لاپتہ ملائیشین طیارے کا معاملہ، کیا گتھی سلجھائی جاسکے گی؟

August 02, 2018
 

فلائٹ میں تقریبا 40منٹ بعد 1:19بجے معاون پائلٹ ، جو خیال کیا جارہا ہے کہ و ہ فارق عبدالحمید ہوں گے،نے ریڈیو ائیر ٹریفک کنٹرول کو کہا کہ ’’سب ٹھیک ہے، شب خیر‘‘۔انتظامیہ نےطیارے میں ہونے والی یہ آخری گفتگو سنی تھی۔ دومنٹ بعدطیارہ ہوچی من سٹی، ویت نام میں ائیر ٹریفک کنٹرول کے ساتھ چیک کرنے میں ناکام ہوا اور اس کے بعد کوئی سگنل موصول نہیں ہوا۔

ملائیشیا طویل انتظار کے بعد ملائیشین طیارے ایم ایچ 370 کےپر اسرار طور پر غائب ہونے کی رپورٹ جاری کرے گا جو8مارچ 2014 میں کوالالمپور سےبیجنگ جاتے ہوئے غائب ہوگیا، اس طیارے میں 239 مسافر سوار تھے۔

تاہم قوی امکان ہے کہ مذکورہ ریورٹ میںاس واقعے کے حوالے سے بڑے بڑے سوالات کے جوابات موجود ہوں گے۔ملائیشین طیارہ ایم ایچ 370 ،8مارچ2018بروز اتوار کو مقامی وقت کے مطابق 00:41 کوالالمپور سے روانہ ہوا تھا اور کیپٹن زاہری احمد شاہ طیارے کی قیاد ت کررہے تھے۔طیارے کو شیڈول کے مطابق 6گھنٹے قبل صبح6:30 بجےتھائی لینڈ کی خلیج سے ہوتے ہوئے کمبوڈیا، لاؤس، ویت نام اور چین کے شہر بیجنگ میں لینڈ کرنا تھا۔

فلائٹ میں تقریبا 40منٹ بعد 1:19بجے معاون پائلٹ ، جو خیال کیا جارہا ہے کہ و ہ فارق عبدالحمید ہوں گے،نے ریڈیو ائیر ٹریفک کنٹرول کو کہا کہ ’’سب ٹھیک ہے، شب خیر‘‘۔انتظامیہ نےطیارے میں ہونے والی یہ آخری گفتگو سنی تھی۔ دومنٹ بعدطیارہ ہوچی من سٹی، ویت نام میں ائیر ٹریفک کنٹرول کے ساتھ چیک کرنے میں ناکام ہوا اور اس کے بعد کوئی سگنل موصول نہیں ہوا۔

رڈار نے یہ دکھایا کہ طیارہ شمال۔مشرق سے تیزی سے بائیں طرف مڑ گیا۔اس کے بعد1:38 میں ویت نام کے ائیر ٹریفک کنٹرول نے دوسرے ممالک کے قریبی ائیرکرافٹ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔

آخری بار2:15 میں ملائیشین طیارہ ایم ایچ 370 کی پوزیشن نوٹ کی گئی ۔ ملائیشین ملٹری رڈار نے ظاہر کیا کہ طیارہ بحرانڈمان سے شمال۔مغرب کی طرف بڑھ رہا ہے ۔

کئی گھنٹے کنفیوز ہونے کے بعد 5:30پر تشویش میں اضافہ ہوا اور سرچ ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا گیا۔

صبح 11بجے ایک پریس کانفرنس میں طیار ے غائب ہونے کی تصدیق کی گئی۔

کیا ہوا ہوگا؟

یقینی طور پر کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ طیارے کے ساتھ کیاہوا ہوگا۔ لیکن طیارے کی پراسرار طریقے سے گمشدگی نے کئی خدشات جنم لئے۔ ان میں سے کچھ مصدقہ ہیں۔

ہوسکتا ہے کہ طیارے میں آکسیجن کی کمی ہوگئی ہوگی یا فضا میں کسی حادثے کا شکار ہوگیا ہو۔ ملائیشین حکومت اور آسٹریلیوی ٹرانسپورٹ سیفٹی بیورو نے بتایا کہ جہاز میں آکسیجن کی کمی کے باعث جہاز کا عملہ اور مسافرین بے ہوش ہوگئے ہوں۔

ان حالات میں کیپٹن زاہری کی طرح طیارے میں سوار تمام افراد بے ہوش ہوگئے ہوںگے جس کے بعد طیارے کو آٹو پائلٹ چلارہا ہو۔ یا تباہ ہونے سے قبل طیارے میں فیول ختم ہوگیا ہو۔

سابق پائلٹ کرسٹو فر گڈفیلو کا خیال ہے کہ متعلقہ نظریات بتاتی ہے کہ طیارے میں آگ لگ گئی ہوگی یا کوئی حادثہ پیش آگیا ہوگا۔

انہوں نے ٹیلی گراف میں لکھا کہ جب تک ملائیشین طیارے کے پراسرار طور پر غائب ہونےکے بارے میں شواہد نہیں مل جاتے میں اپنےموقف پر قائم ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں نے جب 3ماہ قبل آن لائن پوسٹ کوبتایا تھا کہ جہاز کے عملے کو ایمرجنسی کی صورتحال سے دوچار ہونا پڑا ہوگا۔ جب انہوں نے غیر اراردی طور پر طیارے کا رخ مغرب کی جانب موڑ دیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ انہوں نے مغرب کی جانب رخ کیوں موڑا؟کیونکہ وہ لوگ ملائیشیا کے ویسٹ کوسٹ، لکھنوی آئی لینڈکی جانب جہاز کا رخ موڑ رہے تھے۔ ‘‘

پائلٹ پر شک وشبہات کا اظہار

مئی میں 60منٹ پر مشتمل ایک آسٹریلیوی پروگرام میں پینل کےماہرین نے کہا کہ شواہد بتاتے ہیں کہ کیپٹن زاہری احمد شاہ نے جان بوجھ کر ایک ایسے دور دراز علاقے میں جہاز کو لاپتہ کیا تاکہ اس کا پتہ نہ لگایا جاسکے ۔

آسٹریلوی ٹرانسپورٹ سفٹی بیور مارٹن ڈولن، جنہوں نے دوسال تک طیارے کی تلاش کے لیے بنائی کمیٹی کی سربراہی کی۔ ان کا کہنا ہے کہ طیارے کا غائب ہونا طے شدہ منصوبہ تھا اور طیارے کو ارادتا غائب کیا گیا ہے اور یہ سب کچھ پرواز کےدوران کے ہوا۔

دوسال قبل طیارے میں بارے میں معلومات اکھٹی کی گئی کہجہاز کو کسی منصوبے کے تحت غائب نہیں کیا گیابلکہآؤٹ آف کنٹرول ہونے کے بعد تباہ ہوگیا تھا کیونکہ پائلٹ کو لینڈنگ کےلیے فیلپس ونگ کھولنے میں مشکلات پیش آرہیں تھی۔

تجزیہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جب پائلٹ نے جہازکو لینڈنگ کرنے کی کوشش کی تو وہ آؤٹ آف کنٹرول ہوا اور جلد ہی کریش ہوگیا۔

2015 میں ابتدائی رپورٹ کے مطابو کیپٹن زاہری کے بیگ راؤنڈ اور فلائٹ میں ان کے رویے کے بارے میں معلوم کیا گیاتو یہ پتہ چلا کہ ’’ان میں گھر اور اپنے کام میں برداشت کرنے کی کی بھرپور صلاحیت تھی۔‘‘رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ان کے انداز زندگی میں کوئی نمایاں تبدیلی رونمانہیں ہوئی تھی۔ ان کا کسی سے جھگڑا تھااور نہ اپنے اہلخانہ کے حوالے سے کوئی ٹینشن تھی۔‘‘

2016اگست میں ملائیشین حکام نے بتایا کہ کیپٹن زاہری نے بحر ہند میں طیارہ اتارنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن وزیر ٹرانسپورٹ لیو ٹوئینگ لئی نے کہا کہ وہ ایم ایچ 370طیارے کو اتارنے کے لیے حتمی روٹ

ہوم میڈ فلائٹ سیمولیٹر استعمال کرتے تھےانہوں نے زور دیا۔

.انہوں نے بتایا کہ’’ اس حوالے سے ابھی تک مصدقہ شواہد نہیں ملے کہ پائلٹ نے طیارے کا رخ بحر ہند کی طرح موڑ دیا تھا ۔‘‘

وائلڈ تھیوری

یہ بھی خیال کیا جارہا ہے کہ طیارے کو روانہ ہونے سے قبل ہی ہائی جیک کرگیا ہو تاکہ امریکہ، روس اور شمالی کوریاکی طرح اپنے حکومت پر الزام عائد کیا جاسکے۔

تلاش کرنے سے کیا ملا؟

طیارے کی تلاش کےلیے دو اہم اقدامات کئے گئے۔ پہلا یہ کہ آسٹریلیا، چین اور ملائیشیا نے 113ملین پاؤنڈ خرچ کرنے کے بعد 46,332اسکوئر میل بحر اوقیانوس سے طیارہ تلاش کرنے کے لیے سرچ آپریشن شروع کیا جو جنوری کے آواخر میں ختم ہوا۔

تین ممالک نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ تمام کوشش، سائنس کی بہترین ٹیکنالوجی کو استعمال ،اپنے شعبے میں مہارت رکھنے والے پروفیشنل کی مشاورت کے باوجود پر اسرار طورپر غائب ہونے والا طیارے کا سراغ نہ مل سکا۔

دوسراسرچ آپریشن، امریکی ساختہ اوشین انفینٹی فرم نے جنوری میں شروع کیا ،جنوبی بحر اوقیانوس میں نجی طور پر پانی کے اندر 43,343اسکوئر میل تک تلاش کیا گیا اور29مئی کو یہ آپریشن ملتوی کردیا گیا۔ آپریشن ملتوی کرنے کی وجہ یہ تھی کہ نجیب رزاق کے دور حکومت نے ٹیکساس ساختہ کمپنی سےوعدہ کیا تھا کہ اگر طیارہ مل گیا تو ان کی حکومت مذکورہ کمپنی کو 70ملین ڈالرز دے گی لیکن اس آپریشن سے کچھ حاصل نہیں ہوا۔ صرف یہ تصدیق ہوسکی کہ بوئنگ 777ائیر کرافٹ تین حصوں میں ٹکرے ٹکرے ہوکر بحر اوقیانوس میں ڈوب گیا۔

بوئنگ کا تباہ شدہ جو پہلا ملبہ ملا وہ فیلپر تھا جو 15جولائی 2015 کو ری یونین جزیرے سے ملا۔ فرانسیسی حکام کا کہنا تھا کہ ملائیشین طیارہ MH370 بنانے والی کمپنی کا نمبراور جزیرے سے ملنے والے فیلپر کا نمبر ایک ہی تھا۔ یہ جزیرہ مڈغاسکر اور موریشیش کے درمیان ہے۔

رواں سال مئی میں طیارے کا ایک ٹکرا موریشیش سے ملا تھااور ایک ماہ بعد ایک فیلپ ونگ پیمبا آئرلینڈ،تنزانیہ سے ملا جو غائب ہونے والے طیارےکا حصہ تھا۔

اس کے دوسرے حصے، جو سمجھا جارہا ہے کہ وہ ملائیشین طیارے کا حصہ ہے ان میں مڈغاسکر سے ملنےوالا کیبن انٹرئیر پینل، جنوبی افریقہ کے موسل بے میں ڈوبے والا ا نجن پر دھات کا ڈھکنا، موریشیش میں روڈریگویزآئی لینڈ سےملنے والااہم کیبن انٹرئیر پینل،موزبیق کے ساحل سے ہوریزینٹل اسٹیبلائیزشامل ہیں اس کے علاوہ موزبیق کے ساحل سے ایک فیلپ ٹیک فئیرنگ بھی دریافت ہوا۔

رپورٹ کیا کہتی ہے؟

ملائیشیا کے وزیر ٹرانسپورٹ انتھونی لوک کا کہنا ہے کہ ایک تحقیقاتی ٹیم بندکمرےبریفنگ میںطیارے میں سوار مسافرین کے لواحقین کو بریف رپورٹ پیش کرے گی۔ بعدازاں نیوز کانفرنس کی جائے گی۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’’تحقیقات ٹیم کی جانب سے ہر لفظ کو ریکارڈ کیا گیا ہے اور وہ ہی ا س کی رپورٹ پیش کرے گی۔انتھونی لوک نے مزید کہا کہ ہم رپورٹ کی شفافیت کےلئے پر عزم ہیں،یہ رپورٹ کسی ترمیم یااضافے کے بغیر پیش کی جائے گی۔ ‘‘انہوں نے بتایا کہ یہ رپورٹ آئن لائن بھی دستیاب ہوگی جبکہ لواحقین اور صحافیوں کو اس رپورٹ کی کاپی دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’’تمام عالمی برادری کو اس رپورٹ تک رسائی حاصل ہوگی۔ ‘‘اس رپورٹ کو منگل کو پارلیمنٹ کے دونوں ہاؤسز میں پیش کی جائے گی۔

لواحقین کی نمائندگی کرنے والا ایک گروپ، وائس 370 نے پہلے ہی ملائیشیا کی حکومت سے طیارے کی،جن میں ’’کوئی بھی MH370 اور اس کی مینٹینس سے متعلق کسی بھی ممکنہ غلطی یا ریکارڈ کی معلومات‘‘ شامل ہیں، رپورٹ کا مطالبہ کیا تھا۔

طیارےکے عملے کی ایک خاتون رکن کےشوہر کیلوین شم نے کہا کہ ’’وہ تشویش میں مبتلا ہیں کہ حادثے کی رپورٹ میں ملائیشین پولیس کی جانب سے کی جانے والی علیحدہ تحقیقات کے نتیجے اور جہاز کے مکمل گارگوکی فہرست جیسی اہم معلومات شامل نہیں ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ ’’ہم جانتے ہیں کہ اس واقعے کو گزرے 4برس گزر چکے ہیں اور بہت سارے لوگ قصے کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ چار سال ہمارے اور ان کے ورثا کے لیے مذاق نہیںتھے۔‘‘

اب کیا ہوگا؟

طیارے میں مرنے والے افراد کے خاندان صرف دعا ہی کرسکتے ہیں کہ فرم کوغائب ہونے والے طیارے کےبارے میں کہیں سے سراغ مل جائے۔

ملائیشیا کے وزیر اعظم مطاہر محمد نے کہا کہ اگر کہیں سے کوئی اشارہ ملتا ہے تو ملک د وبارہ سرچ آپریشن شروع کرسکتا ہے اور اوشین انفینیٹی کے سی ای او اولیور پلنکٹ نے امید ظاہر کی کی کمپنی مستقبل میںاپنی خدمات سرانجام دینے کے لیے تیار ہے۔

آسٹریلیا کے ڈپٹی پرائم منسٹر مائیکل میک کارمیک کا کہنا ہے کہ ان سر چ آپریشنز میں ٹیکنالوجی اور ماہرین کی صلاحیتوں کی آزمائش کی جاچکی ہے۔ اگر’’ مصدقہ شواہد مل جائیں جس سے غائب ہونے والے طیارے کی مخصوص لوکیشن کا پتہ چل جائے‘‘ تو دوبارہ سرچ آپریشن شروع کیا جاسکتا ہے۔ خیال رہے کہ انہوں نے مئی میں کہا تھا کہ ہم ہمیشہ پرامید ہیں کہ ہم ایک دن طیارےکا پتہ معلوم کرلیں گے۔


مکمل خبر پڑھیں