سیاست کے رنگ

July 14, 2018
 

اس بات میں کوئی باک نہیں ہے کہ نواز شریف کو سیاست میں کچھ اہم قوتیں ہی لے کر آئی تھیں۔ اس وقت مقابلہ پیپلز پارٹی سے تھا۔ کئی برسوں کی کشمکش کے باوجود جب پیپلز پارٹی ختم نہ ہو سکی اور بے نظیر کے آنے کا خطرہ ہر وقت حضرت ضیا الحق کے سر پر لٹکتا رہا تو نواز شریف کو اس خطرے کے مقابلے کے لئے تیار کیا گیا۔ جنرل جیلانی اور جنرل ضیاالحق کی ذاتی نگرانی میں اس پودے کی پرواخت کی گئی۔ پہلے پنجاب کے وزیر خزانہ سے بات شروع ہوئی اور پھر جلد ہی وزیر اعلیٰ پنجاب اور چند سالوں میں ہی وزیر اعظم تک بات پہنچی۔ آج نواز شریف انہی قوتوں سے لڑنے کی بات کر رہے ہیں ۔ لیکن یہ روایت یہاں پہلے بھی موجود تھی۔ سیاست میںکچھ قوتوں کے چلن سے انکا ر ممکن نہیں ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو بھی ایوب خان کو ڈیڈی کہا کرتے تھے اور انہی کے سایہ عاطفت میں ترقی پاتے رہے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ بھٹو نے بھی انہیں قوتوں سے دوبدو ہونے کا فیصلہ کیا جن کے کاندھوں پر بیٹھ کر وہ اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھے تھے۔ عمران خان کی مثال ہی لے لیجئے ، خان صاحب دو ہزار گیارہ سے پہلے ایک سیٹ والی پارٹی کہلاتے تھے اور میاںوالی کے سوا کسی سیٹ کو جیتنے کے اہل نہیں تھے ۔ مگر دو ہزار گیارہ کے بعد ان کی سیاست کو چار چاند لگے اور اب وہ اپنے تئیں وزیر اعظم بننے کے سفر پر گامزن ہیں۔ اگر عمران خان وزیر اعظم بن گئے "جس کےا مکانات بہرحال مخدوش ہیں" تو کچھ عرصے کے بعد انکی گفتار کا مرکز وہی لوگ ہوں گے جن کو آج کل وہ اپنا محسن گردانتے ہیں۔
اس بات پر بحث کی گنجائش ہے کہ کیا وجوہات ہیں کہ تمام ہی وزیر اعظم اپنے محسنوں سے کنارہ کشی اختیار کرتے رہے۔ بھٹو ، نواز شریف اور عمران خان تو بڑی توانا مثالیں ہیں۔ ہم نے یہ بھی دیکھا ہے محمد خان جونیجو اور ظفر اللہ جمالی جیسے مرنجان مرنج لوگ بھی اسی جرم میں ملوث پائے گئے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس فارمولے میں کوئی بنیادی خامی ہے۔ اس کو نہایت تحمل سے سوچنا چاہئے کہ کیا یہ نظام اسی طرح چلے گا یا اس میں تبدیلی کا کوئی مثبت امکان ہے؟
نواز شریف کی مثال کو مزید سوچتے ہیں کہ ایسا کیا ہوا کہ پنجاب سے وہ آوازیں اٹھنا شروع ہو گئیں جن کی مخالفت ہمیشہ پنجاب نے کی تھی ۔ نواز شریف کے اپنے محسنین سے اختلافات کا آغاز انیس سو ترانوے سے ہو گیا تھا۔ اقتدار کی مسند پر انہیں براجمان رہنا خوش دینے لگا تھا۔ تخت پر بیٹھا ہر شخص مطلق العنانی کی خواہش رکھتا ہے۔ لیکن جو آپ کو اقتدار میں لاتے ہیں وہ آپ سے شراکت کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ بسا اوقات یہ مطالبہ شراکت سے بڑھ کر اطاعت کی حد تک پہنچ جاتا ہے۔ ایسے مواقع تخت نشیں پر گراں گزرتے ہیں اور اختلافات جنم لیتے ہیں جو بالآخر جمہوری نقصان کی شکل میں ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ ہماری ساری سیاسی تاریخ اسی کشمکش کا نتیجہ ہے۔ نواز شریف کو اعزاز حاصل ہے کہ وہ اس تاریخی کشمکش کا تین بار شکار ہوئے۔
جنرل مشرف کے مارشل لامیں بھی اس خاندان کو ایسے ہی المیوں سے گزرنا پڑا تھا۔ اس وقت نواز شریف سے بنیادی غلطی ہوئی ۔ ایک ڈیل کے نتیجے میں ان کو وطن بدر کر دیا گیا۔ نواز شریف اگر چاہتے تو اس ڈیل سے انکار کر سکتے تھے مگر انہوں نے پارٹی کو چھوڑ کر جان بچانے کو ترجیح دی اور دس سال کے لئے ملکی سیاست سے دور چلے گئے۔ پارٹی کے مخلص ورکرز نے اس زمانے میں بہت صعوبتیں برداشت کیں۔ بہت سے کارکن بدظن بھی ہوئے اور مشرف کے ساتھ شامل ہوگئے۔ دس سال سیاست میں بہت طویل وقفہ ہوتا ہے۔ اس وقفے نے نواز شریف اور بے نظیر کو میثاق جمہوریت تک پہنچنے میں مدد کی۔ یہ معاہدہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کی دو بڑی سیاسی پارٹیوں نے اس معاہدے میں یہ طے کیا کہ ہم جمہوریت کے عمل کو چلنے دیں گے۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش میں نظام برباد نہیں کریں گے۔ جھوٹے الزامات ، مقدمات اور کیسز کھلوانے سے اجتناب کریں گے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد دو ہزار آٹھ میں جب پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تو دونوں پارٹیوں نے میثاق جمہوریت کو پس پشت ڈال دیا۔ جہاں نواز شریف میمو گیٹ میں کالا کوٹ پہن کر عدالت پہنچ گئے وہیں پیپلز پارٹی نے بھی پنجاب پر گورنر راج مسلط کر دیا۔ لیکن اس دور کی سب سے اہم بات وکلا تحریک رہی۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ کم ہی ہوا ہے ایک چیف جسٹس جس کو ایک ڈکٹیٹر نے سبکدوش کیا ہو اس کی دوبار بحالی ہوئی ہو۔ اسی تحریک کے لئے نواز شریف عوام کے جم غفیر کے ساتھ لاہور سے نکلے اور گوجرانوالہ پہنچنے تک چیف جسٹس بحال ہو چکے تھے۔
میری رائے میں جمہوری طور پر چیف جسٹس کی بحالی اس ملک میں عوام کی پہلی جمہوری کامیابی تھی۔ اس کامیابی کا سہرا نواز شریف کو جاتا ہے اس لئےکہ جب تک ایسی تحریکوں کو سیاسی جماعتوں کی مدد نہ ملے ان تحریکوں کا مستقبل مخدوش ہوتا ہے۔ اگر اس وقت پنجاب میں گورنر راج نہ ہوتا تو شاید نواز شریف کبھی اس تحریک کو اتنے پرزور انداز میں چلانے کا علم نہ بلند کرتے۔ اس ساری روداد کے بیان سے یہ بتانا مقصود تھا کہ جب بھی پنجاب کے عوام اور حکمران یہ سمجھتے کہ انکے ساتھ حق تلفی ہو رہی ہے تو جمہوریت کا علم ضروربلند ہوتا ہے۔
آج پھر نواز شریف ایک نئے عزم کے ساتھ لند ن سے واپس آ رہے ہیں ۔ انیس سو ستانوے اور اب کے نواز شریف میں بنیادی فرق اتنا ہے کہ اس وقت نواز شریف پارٹی کو چھوڑ کر چلے گئے تھے اوراس دفعہ لندن سے گرفتار ہونے کی خاطر واپس آ رہے ہیں۔ نواز شریف کی سیاست نے بہت رنگ بدلے ہیں۔ اب ان کا مشن ووٹ کو عزت دلوانا ہے۔ اب وہ سول سپرمیسی کی بات کر رہے ہیں۔ ایسے میں لوگ انکے بیانیے کی حمایت تو کر رہے ہیں لیکن سب کی نظریں الیکشن پر بھی لگی ہوئی ہیں۔
اگر الیکشن شفاف طریقے سے ہوتے ہیں ، عوام کی منتخب کر دہ ا سمبلی تشکیل پذیر ہو جاتی ہے ، لوگ اپنی مرضی سے اپنے نمائندے چن لیتے ہیں تو ووٹ کو عزت دینے کا بیانیہ زیادہ دیر نہیں چلےگا۔ لیکن اگر انتخابات میں لوگوں کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کی اجازت نہیں ملتی۔ کوئی اورووٹ ڈال جاتا ہے یا پھر جھرلو پھر جاتا ہے تو اس بیانیے کو مزید تقویت ملے گی۔ نواز شریف کا کیس مزید مضبوط ہو گا۔ اس وقت سارا ملک تنائو کی کیفیت میں ہے۔ خلفشار کا شکار ہے۔ بے اطمینانی بڑھ رہی ہے۔ اس سارے مسئلے کا حل فری اینڈ فیئر الیکشن میں پوشیدہ ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو مستقبل کوئی زیادہ تابناک نہیں ہے۔ جمہوریت کا "دف " مارنے کے لئے " مزید جمہوریت" درکار ہوتی ہے۔ بہت سے فیصلے جمہوریت خود کرتی ہے۔ پیپلز پارٹی اسی کا سامنا کر رہی ہے۔ نواز شریف کو بھی جمہوریت کا سفر طے کرنے دیں بہت سے فیصلے وقت خود کر دے گا۔ لیکن اگر اس سفر کے درمیان رکاوٹیں کھڑی کی گئیں تو نواز شریف کی آواز مزید توانا ہوگی۔ لوگ ان کے بیانیے پر مزید شدت سے لبیک کہیں گے اور اس ملک کی سیاست کے رنگ پھر نہیں بدلیں گے۔ رنگ بدلنے کے لئے جمہوری فارمولہ اپنانا پڑے گا اس کے علاوہ اس صورت حال سے باہر نکلنے کا کوئی اور حل نہیں۔


مکمل خبر پڑھیں