’’ای اسپورٹس‘‘ دلچسپی سے بھر پور، اُبھرتی ہوئی صنعت

July 27, 2018
 

اسپورٹس کی ایک نئی دُنیا آباد ہوچکی ہے، جس کا کاروباری حجم جلد ہی ایک ارب ڈالر کا سنگِ میل عبور کرجائے گا جبکہ اس کے شائقین کی تعداد 30کروڑ سے تجاوز کرجائے گی۔ تاہم حیران کُن طور پر اس میں ناتو گیندبلّےاور ناہی اسٹیڈیم اور گھاس کی پِچ کا کوئی کردار ہے۔

ہم آپ کو ای اسپورٹس کی دُنیا میں خوش آمدید کہتے ہیں۔

ای اسپورٹس کیا ہے؟

ای اسپورٹس یعنی الیکٹرانک اسپورٹس، پروفیشنل کمپی ٹیٹیو گیمنگ (Professional Competitive Gaming)کے لیے استعمال کیا جانے والا مختصر لفظ ہے۔ اس اسپورٹس میں، فریقین ویڈیو گیمز کھیلتے ہیں اور ان گیمز کو کروڑوں شائقین براہِ راست دیکھتے ہیں۔

ای اسپورٹس کے ایک بڑے ٹورنامنٹ، لیگ آف لیجنڈز ورلڈ چیمپئن شپ 2016ء کے فائنل کو 4کروڑ 30 لاکھ شائقین نے براہِراست دیکھا تھا۔ لیگ آف لیجنڈز،ایک فاسٹ پیس اسٹریٹجی گیم ہے۔ یہ ای اسپورٹس کی ایک شہرت یافتہ گیم ہے، جس کا فائنل کھیلنے والے 10لاکھ ڈالر کا انعام جیتنے کے لیے ایک دوسرے کو مات دینے کے درپے ہوتے ہیں۔ اگر انعامی رقم، اسپانسرشپ اور کھیلنے کی فیس کو یکجا کیا جائے تو گیم کھیلنے والےایک ٹورنامنٹ سے ڈھائی کروڑ ڈالر کمالیتے ہیں۔ آپ کو یہ بات بتانا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگاکہ ایک 25سالہ جرمن نوجوان گیمر Kuro Takhasomi، ای اسپورٹس سے اب تک 37لاکھ ڈالر کما چکا ہے۔ وہ پروفیشنل Dota 2گیمر ہے، جو ’ٹیم لیکوئیڈ‘ کے لیے کھیلتا ہے۔

شائقین کی بڑھتی تعداد

شائقین، ان گیمز کو یو ٹیوب کے گیمنگ چینل یا گیمنگ کے لیے مخصوص چینلTwitch پر دیکھتے ہیں۔ 2018ءکی پہلی سہ ماہی میں، ای اسپورٹس شائقین نے ان چینلز پر اپنے گیمنگ ہیروز کو کھیلتے ہوئے دیکھنے میں 1کروڑ 79لاکھ گھنٹے خرچ کیے۔ای اسپورٹس کی تین مقبول ترین گیم ’ڈوٹا 2‘، ’لیگ آف لیجنڈز‘ اور اس کے بعد ’کاؤنٹر اسٹرائیک: گلوبل آفینسِو‘ ہیں۔ اس سال ای اسپورٹس کے عالمی شائقین کی تعداد بڑھ کر 38کروڑ تک پہنچنے کی توقع ہے، جن میں16کروڑ 50لاکھ سرگرم اور 21کروڑ 50لاکھ اتفاقیہ شائقین ہونگے۔

حاصل شدہ آمدنی

2018ءمیں عالمی ای اسپورٹس صنعت کی آمدنی 90کروڑ 50لاکھ ڈالر رہنے کی توقع ہے جبکہ آئندہ 2سال میں یہ آمدنی ایک ارب ڈالر سے تجاوز کرجائے گی۔ اس میں سے 50فیصد آمدنی چین اور شمالی امریکا سے حاصل ہوگی۔

مختلف کیا ہے؟

روایتی کھیلوں کی طرح، ای اسپورٹس کے بھی اپنے پروفیشنل کھلاڑی، کمنٹیٹرز اور سیلیبرٹیز ہیں۔ ای اسپورٹس میں دی جانے والی انعامی رقم کا کسی بھی روایتی کھیل سے مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ امریکا کی نیشنل باسکٹبال ایسوسی ایشن کی مجموعی انعامی رقم 1کروڑ 30لاکھ ڈالر، گالف ماسٹرز کی 1کروڑ 1لاکھ ڈالراور کنفیڈریشنز کپ کی مجموعی انعامی رقم 2کروڑ ڈالر ہے جبکہ ای اسپورٹس کی مجموعی انعامی رقم 2کروڑ 47لاکھ ڈالر کے ساتھ، ان سب سے زیادہ ہے۔ درحقیقت، فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کا بھی اپنا ای ورلڈکپ ہوتا ہے۔ 2018ء کا فیفا ای ورلڈ کپ گرینڈ فائنل، لندن میں O2کے مقام پر 2سے 4اگست تک منعقد ہوگا، جس میں فیفا18ایکس باکس اور پلے اسٹیشن کے 32بہترین گیمرز کے درمیان ’فیفا ای ورلڈکپ چیمپئن‘ کا ٹائٹل جیتنے کے لیے مقابلہ ہوگا۔

ای اسپورٹس اس قدر مقبولیت حاصل کرچکی ہے کہ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی بھی اسے سمجھنے کی کوشش کررہی ہے۔ اسی سلسلے میں، انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی اور گلوبل ایسوسی ایشن آف اسپورٹس فیڈریشنز ، مشترکہ طور پر اولمپک میوزیم، فرانس میں ای اسپورٹس فورم کا انعقادکررہی ہیں۔ مشترکہ اعلامیے میں ای اسپورٹس فورم کے انعقاد کے مقاصد پر کچھ اس طرح روشنی ڈالی گئی ہے: ’فورم کے انعقاد کا مقصد باہمی دلچسپی کے پہلو اور ان میں مطابقت پیدا کرنا اور مستقبل میں اولمپکس اور ای اسپورٹس کے درمیان روابط بڑھانے کے لیے پلیٹ فارم قائم کرنا ہے‘۔

صرف اولمپکس ہی واحد ایسوسی ایشن نہیں، جو ای اسپورٹس کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ امریکی حکومت نے لیگ آف لیجنڈز کے کُل وقتی گیمرز کو پروفیشنل ایتھلیٹ تسلیم کرلیا ہے۔ تاہم ناقدین، گیمنگ کو حقیقی کھیل قرار دینے کی سوچ پر ہنستے ہیں۔ان کا مؤقف ہے کہ ای اسپورٹس کے گیمرز، کئی گھنٹوں تک اپنی کرسیوں پر اسکرین کے سامنے چمٹے رہتے ہیں اور ان کی یہ پھرتی و مہارت صرف ان کے ہاتھوں تک ہی محدود ہے۔ تاہم ای اسپورٹس کے حامی اس مفروضے کو رَد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ای اسپورٹس کھیلنے کے لیے انتہائی محنت، پریکٹس، مہارت اور واضح لائحہ عمل تشکیل دینے کی ضرورت پڑتی ہے۔

وہ کسی بھی روایتی کھیل کھیلنے والے کھلاڑیوں کی طرح روزانہ گھنٹوں پریکٹس کرتے ہیں، جسمانی تھکاوٹ کو صرف روایتی کھیل کے ساتھ منسوب نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ڈارٹس اور اسنوکر کے کھلاڑیوں کو بھی زیادہ جسمانی مشقت نہیں کرنا پڑتی اور وہ بھی اپنی جگہ سے بہت کم ہِلتے ہیں۔ یقیناً یہ ایک اہم نقطہ ہے،ایک ایسی انڈسٹری جس کی مالیت2020ءتک 1.4ارب ڈالرہوجائے گی، اسے ناقدین سے منظوری لینے کی ضرورت نہیں۔


مکمل خبر پڑھیں