کومبنگ آپریشن درجنوں افراد گرفتار، اسلحہ برآمد

July 22, 2018
 

سکھرریجن کے تینوں اضلاع سکھر، گھوٹکی اور خیرپور میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور نیشنل ایکشن پلان پرعمل درآمد کو یقینی بنانے کیلئے پولیس کا کریک ڈائون شروع ہوگیا ہے۔ پولیس نے تینوں اضلاع میں 267 کومبنگ آپریشن کرکے 956 مقامات پر چھاپہ مار کارروائیاں کیں، جن میں 417 مشتبہ اور 243 جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے 16 کلاشنکوف رائفلیں، 225 ٹی ٹی پستول، 73 رائفل، 2ہینڈ گرنیڈ سمیت بھاری اسلحہ برآمد کرلیا گیا۔سکھر ریجن میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کو یقینی بنانے، ڈاکوئوں ودہشت گرد عناصر کے خلاف آپریشن تیز کرنے ، جرائم پیشہ ، اشتہاری اور روپوش ملزمان کی سو فیصد گرفتاری ، جرائم، منشیات، فحاشی، جوااورسماجی برائیوں کا قلع قمع کرنے کے لئے تینوں اضلاع میں پولیس کی متعدد ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو کامیابی کے ساتھ کارروائیاں کررہی ہیں۔

ڈی آئی جی سکھر رینج آزاد خان کی قیادت میں پولیس کی جانب سے بدنام زمانہ ڈاکوئوں اور جرائم پیشہ عناصرکے خلاف موثر کارروائی کے انتہائی مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں ۔سکھر، خیرپور اور گھوٹکی میں ماضی کے مقابلے میں جرائم کی شرح میں بے پناہ کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ ڈی آئی جی کی جانب سے تینوں اضلاع کے ایس ایس پیز کو سختی سے ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں کومبنگ آپریشن کو تیز کرکے نیشنل ایکشن پلان پر مکمل طور پر عمل درآمدکرائیں اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ سکھر رینج کی یکم جنوری 2018 سے لے کر 15 جولائی 2018 تک 7 ماہ کی جاری رپورٹ کے مطابق پولیس کی جانب سے مجموعی طور پر 956 کارروائیاں کی گئیں، سکھر میں 651، گھوٹکی میں 61، خیرپور میں 244 چھاپے مارے گئے جبکہ سکھر میں 179، خیرپور میں 88 اور مجموعی طور پر 267 کومبنگ آپریشن ہوئے، اس دوران 417 مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر ان سے پوچھ گچھ کی گئی جب کہ 243 جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ سکھر، خیرپور اور گھوٹکی اضلاع میں مجموعی طور پر 1191 اشتہاری اور 1611 روپوش ملزمان کو گرفتار کیاگیا جو کہ قتل، اغوا، ڈکیتی، پولیس مقابلے سمیت جرائم کی دیگر سنگین وارداتوں میں پولیس کو مطلوب تھے۔ گرفتار ہونے والےملزمان کے قبضے سے سکھر سے 4، گھوٹکی سے 5، خیرپور سے 7اور مجموعی طور پر 16کلاشنکوف، تینوں اضلاع میں 225 پستول اور سکھر، خیرپور اور گھوٹکی سے مجموعی طور پر 73رائفل جب کہ خیرپور سے گرفتار ہونے والے ملزمان کے قبضے سے 2ہینڈ گرنیڈ بھی برآمد ہوئے ہیں۔

پولیس کی جانب سے مختلف کارروائیوں کے دوران خیرپور اور گھوٹکی سے 2افغانی باشندوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جو کہ غیر قانونی طور پر ان علاقوں میں رہائش پذیر تھے۔ افغان باشندوں کے خلاف فارن ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرکے قانونی کارروائی کی گئی۔ جب کہ غیر قانونی طور پر اسلحہ رکھنے پر سکھر میں 47، گھوٹکی میں 81، خیرپور میں 174 مجموعی طور پر 302 مقدمات درج کرکے 297 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ۔ سکھررینج کے تینوں اضلاع میں ہوٹل، مسافر خانوں، گیسٹ ہائوسز اور ایسے مقامات جہاں پر بیرون شہر سے آنے والے لوگ ٹھہرتے ہیں، سال بھر کے دوران 6ہزار سے زائد مرتبہ چیکنگ کی گئی اور وہاں رہائش اختیار کرنے والوںکے کوائف جمع کئے گئے۔ قوانین پرعمل درآمد نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔ اعلیٰ حکام کی جانب سے سکھر، خیرپور اور گھوٹکی اضلاع کے پولیس افسران کو سختی سے ہدایات دی گئی ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بناتے ہوئے تمام اضلاع میں کارروائیاں تیز کریں، جرائم پیشہ اور سماج دشمن عناصرکے خلاف گھیرا تنگ کیا جائے، کسی کو بھی نیشنل ایکشن پلان کی خلاف ورزی کی ہر گز اجازت نہ دی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بروقت کارروائی عمل میں لائی جائے، فرائض میں غفلت کسی بھی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔پولیس کی جانب سے عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے موثر حکمت عملی کے انتہائی مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ سکھر رینج کے تینوں اضلاع کے تمام علاقوں میں جرائم کی وارداتوں میں بے پناہ کمی واقع ہوئی ہے۔

سکھر پولیس نے ڈاکوئوں ، جرائم پیشہ عناصر اورفحاشی، جوا ،منشیات ، ملاوٹ کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف کارروائیوں کے لئے متعدد ٹیمیں تشکیل دی ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر اپنے اپنےعلاقوں میں گشت کرتی ہیں تاکہ جہاں بھی اس طرح کا کوئی کام ہورہا ہو تو اس کے خلاف فوری کارروائی کو یقینی بنایا جائے ۔ تینوں اضلاع میں سادہ لباس پولیس اہل کاروںکی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو گلی محلوں کی خفیہ نگرانی کریں گی ، اس کا مقصد باہر سے آنے والے افراد پر نظر رکھنا ہے۔ تینوں اضلاع میں پولیس کی جانب سے کسی بھی وقت کسی بھی علاقے میں اچانک گاڑیوں کی چیکنگ کا عمل شروع کردیا جاتا ہے جس کا مقصد جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔ کچی آبادیوں سمیت ایسے مقامات جہاں باہر سے لوگ آکر ٹھہرتے ہیں، ان کی کڑی نگرانی کی جارہی ہے۔


مکمل خبر پڑھیں