سوشل میڈیا کے ’’ ان پڑھ ‘‘ فلاسفر

June 13, 2018
 

جس دن سے پاکستان میں قومی انتخابات کے انعقاد کی تاریخ 25جولائی کا اعلان کیا گیا ہے اُس دن سے ہی سوشل میڈیا پر عجیب و غریب لطائف اور ذو معنی باتیں لکھی اور پڑھی جا رہی ہیں ۔سوشل میڈیا کے فلاسفروں کے لکھے گئے جملے اور فقرے نہ جانے کیسے اور کہاں سے لئے جاتے ہیں اور اُن کا تعلق کس ملک کے ادب سے ہے یہ سمجھنا ہمارے لئے توبہت مشکل ہے۔اُن لکھے جانے والے فرضی مکالموںمیں من گھڑت کہانیاں اور بے مقصد تحریریں لکھنے والا اپنی طرف سے ایسے مزاحیہ انداز میں لکھتا ہے کہ پڑھنے والے کی زارو قطار ہنسی نکل جائے لیکن بعد میں وہی پڑھنے والا اپنے قہقہوں کو بے وقوفی کی علامت سمجھنا شروع کر دیتا ہے ۔مثال کے طور پر انتخابات کے حوالے سے ایک واقعہ کچھ یوں بیان کیا گیا تھا کہ کل مسلم لیگ قاف کے قائدین اندرون لاہور کے کچھ گھروں میں اپنی پارٹی کے ٹکٹ پھینک کر فرار ہو گئے۔ ایک صاحب نے لکھا تھا کہ ملتان میں دن دیہاڑے دو نقاب پوشوں نے موٹر سائیکل سوار میاں بیوی کو روکا اور اُن پر پستول تان کر انہیں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ زبردستی تھما کر فرار ہو گئے ۔جھنگ کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ پورے ضلع میں تین ایم این اے اور سات ایم پی اے مسلم لیگ ن کا ٹکٹ لینے سے انکاری ہیں اور وہ آزاد الیکشن لڑنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کے بارے میں لکھا گیا کہ شیخ رشید نے ایک رکنی اجلاس میں اپنے آپ کو ٹکٹ دینے کا حتمی فیصلہ کر لیا۔ ایک فلاسفر نے لکھا کہ ایک شوہر گھر پہنچا تو اُس نے دیکھا کہ ٹی وی لاونج میںبیٹھی اُس کی بیگم کچھ لکھ رہی ہے یہ دیکھ کر شوہر کا ’’ تراہ ‘‘ نکل گیا غور کرنے پر پتا چلا کہ بیگم کھانے کی کوئی ’’ ریسپی ‘‘ لکھ رہی تھی شوہر نے سکھ کا سانس لیا لیکن ساتھ ہی اُس نے ریحام خان کو بہت بد دعائیں دیں۔ ایک سر پھرا لکھتا ہے کہ پی ٹی آئی الیکشن کا ٹکٹ دیتے وقت اس بات کا خیال رکھ رہی ہے کہ کہیں اِس اُمیدوار کا تعلق پی ٹی آئی سے تو نہیں۔ ایک بد خبرے نے تو مزاحیہ تحریر لکھنے کی حد ہی کر دی، وہ لکھتا ہے کہ مجید چاچا ووٹ ڈال کر پولنگ بوتھ سے باہر آئے اور پولنگ ایجنٹ سے دریافت کیا کہ کیا میری زوجہ بھی ووٹ ڈال گئی ہیں یا نہیں ؟ پولنگ ایجنٹ نے لسٹ دیکھی اور بتایا کہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی وہ اپنا ووٹ ڈال کر جا چکی ہیں، چاچا مجید نے انتہائی افسوس کا اظہار کیا اور کہنے لگے کہ کاش میں بھی کچھ دیر پہلے پہنچ جاتا تو زوجہ سے ملاقات ہو جاتی، پولنگ ایجنٹ نے حیرانی سے پوچھا چاچا جی آپ دونوں ایک ساتھ نہیں رہتے ؟ چاچا مجید بولے کہ دراصل میری زوجہ کو فوت ہوئے پندرہ سال ہو چکے ہیں مگر میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی الیکشن ہوں تو وہ ووٹ ڈالنے ضرور آتی ہے۔ کچھ منچلے ریحام خان کی کتاب کے مختلف اوراق کا حوالہ دے کر ایسا’’ واحیاتانہ ‘‘ لہجہ اختیار کئے ہوئے ہیںکہ خدا کی پناہ، ایک پوسٹ کچھ یوں تھی کہ پوچھنا چاہتا ہوں روزہ کی حالت میں ریحام خان کی کتاب پڑھی جا سکتی ہے یا نہیں ؟ وہ لکھنے والے یہ بھی نہیں سوچتے کہ اپنے پاس سے ایسا لکھنا کتنا سنگین ہے اور اس سے پر امن اور پر سکون حالات میں کتنا بگاڑ آ سکتا ہے ۔پاکستان میں مختلف سیاسی پارٹیوں نے تنخواہ کے عوض سوشل میڈیا پر طوفان بد تمیزی پھیلانے کے لئے ملازمین تعینات کئے ہوئے ہیں جن کی ڈیوٹی میں یہ شامل ہے کہ دوسری سیاسی پارٹی پر اتنا غلیظ کیچڑ اُچھالو کہ لوگ ’’ تھُو تھُو ‘‘ کرتے نظر آئیں، وہ ملازمین بھی ایسے نمک حلال ہیں کہ وہ اپنے قائدین یا مالکان کی اُمیدوں پر قطعاً پانی نہیں پھیرتے اور صبح شام ایک دوسرے کی خواتین کے کردار کو جھوٹے الزامات کی زد میں رکھے ہوئے ہیں ،اُس پر ستم ظریفی یہ کہ سیاسی پارٹیوں کے قائدین اپنے سوشل میڈیا ملازمین کے اعزاز میں سیمینار ،کنونشن، پارٹیاں اور پروگرام ترتیب دیتے ہیں جن میں سب سے زیادہ کیچڑ اُچھالنے والے کو اسناد اور انعامات سے نوازا جاتا ہے، اب ان حالات میں سوشل میڈیا کے ملازمین کو کیا دوش دیا جا سکتا ہے وہ تو حکم کے غلام ہیں اگر قائدین کا حکم نہیں مانیں گے تو انہیں نوکری سے ہاتھ دھونے پڑیں گے ۔ویسے کیا خیال ہے سوشل میڈیا کو اپنی انتخابی مہم میں استعمال کرنا چاہئے لیکن اس کا استعمال دوسروں کے خلاف، چرب زبانی، کیچڑ اُچھالنا، الزامات لگانا، انسانی اقدار کی نفی کرنا، من گھڑت کہانیاں اور افسانے بنا کر ایک دوسرے کی سیاسی وابستگی پر ننگا طنز کرنا، یہ سب غلط نہیں ہے ؟یہ رمضان کا مبارک اور با برکت مہینہ ہے اس مہینے ہمیں اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہئے، اللہ سے کرم اور رحم مانگنا چاہئے، لیکن ہم اس کے برعکس ایسا نہیں کرتے کیوں ؟ یہ مبارک مہینہ ہمیں جھوٹ سے دور رہنے کا درس دیتا ہے، ایمانداری سے کام کرنے کی تلقین کرتا ہے، حق سچ کی بات کہنے کی ترغیب دیتا ہے، انصاف کرنے کا حکم دیتا ہے، لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ نعوذ باللہ یہ ماہ ہمیں سوشل میڈیا پر غلط پوسٹیں بھیجنے کا ثواب دیتا ہے۔ ایک واقعہ یاد آ گیا، کامیکو ایک جاپانی لڑکی تھی، ایک دن اُس نے پاکستانی بھائی سے پوچھا کہ یہ جو تم روزہ رکھ کر رمضان کا پورا مہینہ صبح سے شام تک بھوکا رہتے ہو، اس سے تمہیں کیا ملتا ہے ؟ پاکستانی بھائی نے جواب دیا کہ روزہ صرف بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں، بلکہ روزے کے دوران جھوٹ نہ بولنا، ایمان داری سے اپنا کام کرنا، پورا تولنا، انصاف کرنا وغیرہ وغیرہ ان تما م بُرے کاموں سے بھی بچنا ہے، کامیکو بولی، واہ بھئی واہ آپ کی تو موجیں لگی ہوئی ہیں ہمیں تو سارا سال ایسے کاموں سے بچنا پڑتا ہے، یہ سن کر پاکستانی مسلمان بھائی لا جواب ہو گیا ۔ماہ صیام ابھی اپنی برکتیں تقسیم کر رہا ہے سوشل میڈیا کے فلاسفروںکو چاہئے کہ وہ کچھ دن صبر کر لیں اور ماہ صیام ختم ہونے دیں، اس ماہ کا احترام کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر طوفان بد تمیزی بند کر دیں کیوں سنتے آئے ہیں کہ رمضان میں شیطان بند کر دیا جاتا ہے، لیکن کسی کو یہ پتا نہیں کہ وہ کہاں بند کیا جاتا ہے، میرا خیال ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے فلاسفروں کے کمروںمیں ہی بند ہوتا ہے اسی لئے تو ایسی شیطانی تحریریں لکھی اور پڑھی جاتی ہے، ہماری یہ بات سن کر شیطان بہت افسردہ ہوا، میرے پوچھنے پر بولا مجھے قسم ہے اپنی شیطانیت کی جو کام سوشل میڈیا پر کیا جا رہا ہے ایسا تو میرے وہم و گمان میں نہیں۔ ایک کمال یہ بھی ہے کہ متبرک دنوں کی آمد پر ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے اپنے سگے بھائی سے ناراض لوگ سوشل میڈیا پر سب سے معافی مانگ رہے ہوتے ہیں تب شیطان کے ہونٹوں پر یقیناََ ایک تمسخرانہ مسکراہٹ ضرور پھیل جاتی ہوگی ۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں