توکل سے آزمائش تک

July 20, 2018
 

ایک ایمان افروز خط آپ کی خدمت میں من و عن پیش کررہا ہوں۔
شہرت، دولت، مرتبہ اور اختیار انسان کی فطری خواہشات ہیں اور انسان اکثر اوقات انہی کو حاصل کرنے کی تگ و دو میں اس طرح سر پٹ بھاگتا کہ اس پر خواہش سے زیادہ ہوس کا گمان ہوتا ہے۔ انہی کو نفسانی خواہشات بھی کہتے ہیں۔ جو لوگ اس نفس کے منہ زورگھوڑے کو لگام ڈالنے اور اس کا تزکیہ کرنے کی فکر میں رہتے ہیں صرف انہی کے باطن میں بالآخر نور الٰہی کی کرن پھوٹتی ہے۔ جہاں ہوس نے ڈیرے ڈالے ہوں وہاں رضائے الٰہی کی روشنی کیونکر داخل ہوگی۔ تزکیہ نفس کی منزل بڑی کٹھن ہے کیونکہ یہ خود کو فتح کرنا اور جیتے جی خاک میں ملا لینا ہے۔ جب انسان نام و نمود، دنیاوی عزت و شہرت، دولت، اقتدار اور دیگرخواہشات نفسانی سے پاک یا بے نیاز ہوجاتا ہے تو وہ ’’توکل‘‘ کے مقام پر فائز ہو جاتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے آپ کو مکمل طور پر رضائے الٰہی کے تابع کردیتا ہے۔ ’’توکل‘‘ کی عمارت کے دوبنیادی ستون ہیں۔ ’’صبر‘‘ اور ’’شکر‘‘۔ متوکل انسان کا ہر جذبہ، احساس، ردعمل اورخواہش رضائے الٰہی کے تابع ہوتی ہے نہ کہ دنیاوی نظام اور دنیاوی جبر و قدر کا شاخسانہ، لہٰذا ایسا شخص کسی بھی حال میں صبر اور شکر کا دامن چھوٹنے نہیں دیتا اس کے سامنے ہمہ وقت اللہ رب العزت کا یہ فرمان رہتا ہے کہ وَ مَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ فَھُوَ حَسْبُہٗ (اور جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ اس کے لئے کافی ہے )۔( سورہ طلاق 2:65)صبر و شکر کا امتحان روزمرہ زندگی میںبھی ہوتا ہے لیکن اس کا اصل امتحان آزمائش کے دور میں ہوتا ہے۔ جو شخص رضائے الٰہی اور قرب الٰہی کا متمنی ہوتا ہے وہ آزمایا ضرور جاتا ہے۔آزمائش اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے۔ قرب الٰہی کی آرزو رکھنے والے اپنی اپنی حیثیت، ظرف اور اپنی اپنی منزل کے مطابق آزمائش کے مراحل سے گزارے جاتے ہیں۔ جتنا بڑا مقام ہوگا اسی قدر بڑی آزمائش ہوگی۔ آزمائش کی بے شمار قسمیں ہیں مثلاً طویل بیماری، طویل محرومی، زوال، معاشرتی جبر و انتقام، آسمانی آفات، دولت، غربت، اقتدار وغیرہ وغیرہ۔ یہ دیکھا جاتا ہے کہ آزمائش کے اس وقت میں کون استقامت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ایساتو نہیں کہ ایک رات ساری عبادت اور اللہ کے ذکر میں گزار دی اورپھر دوسری رات فجر تک سوتے ہی رہے۔ استقامت بھی اللہ پاک کی عطا کردہ بڑی نعمت اور توفیق ہوتی ہے جو ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی۔ باطن کو دنیاوی غلاظتوں سے پاک کئے بغیر اور صبر و شکر کی منزل حاصل کئے بغیر قرب الٰہی کے حصول کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوتا۔ البتہ یہ سب اللہ کریم کی دین ہے، وہ عطا فرمائے یا نہ.... لیکن اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ ’’الشکور‘‘ یعنی نہایت قدر دان بھی ہیں وہ کسی کو اس کے حق سے محروم نہیں کرتے۔ اکثر اوقات ہماری ناکامیاں ہماری نیتوں میں کھوٹ کا نتیجہ ہوتی ہیں۔
اولاد، دولت، اقتدار، شہرت اور اختیار بھی آزمائش ہی کی مختلف شکلیں ہیں۔ جس نے اللہ پاک کی ان نعمتوں کو مخلوق خدا کی خدمت اور راہ حق کے حصول کے لئے استعمال کیا وہ سرخرو ہوا لیکن جس نے انہیں اپنی ذاتی لذتوں اور تسکین نفس کا سامان بنایا وہ ناکام ٹھہرا۔ قول فیصل ہے کہ اکثر لوگوں کوان کی خدمات اور خواہشات کا اجر اس دنیا میں مل جاتا ہے۔ غیب کا علم میرے رب کی ملکیت ہے، وہی جانتا ہے کہ انہیں اگلے جہان میں بھی اجر ملے گا یا نہیں لیکن جو لوگ نام و نمود، دنیاوی نعمتوں، لذتوں اورنفسانی خواہشات سے بے نیاز ہوتے ہیں، ان کا زہد و تقویٰ، مجاہدات ہوں یا مخلوق کے لئے خدمات یہ سب کچھ صرف اور صرف رضائے الٰہی کے لئے ہوتا ہے نہ کہ دنیاوی احترام اورمقام کے لئے۔ اکثر یہ لوگ اپنی زندگی میں گمنام اور گوشہ نشین رہتے ہیں لیکن ان کے جانے کے بعد اللہ پاک ان کے نام، کام اور مقام کودوام بخش دیتے ہیں۔
9/11کے وقت ڈاکٹر رشید سیال امریکہ میں تھے اور وہاں اسلام اور مسلمانوں کےخلاف ایک منظم سازش کے ساتھ میڈیا پر مہم چلائی گئی تو ڈاکٹر صاحب نے رب العزت سے دعا کی کہ وہ انہیں قرآن کریم سے متعلق ایسا علم دے جس سے وہ قرآن کا پیغام اہل مغرب تک انہی کی زبان میں اور ان کی ذہنی اور علمی سطح، فکری انداز اور استعداد کے مطابق پہنچا سکیں۔
اس سلسلہ میں ڈاکٹر سیال صاحب کی پہلی کتاب "Divine Philosophy and Modern Day Science" 2004ء میں امریکہ سے شائع ہوئی۔ اس پر نیویارک ٹائمز کا تبصرہ کچھ یوں تھا۔
“The cadence and course of Dr. Seyal's writing on the poetic stance of the Holy Scripture besides its philosophical and scientific discernment looks very imposing and inspiring within the folds of the true message of the text.
However one thing is conspicuous and convincing, that Lord Almighty has given him the essential essence of this noble job to achieve. He seems to be motivated in the perpetuation of this prudent and prodigious work for the drill and direction of people living in the developed world who can affirm and embrace any ideology based on logic and intellect.”
ڈاکٹر صاحب نے رموز تخلیق کے موجودہ ایڈیشن میں اپنی زندگی کے بعض مخفی گوشوں سے پردہ اٹھایا ہے جس میں توکل، تعلق مع اللہ، اللہ کی مدد اور اس کے فضل و کرم کا خوب تذکرہ ملتا ہے لیکن ایک گوشہ ایسا ہے جس کا ذکر نہیں ہے، وہ ہے آزمائشوں اور مشکل حالات کا دور۔
جیسے ہی ڈاکٹر سیال صاحب نے قرآن کریم پر قلم اٹھایا تو ان پر آزمائشوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ ایک با اثر شخص کے ایما پر جس کی ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ایک انتہائی حساس مسئلہ پر رنجش ہوگئی تھی ملتان کا سارا پریس ڈاکٹر صاحب کے خلاف ہوگیا۔ اخبارات میں طرح طرح کی بہتان تراشیاں اور جھوٹی خبریں گھڑ گھڑ کے چھپوائی گئیں۔ اب و ہ بالکل تنہا ہوگئے، دوست احباب ساتھ چھوڑ گئے، گھر والے بھی شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے۔ اسپتال میں مریض آنا بہت ہی کم ہوگئے، ہر طرف سے نفرت، طعنہ زنی، تمسخر اور تذلیل کا غباراٹھنے لگا۔ آزمائش اور ابتلاء کا یہ عرصہ تین سال سے زائد پر محیط تھا جسے انہوں نے ایک کمرے میں مقید ہو کر گزارا۔ انہی دنوں ان کے ایک دوست جو کہ اس وقت یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے ان سے ملنے کے لئے تشریف لائے، ملاقات کے دوران انہوں نے کہا ’’ڈاکٹر صاحب! سارا شہر آپ سے نفرت کرنے لگا ہے‘‘۔ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا: ’’الحمد للہ! میرا اللہ مجھ سے بہت محبت کرتا ہے‘‘۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْآ اَنْ یَّقُوْلُوْا اٰمَنَّا وَ ھُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ (کیا لوگ یہ خیال کرتے ہیںکہ (صرف) ان کے (اتنا) کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے ہیں چھوڑ دیئے جائیں گے اور ان کی آزمائش نہ کی جائے گی)( سورۃ العنکبوت2:)
بلاشبہ یہ ایک بہت بڑی آزمائش تھی اس اثناء میں ڈاکٹر صاحب قرآن پاک کے تراجم و تفاسیر کے علاوہ جدید سائنس کا مطالعہ کرنے میں شب و روز مسلسل مصروف رہنے لگے۔ بالآخر ان کی زندگی کا یہ مشکل ترین دوراپنے اختتام کو پہنچا او ر ثمر آور ہوا۔ نتیجتاً قرآن پاک کا پہلا منظوم انگریزی ترجمہ مکمل ہو کر امریکہ سے چھپا اور بعض ایسے مضامین کی سائنسی توضیح و تطبیق سامنےآئی جس پر اس سے پہلے قلم نہیں اٹھایا گیا تھا۔ حب الٰہی صادق ہو تو آزمائش ضرور لاتی ہے۔ استقامت سرخرو کرتی ہے اور مایوسی نامرادی کا باعث بنتی ہے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں