پر ڈائیلاگ شروع کرنے کے بارے میں کوئی ابتدائی کارروائی ہوتی ہے تو سندھ کے وسیع سیاسی حلقوں کی طرف سے نہ فقط ایسی کوشش کی حمایت کی جائے گی مگر توقع ہے کہ سندھ اور پنجاب کے اس ڈائیلاگ کو کسی ٹھوس مثبت نتیجے تک پہنچانے کے لئے یہ سیاسی حلقے غیر متوقع مثبت ردعمل کا عملی مظاہرہ کریں اگر واقعی ایسا ہوتا ہے تو پاکستان کے موجودہ سیاسی منظر نامے میں کوئی انتہائی انقلابی مثبت تبدیلی آسکتی ہے مگر اس مرحلے پرمیں یہ بات ریکارڈ پر لاتا چلوں کہ ایسی کسی کوشش کی کامیابی کافی مشکل بھی محسوس ہورہی ہے کیونکہ سندھ کے سیاسی حلقوں کے مطابق گزشتہ 71سالوں کے دوران سندھ کے ساتھ کیا کیا نہیں کیا گیا مگر سندھ کے عوام کی سیاسی نفسیات بھی کافی عجیب ہے۔ سندھ کے عوام کے ساتھ کوئی کتنی بھی زیادتی کرے اگر کسی مرحلے پر وہی حلقے مثبت سلوک کرنا شروع کریں تو سندھ کے عوام بھی اس کا مثبت ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں سندھ کی صدیوں کی تاریخ سے کئی مثالیں دی جاسکتی ہیں، اس کی ایک مثال تو یہ بھی دی جاسکتی ہے کہ اسد جونیجو کے والد محمد خان جونیجو کو جنرل ضیاء کی طرف سے وزیراعظم کی حیثیت میں برطرف کئے جانے کے بعد ان کو مسلم لیگ کی طرف سے جن عناصر نے ہٹایا، میں اس مرحلے پر ان عناصر کی نشاندہی نہیں کرنا چاہتا، بہرحال لوگ اسد جونیجو کی طرف سے شہباز شریف کی میزبانی کو حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ سندھ کے رویے تو ایسے ہوتے ہیں، خود جی ایم سید کے رویے کی بھی مثال دی جاسکتی ہے حالانکہ جی ایم سید کی قیادت میں سندھ اسمبلی کے ممبران کی اکثریت نے سندھ اسمبلی میں پاکستان کی قرارداد منظور کی مگر پاکستان بنتے ہی جی ایم سید کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟ ان کو غدار پاکستان کہا جانے لگا اور وہ اکثر جیلوں میں قید کیے جارہے تھے یا گھر میں نظر بند۔ یہاں میں ایک واقعہ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں پتہ نہیں اس سے ہمارے عوام کس حد تک آگاہ ہیں۔ اس سلسلے میں میری جن ذرائع سے بات ہوئی ہے ان کے مطابق جب 1971 ء میں مشرقی پاکستان، پاکستان سے الگ ہوگیا اور بنگلہ دیش بن گیا تو اس وقت پاکستان کے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل یحییٰ خان کو اقتدار چھوڑنا پڑا اور ان کے بعد فوجی قیادت نے ملک کا اقتدار سندھ سے تعلق رکھنے والے سویلین ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا، یہ اس وجہ سے کیا گیا کہ 1970 ء کے انتخابات میں مغربی پاکستان میں پی پی سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھری تھی۔ سی ایم ایل اے بنتے ہی بھٹو کے سامنے جو چیلنجز تھے اس میں ایک بڑا چیلنج یہ تھا کہ ہندوستان کے ساتھ جنگ کے دوران پاکستان کے جو علاقے ہندوستان کے قبضے میں آگئے تھے ان کو واپس پاکستان کے حوالے کرایا جائے اور جو 90ہزار پاکستانی جنگی قیدی ہندوستان کے کیمپوں میں تھے ان کو رہا کراکر ملک واپس لایا جائے۔ اس سلسلے میں بھٹو کے لئے ہندوستان کی وزیر اعظم سے مذاکرات بہت ضروری تھے، بھٹو کی طرف سے کی گئی بین الاقوامی کوششوں کے نتیجے میں اندرا گاندھی بھٹو سے مذاکرات کے لئے تیار ہوگئیں، مذاکرات کے لئے تاریخ بھی مقرر ہوگئی۔ بھٹو چاہتے تھے کہ یہ مذاکرات کسی طرح کامیاب ہوں لہٰذا انہوں نے جی ایم سید سے رابطہ کرکے ان سے گزارش کی کہ وہ ان کے ساتھ پاکستانی وفد میں ہندوستان چلیں اور اندرا گاندھی سے مذاکرات میں حصے لیں۔ بھٹو نے یہ اس وجہ سے کیا کہ اسے علم تھا کہ ہندوستان کی قیادت میں جی ایم سید کے لئے کافی نرم گوشہ ہے، شدید اختلافات کے باوجود جی ایم سید جانے کے لئے راضی ہوگئے مگر جی ایم سید پاکستانی وفد کے ساتھ ہندوستان نہیں جاسکے کیونکہ اصل قوتوں نے سید کو اس وفد میں شامل کرنے پر اعتراضات کئے تھے۔ (جاری ہے)
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں