پپیتا صحت کے لیے نقصان دہ بھی ہوسکتا ہے

July 23, 2018
 

پپیتاموسم گرما کا ایک نہایت مفید پھل ہے جس کا استعمال روزمرہ میں عام ہے، یہ خاص پھل کئی طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے، کچھ لوگ اسےسلاد کے طورپر استعمال کرتےہیں، کچھ کھانے کے بعدپپیتے کو کھانا پسند کرتے ہیں اورکچھ کو اس کا جوس بنا کر پیتے ہیں اس کے علاوہ اس کو پکا کر بھی استعمال کیا جاتا ہے جبکہ ہر طرح سے پپیتا کھانے کے بےشمار فوائد ہیں۔

کم کیلوری والے اس پھل کے جہاں ان گنت فائدےہیں وہیں اس کے کچھ نقصانات بھی ہیں جو پپیتے کے شوقین افراد کو معلوم ہونے چائیے۔ لیکن اس بات کا خیال رہے کہ پپیتے کے منفی اثرات کا اطلاق تمام افراد پر نہیں ہوتابلکہ یہ مختلف لوگوں کے لیے مختلف طرح سے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔

ضرورت سے زیادہ پپیتا کھانے کے چھ نقصانات:

حاملہ خواتین کے نقصان دہ: صحت کے لئے انتہائی مفید سمجھا جانے والا یہ پھل حاملہ خواتین کے لئےنقصان دہ ہوتا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق حاملہ خواتین کو پپیتے کا استعمال ہرگز نہیں کرنا چایئےکیونکہ یہ بچے کی نشونما کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور خاص کر سبز پپیتاحاملہ خواتین کے لیے زہر کی حیثیت رکھتا ہے۔

نظام ہاضمہ میں خرابی: پپیتے کا حد سے زیادہ استعمال ہاضمے کے نظام کو خراب کرتا ہے۔ دوسری جانب فائبر سے بھرپور پپیتا قبض کے شکار افراد کے لیے بے حد مفید ہے لیکن اس کا بہت زیادہ استعمال صحت مند افراد کو بدہضمی اور ہیضے کا مریض بناسکتا ہے۔ اس کے علاوہ پپیتے کے زیادہ استعمال سے پیٹ میں درد، گیس اور الٹی کی شکایت بھی ہوسکتی ہےاور ساتھ ہی بلڈ پریشر میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

ادویات کے ساتھ نقصان دہ: یو ایس نیشنل لائبریری آف میڈیسین کے مطابق جو لوگ ایسی ادویات کا استعمال کرتے ہیں جو خون پتلا کرتی ہیں انہیں پپیتا نہیں کھانا چاہئے کیونکہ اس سے خراش اور زیادہ خون بہنے کا خطرہ بڑھتا ہے۔

شوگر کی مقدارمیں بہت زیادہ کمی: پپیتا خون میں موجود شوگر کی مقدار میں کمی کرتا ہے۔ اس کا استعمال ان لوگوں کے لیے مفید ہے جو شوگر میں کمی لانا چاہتے ہیں لیکن پپیتاخون میں موجود شوگرکے لیول کو اچانک سے بہت زیادہ کم کر دیتا ہے جو کہ ذیابیطس کےمریضوں کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے۔ اسی لیے ڈاکٹرز شوگر کے مریض افراد جو ادوایات کا استعمال کر رہے ہوتے ہیں انہیں پپیتا کھانے سے منع کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ جن لوگوں کےخون میں پہلے ہی شوگر کی مقدار کم ہو وہ بلکل بھی اسے کھانے کی غلطی نہ کریں۔

الرجی کا خطرہ: پیتے کا زیادہ استعمال مختلف قسم کی الرجیز کا باعث بن سکتا ہے جن میں سوجن، سردرد، خارش اور کھجلی وغیرہ شامل ہے۔ اس کےعلاوہ پپیتے کے اوپری حصے میں لیٹکس نامی خشک مادہ پایاجاتا ہے جو الرجی میں مزید اضافہ کرتا ہے، اسی لیے وہ افراد جو پہلے ہی الرجی کے مرض میں مبتلا ہیں وہ پپیتا کھانے سے گریز کریں۔

سانس کی بیماری: حد سے زیادہ پپیتے کا استعمال سانس کی مختلف بیماریوں میں بھی مبتلا کرسکتا ہے جن میں دمہ، سینے پر دبائو، ناک کا بند ہونا اور خرخراہٹ کے ساتھ سانس لیناشامل ہے۔

یہ تمام بیماریاں پپیتے کے زیادہ استعمال سے ہوسکتی ہیں اسی لیے ماہرین صحت کی جانب سے پپیتا ضرورت سے زیادہ کھانے سے منع کیا گیا ہے۔ جو لوگ کسی بھی قسم بیماری میں مبتلا ہیں انہیں لازمی ڈاکٹر کے مشورے سے پپیتے کا استعمال کرنا چائیے۔


مکمل خبر پڑھیں