انتخابات 2018ء: بائیں بازو کا موقف

July 19, 2018
 

اب جبکہ جمہوری عشرہ اپنی وقعت گنوا بیٹھا اور ہماری آنکھوں کے سامنے ایک بار پھر کچھ قوتیں اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ جمہوری عمل پر حملہ آور ہو چکیں تو بائیں بازو کے لوگ کیوں کر خاموش تماشائی بنے اِک کونے میں دُبک کر بیٹھے رہتے۔ ملک کی سبھی بائیں بازو کی پارٹیوں، عوامی حقوق کی تنظیموں اور ترقی پسند دانشوروں کی بیٹھکیں رنگ لائیں اور وہ لاہور میں سیفما کے آڈیٹوریم میں منعقدہ اجلاس میں ایک متفقہ تجزیئے اور لائحۂ عمل پر متفق ہو گئیں۔ گو کہ اس بار بھی دیر کر دی آتے آتے، لیکن جو کچھ 25 جولائی کو ہونے جا رہا ہے، اُس حوالے سے یہ اجلاس آئندہ کے لائحۂ عمل کے لیے اہم بنیاد فراہم کرتا ہے۔ بائیں بازو کی جماعتوں کی رائے میں انتخابی عمل ووٹنگ سے پہلے ہی ہائی جیک ہو گیا ہے اور ستم ظریفی یہ کہ ایک طاقتور الیکشن کمیشن دھاندلی کے بلّوں کو دیکھ کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے بیٹھ گیا ہے۔ باوجودیکہ اس وقت بظاہر ججوں کی حکمرانی ہے (چیف الیکشن کمشنر جج، احتساب کمشنر جج، عبوری وزیراعظم جج اور اوپر سے ایک متحرک چیف جسٹس)، انتظامی قزاق جمہوری جہاز لے اُڑے ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن والوں نے الیکشن کمیشن میں قبل از انتخاب دھاندلی کا بہت واویلا کیا، لیکن کمیشن میں کسی کے کان پہ جوں تک نہ رینگی۔ اب اس کارِخیر کا الزام تو گنہگار سیاستدانوں کے سر دھرا نہیں جا سکتا۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ بقول بلاول بھٹو ’’اسلامی جمہوری اتحاد دوئم‘‘ بپا ہوا چاہتا ہے اور اس بار فیضیاب ہونے والوں میں نواز شریف اور روایتی اسلامی جماعتیں نہیں، بلکہ ہمارے واحد صادق، امین اور آپ تو جانتے ہی ہیں کس کے لاڈلے عمران خان اور دیگر کنگز پارٹیاں فیضیابی کی اُمید سے ہیں۔ ان میں سرفہرست تحریکِ انصاف (پنجاب اور پختونخوا)، گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس (سندھ)، بلوچستان عوامی پارٹی (بلوچستان)، پاک سرزمین پارٹی (کراچی) اور خیر سے مذہبی و فرقہ وارانہ شدت پسندوں کے غول کے غول جن میں تحریکِ لبیک پاکستان، لشکر طیبہ کی اللہ اکبر تحریک اور سپاہِ صحابہ کی اہل سنت و الجماعت وغیرہ شامل ہیں۔ پکی نشستوں والے تو پہلے ہی مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی ڈولتی کشتیوں سے اُڑان بھر کے محفوظ ٹھکانوں میں پناہ گزیں ہو چکے، رہے سہے آزاد ہوئے یا پھر کچھ چوہدری نثار والی جیپ پہ سوار ہو گئے ہیں۔ میڈیا کی آزادی کب کی ہوا ہوئی۔ اب ٹیلی وژن پر بس دو منظر ہیں۔ یا تو رائے دہندگان نالی، گیس، پانی کا رونا روتے نظر آتے ہیں یا پھر ہر طرف خان ہی خان، عمران خان!! احتساب کا رنگ چوکھا ہوا، نواز شریف اور مریم نواز جیل سدھارے اور مقدمے کی کارروائی انتخابات کے بعد کی کسی تاریخ میں گم ہو گئی۔ بلاول بھٹو اچھا ہے، لیکن ابھی اُس سے خطرہ نہیں اور زرداری کے لیے مقدمات پھر سے منتظر۔ رہے چھوٹے بھائی شہباز شریف وہ پہلے ہی لاہور میں نواز شریف کے استقبال کے لیے جمع ہوئے متوالوں کے غصے کی ہوا نکال چکے۔ تو پھر ہو گیا: اب کی بار، عمران خان! اب آپ کیسے ہی غیرمنتخب اداروں کو طعنے دیا کریں، جنگ اور محبت میں سب جائز ہے!! لیکن! عوام کو چکمہ دینا بھی آسان نہیں۔
اِن سب مظاہر پہ بائیں بازو کو تشویش تو ہونی ہی تھی۔ لیکن اُن کا مسئلہ تو عوام کے اقتدارِ اعلیٰ اور اُن کے حق رائے دہی کا منصفانہ و آزادانہ اظہار ہے، نہ کہ کسی ایک یا دوسری بورژوا پارٹی کا دُم چھلہ بننا۔ اُن کی پریشانی یہ ہے کہ موجودہ انتخابی نظام میں محنت کشوں، کسانوں، خواتین اور پیشہ ور درمیانے طبقوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ یہ انتخابی نظام امرا، وڈیروں، ارب پتیوں اور پیشہ ور لوٹوں کا ہے اور اُس میں بھی ایسے گھپلے کہ صداقت و امانت شرم سے ڈوب مریں۔ اب چنیں تو کس کو۔ قصابوں کے مقابلے میں مہاقصاب کھڑے ہیں اور بائیں بازو والے ان میں سے کسی کو چننے سے رہے۔ انتخابی بیانیے ہیں کہ متحارب گالی گلوچ کے طوفانِ بدتمیزی میں گم ہو کے رہ گئے ہیں۔ ایسے میں ملک کو درپیش بڑے معاشی، سماجی اور انسانی چیلنجوں پہ کوئی کیسے کان دھرے۔ بائیں بازو والوں کے مطابق اس وقت چار طرح کے بیانیے ہیں۔ عمران خان کے بیانیہ سے تبدیلی اور ’’اسٹیٹس کو‘‘ کو بدلنے کی اخلاقی ہوا تو ہر طرح کے اُٹھائی گیروں کو تحریکِ انصاف کا ٹکٹ دلوائے جانے پہ نکل چکی۔ پھر بھی اُن کے بیانیے کا زور ابھی بھی کرپشن اور احتساب پہ ہے۔ اُن کی سیاست فسطائی اور عوامیت پسند ہے اور نظریہ انتہاپسندوں سے ملتا جلتا۔ اور وہ مقتدرہ کی شرائط پر اِک نئے اسلامی جمہوری اتحاد کا سہرا اپنے سر پہ سجانے کو تیار ہیں۔ دوسری طرف نواز شریف جو دائیں بازو کے میانہ رو سیاستدان ہیں، اب سویلین بالادستی کا بیڑا اُٹھاتے اُٹھاتے جیل پہنچ گئے ہیں اور پیچھے سے ووٹ کی عزت کی حفاظت برادرِ خورد شہباز شریف کرنے سے رہے۔ اور تیسری طرف ہمارے نوجوان بالغ نظر بلاول بھٹو ہیں جو اس انتخابی مہم میں سب سے منفرد اور عوام دوست رہنما کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ اُن کا نظریہ سماجی آزاد خیالی کا ہے اور اُن کا جھکاؤ عوامیت پسند سنٹر لیفٹ کی طرف۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ اُن کی پذیرائی کا فائدہ پھر سے سندھی وڈیرے نہ اُٹھا لیں۔ ان سب بیانیوں سے اوپر مذہبی شدت پسندی کا بیانیہ ہے جو سب کو فرقہ واریت کی رو میں بہا لے جا سکتا ہے۔
بائیں بازو کی آزادانہ و منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے تجاویز ویسی ہی ہیں جیسی ہیومن رائٹس کمیشن نے پیش کی ہیں۔ انتخابی عمل میں غیرمنتخب اداروں کی مداخلت کا سدِباب، میڈیا پر عائد پابندیوں کا خاتمہ، انتہاپسند مذہبی جماعتوں کی انتخابی عمل سے بیدخلی، الیکشن ڈیوٹی پر فائز فوجی، انتظامی اور عدالتی عملے کی الیکشن کمیشن آف پاکستان کے احکامات پر عمل درآمد کی یقین دہانی۔ سب کے لیے متعلقہ ضابطۂ اخلاق کی پابندی۔ گالی گلوچ اور زائد پیسے کے استعمال پر قدغن اور سب سے بڑھ کر سب جماعتوں کو یکساں انتخابی مواقع کی فراہمی۔ ان مطالبات کے ساتھ ساتھ بائیں بازو نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کس کو ووٹ دیا جائے اور کس کو ووٹ نہ دیا جائے۔ اس کی رائے میں عوام ووٹ اُن اُمیدواروں کو دیں جو: عوام کے اقتدارِ اعلیٰ کو بلاشرکتِ غیرے تسلیم کریں، آئین و قانون کی حکمرانی اور منتخب اداروں کی بالادستی میں یقین رکھتے ہوں۔ سول ملٹری تعلقات کو آئین کی روح کے مطابق از سرِ نو استوار کریں جو مذہب، نسل، علاقے اور جنس کی بنیاد پر شہریوں میں تفریق نہ کریں۔ سیاست کو مذہب سے علیحدہ رکھنے کے قائل ہوں۔ عورتوں کے مساوی حقوق اور محنت کش عوام کے حقوق، غربت کے خاتمے، تعلیم و صحت کے فروغ اور پاکستان کو ایک عوامی فلاحی ریاست بنانے میں یقین رکھتے ہوں۔ دہشت گردی اور انتہاپسند نظریات کے خلاف ڈٹ جانے اور نہ صرف ملک بلکہ خطے میں ہمسایوں کے ساتھ امن کو فروغ دینے کے حامی ہوں۔ اسی طرح بائیں بازو کی قرارداد میں عوام سے اُمید کی گئی ہے کہ وہ کنگز پارٹیوں، مذہبی انتہاپسندوں، لوٹوں، وڈیروں اور ارب پتیوں کو شکست دیں گے۔ بائیں بازو کی جماعتوں میں اب اس امکان پر بحث مباحثہ جاری ہے کہ 25 جولائی کے بعد جو حالات پیدا ہونے ہیں اور خاص طور پر اگر آمرانہ، فسطائی اور انتہاپسند قوتیں اقتدار پر قابض ہو گئیں تو اُن کے خلاف وسیع تر عوامی جمہوری محاذ تشکیل دینے کی ضرورت ہوگی۔ اور ایک نیا عوامی میثاقِ جمہوریت تشکیل دینا ہوگا۔ کارِخیر میں دیر کیسی؟
(بائیں بازو کی قرارداد کی حمایت میں درج ذیل جماعتوں اور تنظیموں کے نمائندوں نے دستخط کیے: عوامی ورکرز پارٹی، پاکستان مزدور کسان پارٹی، کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان، عوامی پارٹی پاکستان، پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمیٹی، پراگریسو لیبر فیڈریشن، نیشنل پارٹی، ایچ آر سی پی کے آئی اے رحمان، سلیمہ ہاشمی، سی پی این ای کے سیکرٹری جنرل جبار خٹک، تحریکِ نسواں کی شیما کرمانی، ویمن ایکشن فورم کی روبینہ سہگل، ترقی پسند مصنّفین کے عابد علی عابد، سیفما کے نمائندے، پائلر کے کرامت علی، سلمان اکرم راجہ ایڈوکیٹ اور ملک بھر سے 150سے زائد دانشوروں اور صحافیوں کی حمایت۔)
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں