نواز شریف کی وطن واپسی۔ مخالفین کی شکست

July 11, 2018
 

گزشتہ دنوں اسلام آباد کی احتساب عدالت کی جانب سے ایون فیلڈ ریفرنس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف، اُن کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر کو سنائی گئی سزا نے شاید ہی کسی ذی شعور شخص کو حیرت سے دوچار کیا ہو کیونکہ اس طرح کے فیصلے کی پہلے سے توقع کی جارہی تھی اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سمیت دیگر پارٹی قیادت گزشتہ کئی ماہ سے یہ متواتر کہہ رہی تھی کہ ’’واٹس اپ پر تشکیل دی گئی جے آئی ٹی اور نیب عدالت سے ہمیں انصاف کی توقع نہیں اور فیصلہ نواز شریف کے خلاف ہی آئے گا۔‘‘ سیاسی تجزیہ نگار فیصلے کی ٹائمنگ کو بھی تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں اور فیصلے کو الیکشن سے پہلے پری پول رگنگ سے تشبیہ دی جارہی ہے کیونکہ گزشتہ ہفتے ملک کے تمام بڑے پول کرنے والے اداروں نے اپنی سروے رپورٹ میں آئندہ الیکشن میں مقبولیت کے اعتبار سے مسلم لیگ (ن) کو دوسری جماعتوں کے مقابلے میں سرفہرست جماعت قرار دیا تھا۔
الیکشن سے کچھ دن قبل نیب عدالت کی جانب سے نواز شریف کے خلاف فیصلہ سنائے جانے پر ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے اس بات کو بھی تقویت ملتی ہے کہ اس کا مقصد مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت کو کم کرنا اور مخالف جماعت پی ٹی آئی کو الیکشن میں فائدہ پہنچانا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ فیصلے کے بعد سب سے زیادہ خوشی کا اظہار پی ٹی آئی اور اس کی قیادت نے کیا جو اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ نواز شریف کو قید کی سزا دینے سے عمران خان کیلئے وزیراعظم بننے کا راستہ ہموار ہوگیا ہے تاہم پیپلزپارٹی نے فیصلے پر نہایت محتاط رویہ اختیار کررکھا ہے۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری جو کافی عرصے سے نواز شریف کے خلاف سخت رویہ اختیار کئے ہوئے تھے، نے موجودہ صورتحال میں نواز شریف کو ملاقات کا پیغام بھیجا ہے کیونکہ ملک کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال میں اب آصف زرداری کو یہ احساس ہوگیا ہے کہ اُنہیں اور اُن کی جماعت کو سیاسی انجینئرنگ میں استعمال کیا گیا ہے۔ پی پی قیادت کی ناراضی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اُنہیں جنوبی پنجاب سے نشستیں ملنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی لیکن جنوبی پنجاب میں 65 سے زائد انتخابی امیدواروں کو جیپ کا نشان الاٹ ہونے سے اُن کی یہ امیدیں بھی دم توڑ گئی ہیں، اسی طرح گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (GDA) کے تحریک انصاف کا حصہ بننے سے پی پی قیادت کو یہ احساس ہوگیا ہے کہ سندھ میں اُن کے خلاف نقب لگائی جارہی ہے جبکہ گزشتہ روز آصف زرداری کے فرنٹ مین حسین لوائی کی گرفتاری، آصف زرداری اور اُن کی بہن فریال تالپور کا نام ای سی ایل میں ڈالنے سے بھی یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ اب آصف زرداری اور پی پی قیادت کے گرد گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔
پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال میں نواز شریف ایک بڑے لیڈر کے طور پر ابھرکر سامنے آئے ہیں اور وہ بڑی جوانمردی سے حالات کا مقابلہ کررہے ہیں جس سے نہ صرف ان کے سیاسی قد میں اضافہ ہوا ہے بلکہ اِن حالات میں جب اُن کی شریک حیات کلثوم نواز وینٹی لیٹر پر ہیں، نیب عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے سے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور اُن کے دل میں نواز شریف سے ہمدردی پیدا ہوئی ہے۔ کچھ حلقے شاید اس غلط فہمی کا شکار تھے کہ میاں نواز شریف جیل کے ڈر سے وطن واپس نہیں آئیں گے لیکن نواز شریف کے اپنی بیٹی کے ہمراہ واپسی کے اعلان نے سب کوپریشانی سے دوچار کردیا اور ملک میں ایک ہیجانی کیفیت پیدا کردی ہے۔ یہاں مریم نواز کی جرات و بہادری بھی قابل دید ہے جو اس مشکل وقت میں بھی باپ کے ساتھ کھڑی ہیں۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ پارٹی کی سینئر قیادت نے مریم نواز کو مشورہ دیا تھا کہ وہ وطن واپس نہ آئیں اور لندن میں ہی بیٹھ کر شریف فیملی کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف آواز اٹھاتی رہیں لیکن مریم نواز نے مشکل حالات میں اپنے والد کو تنہا چھوڑنے سے انکار کردیا اور کہا کہ میں اپنے والد کے ساتھ ہی جیل جائوں گی جبکہ نواز شریف کی والدہ شمیم اختر،جن کی عمر 92 سال ہے، نے بھی اپنے بیٹے کے ساتھ جیل جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ نواز شریف کو کسی صورت گرفتار نہیں ہونے دیں گی اور اگر میرے بیٹے کو گرفتار کرکے جیل میں ڈالا گیا تو میں بھی ساتھ جائوں گی۔
مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف یہ کہنے میں بالکل حق بجانب ہیں کہ اُنہیں تاریخ کا رخ موڑنے کے جرم میں سزا دی گئی لیکن یہ سزائیں اُن کی جدوجہد کا راستہ نہیں روک سکتیں۔ نیب عدالت کے فیصلے کے بعد کچھ لوگ اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ سزا کے بعد نواز شریف کی سیاست ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائے گی ۔
پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ عوام نے ہمیشہ غاصبوں کو مسترد کرکے مظلوموں کا ساتھ دیا ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ احتساب عدالت سے بڑی عوام کی عدالت ہوتی ہے جو ماضی کی طرح ان شاء اللہ آئندہ الیکشن میں بھی مظلوموں کا ساتھ دے گی۔ جمعہ کے روز جب نواز شریف اپنی شریک حیات ،جو وینٹی لیٹر پر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں، کو اللہ کے حوالے کرکے بیٹی کے ہمراہ وطن واپس آئیں گے اور گرفتاری دیں گے تو یقیناًاُن کی مقبولیت بلندیوں کو چھولے گی۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ کسی بھی جیل کی دیواریں اتنی مضبوط نہیں ہوتیں کہ وہ عوام کے مقبول لیڈر کو زیادہ عرصے تک اُن سے دور رکھ سکیں۔ نیب عدالت کے حالیہ فیصلے اور نواز شریف کی اپنی بیٹی کے ہمراہ جرات مندانہ اور دلیرانہ انداز میں واپسی نے اُنہیں نیلسن منڈیلا کی صف میں لاکھڑا کیا ہے۔ سندھ کے عوام کو ہمیشہ اس بات پر فخر رہا ہے کہ اُن کی سرزمین نے بھٹو جیسا نڈر اور بہادر لیڈر پیدا کیا جس نے آمر کے سامنے سرجھکانے کے بجائے پھانسی پر لٹکنے کو ترجیح دی اور امر ہوگئے۔ آج نواز شریف نے بھی سرجھکانے کے بجائے جیل جانے کو ترجیح دے کر پنجاب کے عوام کا سر فخر سے بلند کردیا ہے۔
نواز شریف نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا، اندھیروں میں ڈوبے ملک کو لوڈشیڈنگ سے نجات دلائی اور پاکستان بالخصوص کراچی، جہاں ماضی میں ہر روز ٹارگٹ کلنگ کے نتیجے میں درجنوں لاشیں گرتی تھیں، میں امن و امان قائم کیا لیکن افسوس کہ ہم نے اپنے رہنما کے احسانات کا بدلہ اُس کی زندگی میں ہی اتارکر اُسے جیل کی تاریکیوں میں ڈال دیا ہے مگر کل جب مورخ تاریخ لکھے گا تو نواز شریف کا نام سنہری الفاظ میں لکھا جائے گا۔ پنجاب کے عوام کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ ووٹ تو نواز شریف کو دیتے ہیں مگر برے وقت میں اُن کیلئے باہر نہیں نکلتے لیکن آج اس تاثر کی نفی کا وقت آگیا ہے۔ سپریم کورٹ نے گزشتہ دنوں آرٹیکل 6 کے مقدمے میں سابق ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کو حفاظتی ضمانت (Protective Bail) دیتے ہوئے اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی کہ جنرل پرویز مشرف خود کورٹ میں حاضر ہوجائیں، اُنہیں پیشی تک گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ چیف جسٹس جناب جسٹس ثاقب نثار سے مودبانہ درخواست ہے کہ وہ نواز شریف کو بھی اِسی طرح کی رعایت (Gesture) دیتے ہوئے اُنہیں کورٹ تک پہنچنے کیلئے حفاظتی ضمانت (Protective Bail) دیں کیونکہ جمعہ کو جب لاہور میں عوام کا جم غفیر ہوگا اور لاکھوں افراد نواز شریف کے استقبال کیلئے ایئرپورٹ پر موجود ہوں گے تو ایسے موقع پر نواز شریف اور اُن کی صاحبزادی مریم نواز کی گرفتاری امن و امان کا مسئلہ پیدا کرسکتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جمعہ کے روز نواز شریف کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں اور زیادتیوں کا حساب مانگنے کیلئے لاہور ایئرپورٹ پر لاکھوں افراد کی موجودگی نواز شریف اور اُن کی پارٹی کو نئی طاقت مہیا کرے گی۔


مکمل خبر پڑھیں