گزرے ہوئے زمانے

June 22, 2018
 

کالم نگاروں کو اگر وزارتیں،وہ بھی دو مہینے کی مل جائیں تو قیامت کردیتے ہیں۔مجھے بے تحاشہ ارشاد حقانی مرحوم یاد آرہے ہیں۔وہ جب میٹنگ کرتے تھے تو اپنے ہی کالموںکا صرف حوالہ ہی نہیں دیتے تھے‘وہ اکثر و بیشتر زبانی اپنا کلام سنایا بھی کرتے تھے۔ہم لوگ ماتحت‘ مرتے کیا نہ کرتے‘ روز یہ بھاشن سنا کرتے تھے۔اپنے زمانے میں جو بھی نگراں وزیرکبیر بنے، انہوں نے کارہائے نمایاں پر کتاب کسی نہ کسی سے لکھوالی‘آخر شوکت حسین رضوی نے بھی نورجہاں کے خلاف کتاب لکھوائی تھی‘ جب شور مچاتو کتاب غائب کردی گئی۔ویسے تو عابدہ حسین نے تازہ ترین کتاب میں زرداری صاحب کے بارے میں بہت کچھ لکھاتھا۔اس پر عدالت نے تقسیم منع کروادی۔سلمان رشدی کی کتاب ابھی پاکستان آئی ہی نہ تھی‘ کوثر نیازی کی ہدایت پر لمبے چوڑے احتجاج ہوئے اور آخر اس کی ساری کتابیں بین کردی گئیں۔مشرقی پاکستان کے سانحے کے بارے میں حسن ظہیر‘رائو فرمان علی کے علاوہ دنیا بھر کے مصنفین‘صحافیوں اور محققین نے کتابیں لکھیں اور پاکستان کی حکومت کی غلطیوں کو طشت ازبام کیا۔اسی طرح اسامہ بن لادن کے حوالے سے کم از کم آٹھ کتابیں مارکیٹ میں ہیں۔ان میں ان اشخاص کی کتابیں شامل ہیں جنہوں نے اسامہ کو ایبٹ آباد سے اغوا کیا تھا۔بلکہ ان میں سے ایک کو تو ٹرمپ حکومت نے بڑا عہدہ بھی دیدیاہے۔
اس طرح شملہ معاہدہ ہی کہ جنرل نیازی نے کس کے کہنے پر انڈین آرمی کے چیف کے سامنے ہتھیار ڈالے جبکہ بنگالی فوج کے سربراہ کہتے رہے کہ یہ ہمارا حق ہے۔اس کے بارےمیں انڈیا‘ بنگلہ دیش‘ پاکستان اور غیرملکی محققین نے کوئی کم تو نہیں لکھا۔ہمارے بیشتر جرنیلوں نے اپنی یادداشتوں میں کہیں محتاط ہوکر اور کہیں اشاروں کنایوں میں سب کچھ کہہ دیاہے۔دور کیوں جائیے‘ہماری نصابی کتابوں میں لکھاگیا ہے کہ ہندوئوں سے مخالفت کے باعث پاکستان بنا‘ااور تو اور مشرف صاحب نے تو کھل کے کہہ دیا بلکہ لکھ دیا کہ ہم نے پیسے لے کر 400 لوگوں کو امریکہ کے حوالے کیا ہمارے بہت بولنے والے روئیداد خان صاحب (نہ جانے آج کل کہاں ہیں) سارے مارشل لائوں میں دست بستہ حکومت میں شریک رہے۔مگر جانے والے جب چلے گئے‘ تو پھر میڈیا میں شیخ رشید کے علاوہ انکی ریٹنگ اوپر جاتی تھی۔ویسے تو پاکستان کے ابتدائی زمانے میں چوہدری خلیق الزماں سے لے کر‘ چوہدری محمد علی تک اور پھر قائداعظم کے آخری دنوں کے حوالے سے ڈاکٹر کرنل الہیٰ بخش اور بھٹو صاحب کے آخری دنوں کے حوالے سے کرنل عمر نام صحیح یاد نہیں نے جو یادداشتیں لکھی ہیں جو کچھ بے نظیر کے ساتھ ہوتا رہا۔ان کے بارے میں بے نظیر کے دوست کے علاوہ دیگر لوگوں نے سکھر جیل سے لیکر اڈیالہ جیل تک کی تفاصیل لکھی ہیں۔ان شواہد کی بنا پر کبھی کسی کے خلاف کارروائی ہوئی ہے۔رضا کاظم کے بغاوت پلان پر کوئی تحریر سامنے آئی ہے۔یحییٰ خان‘ٹرمپ کی طرح جیسے احکامات دیتے رہے ان پر کوئی تبصرہ ہوا ہے۔
میں بمبئی کے مفروضہ حملے کے بعد‘ تین دفعہ بمبئی گئی ہوں۔شہر کے لوگوں نے ساری تفصیلات فرفر سنائی تھیں۔ انڈیا میں اور دنیا بھر میں اس بارےمیں لکھا بھی گیا۔
غلطیاں آخر دوسری جنگ عظیم میں چرچل سے نہیں ہوئیں۔انہوں نے اپنی یادداشتوں میں ان سب غلطیوں کو ماناہے۔اس طرح جرمنی میں ہٹلر کی زیادتیوں کے بارے میں باقاعدہ میوزیم ہے۔جیسا کہ ڈھاکہ میں لبریشن میوزیم ہے۔جیسے امریکہ کے ایٹم بم گرانے کی اذیت ناک صورت حال پر ہیروشیما میں میوزیم بنایا ہوا ہے۔امرتسر میں بھی جلیانوالہ باغ کے حوالےسے میوزیم ہے اوراس پورے باغ میں لگی گولیوں کے نشانات کو محفوظ کیاہواہے۔خدا بھلاکرے ڈاکٹر زوار زیدی کا کہ وہ جب تک زندہ رہے قائداعظم پیپرز مرتب کرتے رہے۔اب بتائیں قائداعظم اکیڈمی کیا کررہی ہے۔
ارے میں کہاں چلی گئی۔ ہم تو احدچیمہ کی بتائی ہوئی زمینوں‘ رقموں ‘گاڑیوں کی تفصیلات ‘وہی بتارہے ہیں تو ہم جانتے ہیں۔ورنہ جو ہمارے دیگر صوبوں کے سیکرٹریوں کے گھروں‘ چھتوں اور بکسوں سے اربوں روپے نکلے ہیں۔کسی کے خلاف کسی ایکشن کی اطلاع ہے۔کہیں گے آنے والی حکومت کریگی۔ یہ جانے والی حکومت کے خزانچی چین اور آئی ایم ایف سے قرضہ مانگنے کی دہلیز پر چھوڑ کرجارہے ہیں۔پھر بھی بہت سے لکھنے والے موجود ہیں۔ان کے ذریعے سے اپنے زمانے میں ہونے والی بدفعلیاں گویا بدگمانیاں غلط تحریریں ابھی نہیں آئینگی۔ابھی تو زمانہ الیکشن لڑنے‘اپنے علاقے کے گھروں میں راشن پہنچانے‘ مختلف کالونیوں میں‘ ایک کارندے کے ذریعہ دس دس ووٹ خریدنے کا ہے۔ابھی تو بڑی گل افشانیاں ہونگی۔ البتہ شاید عرفان صدیقی اپنے پرانے کام پر واپس آجائیں۔ویسے تواس گلی سے ایک دفعہ نکل گیا وہ زمیں اور بھی‘آسماں اور بھی ہیں‘ صحافیوں کے لئے کرسیاں لگانے کی ذمہ داری تو وہ کسرنفسی میں لیتے رہے ہیں۔باقی رہے نام اللہ کا۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں