ریاست پاکستان ایک ستون پر

June 07, 2018
 

بمطابق آئین پاکستان، مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ ریاست پاکستان کے تین ستون۔ آئین سے باہر ایک چوتھا ستون بھی، میڈیا، خیر سے پہلے ہی ڈھیر ہوچکا ہے۔ تینوں ستونوں کی حدود و قیود متعین ہیں۔ ایگزیکٹو کی بدانتظامی، تجاوزات، بدعنوانیوں کے خلاف آئین اور قانون میں واضح لائحہ عمل درج، جبکہ آرٹیکل 184(3) بنیادی حقوق (آرٹیکل 8تا 28) کی مد میں عدالت عظمیٰ کو براہ راست کارروائی کی گنجائش دیتا ہے۔ پچھلے چند سالوں سے 184(3)کے تحت ازخود نوٹس کی بہتات نے ایک ستون کو گویا بااثر و مطلق بنا دیا ہے۔ حکومتی انتظامی امور کی تخیلاتی بدانتظامی، تجاوزات، بدمعاملگیاں، آج کل سپریم کورٹ کی کڑی گرفت میں ہیں۔ چونکہ سیاست کا رنگ موجود، قوم سپریم کورٹ کے اوپر مختلف الرائے ہوچکی۔ مادر پدر آزاد سوشل میڈیا مخالفانہ مؤقف کو آگے بڑھانے میں ہر انتہا عبور کرچکا ہے۔ میرے پاس اعدادوشمار تو نہیں، غالباً80فیصد سوموٹو حکومت پنجاب کی انتظامی مشینری، اسپتالوں، یونیورسٹیوں، ترقیاتی کاموں بارے ہی۔ نیب بھی پچھلے کئی ماہ سے محدب عدسہ لے کر پنجاب کے اندر بوریا بستر ڈال چکی ہے، بدمعاملگی پھرولنے میں دن رات ایک کر رہے ہیں۔
جنوری 2018میں چیف جسٹس پاکستان اگرچہ پنجاب حکومت کی کارکردگی پر رطب اللسان، باقی صوبوں کے لیے مثالی قرار دے رہے تھے، پنجاب احتسابی افتاد کی زد میں ہے۔ میڈیا 2014سے زمین بوس، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ملکی صورتحال کو کوزے میں بند کر دیا، کہ ’’ملک کے اندر خوف اور گھٹن کی فضا قائم ہے‘‘۔2014 سے نواز شریف کو اقتدار بلکہ پردہ سیمیں سے ہٹانے کی کوشش جاری، بارآور نہیں ہورہی۔ بمطابق حالیہ سروے ملک کی مقبول ترین جماعت کے خلاف وسیع پیمانے پر کارروائیاں، قوم کو اداروں پر تقسیم در تقسیم کر رہی ہیں۔ سوموٹو کئی ایسے معاملات پر بھی لیے گئے جو خالصتاً ٹیکنیکل، کارپوریٹ نوعیت کے، صدق دل سے سمجھتا ہوں کہ سپریم کورٹ کبھی بھی کمپنی معاملات،LNG امپورٹ، اشیائے خورو نوش و صرف کی قیمتوں کا تعین، ریلوے، پی آئی اے، اسٹیل ملز نجکاری، پنجاب کی 56کمپنیوں کا سرسری سمری ٹرائل، اسپتالوں کے انتظامی معاملات، یونیورسٹیوں کو ٹھیک کرنے کا عزم، کچھ کرلیں انصاف کے تقاضے پورے ہونگے نہ ہی کامیابی ملے گی۔ بھلے سے درجنوں فرخ سلیم اور ڈاکٹر ساجد نثار جیسے ذی فہم، نابغہ روزگار کی معاونت روانی فراوانی سے کیوں نہ دستیاب رہے؟ چیف جسٹس ثاقب نثار نے چیف جسٹس کا حلف اٹھانے سے کچھ ہفتے پہلے جب وکلا برادری کے سامنے خود جوڈیشل ایکٹوزم کو ناپسندیدہ قرار دیا، مزید184(3)کو بطور ہتھیار استعمال بارے اپنے اعتراضات بتائے، قانونی حلقوں نے خوب سراہا۔ پاناما کیس سے پہلے کچھ ضبط اور بند نظر بھی آیا۔ پاناما کیس کے اوپر سپریم کورٹ کے فیصلوں، پھر اقامہ کے اوپر وزیراعظم کی نااہلی، مزید فیصلے میں سخت ریمارکس، نواز شریف بارے غصہ اور نفرت کا اظہار ہلچل مچا گیا۔ دوران سماعت بنیادی حقوق آرٹیکل 10(A) سے بے التفاتی مزید تنائو دے گئی۔ وٹس ایپ پر JIT بنانا، سیکورٹی اداروں کا حصہ بننا، غیر محسوس طریقے سے اداروں کا براہ راست کنٹرول سنبھالنا، نگران جج کے ذریعے نیب جج کو موثر بنانا، تاثر ایک ہی جما کہ ن لیگ اسے احتساب نہیں انتقام سمجھ رہی ہے، نوازشریف کو سیاسی صفحہ ہستی سے مٹانا مطمح نظر ہے۔ مزید سانحہ منتخب حکومت بے سود اور بے اثر، اپنے ماتحت اداروں پر کنٹرول سے محروم نظر آئی۔ پولیٹکل سائنس میں ایسے نظام ِحکومت کو طوائف الملوکی کہتے ہیں۔ یعنی کہ انتظامی ستون منہدم۔ پارلیمنٹ کے بنائے قوانین کو جب اسٹرائیک ڈائون کیا گیا تو دوسرے ستون کی کمزوری عیاں رہی۔ ’’خوش قسمتی‘‘ کہ آج عدلیہ ’’آزاد‘‘ اور ’’مضبوط‘‘ ہے۔ وگرنہ ریاست کا دھڑام سے گرنا دیوار پر کندہ رہتا۔TRICHOTOMY آف پاور، تقسیم کار ’آئین کی روح، تین ستون، ریاست کو مضبوط و مربوط رکھنے کے اجزائے ترکیبی ہی۔ ایسے میں دو ستون بے توقیر، بے اثر، ایک ستون کب تک کام چلائے گا؟ آنے والے دو مہینے بہت کچھ رقم کرنے کو، قوم کو نامساعد حالات کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ دوران کارروائی، چیف جسٹس صاحب کے ریمارکس معتبر شخصیات کی دل آزاری کا باعث بنے۔ درجنوں مثالیں، شہباز شریف، سعد رفیق، سیلمان رفیق، وائس چانسلر، سینئر بیوروکریٹس پولیس آفیسرز بے شمار اداروں کے سربراہوں کی جس طرح غیر ضروری بے توقیری کی گئی، ایسے فقروں کو کالم میں جڑوں تو کچھ اور لکھنے کے لیے جگہ نہ بچے۔ تازہ بہ تازہ، بلٹ پروف گاڑیوں پر سوموٹو پر تبصرہ کہ ’’ایک طرف ہمیں گالیاں دیتے ہو اور اوپر سے خصوصی سیکورٹی مانگتے ہو‘‘۔ میرے خیال میں کسی نے گالیاں نہیں دیں البتہ تنقید میں تجاوز ضرور رہا ہوگا مگر اس کو گاڑیوں اور سیکورٹی سے جوڑنا کیونکر ممکن؟ کیسے ممکن تاثر ملا کہ اگر گالیاں نہ دی جاتیں تو سیکورٹی اور گاڑیوں کے حقدار رہتے۔PKLI کے ڈاکٹر سعید اختر کو کہنا کہ ’’آپ صحافیوں کو پیسے کھلاتے ہو اور اپنے حق میں میڈیا پر پروگرام کراتے ہو‘‘۔ چیف صاحب، یقین کیجئے، اپنی حد تک گارنٹی دیتا ہوں کہ اس ناچیز سے کوئی بندہ پیسے، دبائو اور لالچ سے کالم نہیں لکھوا سکتا۔ لیڈی وائس چانسلر کو کہنا کہ ’’احسن اقبال تمہارا سفارشی ہے‘‘۔ احسن اقبال کے بروقت جواب نے لوگوں کے دل جیت لیے، قوم عش عش کر اُٹھی۔ ایسے عدالتی ریمارکس کی تعداد اب تو ہزاروں میں پہنچ چکی ہے۔ کیا حکومت پنجاب کا قصور اتنا کہ سب کچھ بدل دیا، باقی صوبے پسماندہ اور مفلوک الحال نظر آرہے ہیں اور یہی وجہ نزاع بھی؟ جس نے کام کیا، وہ پھنس گیا۔ وفاقی اور پنجاب حکومتیں آج اپنی غیر معمولی کارکردگی بھگت رہی ہیں؟
مسلم لیگ ن کے ووٹر سپوٹر سپریم کورٹ کے اس جوڈیشل ایکٹوزم کو پنجاب حکومت کے غیر معمولی تاثر کو زائل کرنے کی کوشش گردانتے ہیں۔ سپریم کورٹ، KP، سندھ اور بلوچستان میں بھی پہنچا، بدقسمتی سے وہاں فراغت رہی کہ گنجی دھوتی کیا، نچوڑتی کیا؟ KP کےدو اسپتال، انگریز کا بنایا لیڈی ریڈنگ اور ایبٹ آباد کا ایوب میڈیکل کمپلیکس کا دورہ کیا، ذہنی امراض کے مریضوں کا اسپتال دیکھا۔ پرانی سہولتیں خستہ حال نظر آئیں۔ نہ ایم ایس تبدیل ہوا نہ کوئی معطل ہوا۔ ایوب میڈیکل کمپلیکس کے بورڈ چیئرمین نے چیف جسٹس کے استفسار پر آپریشن تھیٹر کی حالت ِ زار پر تاریخی جملہ ’’ہمارے اسپتال کے آپریشن تھیٹر کتے کے آپریشن کے بھی قابل نہیں‘‘، کوئی ہنگامہ نہیں ہوا۔ شنید ہے کہ لاہور کے اسپتالوں کی حالت زار، اندرون خانہ صورت بارے چیف صاحب کو معتبر معلومات بذریعہ ڈاکٹر ساجد نثار ملنے کی سہولت موجود ہے جو KP اور سندھ میں موجود نہیں ہے۔ آج قوم اداروں پر تقسیم، میرا ذاتی سانحہ ہے۔ بروز پیر میجر جنرل آصف غفور صاحب نے اداروں کا سیاست میں ملوث ہونے کا تاثر زائل کرنے کی بھرپور کوشش کی۔
مؤدبانہ گزارش جنرل صاحب زمینی حقائق آپ کے فرمان کی توثیق نہیں کرتے دکھائی دیتے، سب کچھ قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ پی ٹی آئی اداروں کا نام استعمال کرتے جھجک نہ شرم، سینہ پھیلائے اتراتی پھرتی ہے۔ کاش قوم دونوں بڑے اداروں پر متفق اور یکسو رہتی، مگر یہ ہو نہ سکا۔ PKLI اور ڈاکٹر سعید اختر کی بے توقیری نے پورے سوشل میڈیا کو لرزہ براندام کر رکھا ہے۔ ڈاکٹر سعید اختر یورالوجسٹ، ایک خواب سجائے، تعبیر کی تلاش میں دربدر۔ پاکستان کو ایک ورلڈ کلاس لیور اور کڈنی اسپتال اور ریسرچ سینٹر دینے پر مصر تھے۔ شہباز شریف نے پذیرائی بخشی اور 33بلین روپے کا پروجیکٹ، پلک جھپکتے تیار ہوگیا ۔20بلین خرچ ہونے پر ایک بڑا حصہ مکمل،470بیڈ پر مشتمل اسپتال آج فنکشنل، لیور اور کڈنی ٹرانسپلانٹ کام دن رات جاری ہے۔ لیور ٹرانسپلانٹ کیلئے پاکستانیوں کو بھارت یا چین جانا پڑتا تھا، کم و پیش ایک کروڑ درکار تھے۔PKLI میں خرچہ 10سے 20لاکھ روپے رہتا ہے جو پنجاب حکومت اٹھا رہی ہے۔PKLI کے خلاف چیف صاحب کا نوٹس لینا، ڈاکٹر سعید اختر کی تذلیل و توہین بعید از فہم ہے۔ مختصر اور دلچسپ کہانی عدالت کی کڑی گرفت میں گرفتار ڈاکٹر سعید اختر سلیقے کے عمدہ ترین انسان ہیں۔ ٹیکساس ٹیک یونیورسٹی، میری مادر علمی بھی، وہاں اپنا سکہ منوا چکے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب بارے معمولی معلومات، بغض، حسد، عناد، مفادات کی لپیٹ میں جو جھوٹ، مغلظات بک رہے ہیں، اس کی پروا نہیں۔ ڈاکٹر سعید کی سوشل میڈیا پر اندھا دھند سپورٹ، حوصلہ افزائی کا اژدھام معمولی واقعہ نہیں۔ ہزاروں لوگ کردار، سچائی میں حاسدوں سے بہت بہتر، یک زبان گو اہی دے رہے ہیں کہ ڈاکٹر سعید راسخ العقیدہ، اللہ لوک، درویش صفت، دیانتدار، اپنے فن میں یکتا، ڈھونڈے سے نہ ملے، پنجاب حکومت کو نیچا دکھانے کی بھینٹ چڑھ گیا۔ ڈاکٹر سعید کو چیف جسٹس صاحب سے رسمی معمولی نیاز مندی حاصل تھی۔ انسانی Organs کی غیر قانونی پیوند کاری بارے چیف صاحب کا فکر و فاقہ بڑھا تو ایک دن ڈاکٹر سعید کو اپنے درِ دولت طلب فرمایا۔ ڈاکٹر سعید مع بیگم اور مشترکہ دوست سمیت چیف صاحب کے مہمان بنے۔ گفتگو انتہائی دوستانہ اور خوشگوار ماحول میں جاری تھی ۔ چیف صاحب ڈاکٹر صاحب سے خوشدلی سے محو گفتگو بلکہ انکی بتائی باتوں پر نوٹس لیتے رہے۔ اتنے میں چیف صاحب کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر ساجد نثار، لاہور کے مشہور اور قابل ڈاکٹر، بھائی جان کو ملنے اچانک تشریف لے آئے۔ چیف صاحب نے دونوں ڈاکٹر صاحبان کا آپس میں تفصیلی تعارف کرایا۔ سنتے ہیں کہ ڈاکٹر ساجد نثار کے اندر تو گویا لاوا پک رہا تھا، پھٹ پڑا۔ آداب میزبانی برطرف، ڈاکٹر سعید پر الزامات کی ایک لا متناہی فہرست پیش کر دی۔ ڈاکٹر ساجد انتہائی تکلیف اور دردمندی سے بتا رہے تھے کہ انکے سروسز اسپتال میں 20لاکھ کی معمولی رقم اہم کام کے لیے دستیاب نہ تھی جبکہ PKLIجیسا ڈھونگ پروجیکٹ اب تک 20 ارب روپے نگل چکا ہے۔ ڈاکٹر ساجد نے اس وقت تک PKLI نہیں دیکھا تھا اور ادارے کے بارے میں انکی معلومات سنی سنائی تھیں۔ بھائی کی شدت تکلیف اور وفور جذبات پر چیف صاحب کا دل پسیجنا تھا۔ نرمی، سختی میں بدل گئی۔ اگلے دنوں PKLI پر سوموٹولیا جاچکا تھا۔ مشترکہ دوست انتہائی شرمندہ، معاملہ فہمی کا حل نکالا اور ڈاکٹر ساجد نثار کو اسپتال دکھانے کی ٹھانی۔ ڈاکٹر ساجد نثار جن کی تالیف قلب ڈاکٹر سعید بلکہ ادارہ کے لیے واحد ذریعہ نجات تھی۔ ڈاکٹر ساجد نثار نے اسپتال دیکھا، تو دل و جان سے فریفتہ نظر آئے۔ باتوں باتوں میں ڈاکٹر ساجد نثار کو بھی اسپتال میں کام کی آفر کی گئی کہ آپ ہمیں جوائن کر لیں۔ ڈاکٹر سعید شبانہ روز محنت سے پہلے بھی درجنوں ڈاکٹر امریکہ، یورپ اور ملک کے کونے کھدروں سے چن چن کر لائے تھے۔PKLI کا المیہ کہ یہاں ڈاکٹر ز کی پرائیویٹ پریکٹس پر پابندی ہے۔ پنجاب میں پرائیوٹ پریکٹس ایک مافیا ہے۔ کاش سپریم کورٹ اس مافیا کے خلاف سوموٹو لیتی۔ مریضوں کو سرکاری اسپتالوں سے گھیر گھار کربڑے بڑے ڈاکٹروں نے اپنے پرائیویٹ کلینک لے جا کر ان کی چمڑی اتارنا وطیرہ بنا لیا ہے۔ سرکاری ڈاکٹر اپنے کلینک میں روزانہ لاکھوں روپے اینٹھ رہے ہیں۔ دوران PKLI وزٹ ڈاکٹر ساجد نثار کو بھی 10 لاکھ ماہوار تنخواہ پر لیور اسپتال جوائن کرنے کی آفر کی۔ انکار ہوا اور احتساب کر کے بھی ڈاکٹر سعید اختر مجرم ہی گردانے گئے۔ PKLI آج بھی زیر عتاب ۔ اس سلسلے میں پہلی کوشش اسپتال کے اندر کمی بیشی کی تلاشی میں فرانزک آڈٹ کا آرڈر دے رکھا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ڈاکٹر سعید اختر کا کوئی بال بیکا نہیں کر پائے گا، انصاف کا بول بالا ہوگا۔ عزت مآب، ڈاکٹر ساجد بھی PKLIکے مقابلے میں پرائیویٹ پریکٹس کر رہے ہیں، مؤدبانہ درخواست کہ لاہور کے سرکاری اسپتالوں بارے معاملات،دورے، ازخود نوٹس مقدمات سے اپنے آپ کو الگ کرنا ہوگا، تب ہی انصاف کے تقاضے پورے ہونگے۔
باقی شہباز شریف، شہباز اسپیڈ آپ کو بھگتنا ہوگا۔ نئے اسپتال، نئی یونیورسٹیاں کالجز اسکول، سڑکیں، پل، انڈر پاسز، صحت تعلیم، شہر خاموشاں، سیف سٹی پروجیکٹ، فرانزک لیب، لیور اور کڈنی اسپتال، درجنوں میگا پروجیکٹ کا بہت بڑا جرم، خمیازہ بھگتیں۔
kk


مکمل خبر پڑھیں