اداروں کا وقار اور سیاست

July 25, 2018
 

میں بھی ان کروڑوں پاکستانیوں میں سے ہوں جو اپنے ملک کی حفاظت کرنے پر مامور اپنی پاک افواج پر فخر کرتے ہیں ۔ میں نے اپنی کئی کالم پاک فوج کے ان گمنام شہزادوں کے نذر کئے جن کی لازوال قربانیوں کے حوالے سے کوئی نہیں جانتا تھا ہمیشہ کوشش کی کہ اپنی قوم کے ان ہیروز کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے جتنا بھی ممکن ہوسکے اپنی خدمات پیش کرسکوں ، آج بھی ان دنوں کو یاد کرتا ہوں جب کالج کے زمانے میں این سی سی یعنی نیشنل کیڈٹ کور کی بیس روزہ تربیت حاصل کرنا لازمی ہوا کرتا تھا اور کامیاب تربیت حاصل کرنے والے طالب علموں کو امتحانات میں بیس نمبر اضافی دیئے جاتے تھے ،میرے لئے وہ بیس دن زندگی کے سنہرے دنوں میں سے ہیں جب میں خود کو اصلی فوجی ہی سمجھا کرتا تھا ، کلف لگا یونیفارم زیب تن کرکے بہترین قسم کے فوجی بوٹ اور سر پر کیپ لگائے صبح سویرے پریڈ میں پہنچا کرتے اور دن بھر پوری دلجمعی کے ساتھ تربیت حاصل کرتااور پھر ایک روز حوالدار صاحب جو کہ ہمارے کالج کی تربیت پر مامور تھے ان کو ہماری محنت پسند آئی انھوں نے ہمیں بیج لگا کر پلاٹون کمانڈر بنادیا جس کے بعد فخر سے ہمارے کالر بھی کھڑے رہا کرتے تھے ،کالج سے گھر واپسی تک لوگ بھی محبت اور حسرت اور رشک بھری نگاہوں سے دیکھا کرتے تو دل اور بڑا ہوجاتا جبکہ اسکول سے چھٹی کرکے گھر جانے والے بچے بھی روک روک کر ہاتھ ملاتے اور اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے سیلوٹ کیا کرتے ۔ اس وقت زندگی کا صرف ایک ہی مقصد تھا کہ کسی بھی طرح پاک فوج میں کمیشن حاصل کرنا ہے تاکہ ملک و قوم کے دفاع کے لئے خون کا آخری قطرہ تک بہانے کا موقع مل سکے ۔ اس مقصد کے لئے اپنی پوری جانفشانی سے کوشش بھی کی لیکن اللہ تعالیٰ کو کچھ اور منظور تھا کہ فوج میں کمیشن کے حصول کے لئے کئی بنیادی امتحانات پاس کرنے کے بعدجب میڈیکل ہوا تو معلوم ہوا کہ نظر کی کمزوری کے سبب یہ ممکن نہیں ہے۔ بہت دل آزاری ہوئی لیکن وقت نے زخم بھر دیا ۔ پھر فوج کے ماہنامے ہلال میں لکھنے کا موقع ملا وہ بھی ایک اعزاز سے کم نہیں ہے وقت آگے بڑھتا رہا ۔ملکوں کے درمیان جنگیں اب سوشل میڈیا اور میڈیا کی جنگوںمیں تبدیل ہوگئی ہیں اب دشمن فوج کو شکست دینے کے بجائے افواج کو اپنی عوام کی نظروں سے گرانے کے لئے سوشل میڈیا پر جنگ کرتے نظر آتے ہیں ،جھوٹی افواہیں اس طرح پھیلائی جاتی ہیں کہ سچ لگنے لگیں ، چھوٹی چھوٹی باتوں پر بڑی بڑی رپورٹیں تیار کی جاتی ہیں اور انھیں سوشل میڈیا پر وائر ل کرایا جاتا ہے اور یہ کام یقین جانیے بہت کم قیمت میں کیا جاتا ہے ایک میزائل کسی ملک یا قوم کو اتنا نقصان نہیں پہنچا سکتا جتنا ایک جھوٹی خبر اور رپورٹ کو وائرل کرکے پہنچایا جاسکتا ہے ۔اس وقت صورتحال کچھ ایسی ہی ہے کہ دشمن ہمارے اپنوں کے ساتھ مل کر ہمارے قومی اداروں کے خلاف خطرناک سوشل میڈیا جنگ کررہا ہے وہ بیس کروڑ عوام جو اپنے اداروں سے دل و جان سے محبت کرتے ہیں جو اپنے خون کاآخری قطرہ تک بہادینے کے لئے تیار رہتے ہیں ان معصوم لوگوں کو پہلے تو سستے موبائل کی لت ڈالی جاتی ہے ،انٹرنیٹ دنیا میں سب سے سستا پاکستان میں دستیاب ہے اور پھر ان تک ان موبائل فونز کے ذریعے غلط معلومات پہنچانے کا کام بھی اپنوں کو ہی دیا جارہا ہے ، ان سب کی روک تھام بہت ضروری ہے جس کے لئے ایک جامع اور مربوط لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔
اس کا نام شیخ قیصر محمود جاپان والا تھا ،جاپان میں مقیم پاکستان کی کامیاب ترین کاروباری شخصیات میں شامل ہونے کے باوجود اس کا دھیان ہمیشہ ہی پاکستانی سیاست میں رہا ۔گھر میں والدین کی اکلوتی اولاد ہونے کے باعث اپنی زیادہ تر دولت بھی سیاست اور سیاستدانوں پر نچھاور کی ۔میاں نواز شریف نے جب بھی آواز دی ہمیشہ ہی لبیک کہا ۔کروڑوں روپے نقد پارٹی فنڈ میں دیئے ۔مارشل لا کے دنوں میں کئی سال تک پارٹی کے تمام اخراجات بھی اٹھائے ۔لاہور میں اوورسیز کمپلیکس کی تعمیر کی ذمہ داری بھی اٹھائی ۔پاکستان میں سیلاب اور زلزلے پر بھی کروڑوں روپے جاپان سے جمع کرکے پاکستان بھجوائے ۔عدلیہ کی بحالی میں بھی کفن پہن کر پاکستان پہنچا ، اور پھر ایک دن اس کے قائد کو اس کی قربانیاں پسند بھی آگئیں اور اسے دو ہزار تیرہ کے انتخابات کے لئے اپنے حلقے چنیوٹ میں قومی اسمبلی کے میدان کے لئے تیاری کا حکم بھی ملا ، جس کے بعد اس نے جاپان میںاپنا تمام کاروبار اپنی ناتجربہ کار جاپانی اہلیہ کے سپر د کیا اور اپنے حلقے کے لوگوں کی حالت بدلنے کے لئے جاپان سے چنیوٹ شفٹ ہوگیا اور تین سال تک دن رات محنت کی اور لوگوں کو اپنی محنت سے متاثر بھی کیا ، پھر 2013کے انتخابات کا دور آیا ٹکٹوں کی بندر بانٹ شروع ہوئی اور پھر معلوم ہوا کہ پاکستان کے چوٹی کے صنعتکاروں کی سفارش کی بدولت ایک دوسرے شخص کو چنیوٹ سے الیکشن کا ٹکٹ دے دیا گیا ہے اور اسے دو میٹھے بول، بول کر خاموش رہنے اور صبر کرنے کو کہا گیا تھا۔ لیکن اپنے حلقے کے لوگوں کے ساتھ مساجد میں ساتھ نہ چھوڑنے کی قسموں اور وعدوں نے اسے انتخابات آزادانہ طور پر لڑنے پر مجبور کردیا اور اس عہد کے ساتھ کہ الیکشن جیت کر بھی سیٹ اپنے قائد کے قدموں پر نچھاور کردے گا اس نے الیکشن لڑا اور بائیس ہزاور ووٹ لیکر شکست سے دوچار ہوا ،لیکن ان بائیس ہزار ووٹوں نے چنیوٹ شہر میںاسے ایک شناخت بخش دی ۔ لوگ اسے جاننے لگے تھے جبکہ مخالفین بھی خوف زدہ ہوگئے تھے ۔ تو2018میں واپس وہ اپنی جماعت سے الیکشن کا ٹکٹ لینے پہنچا اور ایک بارپھر چوٹی کے سرمایہ کار اس کی حمایت کے لئے موجود تھے۔ ایک دفعہ پھر دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات کے لئے انٹر ویو ہوا اور شیخ قیصر محمود جاپان والا اس دفعہ بھی پارٹی کے لئے اپنی وفاداری ثابت کرنے میں ناکام رہا ۔ لیکن اس دفعہ پچھلے انتخابات کی طرح اس بار اس کا دل اتنا نہیں ٹوٹا تھا کیونکہ ایک دہائی سے عملی سیاست میں شامل ہونے کے بعد اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ سیاست انتہائی سنگدلوں کا کھیل ہے اور یہ وہ جوا ہے جس میں ہار کے امکانات ہمیشہ ہی زیادہ ہوتے ہیں تاہم اس دفعہ حالات مختلف ہیں لیکن آج بھی شیخ قیصر محمود اپنے آپ کو میاں نواز شریف کا جیالا ہی تصور کرتا ہے اور اپنی جیت کی صورت میں یہ کرسی میاں صاحب کی جھولی میں رکھنے کی خواہش رکھتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے والا شیخ قیصر محمود جاپان والا اور ن لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والا قیصر احمد شیخ پارٹی کے ووٹ تقسیم کرکے پاکستان تحریک انصاف کی جیت کی راہ ہموار کرتے ہیں یا میاں نواز شریف کے ٹکٹ والے امیدوار کو فتح نصیب ہوتی ہے یا آزاد حیثیت میں میاں نواز شریف کے چاہنے والے کے مقدر میں فتح لکھی جاتی ہے اب صرف ایک دن کی بات ہے آپ بھی دیکھیں ہم بھی دیکھتے ہیں۔


مکمل خبر پڑھیں