انتخابات،ا مکانات ، خدشات

June 09, 2018
 

بد قسمتی سے ہماری انتخابی تاریخ بہت زیادہ خوش کن اور حوصلہ افزا نہیںبلکہ مایوس کن اور حوصلہ شکن ہے۔ انتخابات کا بنیادی تصور یہ ہوتا ہے کہ عوام کس سیاسی جماعت یا رہنما کو حکمرانی کے منصب پر بٹھانا چاہتے ہیں۔ لہذا عوام اپنی حکومت کا چنا ئو کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں پہلے انتخابات پاکستان بننے کے 24 سال بعد ہوئے۔ یعنی تقریباََ ربع صدی بعد ہمیں یاد آیا کہ پاکستان کے عوام سے پوچھا جائے کہ وہ حق حکمرانی کسے تفویض کرنا چاہتے ہیں۔ لہذا 1970 میں پہلے عام انتخابات ہوتے ہیں۔ ان انتخابات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ہماری تاریخ کے آزادانہ اور شفاف انتخابات تھے۔ جن میں بیرونی دبائو نہ ہونے کے برابر تھا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عوام کی رائے کو تسلیم کیا جاتا اور پاکستان ایک نئے سفر کا آغاز کرتا۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ انتخابی نتائج کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ لہذا پہلے انتخابات ایک افسوسناک المیے پر منتج ہوئے۔ قائد کا پاکستان ٹوٹ گیا۔ دو ٹکڑے ہو گیا۔ اسکے بعد قوم کسی نہ کسی طور اس حادثے سے سنبھلی۔ 1973 کا آئین تشکیل پایا۔ اب آئین پاکستان کے تحت انتخابات کا انعقاد ہونا طے تھا۔ 1977 میں دوسرے انتخابات کاڈول ڈالا گیا۔ ان انتخابات کے نتائج کوبھی تسلیم نہیں کیا جاتا۔انتخابی دھاندلی کے نعرے بلند ہوتے ہیں۔ دوسرے انتخابات بھی ایک سانحے میں ڈھلتے ہیں۔ پہلے انتخابات میں ہم نے ملک کا ایک حصہ گنوایا تھا۔ دوسرے انتخابات میں ہم جمہوریت گنوا بیٹھے۔ اور کچھ اس انداز میں کہ اپنے وقت کا مقبول ترین(اور ستر سالہ سیاسی تاریخ کا ذہین ترین) سیاسی رہنما، ذوالفقار علی بھٹو پھانسی چڑھا دیا جاتا ہے۔ ملک میں گیارہ سال کیلئے آمریت مسلط ہو جاتی ہے۔ 1985 میں ڈکٹیٹر اپنی شرائط پر انتخابات کرواتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کو انتخابی عمل سے بے دخل کر کے،غیر جماعتی انتخابات کروائے جاتے ہیں۔ مگروہ حکومت بھی آمر کو پسند نہیں آتی اور تقریبا تین سال بعد جونیجو حکومت کو گھر بھیج دیا جاتا ہے۔ ڈکٹیٹر اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے۔ 1988 میں جمہوریت کی سانسیں کچھ بحال ہوتی ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو برسر اقتدارآتی ہیں، مگر دو سال بھی نہیں گزرتے کہ انہیں گھر بھیج دیا جاتا ہے۔ 1990 میں پھر انتخابات ہوتے ہیں، میاں نواز شریف وزیر اعظم بنتے ہیں مگر 1993 میں انہیں بھی گھر جانا پڑتا ہے۔ 93 میں محترمہ پھر وزیر اعظم منتخب ہوتی ہیں مگر 196 میں انہیں ایک بار پھر واپسی کی راہ دکھلائی جاتی ہے۔ 1997 کے انتخابات کے بعد میاں نواز شریف وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالتے ہیںمگر ایک بار پھر اکتوبر 1999 آجاتا ہے۔ اسمبلیاں ٹوٹتی ہیں۔ وزیر اعظم گرفتا ر ہوتا ہے۔ اٹک قلعے میں ڈالا جاتا ہے اور آخر کار جلا وطن کر دیا جاتا ہے۔ 2002 کے انتخابات مارشل لا کے سائے تلے ہوتے ہیں اور انتہائی تگ و تاز کے بعد گنگز پارٹی کو اقتدار دلایا جاتا ہے۔ 2008 کے انتخابات بھی اسی ڈکٹیٹر کے زیر سایہ منعقد ہوتے ہیں۔ خوش آئند امر ہے کہ 2008 اور 2013 کو منتخب ہونے والی اسمبلیوں نے اپنی مدت مکمل کی۔لیکن وزرائے اعظم کے ساتھ وہی ستر سالہ پرانی کہانی دہرائی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ 78 میں ملک کا مقبول ترین سیاستدان قتل کے الزام میں پیشیاں بھگت رہا تھا اور آخر کار تختہ دار تک پہنچایا گیا۔ آج 40 سال بعد بھی ایک سابق وزیر اعظم پیشیاں بھگت رہا ہے اور کچھ خبر نہیں کہ کس انجام سے دوچار ہو گا۔ یہ ہے ہماری انتخابی تاریخ جس پر ضرور نظر رکھنی چاہیے۔ یوں لگتا ہے کہ ہم دائروں میں سفر کر رہے ہیں اور آگے نہیں بڑھ رہے۔ مستقبل کے انتخابی زائچے بناتے اور امکانات کا جائزہ لیتے ہوئے، یہ پس منظر ضرورہمارے پیش نظر رہنا چاہئے۔
اب اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ انعقاد کی حد تک تو امکانات اچھے ہیں۔ گرتے پڑتے بہرحال ہم انتخابات کی منزل کے قریب آگئے ہیں اور اگر (خدانخواستہ) کوئی بہت بڑی انہونی نہیں ہوتی تو ان شااللہ 25 جولائی کو انتخابات منعقد ہو نگے۔ انتخابی نظام اور مشنری نے اسقدر اہتمام ضرور کر لیا ہے کہ پولنگ ڈے یعنی انتخابات کے دن دھاندلی کے امکانات معدوم ہیں۔اصل خدشات اور تحفظات قبل از انتخابات (pre-poll)اور بعد از انتخابات (post-poll) مراحل میں ہیں۔جہاں تک پری پول مرحلے کا تعلق ہے تو اس میں تمام جماعتوں کو اوران جماعتوں کی مقبول لیڈر شپ کو یکساں مواقع میسر ہونے چاہییں۔ تمام مقتدر اور موثر حلقوں کی جانب سے یہ واضح پیغام ملنا چاہیے کہ وہ کسی کا راستہ روکنا چاہتے ہیں اور نہ کسی کی راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔ 2013 میں پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کو شکوہ رہاکہ دہشت گردی کی وجہ سے انہیں آزادانہ انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہیں ملی۔ اب مسلم لیگ (ن) یہ شکایت کرتی نظر آتی ہے کہ اسکا راستہ روکنے کا اہتمام ہو رہا ہے۔ موقف اسکا یہ ہے کہ ڈرا دھمکا کر اور دبائو کے ذریعے پارٹی اراکین کی وفاداریاں تبدیل کی جا رہی ہیں۔ معلوم نہیں کہ ان الزامات میں کتنی صداقت ہے۔ مگر یہ تو ہم دیکھ ہی رہے ہیں کہ ایک پارٹی احتساب کی زد میں ہے۔ یاد رہے کہ یہ معاملہ پانامہ لیکس سے شروع ہوا تھا۔ پانامہ لیکس میں کم و بیش ساڑھے چار سو افراد کے نام تھے۔ وہ ساڑھے چار سو افراد تو ہر طرح کے احتساب اور جواب دہی سے مستثنیٰ ہیں۔ مگر احتساب اس آدمی (میاں نواز شریف) کا ہو رہا ہے جسکا نام پانامہ لیکس میں شامل ہی نہیں تھا۔ دوسری جانب نیب کا رخ بھی ہمیں اسی پارٹی کی طرف مرکوز نظر آتا ہے۔ عدالتی سوموٹو اور سرزنش کی زد بھی زیادہ تر پنجاب پر پڑ رہی ہے۔ اس سارے منظرنامے کو دھاندلی کہیں یا نہ کہیں مگر یہ سب کچھ معنی اور وزن ضرور رکھتا ہے۔
اسی طرح کے خدشات انتخابات کے بعد بھی ابھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ 2002 میں ڈکٹیٹر نے ق لیگ کو انتخابات جتوانے کیلئے خوب جتن کیے۔ نیب کے ذریعے دبائو ڈال کر سیاستدانوں کی وفاداریاں خریدیں۔ پیپلز پارٹی کو توڑ کر پیٹریاٹ بنائے گئے۔ تب کہیں جا کر ایک ووٹ کی برتری سے میر ظفر اللہ جمالی وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ یہ خطرات اب بھی نظر آرہے ہیں۔ بلوچستان میں سب سے بڑی سیاسی جماعت کا گلا گھونٹ کر جس طرح مقامی بندوبست کیا گیا ہے۔ جنوبی پنجاب محاذ کا اکٹھ بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ ایم ایم اے بھی تشکیل پا چکی ہے۔ سند ھ میں بھی ایک گرینڈ نیشنل الائنس بن گیا ہے۔یعنی چھوٹے چھوٹے جتھے بنا دئیے گئے ہیں، جو غالبا انتخابات کے بعد کام آئیں گے۔ اس سے مقبول سیاسی جماعت کا راستہ روکا جا سکتا ہے(حال ہی میں ہم نے سینٹ میں یہ تجربہ کیا ہے)۔ خلاصہ یہ ہے کہ انتخابات ہوتے نظر آتے ہیں۔ مگرتمام سیاسی جماعتوں کیلئے یکساں مواقع( level playing field )نظر نہیں آتے۔ انتخابی نتائج کے حوالے سے شدید خدشات ہیں۔ مقبول سیاسی قیادت کا راستہ روکے جانے کا خطرہ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ بڑی جماعتوں کو سائیڈ پر کر دیا جائے ۔ ایسا ہوا تو ایک غیر مستحکم اور منتشر نظام وجود میں آئے گا۔ لگتا یوں ہے کہ کامیاب انتخابات کے بعد بھی شاید ہم ناکام حکومت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں