قومی مصالحت ، مگر کیسے؟

August 01, 2018
 

قومی مصالحت کے سوا کوئی چارہ کار نہیں، اس میں ملزموں، مدعیوں اور منصفوں سب کا فائدہ ہی فائدہ ہے۔ مگر یہ قومی مصالحت ایسی ہونی چاہئے جس میں نہ تو ملزموں کو فری ہینڈ دیدیا جائے اور نہ عام معافی دے کر جیلوں کے دروازے کھول دیئے جائیں کیونکہ ایسا کرنا عاقبت نا اندیشی کے مترادف ہوگا۔ دوسری طرف ایسا لگتا ہے کہ ملزم سیاستدانوں کے خلاف ریاستی اداروں کے پاس ایسے ٹھوس ثبوت بھی موجود نہیں ہیں جس سے انہیں سزا دی جاسکے۔ اس لئے تجویز یہ ہے کہ قومی مصالحت کا ایسا راستہ نکالا جائے جس سے بیرون ملک اثاثے رکھنے والے سیاستدانوں کو اپنی دولت اور جائیداد پاکستان منتقل کرنے کا باعزت راستہ دیا جائے۔ بالکل اسی طرح جیسے ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے ذریعے ماسوائے سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کے ہر کسی کو رعایت دی گئی ہے کہ بیرون ملک سے اپنی جائیداد اور دولت معمولی ٹیکس ادا کرکے واپس لاسکتا ہے۔ اس حوالے سے قانونی اور مالی تفصیلات ایف بی آر کے ذریعے طے کی جاسکتی ہیں۔
قومی مصالحت کے اس فارمولے میں سب کی جیت ہی جیت ہے کیونکہ فارمولا یا معاہدہ وہی کامیاب ہوتا ہے جس میں سب کی جیت ہو۔ قومی مصالحت کا یہ معاہدہ طے پاتا ہے تو عمران خان ببانگِ دُہل کہہ سکیں گے کہ وہ ملک کی دولت واپس لے آئے ہیں، ملک کی معاشی صورتحال بھی اس سے بہتر ہوگی۔ اس فارمولے میں نواز شریف اور ان کے خاندان کے لئے عزت اور وقار کا راستہ موجود ہے، وہ فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ ان کےبچوں نے جنرل مشرف کے مارشل لاء دور میں مجبوراً اپنا کاروبار باہر منتقل کیا تھا وگرنہ وہ اپنا ملک کیوں چھوڑتے؟ آصف علی زرداری کےاگر باہر اثاثے ہیں تو وہ بھی واپس لا کر مزید زمین خریدیں یا دو چار اور شوگر ملز لگا لیں۔ اس فارمولے کی کامیابی کی شرط یہ ہے کہ اسے خلوص دل سے نافذ کیا جائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے، سیاست میں جیتنے یا ہرانے کے لئے استعمال نہ کیا جائے۔ جس طرح نواز شریف 2013ء میں عمران خان کی عیادت کرنے ہسپتال گئے تھے بالکل اسی طرح عمران خان بھی نواز شریف کی عیادت کرنے جائیں اور انہیں ساتھ چلنے کی دعوت دیں۔
تاریخ کے ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے پاکستان میں سیاستدانوں کا احتساب نورمبرگ وار کرائمز ٹربیونل کی طرح ہوا ہے جن کا مقصد ہر نازی کوسزا دینا اور ہٹلر کے فلسفے کو سرے سے مٹانا تھا، اسی لئے ہرگرفتار کو سخت سے سخت سزا دی گئی حتیٰ کہ مفروروں کو بھی عبرت آموز سزائیں سنائی گئیں۔ نورمبرگ ٹرائلز 1946، 1947 میں شروع ہوئے اتفاق یہ ہے کہ پاکستان میں بھی احتساب کا پہلا ایکٹ اگست 1947 میں نافذ کیا گیا۔ پروڈا، پوڈا، اور پھر ایوب دور میں ایبڈو کا قانون لایا گیا، ہر ایکٹ کا مقصد یہ تھا کہ زیادہ سے زیادہ سیاستدانوں کو انتخابی میدان سے آئوٹ کیا جائے۔ اکثر کو احتساب ٹرائلز کے ذریعے نازیوں کی طرح ہمیشہ کیلئے سیاسی طور پر نااہل کر دیا گیا۔ نور مبرگ ٹرائل اور پاکستانی احتساب نے معاشرے کو جوڑنے کی بجائے توڑا، پاکستان میں ہزاروں نااہلیوں کے باوجود کرپشن ختم نہ ہو سکی بلکہ کرپشن کی شکایت بڑھتی رہی۔
نور مبرگ ٹرائلز کے 50سال بعد 1996ء میں جب جنوبی افریقہ میں قومی مصالحت کا ڈول ڈالا گیا، سیاہ فام اور سفید فام باشندوں میں سخت نفرت اور خانہ جنگی کا خاتمہ کرنے کیلئے ٹروتھ اینڈری کنسیلیئشن (سچ اور مصالحت کا کمیشن) جسے عرف عام میں TRC کہا جاتا ہے، بنایا گیا۔ 22سال گزرنے کے بعد بھی سچ اور مصالحت کے کمیشن کو بہترین حل تصور کیا گیا اور جنوبی افریقہ کو خانہ جنگی سے معمول کے حالات میں لانے کے حوالے سے اس کمیشن کے فیصلوں نے بہت اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان میں این آر او کا تجربہ جنرل مشرف اور بینظیر بھٹو کے درمیان معاہدے کے بعد کیا گیا لیکن اسے پذیرائی نہ مل سکی اور نہ اسے قبول عام کی سند مل سکی۔عمران خان کو قبول عام ملا ہے۔ اب ان کے پاس ایک راستہ وہی 70سالہ احتساب والا ہے اور دوسرا راستہ قومی مصالحت کا ہے۔ یہ فیصلہ انہوں نے خود کرنا ہے کہ کونسا راستہ بہتر ہے؟
ان دنوں عمران خان کا عروج ہے اور ان کے مخالفوں کا زوال ہے۔ اس لئے عمران سے یہ کہنا کہ آپ صلح کا آغاز کرو، آپ مصالحت کا ڈول ڈالو بظاہر انصافیوں کو برا لگے گا مگر یاد رکھیں آج صلح کی گئی تو کل کام آئے گی۔ اچھا اور بڑا لیڈر وہ ہوتا ہے جو اپنی اپوزیشن کو بھی ساتھ لے کر چلتا ہے۔ نواز شریف سے یہی غلطی ہوئی تھی کہ عروج کے زمانے میں عمران سے کئے گئے وعدے پورے نہ کئے گئے تو دھرنے ہوئے، ہنگامے ہوئے اور پھر پانامہ مقدمے میں پے در پے غلطیوں نے نواز شریف کو اقتدار سے نکال باہر کیا۔ عسکری خان اور عدالت خان بھی ان سے ناخوش نظر آتے تھے۔ اس لئے انہیں کہیں سے مدد تو درکنار رعایت بھی نہ ملی۔
عمران خان 22سال کی جدوجہد کے بعد وزارت عظمیٰ کے عہدے پر پہنچے ہیں اور انہوں نے خود ہی اس عہدے کی حفاظت بھی کرنی ہے۔ اگر اپوزیشن کو ساتھ ملا کر چلیں گے تو ان کے عہدے کی میعاد بڑھ جائے گی۔ اگر ابھی سے کشیدگی، ناراضی اور لڑائی ہوگی تو ظاہر ہے ماحول خراب ہوگا۔ ماحول کی خرابی سے حکومت کی ورکنگ اور کارکردگی دونوں متاثر ہوتی ہیں۔ بہتر ہوگا کہ نیلسن منڈیلا بنیں، مخالفوں کو معاف کریں، جنوبی افریقہ کی طرح سچ اور مصالحت کے کمیشن کا اعلان کریں۔
جنوبی افریقہ میں آرچ بشپ ٹوٹو کو اس مصالحتی کمیشن کا سربراہ بنایا گیا تھا۔ عمران خان بھی کسی ایسے ہی شخص کا انتخاب کریں اور ٹوٹے، بکھرے اور ریزہ ریزہ تاروپود کو جوڑ کر ایک نیا معاشرہ تشکیل دیدیں۔ اگر جنرل ضیاء کے زمانے میں اپنی پسند کے لوگوں کولانڈری میں دھویا جاسکتا ہے جو جیالا جنرل ضیاء کی بیعت کرلیتا تھا اس کے سارے گناہ معاف ہو جایا کرتے تھے۔ بالکل اسی طرح جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی لانڈری لگا کر ہر نونی اور پیپلئے کو دھویا گیا۔ تحریک انصاف میں آنے والے بھی ماضی کے تمام گناہوں سے مبرا قرار دے دیئے گئے تو پھر کیوں نہ ایک بار سب کو ہی معافی دے کر نئے سرے سے آغاز کیا جائے، اثاثے واپس لائے جائیں۔ بے انصافی، ظلم اور یکطرفہ احتساب بند کیا جائے۔ فتح کے شور اور زندہ باد کے نعروں میں یہ نحیف سی آواز کسی کو پسند نہیں آئے گی لیکن مصالحت کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھتے۔ ترکی میں ترقی اسی لئے ہوئی کہ سیاستدانوں میں قومی مصالحت ہوئی، جنوبی افریقہ میں بھی ایسا ہی ہوا۔ کاش پاکستان میں بھی ایسا ہی ہوجائے۔۔۔۔!!!


مکمل خبر پڑھیں