الیکشن اور موجودہ صورتحال کا جائزہ

June 24, 2018
 

الحمد اللہ دوسری مرتبہ جمہوری حکومت5سالہ مدت اقتدار پوری کرکے سبکدوش ہوگئی ۔دونوں مرتبہ اتفاق کہوں یا کچھ اور ؟پی پی پی کے دور کے آخری دنوں میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی عدالت عظمی سے فارغ ہوئے اور مسلم لیگ( ن) کے میاں نواز شریف بھی اُسی سپریم کورٹ سے نااہل ہوئے ۔واضح فرق یہ کہ پی پی پی کا دور مسلم لیگ( ن )نے بغیر رکاوٹیں ڈالے پورا ہونے دیا ۔مگر اس کے برعکس مسلم لیگ( ن) کا دور عمران خان کے دھرنوں ،جلسے جلوسوں ،ہنگامہ آرائیوں پی پی پی کی میڈیا پر تنقیدوں اور آخر میں پانامہ لیکس کے مسئلے میں گزرا۔ان 5سالوں میںبجلی ،گیس کا بحران برقرار رہا ۔آئی ایم ایف سے بے پناہ قرضے لیے گئے اور زیادہ ترقیاتی فنڈز اسلام آباد اور پنجاب صوبے پر خرچ کئے گئے اور سارا کریڈٹ مسلم لیگ (ن )والے اپنے ساتھ لے گئے ۔کے پی والوں کے منصوبے عمران خان کے دعوئوں کی حد تک ہی محدود رہے۔ بلوچستان اُسی غربت میںگھرا رہا ۔کوئٹہ ہزارہ برادری پر بھاری رہا البتہ علیحدگی پسند گروپ کا زور ٹوٹ گیا اور سی پیک کا منصوبہ پائے تکمیل کو پہنچ گیا ۔ ایٹمی دھماکے کی طرح اس کاکریڈٹ میاں نواز شریف خود سمیٹ گئے۔ رہا سوال صوبہ سندھ کا بقول ہمارے چیف جسٹس ثاقب نثار کے ’’سندھ دوسرے صوبوں کی بہ نسبت سب سے پیچھے ہے اور مکمل کھنڈر بن چکا ہے۔کراچی کے باسیوں کی پانی مافیا سے جان چھڑائی جائےــ‘‘ ۔بجلی کا بریک ڈائون اپنے عروج پر رہا ۔کراچی اور اندرون سندھ اربوں ،کھربوں روپے کا بجٹ کرپشن کے نذر ہوگیا۔ اس تناظر میںپی پی پی کی حکومت کس منہ سے الیکشن لڑے گی۔
موجودہ سیٹ اپ میں اگرچہ تینوں سیاسی جماعتیں مسلم لیگ (ن) ،پی پی پی اور پی ٹی آئی پورے پاکستان کی سیاست کی بات کرتی ہیں مگر عملاً مسلم لیگ (ن) پنجاب میں پاکستان پیپلز پارٹی سندھ میں اور پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں محدود نظر آتی ہے ۔ایم کیو ایم کراچی اور حیدر آباد کی حد تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔ الیکشن کے پہلے مرحلے میں تمام سیاسی نیم سیاسی مذہبی پارٹیاں ٹکٹوں کی تقسیم میں الجھی ہوئی ہیں ۔سب سے بڑا بحران پی ٹی آئی میں چل رہا ہے کہ عمران خان کی پارلیمانی کمیٹی کے خلاف ورکروں کا،جن جن کے ساتھ ناانصافیاں ہوئی ہیں ، اسلام آباد میں کنونشن کی شکل میں اجلاس ہورہا ہے اور 26جون تک کا الٹی میٹم بھی دے دیا گیا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ اگر یہ ورکروں کا گروپ الگ ہوجاتا ہے تو عوام میں پی ٹی آئی کے خلاف برا تاثرپیدا ہوگا جو پہلے ہی دیگر پارٹیوں سے نکلے ہوئے کرپٹ سیاستدانوں کی پی ٹی آئی میں شمولیت سے متاثر ہے۔ پارٹی نے اپنے موقف سے ہٹ کر ان تمام کو نہ صرف ٹکٹ دیئے بلکہ ان کےپورے پورے خاندانوں کو بھی ٹکٹوں سے نواز دیا۔ جو پرانے کارکنوں خصوصاً نوجوانوں کو منظور نہیں ہے۔ عملاً عمران خان مخصوص ٹولے کی حمایت کرکے پرانے کارکنوں کو مایوس اور ناراض کرچکے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) میں بھی ایسا ہی معاملہ ہے مگر زیادہ اکھاڑ پچھاڑ نہیں ہے ۔چوہدری نثار اور زعیم قادری کی بغاوت کی خبریں آچکی ہیں ۔آیا کوئی نیا گروپ سامنے آئے گا یہ واضح نہیں ہے ۔رہا معاملہ پاکستان پیپلز پارٹی کی نئی نوجوان قیادت بلاول بھٹو زرداری کا وہ ابھی تک صرف جلسوں اور زور دار بیان بازی میں ہی سب سے آگے ہیں ۔ بقول سابق صدر آصف علی زرداری کے ہم پنجاب میں کلین سوئپ کرینگے یہ کرشمہ کیسے ہوگا شاید بلوچستان کے سینٹ کے الیکشن والا معجزہ وجود میں لایا جائے گا۔
2نئے گروپ مرکز میں ایم ایم اے اور لبیک یا رسول اللہ کی صورت میدان میں آچکے ہیں۔سندھ میں جی ڈی اے الائنس بھی تشکیل پاچکا ہے جو عملاً سند ھ میں پی پی پی کے مقابلے کے لئے اتارا گیا ہے۔البتہ صرف کراچی، حیدرآباد میں ایم کیو ایم (متحدہ والے )اور پی ایس پی مہاجروں کی ووٹوں کی تقسیم کا سبب بنیں گی۔ یہ پہلا الیکشن ہے جس کے بارے میں ابھی تک عوام کی حتمی رائے سامنے نہیں آئی ہے ۔کیونکہ گزشتہ 5سالوں میں جو وعدے سیاسی پارٹیوں کے سربراہوں نے کئے وہ پورے نہیں کیے ۔بحرانوں کا حل کسی کے پاس نہیں ہے بجلی کی پیداوار کے دعوے اس موجودہ لوڈشیڈنگ نے غلط ثابت کردیئے ۔پورے ملک میں پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں ہے۔گیس اور پیٹرول کے نرخ بڑھائے جارہے ہیں ۔ڈالر 110سے 125تک پہنچ چکا ہے آئی ایم ایف سے جتنے قرضے لے چکے ہیں وہ سب کے سب کرپشن کی نذر ہوگئے ۔ نیب اور دیگر ادارے صرف کاغذی کارروائیوں تک محدود ہیں ۔عدلیہ اور فوج کہاں تک ان پر ہاتھ ڈالیں سب تھک ہار کر اب الیکشن سے امیدیں لگارہے ہیں ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہی سیاسی جماعتیں ہیں اور وہی سیاست دان ہیں جو گھوم پھرکر پارٹیاں تبدیل کرکے میدان میں لائے جارہے ہیں ۔اُن سے عوام کیا نئی امیدیں لگائیں۔ ایک پی ٹی آئی سے امید تھی وہ تبدیلی لائے گی سو وہ بھی دیگر پارٹیوں کی طرح اپنے محور سے ہٹ چکی ہے ۔میرے ایک صنعت کار دوست نے ایک سال قبل پی ٹی آئی جوائن کی تو میں نے کہا آپ اس پارٹی میں کیوں شامل ہوئے ہیں اس میں تو پہلے ہی کرپٹ سیاست دان دوسری پارٹیوں سے نکل کر شامل ہوچکے ہیں ۔آپ کی جماعت پہلے تو ان کرپٹ سیاست دانوں کا احتساب کا نعرہ لگاتی تھی اب کس کا احتساب ہوگا ۔تو وہ بولے کہ ہماری پارٹی کی پالیسی بدل گئی ہے خان صاحب چاہتے ہیں کہ اگلے الیکشن میں ہمارے امیدوار زیادہ سے زیادہ ووٹ بینک رکھنے والے ہونے چاہئیں، جب تک ہم اقتدار میں نہیں جائیں گے ۔عوام کے مسائل کیسے حل ہونگے ۔بہتری کے سارے خواب چکنا چور ہوچکے ہیں اب ہوا میں صرف دعوے ہی دعوے رہ گئے ہیں۔پہلے سن رہے تھے کہ احتساب ہوگاسب کا ،مگر وہ بھی نہیں ہوسکا ۔عوام کی مایوسیاں اب لب بام تک پہنچ چکی ہیں۔ نگراں حکومتیں آچکی ہیں مگر وہ بھی سب لاچار ہیں۔قوم کو صرف معجزے کاانتظار ہے ۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں