تاریخ کا ناتمام ایجنڈا

July 25, 2018
 

بہت سے سیاسی اور غیر سیاسی عوامل کے امتزاج کی وجہ سے حالیہ الیکشن کے بارے میں پیشگوئی کرنا کافی مشکل کام ہو گیاہے۔ لیکن اس الیکشن کے شور و غوغا میں بلاول بھٹو زرداری کے پنجاب میں غیر متوقع طور پر کامیاب جلسوں نے ہر کسی کو حیران کردیا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ الیکشن کے اس آخری مرحلے پر بلاول بھٹو زرداری کے بے مثال استقبالیوں سے انتخابی نتائج پر شاید اثر نہ ہو لیکن ایک بات واضح ہے کہ جو خلا پاکستان پیپلز پارٹی کے غیر مقبول ہونے سے پنجاب میں پیدا ہوا تھا ، اس کو کوئی پر نہیں کر سکا۔ پچھلے الیکشن میں پیپلز پارٹی کے ووٹ کا غالب حصہ پاکستان تحریک انصاف کی طرف مائل ہو گیا تھا لیکن اب یہ لگتا ہے کہ وہی ووٹر عمران خان کی سیاست سے مایوس ہو کر کسی دوسری جانب جانے کے لئے بیتاب تھا اور بلاول بھٹو زرداری نے وہ متبادل فراہم کرنے کا عندیہ دے دیا۔ یہ کہنا بہت ہی قبل از وقت ہوگا کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں اپنی پرانی حیثیت بحال کر سکتی ہے یا نہیں، لیکن یہ بات وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ اگر پنجاب کی سیاست کے مرکزی دھارے میں یہی پارٹیاں غالب رہیں اور بلاول بھٹو زرداری روشن خیال اور منصفانہ مستقبل کی علامت بنتے گئے تو پیپلز پارٹی کی واپسی ممکن ہے۔
میرے پچھلے کالم کے بارے میں ایک نہایت عزیز اور ماضی میں سیاسی طور پر رہنے والے ہمرکاب دوست نے یہ نکتہ اٹھایا کہ میرا پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ ایک پرانا رومانس ہے جس کی وجہ سے میں ستر کی دہائی کی تاریخ کو معروضی انداز میں پیش نہیں کر پاتا۔ میرا اپنا یہ خیال ہے کہ میرا پیپلز پارٹی کے ساتھ نہیں بلکہ عوام کے ساتھ ایک رومانس ضرور رہا ہے اور اسی جذبے کے تحت میں نے 1970کے الیکشنوں میں پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم میں حصہ لیا تھا۔ میں اپنے اس عمل کے دفاع میں کہہ سکتا ہوں کہ قطع نظر پیپلز پارٹی کی قیادت کے، پنجاب میں ایک انقلابی صورت حال پیدا ہو چکی تھی جس کے نتیجے میں جاگیرداری سیاست کی تمام بنیادیں اکھڑ رہی تھیں۔جاگیرداری سیاست میں مقامی شخصیتیں (جن کو آجکل الیکٹیبلز کہا جاتا ہے)، ذات، برادری، مذہب اور علاقائی وابستگی بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ میں ذمہ داری کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہوں کہ 1970ے الیکشنوں میں وسطی پنجاب میں جاگیرداری سیاست کی تمام مذکورہ بنیادیں خس و خاشاک ہو گئی تھیں۔ اور ویسے بھی ہم عوامی جذبات سے ہم آہنگی کی کیسے نفی کر سکتے ہیں؟ اگر عوامی جذبات کو رد کرکے دوسرے مصنوعی پیمانے بنانے کی کوشش کی جائے تو نتیجہ وہی نکلتا ہے جو مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کے بھاری مینڈیٹ کو رد کرکے نکلا تھا۔ اس وقت بھی میرے جیسے کچھ لوگوں نے مشرقی بنگال کے مسلمانوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرتے ہوئے فوجی کارروائی کی مخالفت کی تھی۔ لہذا میری گزارش ہے کہ میری پاکستان اور ساری دنیا کے عوام کے ساتھ جذباتی وابستگی ہے جسے ہمارے دوست رومانس کہتے ہیں۔
میرے اکثر ہم فکر لوگوں پر یہ واضح تھا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کی ساخت ایسی ہے کہ وہ عوامی انقلاب کو منطقی انجام تک پہنچا نہیں سکتی۔ اسی لئے بائیں بازو کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی۔ بائیں بازو کے گروپوں میں مزدور کسان پارٹی نے اپنی بنیادیں کافی مضبوط کر لی تھیں لیکن 1976کے زمانے سے بائیں بازو کی سیاست زوال پذیر ہو گئی اور وہ پیپلز پارٹی کا متبادل نہ بن سکی۔ خود پیپلز پارٹی کے اندر رد انقلاب کا عمل شروع ہو چکا تھا جس کے نتیجے میں مذہبی قوانین متعارف کروانے کے ساتھ ساتھ 1970کے انتخابات میں رد کئے گئے طبقوں کو واپس لایا گیا اور پارٹی کی انقلابی جہت معدوم ہونے لگی۔ اگرچہ 1977کے انتخابات میں بھی پیپلز پارٹی سب سے زیادہ مقبول تھی لیکن ضیا الحق نے مارشل لالگا کر عوام کی انقلابی حس کو دفن کرنے کی ہر کوشش کی اور ایک نیا الیکٹیبلز کا گروہ پیدا کیاجو پیسے اور روایتی ہتھکنڈوں سے حکمرانی کرنے کا ماڈل لے کر سامنے آیا۔
اسی دوران علاقے کے کچھ دوسرے ملکوں (چین اور ہندوستان) کی طرح پاکستان میں بھی صنعتی اور تجارتی تبدیلیاں تیزی سے آنا شروع ہوئیں۔ مشینی کاشت اور عوام کی شہروں کی طرف نقل مکانی جیسے عوامل کی وجہ سے پاکستان (بالخصوص پنجاب) کا روایتی معاشرہ تیزی سے تبدیل ہونے لگا جس کے نتیجے میں فرد کی آزادی کا تصور بھی بدلا لیکن اس کے ردعمل میں مذہبی اور فرقہ وارانہ سیاست نے بھی طوفانی شکل اختیار کر لی۔ اس بدلتے ہوئے معاشی اور سماجی پس منظر میں ایک جدید ریاستی ڈھانچے کا وجود میں آنا لازم تھا لیکن وہ گونا گوں وجوہات کی بنا پر ممکن نہ ہو سکا۔ ریاست کے جہادی کلچرکو فروغ دینے کے علاوہ سیاسی پارٹیاں بھی دولت اور روایت کی آمیزش سے اپنا کام چلاتی رہیں۔ پیپلز پارٹی نے بھی مسلم لیگ (ن) کا سیاسی ماڈل اپناتے ہوئے اپنے اصلی ایجنڈے کو فراموش کردیا۔ علاوہ ازیں پیپلز پارٹی نے اپنے مختلف ادوار میں بری گورننس کا مظاہرہ کیا۔ اس کے الٹ مسلم لیگ (ن) نے نئے ترقیاتی ایجنڈے پر کام کیا جسکے نتیجے میں اس نے پنجاب میں پیپلز پارٹی کا صفایا کردیا۔
مسلم لیگ (ن) سماجی سطح پر روایتی اور پچھڑی ہوئی سوچ کے سیاست دانوں کا اتحاد تھا جو ریاست کے جدید تقاضوں کی تکمیل میں ناکام رہی۔ اگرچہ مسلم لیگ (ن) اکثریتی پارٹی کے طور پر ابھر کر سامنے آئی لیکن وہ 1970 جیسے عوامی ایجنڈے کی کبھی بھی علمبردار نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ باوجود تمام تر خامیوں کے پیپلز پارٹی بہت مدت تک پنجاب میں ایک بھرپور سیاسی طاقت کے طور پر موجود رہی۔ یہ صورت حال 2013 کے انتخابات میں تبدیل ہوئی جب پیپلز پارٹی کے ووٹر نے عمران خان کی تحریک انصاف کے ساتھ اپنی امیدیں وابستہ کر لیں۔ لیکن عمران خان کی رجعتی پالیسیوں نے عوام کو مایوس کر دیا۔ مزید برآں مسلم لیگ (ن) کا مزاحمتی بیانیہ بھی محدود ہے: وہ بھی عوام کی اس طرح کی امنگوں کا اظہار نہیں کرتی جس کا ماضی کی پیپلز پارٹی مظہر تھی۔ اس لئے عوام کے نا تمام ایجنڈے کو پورا کرنے والوں کے لئے لا محدود امکانات ہیں جن سے بلاول بھٹو زرداری بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں