25 جولائی کو پانسہ پلٹ گیا تو…

July 24, 2018
 

مجھے یقین ہے میڈیا نہ صرف آزاد ہے بلکہ نہایت غیر جانبداری سے اپنے فرائض سرانجام دے رہا ہے ،سنسر شپ کی باتیں جھوٹی اور جبر ناروا کے دعوے سراسر غلط ہیں ۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی تقریر نشر نہ ہوتی تو یقین کے ذرات مُٹھی میں بند ریت کی مانند ہتھیلی سے پھسلنے لگتے ہیں ۔اسی طرح مجھے عدلیہ پر مکمل بھروسہ ہے، عدلیہ پر کسی قسم کے دبائو یا اثر انداز ہونے کی باتیں چاہے کوئی حاضر سروس جج ہی کیوں نہ کرے ،مجھے اپیل نہیں کرتیں ۔اور کیوں کریں ،انہی اداروں کے دم قدم سے تو ارض وطن میں خوشحالی ہے اور فوری انصاف کی فصل جس کے بیج چند برس قبل بوئے گئے ،نہ صرف چارسو لہلہا رہی ہے بلکہ برگ وبار لا رہی ہے ۔میں ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ جیسے سیاسی نعروں پر کان نہیں دھرتا اور نہ ہی اس بیانئے کو ٹھیک سمجھتا ہوں کہ محض نوازشریف اور اس کے ساتھیوں کا احتساب ہو رہا ہے ۔دانیال عزیز کو توہین عدالت کے مقدمے میں نااہل قرار دیدیا گیا،کیپٹن (ر) صفدر اور مریم نواز انتخابی دوڑ سے باہر ہو گئے ،انجینئر قمر الاسلام نیب کی تحویل میں ہیں ،انتخابات سے چار روز قبل شیخ رشید کے حریف حنیف عباسی کوایفی ڈرین کیس میں عمر قید دیکر اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا ۔ طلال چوہدری کے مقدمے کا فیصلہ محفوظ ہے ،عین ممکن ہے الیکشن سے ایک دن پہلے یہ فیصلہ آجائے اور ایک مزید وکٹ گر جائے۔ لیکن ایسے فیصلوں سے میرا عدلیہ پر ایمان متزلزل نہیں ہوتا ۔ سچ تو یہی ہے کہ نتائج کی پروا کئے بغیر عدل و انصاف کیا جائے خواہ اس کے نتیجے میں آسمان ٹوٹ پڑے یا پھر زمین میں بھونچال آجائے ۔یہی وجہ ہے کہ جب اسحاق ڈار کے ریڈ وارنٹ جاری ہوتے ہیں تو میں عدلیہ کی آزادی کے گیت پہلے سے کہیں زیادہ زور و شور سے گانے لگتا ہوں لیکن جب مجھے معلوم ہوتا ہے کہ پرویز مشرف نامی اشتہاری عیش و عشرت سے جی رہا ہے تو عدلیہ کی آزادی کی باتیں حلق میں ہی پھنس جاتی ہیں۔ ابھی اس صورتحال سے نکلنے کی کوشش کر ہی رہا ہوتا ہوں کہ معلوم ہوتا ہے کہ نقیب اللہ سمیت کئی بے گناہ نوجوانوں کو جعلی پولیس مقابلوں میں قتل کرنیوالا سابق ایس ایس پی ملیر رائو انوار جو پہلے ہی اپنے گھر میں برائے نام قید تھا ،تمام مقدمات میں ضمانت منظور کرنے کے بعد رہا کر دیا گیا ہے ۔یہ خبر اب تک کی تمام خوش گمانیوں کو ہڑپ کر جاتی ہے ۔ابھی اس ناگفتہ بہ صورتحال سے نکل نہیں پاتا کہ ایک اور خبر بجلیاں گرادیتی ہے کہ پنجاب کے رائو انوار یعنی عابد باکسر کے اچانک عدالت پیش ہونے کے بعدانکی ضمانت منظور کر لی گئی ہے۔یہ صاحب تو انٹر پول کے ذریعے گرفتار کرکے پاکستان لائے گئے تھے تو کب اور کیسے قانون کی تحویل سے نکلے اور عدالت میں پیش ہو کر ضمانت کروانے میں کامیاب ہو گئے ؟یقیناً آپ سب بھی میری طرح عدلیہ کی آزادی پر یقین رکھتے ہوں گے بس یہ اڑچن دور فرمادیں کہ عدالتیں عدل کر رہی ہیں تو پھر عابد باکسر اور رائو انوار جیسے لوگ آزاد کیوں پھر رہے ہیں ؟
حالات پر کڑی نظر رکھنے اور حقائق کو جانچنے کا تجربہ رکھنے والے دانشور متنبہ کر رہے ہیں کہ 25؍جولائی کو ملکی تاریخ کے سب سے متنازع انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور ان انتخابات میں دھاندلی کا شور بھی مچایا جا رہا ہے ۔لیکن نہ جانے کیوں مجھے یوں لگتا ہے جیسے یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے شفاف اور آزاد الیکشن ہو گا شفافیت کا بنیادی ثبوت تو یہ ہے کہ مستقبل کے وزیراعظم اور حکمراں جماعت کا اعلان پہلے سے ہی کر دیا گیا ہے کیا ماضی میں کبھی ایسا ہوا ؟اور پھر دھاندلی تو وہاں ہوتی ہے جہاں ایک سے زائد امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہوں ،یہاں تو چارسو تبدیلی کے علمبردار ہی دکھائی دیتے ہیں ،جہاں کہیں دھاندلی کے امکانات تھے وہاں امیدواروں کو انتخابی دوڑ سے باہر کر دیا گیا ہے۔ویسے اگر جھنڈے ،پوسٹر ،بینر اور ہورڈنگز ووٹ ڈال سکتے تو تحریک انصاف لاہور اور اسلام آباد سے کلین سویپ کرتی کیونکہ کوئی مقابل نہیں دور تک بلکہ بہت دور تک جب فیصل آباد ،جھنگ ،سیالکوٹ ،جہلم اور پھر ملتان میں ہونے والے کپتان کے جلسے ناکام ہوئے اور شرکاء کی تعداد حیرت انگیز طور پر گھٹ گئی تو مجھے لگا کہیں پھر سے جھرلو نہ پھیر دیا جائے ،میری طرح نئے پاکستان کے متوقع پہلے وزیراعظم عمران خان نے بھی ان خدشات کا اظہار یوں کیا کہ ’’انتخابات سے متعلق اچھی خبریں نہیں آرہیں ‘‘اور پھر ایک انٹرویو میں انہوں نے جب یہ کہا کہ معلق پارلیمان کا وجود میں آنا بدقسمتی ہوگی تو مجھے لگا جیسے وہ ان انتخابات کو مزیدصاف اور شفاف بنانے کی اپیل کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ جہاں آپ نے نیا پاکستان بنانے کے لئے اتنی تگ و دو کی ہے وہاں تھوڑا سا تعاون مزید کریں اور دو تہائی اکثریت دلوا دیں۔
محض ایک دن بعد الیکشن ہے اور بدھ رات گئے آنے والے ابتدائی نتائج سے صورتحال واضح ہو چکی ہوگی لہٰذا فی الوقت کسی قسم کی پیش گوئی کرنا بیکار ہے۔ اس لئے میں تو 1997ء میں ریلیز ہونیوالی بھارتی فلم ’’غلام ِ مصطفیٰ ‘‘ دیکھ رہا ہوں جس میں ناناپاٹیکر نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔اگرچہ ہمارے ہاں بلوچستان میں نمودار ہونے والی نوزائیدہ سیاسی جماعت کا نام ’’باپ‘‘(بلوچستان عوامی پارٹی ) ہے لیکن اس فلم میں’’باپ‘‘ کے بجائے ’’ابا‘‘ نام کا ایک کردار ہے جو پاریش راول نے ادا کیا پاریش راول کو اس فلم میں سیاستداںکا کردار اس قدر پسند آیا کہ انہوںنے حقیقی زندگی میں بھی راج نیتی میں آنے کا فیصلہ کر لیا اور ان دنوں بے جے پی کے ٹکٹ پر بھارتی پارلیمنٹ کے رُکن ہیں۔ بہر حال اس فلم میں بتایا گیا ہے کہ ہمارے ہاں انتخابات کیسے جیتے جاتے ہیں ناناپاٹیکر کا کردار وہی ہے جو داداگیری سے الیکشن جتوانے والوں کا ہوتا ہے ۔’’ابا‘‘ کو الیکشن جتوانے کیلئے غلام مصطفیٰ پولنگ اسٹیشن جاتا ہے تو وہاں موجود اسکے لوگ بتاتے ہیں کہ مخالفین ووٹروں کو ڈرادھمکا رہے ہیں ۔غلام ِ مصطفیٰ کہتا ہے واپس جائو اسی پبلک کو ڈرائو دھمکائو ،اکسائو بولو ،رام پرساد چوہدری کو ہی ووٹ دینا ورنہ کاٹ ڈالیں گے ۔کارندے حیران ہو کر کہتے ہیں ’’مصطفیٰ بھائی ،مگر ہمارا امیدوار تو ڈاکٹر سریش ہے ۔غلام مصطفیٰ اس چھوکرے کے گال پر ہلکا سا چپت رسید کرکے کہتا ہے ،جو کہا ہے وہ کرو ۔یہ منطق ’’ابا‘‘ کو بھی سمجھ نہیں آتی مگر غلام مصطفی ٰکہتا ہے،آپ آم کھائیں پیڑ نہ گنیں۔ مجھے اپنے طریقے سے کام کرنے دیں۔ اس ڈرانے دھمکانے کا الٹا اثر ہوتا ہے لوگ رام پرساد چوہدری سے متنفر ہو جاتے ہیں اور اندر جا کر ڈاکٹر سریش کو ووٹ ڈالتے ہیں اوریوں بازی پلٹ جاتی ہے۔ اسی فلم کے ایک منظر میں جب غلام مصطفیٰ الیکشن کے دن گھر سے روانہ ہونے لگتا ہے تو اس کا جگری یار سوداما کہتا ہے ’’مصطفیٰ بھائی!مجھے آندھی آنے کی آہٹ سنائی دے رہی ہے‘‘
مصطفی ٰکہتا ہے :’’آندھی نہیں آئے گی سوداما،ہاں تھوڑی ہوا ضرور تیز ہو گی ،کچھ دھول اڑے گی ،کچھ سوکھے پتے گریں گے ،بکھریں گے ادھر اُدھر مگر جو پیڑ مضبوط ہے اسے اکھاڑ پھینکنے کی طاقت نہیں ہو گی اس ہوا میں ‘‘سوچتا ہوں اس فلم کی طرح 25جولائی کو بھی پانسہ پلٹ گیا اور مضبوط پیڑ نہ اکھاڑے جا سکے تو …؟
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں