پاکستانی نوجوانوں کی امید!

July 30, 2018
 

25 جولائی 2018ءکے عام انتخابات میرے خیال میں پاکستان کیلئے ایک اور ’’ ٹرننگ پوائنٹ ‘‘ ( نیا موڑ ) ثابت ہوں گے ۔ اس خطے کی تاریخ میں ایک ٹرننگ پوائنٹ اس وقت آیا ، جب 1947ء میں ووٹ کے ذریعے برصغیر میں پاکستان کے نام سے ایک نئی ریاست وجوود میں آئی ۔ ووٹ سے قائم ہونیوالی اس ریاست میں جمہوریت کو پنپنے نہیں دیا گیا اور مطلق العنانیت اور آمریت کو پروان چڑھایا گیا ، جس کے نتیجے میں لوگوں میں گھٹن اور احساس محرومی نے جنم لیا ۔ دوسرا ٹرننگ پوائنٹ بھی ووٹ کی وجہ سے آیا ، جب 1970 ء کے عام انتخابات کا انعقاد ہوا ۔ انتخابی نتائج کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے مشرقی پاکستان الگ ہوا اور باقی ماندہ پاکستان میں جمہوریت کی بقاء کی جدوجہد شروع ہوئی ۔ پاکستان پیپلز پارٹی مضبوط سیاسی جماعت بن کر ابھری اور اسکے بانی قائد ذوالفقار علی بھٹو عوام کی امنگوں کے ترجمان بن کر پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر چھاگئے یہی سے بھٹو کی سیاست کا عہد شروع ہوا ۔ بھٹو کا مقابلہ کرنے کیلئے مخالف قوتیں مختلف سیاسی روپ دھار کر سامنے آتی رہیں اور بالآخر ملک میں پیپلز پارٹی کے مقابلے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی مخالف سیاسی جماعت کی حیثیت سے اپنے آپ کو تسلیم کرالیا ۔ اس طرح ملک میں دو بڑی سیاسی جماعتوں کے مابین ’’ جمہوری وقفوں ‘‘ کے دوران اقتدار کی رسہ کشی جاری رہی ۔ کبھی ایک جماعت حکومت میں آتی تھی اور کبھی دوسری ۔ یہ سلسلہ جاری رہا تاوقتیکہ 25جولائی کے عام انتخابات سے ایک تیسرا ٹرننگ پوائنٹ آ گیا ہے، جب پاکستان تحریک انصاف ایک تیسری سیاسی جماعت کے طور پر مرکز اور تین صوبوں میں حکومت بنانیوالی ہے ۔ پاکستان تحریک انصا ف اور اسکے سربراہ عمران خان کی مقبولیت کابنیادی سبب یہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے پاکستانی سیاست کو گزشتہ تین عشروں کے دوران مخاصمت اور مفاہمت میں الجھا کر رکھ دیا تھا ۔ لوگ انکی جمہوری حکومتوں سے جو توقعات رکھتے تھے ، وہ پوری نہیں ہوئیں اور ان دونوں سیاسی جماعتوں کو بھی یہ بہانہ مل گیا کہ انکی حکومتوں کو آزادانہ طور پر کام نہیں کرنے دیا گیا ۔ اس الجھائوے میں شعوری یا لاشعوری طور پر انداز حکمرانی خراب سے خراب تر ہوتا گیا ، سیاست میں کرپشن سرایت کرتی گئی ۔ میرٹ پر عمل درآمد کو ایک فضول کام تصور کیا جانے لگا ۔ ان دونوں سیاسی جماعتوں کی قیادت کو یہ احساس ہی نہیں ہوا کہ یہ جس مخاصمت یا مفاہمت میں الجھی ہوئی ہیں ، وہ نئی نسلوں کا مسئلہ ہی نہیں ہے ۔ نئی نسل کے لوگ بہتر حکمرانی ، شفافیت اور میرٹ کا مطالبہ کر رہے تھے ۔ ان حالات میں بہت حد تک لوگوں خصوصاً نوجوانوں نے پاکستان تحریک انصاف سے امیدیں وابستہ کر لی ہیں ۔
کئی حوالوں سے 25جولائی کے عام انتخابات پاکستان کیلئے ایک نیا موڑ ثابت ہونگے ۔ ان انتخابات نے سیاسی جماعتوں پر واضح کر دیا ہے کہ عوام نے ’’ طرز کہن ‘‘ کو مسترد کر دیا ہے ۔ اب سیاسی جماعتوں کو بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہو گا ۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ایک نیا پاکستان بنانے اور بڑی تبدیلیاں لانے کے لوگوں سے بڑے وعدے کئے ہیں ۔ عوام کی ان سے بہت زیادہ توقعات وابستہ ہیں ۔ عمران خان پر بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور ان کیلئے چیلنجز بھی بہت ہیں ۔ لوگ ان سے یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ پاکستان کو بہتر حکمرانی دیں گے ، کرپشن کے خلاف احتساب کے عمل کو تیز کریں گے ، اقربا پروری کا خاتمہ کریں گے اور میرٹ اور شفافیت کا نظام قائم کریں گے ۔ عمران خان نے اس منزل تک پہنچنے کیلئے بہت زیادہ محنت کی ہے ۔ گزشتہ 20 سال کی سیاست میں ان پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں ہے۔ گزشتہ دور میں خیبرپختونخوا میں ان کی پارٹی کی حکومت نے قدرے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہیں نہ صرف ملک کے اندر مقبولیت حاصل ہوئی ہے بلکہ بیرونی دنیا بھی انہیں اچھے تاثر کے ساتھ شناخت کرتی ہے ۔ پہلے انہوں نے کرکٹ کے عظیم کھلاڑی کے طور پر ، پھر اسپتال اور تعلیمی ادارے قائم کرکے ایک سوشل ریفارمر کے طور پر اور سیاست میں آنے کے بعد ایک بہترین ’’ اسٹیٹس مین ‘ ‘ کے طور پر اپنے آ پ کو تسلیم کرایا ہے ۔ انہوں نے اب تک ایک ہی بات ثابت کی ہے کہ وہ جو کہتے ہیں ، کر گزرتے ہیں ۔ اسلئے امید ہے کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوں گے ۔ عمران خان کیلئے سب سے بڑا چیلنج پاکستان کی معیشت کو بہتر بنانا ہے ، جو تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے ۔اگر معیشت کو فوری طور پر نہ سنبھالا گیا تو عمران خان کیلئے اپنے باقی ایجنڈے پر کام کرنا بہت مشکل ہو جائے گا ۔ ان کیلئے دوسرا بڑا چیلنج احتساب کا ہے ۔ انتخابات میں کامیابی کے بعد انہوں نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں یہ پیغام دیا ہے کہ ان کی حکومت کسی سے سیاسی انتقام نہیں لے گی ۔ عمران خان کو بلا امتیاز احتساب کا ایک ایسا نظام قائم کرنا ہو گا ، جو متنازع نہ بن سکے ۔ ان کے سیاسی مخالفین بھی یہ نہ کہہ سکیں کہ احتساب کے نام پر سیاسی انتقام لیا جا رہا ہے۔ عمران خان کیلئے تیسرا بڑا چیلنج یہ ہو گا کہ وہ اپنے خلاف کوئی بڑی سیاسی تحریک چلنے کے حالات نہ بننے دیں کیونکہ ماضی کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں ان کی مخالفت میں ہیں اور چوتھا بڑا اور فوری چیلنج یہ ہو گا کہ عوام کو قانون اور انصاف کے اداروں کے ساتھ ساتھ دیگر اداروں سے فوری ریلیف ملےتاکہ انہیں یہ احساس ہو کہ کوئی تبدیلی رونما ہوئی ہے اور کسی سفارش کے بغیر انہیں انصاف میسر آ سکتا ہے ۔ خیبر پختونخوا اور پنجاب کیساتھ ساتھ کراچی نے بھی عمران خان کی بہت پذیرائی کی ہے ۔ تقریبا ساڑھے تین عشروں کے بعد کراچی کی سیاست نے پلٹا کھایا ہے ۔ کراچی کو پاکستان کے بعض دیگر علاقوں کی طرح بہت عرصے سے نظر انداز کیا گیا اور اسے تصادم کی سیاست میں الجھائے رکھا گیا ۔ کراچی کسی ایک زبان بولنے والوں کا شہر نہیں ۔ یہ کاسموپولیٹن سٹی ہے ۔ یہاں پاکستان کی تمام قوموں ، نسل ، زبان ، مذہبی اور مسلکی گروہوں کے لوگوں کے ساتھ ساتھ غیر ملکی باشندے بھی قیام پذیر ہیں ۔ کراچی پاکستان کا چہرہ ہے ۔ کراچی نے بھی عمران خان سے بہت توقعات وابستہ کر لی ہیں ۔ عمران خان کو بھی کراچی کی توقعات پر پورا اترنا ہو گا ۔
بعض لوگوں کا یہ کہنا درست نہیں ہے کہ حالیہ عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف ایک اکثریتی سیاسی جماعت بن کر سامنے آئی ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سیاست کے خاتمے کا عہد شروع ہو چکا ہے ۔
موخر الذکر دونوں سیاسی جماعتوں کی قیادت نوجوانوں کے ہاتھ میں آ گئی ہے اور وہ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ آج کی نئی نسل کے تقاضے کیا ہیں ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت بہت حد تک بلاول بھٹو زرداری نے سنبھال لی ہے اور انہوں نے اپنی حالیہ انتخابی مہم میں یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ جدید عہد کے لیڈر ہیں۔انہوں نے پاکستان سمیت پوری دنیا کو اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے متاثر کیا ہے ۔ وہ پاکستان کا مستقبل ہیں ۔ اسی طرح پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت مریم نواز اور حمزہ شہباز شریف کو منتقل ہو رہی ہے ۔ انہیں بھی احساس ہے کہ 25 جولائی 2018 ء کے انتخابات ٹرننگ پوائنٹ ہیں ، جہاں سے پاکستان کی سیاست کا ایک نیا عہد شروع ہو گا ۔ عمران خان سے تو لوگوں کی یہ توقعات ہیں کہ وہ پاکستان میں بہتر حکمرانی کا نظام قائم کر سکتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی مجبور کر دیا ہے کہ وہ بہتر حکمرانی ( گڈ گورننس ) کی بنیاد پر سیاست میں رہیں ۔
ایک اہم بات ، جس کا یہاں تذکرہ ضروری ہے ، وہ یہ ہے کہ 25 جولائی 2018 ء کے عام انتخابات میں کئی انتہا پسند سوچ رکھنے والی تنظیموں نے مختلف ناموں سے الیکشن لڑا ۔ عوام نے انہیں اگرچہ مسترد کر دیا ۔ لیکن ان جماعتوں نے بڑی تعداد میں ووٹ لے کر پاکستان کی سیاست میں ’’ انٹری ‘‘ لے لی ہے ۔ دنیا کو 25 جولائی کے عام انتخابات سے مثبت پیغام یہ ملا ہے کہ پاکستان کے عوام نے انتہا پسندانہ سوچ رکھنے والوں کو مسترد کر دیا ہے ۔ اس سے پاکستان کے بارے میں ایک اچھی رائے قائم ہو گی ۔ مگر ہمیں اس ٹرننگ پوائنٹ پر یہ بات ذہن نشین کرنی چاہئے کہ آج کی نوجوان نسل کی توقعات پوری نہ ہوئیں تو وہ کسی اور طرف بھی دیکھ سکتی ہے ۔ ہمارے ارد گرد انتہا پسندی کے رحجانات خطرناک حد تک موجود ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ عمران خان نوجوان نسل کو دوسری طرف نہیں جانے دیں گے اور دوسری سیاسی جماعتیں بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گی ، جہاں جہاں انہیں موقع ملا ہے ۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں