مصلحت کوشی

June 16, 2018
 

میں بولتا ہوں تو الزام ہے بغاوت کا
میں چُپ رہوں تو بڑی بے بسی سی ہوتی ہے
زبان بندی مین اسٹریم کی سرشت میں ہے لیکن نسلِ انسانی کی مجبوری ہے کہ بشیر بدر کے اس شعر کے مصداق باغی پیدا کرنے سے باز نہیں آتی۔ مین اسٹریم سماجی سائنس کا ایک اہم اور خوبصورت مظہر ہے۔ یہ ان تصورات، شخصیات، نظریات، اداروں اور وابستہ مفادات کا مجموعہ ہوتا ہے جو کسی سماجی اکائی کو چلا رہے ہوتے ہیں۔ خواہش کے برعکس یہ وجود کی عکاسی کرتا ہے۔ فرضی جنت کے برعکس یہ حقیقی دنیا کا ترجمان ہوتا ہے۔ خواب دیکھنے والے نہیں بلکہ زندگی جینے والے اسکے سر کا تاج ہوتے ہیں۔ لیکن مین اسٹریم کی کچھ خامیاں بھی ہیں، کچھ بدنمائیاں بھی ہیں جو اس کے دامن کے ساتھ چمٹی رہتی ہیں۔ یہ بہت بڑا مصلحت کوش ہوتا ہے۔ عدم تحفظ کا احساس اسے ہر وقت دامن گیر رہتا ہے۔ نرگسیت اور خودستائشی اسکو ہر وقت لبھاتی رہتی ہیں ۔
ایجاد و دریافت، عقل و فہم، منطق و مباحثہ، عدالتی و سماجی انصاف، اور دور جدید میں اب سائنس و ٹیکنالوجی کا مین اسٹریم کے ساتھ محبت و نفرت کا ایک رشتہ ہوتا ہے۔ کبھی کبھار یہ شیر و شکر ہو جاتے ہیں لیکن اکثر اوقات یہ ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریبان ہی رہتے ہیں۔ جب جب مین اسٹریم دل بڑا کرتا ہے، اپنے تعصبات کو قابو میں رکھتا ہے، خود کو عقلِ کُل اور حرفِ آخر نہیں سمجھتا۔تو نئے نئے سوالات، نئے نئے جوابات، نئے نئے خیالات، نئے نئے محرکات، نئے نئے امکانات اسکو جِلا بخشتے ہیں (مغربی دنیا میں یہی رجحان غالب ہے) اور جب جب مین اسٹریم تلوار ہاتھ میں اٹھائے سر قلم کرنے پر ہمہ وقت تیارہوتا ہے تو زوال، شکست و ریخت اور ترقی معکوس اس کا اور اس سے وابستہ سماجی اکائی کا مقدر بن جاتے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ اس وقت کیا ہو رہا ہے؟ ہمارے ہاں مین اسٹریم کس جگہ کھڑا ہے؟ جبکہ ترقی یافتہ معاشرے ہر میدان میں لحظہ بہ لحظہ نئی سے نئی دنیائیں تلاش کر رہے ہیں، ہم اس انجام سے کیوں دو چار ہیں؟ ایک اوسط درجے کا فرد بھی جب ستر سالہ زندگی کا حساب کرتا ہے تو خالی ہاتھ نہیں ہوتا، ہماری قومی زندگی کے ستر سال کا حساب کہاں ہے؟ منظر بھوپالی بھی پوچھا کئے
ہمارے دل پہ جو زخموں کا باب لکھا ہے
اسی میں وقت کا سارا حساب لکھا ہے
ستر سال جو مین اسٹریم ہمارے اوپر مسلط رہا۔ حساب کیسے دے کہ اسکی کارکردگی علامہ اقال کے اس شعر میں پنہاں ہے
روزحساب جب مرا پیش ہو دفترِ عمل
آپ بھی شرمسار ہو مجھ کو بھی شرمسار کر
چھوڑ دیں ترقی یافتہ ممالک کو کہ عزتِ نفس سے ہمارا کیا واسطہ؟ وہ ایجاد و دریافت کریں اور ہم جھوٹے ماضی، حال اور مستقبل کی شان میں قلابے ملاتے ہوئے ان کفار و اغیار کی ایجاد و دریافت کے نتیجے میں وقوع پذیر ہونے والی انسانی ترقی کے ہاتھی کی دم پر ایک مکھی اور مچھر کی طرح مفت خوری کی سواری کریں۔ لیکن اپنے "ازلی دشمن" بھارت کو کیسے بھول جائیں؟ وہ سیاسی، معاشی، سائنسی، تعلیمی اور دفاعی شعبوں میں جس تیزی سے ترقی کر رہا ہے، اسکا موازنہ اگر عام فہم طریقے سے کیا جائے تو ہماری حالت وہی ہے جو ہماری فلم انڈسٹری کی بھارتی فلم انڈسٹری کے مقابلے میں ہے۔ جس طرح ہمارے ہاں بھارت دشمنی ہر وقت اُبلنے کو تیار رہتی ہے، بھارت کا پاکستان دشمنی مرض اگر ہم سے بھی بگڑا ہوا نہیں تو ہمارے جتنا شدید ضرور ہے۔ اب تو وہاں کروڑوں مسلمانوں کو بہت ہراساں کر دیا گیا ہے ۔ ہم ایک ایٹم بم کے سہارے کب تک بھارت کا مقابلہ کر سکیں گے جبکہ ایٹم بم کا خوف قائم رکھنے کیلئے ہمیں اپنی ایٹمی صلاحیت کو مسلسل جدید بنانا پڑے گا، کم از کم اتنا جدید جتنی بھارت کی ایٹمی صلاحیت جدید ہو۔ لیکن اسکے لئےسیاسی و معاشی استحکام، بے پناہ وسائل، جدید ترین ٹیکنالوجی، اعلیٰ اداروں سے تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ افرادی قوت، اقوام عالم میں اچھی ساکھ اور انکے ساتھ اچھے تعلقات اور جانے کیا کیا کچھ اورضروری ہے۔ لیکن ہم جس ڈگر پر چل نکلے ہیں یا یہ کہ جن راہوں پر ہمارا مین اسٹریم ہمیں لے چلا ہے، ہمیں یہ سہولتیں پہلے ہی میسر نہیں اور جو رہی سہی کسر موجود ہے اسے پورا کرنے کیلئے ہم نئے نئے ڈاکٹرائن تراش رہے ہیں۔
یہ مین اسٹریم ہمیں کیا قبول ہے؟ مین اسٹریم قومی بیانیہ دیکھ لیں؟ ماضی شاندار، حال مضبوط ہاتھوں میں اور مستقبل تابناک۔ چند سوالوں سے اس بیانیے کی سلامتی خطرے میں پڑ جاتی ہے اور جھوٹے الزامات، پروپیگنڈہ، تشدد کا سلسلہ دراز ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ مین اسٹریم مذہبی رجحانات، شخصیات، جماعتوں اور اداروں کا حال دیکھ لیں۔ کیا دورِ جدید کے تعلیم یافتہ، متجسس اور تشکیکی ذہن کے سوالوں کے جواب اس مذہبی مین اسٹریم کے پاس ہیں؟ کیا مذہبی مین اسٹریم پاکستانی ریاست اور قوم کو صحتمند اور ترقی یافتہ ریاست اور قوم میں ڈھالنے میں ممدومعاون ہے یا مزاحم؟ مذہبی مین اسٹریم کو کیسے کیسے سیاسی مقاصد کیلئے ڈھالا گیا، کیسے کیسے مذہبی مین اسٹریم نے غیر آئینی حکومتوں کو کندھا پیش کیا، کیسے کیسے مذہبی مین اسٹریم نے ہزاروں غریب اور بے سہارا نوجوانوں کے ہاتھوں سے قلم اور پائوں سے منبر چھین کر انکے ہاتھوں میں عالمی طاقتوں کی دی ہوئی بندوق تھمائی، اب آپ سے زیادہ ڈھکا چھپا نہیں۔ سیاسی مین اسٹریم دیکھ لیں، کیا ہمارے سیاسی بیانیے، سیاسی لیڈروں، سیاسی جماعتوں اور سیاسی اداروں کے پاس ہمارے سیاسی مسائل کا حل ہے؟ کیا یہ سیاسی مین اسٹریم ہمیں سیاسی استحکام دے سکا؟ انگریز سے جو برصغیر کی سیاسی تحریکوں نے آزادی حاصل کر لی کیا اس سیاسی مین اسٹریم کے پاس ان کالے انگریزوں کی غلامی سے عوام کو آزادی دلوانے کی ہمت ہے؟ قانونی مین اسٹریم پر ایک نظر دوڑا لیں۔ کیا یہ عدالتیں، یہ قوانین، یہ ضابطے، یہ بار ایسوسی ایشنز، یہ کورٹ کچہری کا ماحول۔ یہ سب کروڑوں پاکستانیوں کے تنازعوں اور جرائم کا حل نکالنے کے قابل ہیں؟ کیا پاکستان کے نظام عدل کا حل رعونت، خودسری، خود نمائی اور خودستائشی میں پنہاں ہے، یا دوسروں اداروں کے اختیارات استعمال کرنے میں؟ یا سفارشی بھرتیوں اور احتساب سے بریت میں؟ اور مین اسٹریم میڈیا کو دیکھ لیں۔ کیا یہ سینکڑوں اخبارات، جریدے، ٹی وی چینلز اپنی صحافتی ذمہ داریاں اس درجے تک پوری کر رہے ہیں کہ خبر اور رائے عامہ کی معاشرتی ضرورتیں پوری ہوں؟ کتنے سچ ہیں جنکو شجرِممنوعہ قرار دیا جا چکا ہے، کتنے علاقے خبر کی رسائی سے باہر ہیں، کتنی آرا پر اعلانیہ اور غیر اعلانیہ سنسر شپ کی چھری پھرتی ہے، معاشرے کے کتنے پسے ہوئے طبقات اور ان سے جُڑے موضوعات اشرافیائی ترجیحات کا شکار ہو جاتے ہیں؟ پھر بھی کیا مفادات، مصلحتوں اور مجبوریوں میں گھرا یہ مین اسٹریم میڈیا ہمیں قبول ہے؟ میری دانست میں اب وقت آ گیا ہے کہ مین اسٹریم کو اپنا دل بڑا کرنا چاہئے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حاشیہ برداروں کی بھی سنی جائے، باغیوں کو مصلوب کرنا بند کیا جائے، اشرافیہ کا اقتدار اور تجوری کا نشہ اپنی جگہ، اور ملک و قوم کیلئے نہ سہی، اپنی اجارہ داری کی حفاظت، بقا اور دوام کیلئے ہی جدت اورندرت کو کھلے دل کے ساتھ گلے لگایا جائے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں