کیا الیکشن ہماری مشکلات کا حل ہے ؟

June 10, 2018
 

تین ماہ قبل اردن جانے کا اتفاق ہوا وہاں برٹش کیمبرج اسکولوں کی کانفرنس تھی ۔جن کا تعلق پاکستان سمیت ایشین ممالک سے تھا جو ہر سال کسی نہ کسی ملک میں منعقد ہوتا ہے ۔پاکستان کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیمبرج والوں نے ممبر ملک اردن کا انتخاب کیا تھا۔ تین دن کے اجتماع میں کیمبرج اسکولوں کی کارگزاری اور آئندہ آنے والی تعلیمی پیش رفت ودنیا کے تعلیمی میدان میں کیا ہورہا ہے اُس کا جائزہ لیا جاتا ہے ۔مختلف اسکولوں سے آنے والے اساتذہ ،مینجمنٹ اور مالکان شریک ہوتے ہیں ۔اس کانفرنس میں ہمارے تعلیمی ادارے کے این اکیڈمی کراچی نے بھی حصہ لیا تھا راقم کو بھی شرکت کرنے کا موقع ملا ۔تین دن کی تعلیمی معلومات سے کافی تجربہ ہوا ۔سوچا اب اردن کی سیر اور سیاسی حالات کا بھی جائزہ لے لیا جائے۔
قارئین کی معلومات میں اضافہ کرتا چلوں اردن اور پاکستان کے بہترین بھائی چارے والے تعلقات ہیں۔ ایوب خان کے دُور میں شہزادہ حسن بن طلال جو مرحوم کنگ حسین کے چھوٹے بھائی تھے ۔اُن کی شادی پاکستانی خاتون بیگم اکرام اللہ کی صاحبزادی سے ہوئی تھی اور آج وہ شہزادی ثروت اردن میں خوشگوار زندگی گزاررہی ہیں ۔یہی نہیں پاکستان نے اردن کے شہر عمان کا ائیر پورٹ بھی تعمیر کیا تھا جو سابق وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کے والد خاقان عباسی کی سربراہی میں تعمیر ہوا تھا۔ مرحوم جنرل ضیاء الحق نے اپنے بریگیڈیئر کے زمانے میں اردن کی فوج کو بھی ٹریننگ دی تھی ۔چند دن قیام کے دوران یہ محسوس ہوا کہ اردن کے عوام دیگر گلف ممالک کے برعکس بہت ہی سادہ لوح ہیں اور غریب ہوتے ہوئے بھی غریب پرور ہیں ۔جب فلسطینیوں پر برُے دن آئے تو اردن نے اُن کو پناہ دی۔ لاکھوں فلسطینی یہاں ابھی تک آباد ہیں ۔اس کے علاوہ جب عراق پر حملہ ہوا تو عراقی مہاجرین اردن میں پناہ لینے آئے اُن کو بھی پناہ دی پھر مصر میں حسنی مبارک کا تختہ اُلٹا تو مصری مہاجرین آئے وہ بھی ابھی تک آباد ہیں اور پھر آخر میں شام میں ہولناک خانہ جنگی ہوئی تو لاکھوں شامی مہاجروں کو بھی اردن نے خوش آمدید کہا اور آج تک شام اوراردن کے بارڈر کھلے ہوئے ہیں ۔الغرض ایک کروڑ کی آبادی میں تقریباً 30لاکھ یعنی 10ملین میں سے 3ملین مہاجروں کی کفالت کا بوجھ اردن پر پڑا ہوا ہے ۔اردن میں کوئی تیل ،گیس کی پیداوار بھی نہیں ہے یہ جوچیزیں ہیں اُس کو اسرائیل سے مہنگے داموں خریدنا پڑتی ہیں۔ اردن کے عوام ہمارے پاکستانی عوام کی طرح خاموشی سے برداشت کررہے تھے ۔اس دوران آئی ایم ایف سے بھی انہوں نے قرضے لے رکھے تھے ۔ہماری طرح یہاں بھی آئی ایم ایف عوام پر مہنگائی اور ٹیکسوں کا بوجھ بڑھارہی تھی ۔چند ماہ قبل حکومت نے آئی ایم ایف سے 732ملین ڈالرز کا قرضہ 3سال کے لئے لیا تو اس نے حکومت پر ٹیکس بڑھانے کی شرائط عائد کیں جس پرحکومت نے غریبوں پر انکم ٹیکس عائد کردیا اور خوراک کی سبسڈی بھی واپس لے لی پھر کیا تھا اردن کی مختلف یونینوں نے مل کر حکومت پر زور ڈالا کہ وہ انکم ٹیکس واپس لے اور خوراک کی سبسڈی واپس بحال کرے ۔حکومت نے انکار کردیا اور مذاکرات ناکام ہوتے ہی ملک بھر میں ہڑتالیں شروع ہوگئیں ۔نہ صرف پولیس اورانتظامیہ نے عوام پر تشدد کیا بلکہ عوام کومزید سبق سکھانے کے لئے سیلز ٹیکس 12فیصد سے 16فیصد کردیا اور بجلی کے نرخوں میں 19فیصد اضافہ کیا اب کیا تھا پورا ملک ہڑتالوں ،تالہ بندی کی لپیٹ میں آگیا اور ٹرانسپورٹ و کاروبارسب بند ہوگئے۔ حکومت مفلوج ہوگئی کنگ عبداللہ (موجودہ بادشاہ) نے وزیراعظم ہانی مالکی پر دبائو ڈالا کہ ٹیکس واپس لیں ۔وزیر اعظم نے انکار کردیا کیونکہ وہ آئی ایم ایف سے معاہد ہ کرچکا تھا ۔ عوام کی رائے سے اُن سے زبردستی استعفیٰ لیا گیا پھر نئے وزیراعظم جو اسی کابینہ کے وزیر اوراکنامسٹ تھے،کو حکومت بنانے کی دعوت دی وہ نئی حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئے مگر عوام نے شخصی تبدیلی کو تسلیم نہیں کیا اور مطالبات وہی رکھے کہ تما م ٹیکس واپس لینے تک ہڑتالیں جاری رہیں گی ۔اُن کا نعرہ تھا عوام ATMمشینیں ہیں نہ آٹا پیسنے کی مشینیں ہیں۔40سال سے وہ مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں ۔اب وہ مزید یہ بوجھ برداشت نہیں کرینگے انہوں نے عوام کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے قبیلوں کے سرداروں کو بھی ساتھ ملالیا ۔اساتذہ ،ڈاکٹر ، وکلا سب اس تحریک میں شامل ہوچکے ہیں وہ اب شاہی خاندان خصوصاًشہزادی رانیہ جو کنگ عبداللہ کی چہیتی بیگم ہیںاور فضول خرچی ،بنائو سنگھار ،سیروتفریح کی دل دادہ ہیں ۔دنیا بھر میں گھومتی رہتی ہیں، ان کافلسطین سے تعلق ہے جس کی وجہ سے اردن میںفلسطینی بہت خوشحال ہوچکے ہیں اور سیاست پر بھی چھائے ہوئے ہیں ،کا زور ختم کرنے کے لئے طلاق تک کا مطالبہ کررہے ہیں ۔3ماہ پیشتر مجھے اپنے مشاہدے میں یہ محسوس نہیں ہوا کہ یہ سیدھے سادے بھولے عوام جو اپنے بادشاہ سے محبت کے دعویدار تھے کہ جس کی بدولت اردن میں نئے نئے کالج ،اسکول یونیورسٹیاںپورے گلف ممالک میں سب سے زیادہ ممتاز سمجھی جاتی ہیں اور عوام کو مفت علاج ومعالجہ کی سہولتیں حاصل ہونے کے باوجوداس قدر شدت پسند ہوجائیں گے ۔اُن سے ایسی امید نہیں کی جاسکتی تھی مگر جب پانی سر سے اونچا ہوجائے تو پھر ایسا ہی ردعمل ہوتا ہے جو آج اردن میں ہورہا ہے ۔نئے وزیراعظم لاچار پارلیمنٹ میں بیٹھے عوام کے مسائل حل کرنے کی پوری کوشش کررہے ہیں کہ آئندہ چند روز میں کیا ہوگا کسی کو کچھ پتہ نہیں آیا بادشاہ سلامت ردعمل کے طور پر کیا فیصلہ کرتے ہیں ۔فی الحال عوام سڑکوں پر آچکے ہیں۔ ۔میں یہ سوچ سوچ کر حیران ہورہاہوں گزشتہ 40سال سے آئی ایم ایف کے شکنجے میں پھنسنے کے باوجود، کرپٹ سیاستدانوں اور کرپٹ بیوروکریٹس کی اربوںکی کرپشن،مہنگی بجلی گیس ، پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی، گرمیوں میں زبردست لوڈ شیڈنگ ،دوبارہ بھتوں کی پرچیاں ،اغوابرائے تاوان سب کے ہوتے ہوئے ہم کیسے انسان ہیں جو آنے والے الیکشن کی تیاریوں میں مشغول ہونے جارہے ہیں ۔کیسے سب کچھ بھلا کر پھر انہی جاگیرداروں ،وڈیروں کے پرانے جالوں میں نئی نئی چھتریوں کے سائے میں پھنسنے جارہے ہیں ۔خدارا صرف اردن کے عوام سے ہی سبق سیکھیں جنہیں کل ہم نے سکھایا تھا ۔


مکمل خبر پڑھیں