جمہوریت کی بپتا

May 26, 2018
 

ایک زمانہ بیت گیا۔ دلاور فگار مشاعروں کو گدگدایا کرتے تھے۔ ان کا ایک قطعہ مجھے اس طرح یاد ہے۔
ملی تھی راہ میں جمہوریت کل
جو میں نے خیریت پوچھی تو رو دی
وہ بولی میں بھی باعزت تھی پہلے
مگر لوٹوں نے لٹیا ہی ڈبو دی
آپ سوچیں گے کہ میں شاید لوٹوں کا ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ جو گزشتہ ہفتوں تیزی سے ادھر ادھر لڑھکتے رہے ہیں اور وفاداریاں تبدیل کرنے کی یہ لہر موجودہ سیاست کے کئی راز افشا کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ لیکن اس گفتگو میں لوٹے میرا موضوع نہیں ہیں۔ کارٹون بنانے والے بھی اب ان سے زیادہ نہیں کھیلتے۔ بات زیادہ گھمبیر ہے اور مجھے اس قطعہ کے پہلے دو مصرعے ہی درکار ہیں گو اس طرح دلاور فگار کی ظرافت ہاتھ سے چھوٹ جائے گی۔ تو ہاں، اس وقت جمہوریت کی خیریت دریافت کرنا بہت ضروری ہے… اور یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ آپ جب اس کا حال پوچھیں تو وہ کچھ کہہ نہ پائے۔ یہ کیسی معنی خیز تمثیل ہے کہ گو جمہوریت کا مطلب ہی فکر کی اور اظہارکی آزادی ہے لیکن اگر ہم جمہوریت کو ایک ڈرامائی کردار سمجھیں تو پاکستان کے اسٹیج پر اسے ہم کیا کہتے ہوئے دکھائیں گے کیونکہ بات کرنی ’’اسے‘‘ مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی۔ اس شاعرانہ استعارے سے قطع نظر، یہ تو ایک حقیقت ہے کہ ہماری جمہوریت، تاریک اور پرپیچ راستوں سے گزر کر اب ایک اہم مقام پرکھڑی ہے۔ جھلستے ہوئے ان دنوں میں ہم نئے انتخابات کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔ صرف چند دنوں میں ایک منتخب حکومت کی مدت پوری ہورہی ہے۔ حکومت اور اقتدار میں اگر آپ کوئی فرق کرتے ہیں تو یہ الگ بات ہے۔ ہاں، سیاسی حکومت قائم رہی لیکن ایک اور وزیر اعظم کو اپنی کرسی چھوڑنا پڑتی۔ نئی تاریخ بھی بنی اور روایات بھی قائم رہیں۔ جمہوریت کا سفر اور عمل جاری ہے۔ البتہ یہ تشویش کی بات ہے کہ اس جمہوریت کا سر کچھ جھکا جھکا سا لگتا ہے اور اس کی چال میں ڈگمگاہٹ کا تاثر پیدا ہورہا ہے۔ پھر بھی، آگے جانے والا راستہ موٹروے کی طرح کشادہ اور ہموار نہ سہی لیکن انتخابات کی منزل تک صاف اور سیدھا دکھائی دے رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جمہوریت، اس کی صحت خواہ کیسی بھی ہو، زندہ ہے۔ یہ بھی واضح ہے کہ آنے والے انتخابات کے فیصلے اگر متنازع نہ ہوں تو پاکستان کی سیاست اور معاشرے کو ایک نیا رخ دے سکتے ہیں۔ مطلب یہ کہ ایک دریا کا سامنا ہے اور اس دریا کو عبور کرنے کے بعد ایک اور دریا کا سامنا بھی ہوگا۔ انتخابات کے بعد جو نئے حقائق سامنے آئیں گے ان کے تھپیڑے بھی برداشت کرنا پڑیں گے۔
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ انتخابی عمل، اس کے نتائج اور بعد کی صورت حال سے جمہوریت اور جمہوری اقتدارکو تقویت حاصل ہوگی یا نہیں۔ یہ ایک مشکل سوال ہے۔ شاید اس کا تعلق مکمل طور پر اس سیاسی عمل سے نہیں ہے کہ جو دکھائی دے رہا ہے۔ مثال کے طورپر نواز شریف جو سیاست کررہے ہیں وہ لوٹوں کی طلب سے متصادم ہے اور جولوٹوں کی سیاست کررہے ہیں وہ کسی ہمہ گیر، انقلابی تبدیلی کے امکان کو رد کررہے ہیں۔ ایک اور مسئلہ یہاں یہ ہے کہ انتخابی عمل سے انقلابی نتائج حاصل کرنا شاید ممکن نہیں ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ انتخابات ہوا کے رخ کا تعین کرسکتے ہیں۔ تو پھر یہ بتائیے کہ پاکستان میں ہوا کا رخ کس طرف ہے؟ امریکہ کے عوامی گلوکار اور شاعر بوب ڈلن کا یہ گیت ایک محاورہ بن گیا ہے کہ یہ جاننے کے لئے آپ کو موسمیات کے کسی ماہر کی ضرورت نہیں کہ ہوا کا رخ کدھر ہے۔ اس خیال کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ دیکھو، تاریخ کیا اشارہ کررہی ہے۔ عوام کے مفاد میں کیا ہے۔ وقت کیا تقاضا کررہا ہے۔ دیکھنے والوں کو یہ سب باتیں دکھائی دے رہی ہیں۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ میڈیا میں اس صورت حال کے بارے میں سنجیدہ اور حقائق پر مبنی گفتگو مشکل سے مشکل تر ہوتی جارہی ہے۔ اس حقیقت میں ایک خوفناک طنز پنہاں ہے کیونکہ انتخابی تحریکیں تو معمول سے زیادہ کھلی فضا میں بحث و مباحثے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ یہی تو جمہوریت ہے۔ ہم میڈیا پر اور اظہار پر جن بندشوں کا شکارہیں اس نے جمہوری عمل کو محدود کردیا ہے۔ اس کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ خوف اور بے یقینی کا غلبہ ہے۔ کبھی کبھی یہ محسوس ہوتا ہے کہ جیسے پورا نظام ڈگمگا رہا ہے۔ اور اس سارے پس منظر میں، انتخابات کی بساط بچھ رہی ہے کہ جسے ہم جمہوریت کا بنیادی فریضہ کہہ سکتے ہیں۔ ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ آنے والی قومی اسمبلی کے خدو خال مختلف ہوں گے۔ تصویر بدل جائے گی۔ لیکن کیا اس عمل سے، صحیح معنوں میں، جمہوریت کو فروغ ملے گا؟ کیا کچھ بدل جائے گا یعنی بہتر ہوجائے گا اور کیا کچھ ویسا ہی رہے گا یعنی بگاڑ قائم رہے گا؟
سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم جمہوریت کسے کہتے ہیں اور اس سے کیا مانگتے ہیں۔ چند بنیادی شرائط تو ہم دیکھ رہے ہیں کہ پوری ہو نہیں پا رہیں۔ جمہوریت قانون کی حکمرانی کو کہتے ہیں۔ جمہوریت عام شہریوں کے انسانی حقوق کا تحفظ کرتی ہے۔ سب سے بڑھ کر، جمہوریت فکر اور اظہار کی آزادی کا نام ہے۔ یہ وہ محاذ ہے جس پر ہماری پسپائی صاف ظاہر ہے… پھر جمہوریت اگر اکثریت کی حکمرانی کا نام ہے تو اس کا تصور ہی اقلیتوں اور محروم طبقوں کی آزادی کی حفاظت پر قائم ہے۔ ایک امریکی سیاست داں نے کہا تھا کہ ایک آزاد اور جمہوری معاشرے کی پہچان ہی یہ ہے کہ آپ بے خوفی کے ساتھ ان خیالات کا اظہا رکرسکیں کہ جنہیں کوئی بھی پسند نہ کرے۔ کوئی بات کہتے ہوئے آپ کو ڈر نہ لگے۔ ہماری جمہوریت کسی بھی حال میں کیوں نہ ہو، ہمارا معاشرہ انتہا پسندی اور عدم برداشت کی گرفت میں ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم نے جو کامیابی حاصل کی ہے اس کے نتیجے میں بھی برداشت اور روا داری کا وہ ماحول پیدا نہیں ہوا ہے کہ جو جمہوریت کے فروغ کے لئے لازمی ہے۔ یہ تو ابھی پرسوں کی بات ہے کہ مذہبی تنظیموں کے مشتعل کارکنوں نے سیالکوٹ میں قادیانیوں کی عبادت گاہ کو جزوی طور پر منہدم کردیا۔ اور اسی نوعیت کے واقعات ہوتے رہے ہیں۔ کئی مختلف شکلوں میں نفرتوں کے الائو جلتے رہے ہیں۔ ہماری جو بڑی سیاسی جماعتیں ہیں انہوں نے بھی نفرتوں کے اس کاروبار کو ختم کرنے اور جمہوری اقدار کو فروغ دینے کی کوئی بڑی کوشش نہیں کی بلکہ آج کل تو ہم ایک انتہائی دل شکن منظر دیکھ رہے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ جب جمہوریت کو کسی بڑے خطرے کا سامنا ہوتو تمام جمہوری قوتیں مل کر اس کا مقابلہ کریں۔ لیکن ہماری سیاسی جماعتیں نادان بچوں کی طرح اقتدارکے کھلونے کے لئے آپس میں لڑتی رہتی ہیں ایک ٹاک شو میں اگر کسی جماعت کا اہم رہنما دوسری جماعت کے رہنما کو تھپڑ مارسکتا ہے تو پھروہ جمہوریت کے تحفظ کے لئے ہاتھ کیسے ملائیں گے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جمہوریت کا مقصد کچھ بھی ہو، اس کا حال برا ہے۔ البتہ اس کی رسومات یعنی انتخابات پر عمل کیا جارہا ہے۔ یہ مایوسی کی باتیں ہیں۔ پھر بھی، اندھیرے میں روشنی کی کرن بھی دکھائی دے رہی ہے۔ کوئی وجہ ہو تو 70؍سال کے انتظار کے بعد ایک جمہوری قدم عجلت میں بھی اٹھایا جاسکتا ہے۔ جیسے جمعرات کو قومی اسمبلی نے فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کی آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور کرلی گو اس کے فوراً بعد الزام تراشیوں کا کھیل شروع ہوگیا۔ یہ سب کیا ہورہا ہے۔ پردے پر اور پردے کے پیچھے؟ کسی کے ہاتھ کھلے ہیں اور کسی کے پائوں میں زنجیر ہے۔ اور جمہوریت کھڑی یہ سب دیکھ رہی ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ حیران بھی ہے اور پریشان بھی… کہانیوں میں ہم نے اس شہزادی کا ذکر پڑھا ہے جو نہ جانے کس کی قید میں ہے اور اپنی رہائی کا انتظارکررہی ہے۔ اور انتظار کرنا ہماری قسمت میں لکھا ہے۔


مکمل خبر پڑھیں