کیا عمران بن پائیں گے ایردوان ؟

August 01, 2018
 

پاکستان اور ترکی مسلم دنیا میں لیڈر ممالک سمجھے جاتے ہیں اور جن کی افواج اور دفاعی نظام پر عالم اسلام فخر بھی محسوس کرتا ہے۔ دونوں ممالک میں کئی بار مارشل لا لگنے کے باوجود اب پوری طرح جمہوریت پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں25 جولائی 2018ء کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے عام انتخابات منعقد ہوئے جبکہ اس سے ایک ماہ قبل یعنی24جون 2018ء کو ترکی میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات ہوئے تھے۔ ترکی میں ایردوان نے صدارتی انتخابات میں 52 فیصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی اور نئے صدارتی نظام کے تحت اپنے فرائض سنبھالے جبکہ پاکستان میں 25جولائی 2018ء کو ہونے والے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں عمران خان نے کامیابی حاصل کرتے ہوئے ملک کے وزیراعظم بننے کی راہ ہموار کرلی ہے۔ تادم تحریر الیکشن کمیشن کی جانب سے پیش کردہ رزلٹ کے مطابق انہوں نے 272 نشستوں والی قومی اسمبلی میں 115 نشستیں حاصل کرلی ہیں جبکہ قومی اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لئے 137 نشستوں کی ضرورت ہوتی ہے جس کے لئے انہوں نے چھوٹی جماعتوں اور آزاد امیدواروں سے رابطہ قائم کیا ہے۔ وہ چودہ اگست سے قبل وفاقی حکومت تشکیل دیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ خیبرپختوانخوا کی حکومت تو ان کی جیب میں ہے البتہ پنجاب میں حکومت تشکیل دینے کے لئے انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کو برتری حاصل ہے اور تحریک انصاف دوسرے نمبر پر ہے۔ اگرچہ 2013ء میں مسلم لیگ ن نے خیبر پختونخوا میں حکومت تشکیل دینے کے امکانات ہونے کے باوجود پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی تحریک انصاف کو حکومت بنانے کا موقع فراہم کیا اور اب دیکھتے ہیں سب کو سیاسی اصولوں کا سبق پڑھانے والی تحریک انصاف مسلم لیگ ن کو بھی پنجاب میں حکومت تشکیل دینے کا موقع فراہم کرتی ہے یا نہیں؟ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تحریک انصاف اگر پنجاب میں حکومت بنا نہیں پاتی تو پھر وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہوسکے گی۔
پاکستان کے بعض اینکر پرسن اورکالم نگار عمران خان کو پاکستان کا ’’ایردوان‘‘ قرار دے رہے ہیں۔ دونوں رہنماؤں میں کئی ایک چیزیں مشترک ہیں، دونوں جدوجہد کرنے والے، پختہ عزم کے مالک، پُر اعتماد، محب وطن، عوامی خدمتگار اور ملک کی ترقی اور اسے دنیا بھر میں بلند مقام دلوانے کا جذبہ رکھنے والے انسان سمجھے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایردوان فیصلہ کرنے سے قبل حالات کا تمام پہلوئوں سے اچھی طرح جائزہ لینے کے بعد جو فیصلہ کرلیتے ہیں تو پھر اس پر ڈٹ جاتے ہیں، ان میں جدو جہد کرنے کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے جبکہ اسی قسم کی خصوصیت عمران خان میں بھی پائی جاتی ہے۔ ترکی میں شرحِ تعلیم سو فیصد کے لگ بھگ ہے اور غیر ممالک کے طلبا اب ترکی میں تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دینے لگے ہیں اور ایک دور تھا (عمران خان اکثر اپنے جلسوں میں ماضی کے پاکستان کی عظمت کی مثالیں پیش کرتے ہیں) جب ترک طلبا پاکستان میں تعلیم حاصل کرنا اپنے لئے ایک اعزاز سمجھتے تھے اور یہ ترک طلبا اب ترکی کی ترقی میں بڑا نمایاں کردار ادا کررہے ہیں، برہان قایا ترک اور علی شاہین بھی پاکستان میں اس دور میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا ہی میں شامل تھے۔ عمران خان پاکستان کو ایک بار پھر تعلیم کے شعبے میں اس کا کھویا ہوا مقام دلوانا چاہتے ہیں اور اگر انہوں نے اس سلسلے میں کوئی قدم اٹھا لیا تو پاکستان ایک بار پھر غیر ملکی طلبا کا تعلیمی مرکز بن سکتا ہے کیونکہ پاکستانی اساتذہ کی دنیا بھر میں ڈیمانڈ ہے۔ عمران خان جب نئے پاکستان کا ذکر کرتے ہیں تو وہ پاکستان میں ترکی ہی کی طرز کے بلدیاتی نظام کو متعارف کروانے کے خواہاں دکھائی دیتے ہیں۔ مجھے اچھی طرح یادہے چند سال قبل جب عمران خان نے ایردوان سے جب وہ وزیراعظم تھے ملاقات کی تھی تو انہوں نے اس وقت بھی پاکستان میں ترکی ہی کی طرز کے بلدیاتی نظام کو متعارف کروانے اور ترکی سے اس سلسلے میں رہنمائی حاصل کرنے کے بارے میں بات چیت کی تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان جو اپنے جلسوں میں ملک میں نئے بلدیاتی نظام کو متعارف کروانے کا وعدہ کرچکے ہیں اس میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں؟ کراچی میں بڑے پیمانے پر عمران خان کی پارٹی کو جو کامیابی حاصل ہوئی ہے اس کی بڑی وجہ پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کا کراچی کے عوام کو کچھ بھی ڈلیور نہ کرنا ہے۔ عمران خان ملک میں ترکی کی طرز کا نیا بلدیاتی نظام متعارف کرواتے ہوئے پورے ملک اور خصوصاً کراچی کے حالات کو بدل سکتے ہیں۔ اگر عمران خان نے کراچی میں لوگوں کے دلوں میں مستقل طور پر جگہ بنانی ہے تو پھر بلدیاتی اداروں کو تمام اختیارات دیتے ہوئے (جو تمام مغربی ممالک میں بلدیاتی اداروں کو حاصل ہیں) نئے پاکستان کومنظم کرنا ہوگا۔ کراچی کے لوگوں نے ایم کیو ایم کے خوف، خالی نعروں، نسلی امتیاز اور گروہ بندی سے چھٹکارا حاصل کرتے ہوئے عمران خان کو ان کے کیے گئے وعدوں ہی کی وجہ سے گلے لگایا ہے۔ ایردوان کی طرح جس طرح انہوں نے اپنے استنبول مئیر ہونے کے دوران پینے کے پانی کے مسئلے کو چھوٹے چھوٹے بیراجوں کی تعمیر سے حل کیا تھا اور دیگر تمام مشکلات کو مستقل بنیادوں پر حل کیا تھا اب عمران خان کو بھی پانی کے مسئلے کی جانب فوری توجہ دیتے ہوئے اسے حل کرنا ہوگا۔ اگر وہ کالا باغ ڈیم سے متعلق تمام صوبوں کی منظوری لیتے ہوئے تعمیر کروانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ان کی مقبولیت میں پہلے سے بھی زیادہ اضافہ ہوسکتا ہے۔ ایردوان نے بطور استنبول مئیر، دنیا کے گنجان آباد شہر استنبول جو کوڑے کرکٹ کے ڈھیر کا منظر پیش کرتا تھا، کو تبدیل کرتے ہوئے اسے مغربی ممالک کے معیار سے بھی بہتر شہر کا روپ عطا کیا اور اسی شہر سے ایردوان کی قسمت کے ستارے نے جگمگانا شروع کیا تھا۔ عمران خان بھی کراچی کے تمام مسائل حل کرتے ہوئے کراچی اور پاکستان کے دیگر شہروں کے باسیوں کے دلوں میں اپنے لئے جگہ بناسکتے ہیں۔ عمران خان کو اگر اپنی پارٹی کو مستقل بنیادوں پر کھڑا رکھنا ہے تو پھر انہیں اپنی پارٹی کے مراکز قائم کرنے کے علاوہ ان پارٹی مراکز میں نوجوانوں کیلئے سیاسی علوم اور سیاست کے بارے میں ٹریننگ مراکز بھی قائم کرنا ہوں گے۔ ترکی میں اگر جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی آج بھی دیگر پارٹیوں پر سبقت حاصل کیے ہوئے ہے تو اس کی سب سے اہم وجہ نوجوانوں کو مسلسل ٹریننگ کے عمل سے گزارنا ہے۔ ایردوان حکومت کی ایک اہم بات پارٹی اور حکومت کے ترجمان کا علیحدہ علیحدہ ہونا ہے۔ حکومت اور پارٹی ترجمان دونوں اعلیٰ حکام سے تمام معلومات حاصل کرنے کے بعد ہی حکومت اور پارٹی کے نقطہ نظر کو پریس کے سامنے پیش کرتے ہیں جبکہ تحریک انصاف میں ہر شخص عمران خان اور پارٹی کا ترجمان بنا ہوا ہے، کبھی فواد چوہدری کچھ کہہ رہے ہوتے ہیں تو اسی موضوع پر نعیم الحق اور بابر اعوان ان سے ہٹ کر بیان جاری کردیتے ہیں۔ یہ پی ٹی آئی کے لئے جگ ہنسائی کا باعث بن جاتا ہے جس سے گریز کرنے کی ضرورت ہے۔
عمران خان نے اگر پاکستان میں صوبہ پرستی کی خباثت کو ختم کرنا ہے تو اس کے لئےترکی کی طرز پر چھوٹے چھوٹے صوبے قائم کرنا ہوں گے۔ چھوٹے صوبوں کے قیام سے بڑے بڑے اخراجات جس میں وزرا اور اسمبلیوں کے اخراجات آتے ہیں ختم ہو کر رہ جائیں گے اور عوام کو براہ راست اختیارات بھی حاصل ہو جائیں گے۔
عمران خان پاکستان میں ترکی کی طرز حکومت کی نگرانی میں لاکھوں کی تعداد میں مکانات تعمیر کروانے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں حکومت ترکی انہیں اپنے تجربات سے مستفید کرسکتی ہے اور لاکھوں مکانات کی تعمیر میں مددگار بھی ثابت ہوسکتی ہے۔ کروڑوں افراد کو روزگارفراہم کرنے کے لئے انہیںسی پیک کے ساتھ ساتھ ترکی سے مل کر کئی ایک منصوبوں کو مشترکہ طور پر شروع کرنا ہوگا ۔
عمران خان نے اگر عوام میں اور عوامی نمائندوں میں اپنی مقبولیت قائم رکھنی ہے تو اس کے لئے انہیں ایردوان کی طرح باقاعدگی سے قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت کرنے کے علاوہ قومی اسمبلی ہی میں پارٹی اراکین سے ہر ہفتے باقاعدگی سے خطاب کرنا ہوگا جو عوام کے ساتھ ان کے مسلسل رابطے کا مظہر ہوگا۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں