شہباز شریف کی کراچی سے انتخابی مہم

July 04, 2018
 

گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اپنی پارٹی کی انتخابی مہم کا آغاز قائد کے شہر کراچی سے کرکے خوشگوار موڈ میں گنگناتے ہوئے واپس لاہور لوٹے۔ دو روزہ کراچی کے دورے میں اُن کا توقع سے زیادہ خیر مقدم کیا گیا اور وہ جہاں بھی گئے، اُن کی باتوں نے کراچی کے لوگوں کے دل موہ لئے۔ شہباز شریف خصوصی طیارے سے سینیٹر مشاہد حسین سید کے ہمراہ جب کراچی پہنچے تو رن وے پر میں نے سینیٹر سلیم ضیاء اور سینیٹر مشاہد اللہ کے ہمراہ اُن کا استقبال کرتے ہوئے انہیں خوش آمدیدکہا۔ واضح ہو کہ گزشتہ ماہ شہباز شریف کے دورہ سندھ کے موقع پر میں نے اپنی اور بزنس کمیونٹی کی جانب سے اُن سے درخواست کی تھی کہ وہ کراچی سے الیکشن لڑیں۔ مجھے خوشی ہے کہ شہباز شریف نے کراچی سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا اور انتخابی مہم کراچی سے شروع کی۔ اس طرح شہباز شریف کا حالیہ دورہ انتہائی اہمیت کا حامل تھا جسے میں نے رانا مشہود جو سندھ میں شہباز شریف کے کوآرڈی نیٹر ہیں، کے ساتھ مل کر ترتیب دیا تھا اور میں کراچی میں اس دورے کا فوکل پرسن تھا۔
شہباز شریف کے دورے کے دوران اُن کی بزنس مینوں سے کئی میٹنگز اور انٹریکشن شیڈول میں شامل تھے۔ کراچی کے بزنس مینوں اور ٹائون ایسوسی ایشنز کی کافی عرصے سے یہ خواہش تھی کہ شہباز شریف اُن کی ایسوسی ایشنز کا وزٹ اور اُن سے انٹریکشن کریں مگر وقت کی کمی کے باعث یہ ممکن نہ تھا، اِس لئے یہ طے ہوا کہ شہباز شریف فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس (FPCCI) جو تاجر برادری اور صنعتکاروں کی اپیکس باڈی ہے، کا دورہ کریں گے جہاں ٹائونز ایسوسی ایشنز کے نمائندوں کو بھی مدعو کیا جائے تاکہ اُن سے بھی ملاقات ہوسکے۔ شہباز شریف ایئرپورٹ سے سیدھے فیڈریشن ہائوس تشریف لے گئے جس کا آڈیٹوریم بزنس مینوں اور صنعتکاروں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ اپنے خطاب میں فیڈریشن کے صدر غضنفر بلور اور سینئر نائب مظہر ناصر نے فیڈریشن آمد پر شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا اور اُن کے اقدامات کو سراہتے ہوئے بزنس کمیونٹی کی جانب سے اُنہیں اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ اس موقع پر انہوں نے فیڈریشن ہائوس میں میٹنگ کے انعقاد پر میرا بھی شکریہ ادا کیا۔ شہباز شریف نے تاجروں اور صنعتکاروں سے اپنے خطاب میں کہا کہ 2013ء میں پاکستان کو امن و امان کی بدترین صورتحال اور لوڈشیڈنگ جیسے چیلنجز درپیش تھے جس کے باعث ملکی برآمدات کو نقصان پہنچ رہا تھا لیکن مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے گزشتہ 5 سالوں میں اِن بحرانوں پر قابو پایا جبکہ آنے والے وقت میں پینے کے صاف پانی، ٹرانسپورٹ، کچرے اور غلاظت جیسے بحرانوں پر بھی قابو پایا جائے گا اور بزنس مینوں کے مسائل حل کرنا میری اولین ترجیح ہوگی۔
شہباز شریف کے دورہ کراچی کے دوران مسلم لیگ (ن) بزنس فورم کے صدر کی حیثیت سے میں نے فورم کی خواتین ارکان کے ساتھ میٹنگ اور انٹریکشن کا اہتمام بھی کیا جس میں بزنس اور پروفیشنل وومین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ میٹنگ میں نوجوان YPOs ممبرز کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ بزنس فورم کے ارکان کے ساتھ شہباز شریف کا یہ انٹرکشن انتہائی دلچسپ اور مفید رہا۔ اس موقع پر فورم کی ممبر خواتین نے شہباز شریف سے کہا کہ کراچی کی ترقی کیلئے وہ ان کے ہمراہ ہیں۔ میٹنگ کے دوران ایک خاتون ممبر نے شہباز شریف کو تجویز دی کہ کیا ہی اچھا ہو کہ کراچی سے تعلق جوڑنے کیلئے وہ کراچی میں ایک گھر بھی رکھیں تاکہ کراچی سے ان کا رشتہ جڑا رہے۔ اس موقع پر ایک خاتون ممبر نے اُنہیں مذاقاً گھر کے ساتھ گھر والی کی تجویز بھی پیش کی جس پر شہباز شریف زیر لب مسکرادیئے۔ دوپہر میں شہباز شریف کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں معروف بزنس مینوں نے شرکت کی جن میں عارف حبیب، بشیر جان محمد، شاہد ٹاٹا، کراچی چیمبر کے سابق صدر مجید عزیز، فیڈریشن کے سابق صدر ذکریا عثمان، سابق ایم این اے قیصر شیخ اور چنیوٹ برادری کی سرکردہ شخصیات بھی شامل تھیں۔ شہباز شریف نے اپنے دورے کے دوران میڈیا کے سینئر نمائندوں سے بھی ملاقات کی اور اُن کے چبھتے ہوئے سوالات کا جواب بڑی خندہ پیشانی سے دیا۔ اگلے روز بزنس مینوں کے ساتھ شہباز شریف کی ایک اور خصوصی میٹنگ کا اہتمام کیا گیا جس میں معروف صنعتکاروں اور بزنس مینوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر میں نے اپنی استقبالیہ تقریر میں کہا کہ 2013ء میں کراچی میں امن و امان کی صورتحال انتہائی مخدوش تھی اور لوڈشیڈنگ عروج پر تھی، کراچی کے لوگوں کا یہ مطالبہ تھا کہ شہر میں امن و امان قائم کیا جائے اور لوڈشیڈنگ سے نجات دلائی جائے، نواز شریف اور اُن کی حکومت نے اپنا وعدہ نبھایا، شہر کی رونقیں لوٹ آئیں اور لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہوا، اب کراچی کے شہری اپنا وعدہ نبھاتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کو سپورٹ کریں گے لیکن ساتھ ہی کراچی کے شہری آج شہباز شریف سے یہ وعدہ لینا چاہتے ہیں کہ اگر وہ اور اُن کی جماعت برسراقتدار آئی تو وہ کراچی کو لاہور کی طرح ترقی دے کر ایشیاکا خوبصورت ترین شہر بنائیں گے۔
بزنس فورم کے اراکین سے میٹنگ کے بعد جب شہباز شریف ہال سے باہر نکلے تو نہایت خوشگوار موڈ میں تھے۔ ایسے میں ہوٹل کی لابی میں موجود گلوکار جو گانا گاکر وہاں موجود لوگوں کو محظوظ کررہا تھا، کو گاتے دیکھ کر رک گئے اور غیر متوقع طور پر گلوکار سے مائیک لے کر خود گانا شروع کردیا جس نے وہاں موجود لوگوں کو خوشگوار حیرت میں مبتلا کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے شہباز شریف کو خوبصورت آواز سے نوازا ہے، اُن کی یہ ویڈیو آناً فاناً سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس سے یہ ثابت ہوا کہ بظاہر سخت مزاج اور سنجیدہ نظر آنے والے شہباز شریف مزاح کی حس بھی رکھتے ہیں۔ اپنے دورے کے دوران شہباز شریف مزار قائد پر فاتحہ خوانی کیلئے بھی گئے۔ انہوں نے وزیٹر بک میں اپنے تاثرات درج کئے کہ ’’اے قائد! میں تجھ سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں کراچی کو ترقی دے کر ایشیا کا مثالی شہر بنائوں گا۔‘‘ بعد ازاں شہباز شریف نے اپنے حلقے NA-249 بلدیہ ٹائون کے علاوہ پارٹی امیدوار شاہ محمد شاہ کے حلقے NA-238 ملیر، مفتاح اسماعیل کے حلقے NA-244، سلیم ضیاء کے حلقے NA-246 لیاری اور سلمان خان کے حلقے NA-248 کیماڑی کا دورہ بھی کیا اور وہاں جلسوں سے خطاب کیا۔
سندھ کی دو بڑی جماعتوں ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی نے گزشتہ 10 سالوں میں صوبے اور شہر کراچی کی ترقی کیلئے کوئی قابل ذکر کام نہیں کیاجس کے باعث سندھ بالخصوص کراچی انتہائی زبوں حالی کا شکار ہے اور یہاں کے عوام اِن دونوں سیاسی جماعتوں سے بدظن نظر آتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پنجاب میں دوسرے صوبوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ترقیاتی کام ہوئے ہیں جس کی تصدیق اکنامک انٹیلی جنس، پلڈاٹ اور گیلپ جیسے غیر جانبدار اداروں نے اپنی سروے رپورٹ میں کیا ہے۔ شہباز شریف وہ واحد وزیراعلیٰ ہیں جو کسی بھی صوبے میں جاکر یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ اگر وہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے تو ملک کے دوسرے صوبوں اور شہروں کو بھی پنجاب اور لاہور کی طرح ترقی دیں گے۔ کیا اس طرح کا دعویٰ ملک کے دوسرے صوبوں کے وزرائے اعلیٰ لاہور یا پنجاب کے دیگر شہروں میں جاکر کرسکتے ہیں؟ شاید نہیں کیونکہ انہوں نے شہباز شریف کی طرح اپنے صوبوں اور شہروں میں وہ ترقیاتی کام نہیں کئے جس سے صوبے کے لوگوں کی زندگی میں بہتری آئے، یہی وجہ ہے کہ آئندہ الیکشن کی انتخابی مہم کے دوران دوسری سیاسی جماعتوں کے نمائندے جب لوگوں سے ووٹ مانگنے کیلئے اپنے حلقوں میں جارہے ہیں تو اُنہیں عوام کے غم و غصے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
شہباز شریف کا کراچی سے الیکشن لڑنا اور انتخابی مہم کا کراچی سے آغاز کرنا خوش آئند فیصلہ اور خوبصورت حکمت عملی تھی جس سے اُن کا کراچی سے اسٹیک اور تعلق قائم ہوا، وہ کراچی آکر لوگوں سے گھل مل گئے اور اُن کی باتوں نے کراچی والوں کے دلوں کو چھوا، اس طرح ان کے دورے نے کراچی والوں کو ایک چوائس فراہم کردی اور جاتے جاتے انہوں نے گانا گاکر کراچی والوں کو ساتھ لے چلنے کا عندیہ بھی دے دیا۔ شہباز شریف کے ٹریک ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے کراچی کے شہری یہ اُمید کررہے ہیں کہ شہباز شریف کراچی کے مسائل حل کرکے اسے لاہور کی طرح ترقی دیں گے مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ کراچی کی ترقی شہباز شریف کی الیکشن میں کامیابی سے مشروط نہ ہواور وہ کراچی کے شہریوں سے کیا گیا وعدہ ہر صورت نبھائیں۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں