پہلا کام پہلے

August 03, 2018
 

ایک فرد کی زندگی ہو ، ایک قوم یا ملت کی، اِس میں کام ختم ہی نہیں ہوتے اور کبھی تو ایسے کام نکل آتے ہیں جو مکمل نہیں ہو پاتے، جبکہ زندگی ختم ہو جاتی ہے۔ ہمارے عظیم شاعر باقیؔ صدیقی نے کہا تھا ؎
رات باقی تھی جب وہ بچھڑے تھے
کٹ گئی عمر رات باقی ہے
ہم جو ابھی انتخابات کا پُل صراط عبور کر کے آئے ہیں، اس میں بڑے بڑے حادثے بھی ہوئے اور عظیم امکانات بھی پیدا ہوئے۔ روز و شب کا شمار کرنے سے پہلے ہمیں سب سے پہلے داخلی ہم آہنگی کی ناؤ کو گرداب میںڈوبنے اور معیشت کے جہاز کو خونخوار تھپیڑوں سے محفوظ رکھنے کا اہم ترین فریضہ مل جل کر ادا کرنا ہو گا۔ حادثات کا تو ہم ذکر بھی نہیں کر سکتے کہ آج اس کی اجازت نہیں، تاہم جلد ایسا وقت آئے گا کہ ان کا ذکر بھی ہو گا اور حساب کتاب بھی۔ یہ وقت تنازعات میں اُلجھنے اور اپنا دامن تار تار کر دینے کا نہیں بلکہ اپنے وجود کو تحلیل ہونے سے بچانے اور تمام قوتیں مجتمع کر کے اس قوم کو نئی منزلوں کا سراغ دینے کا ہے جو ایک مدت سے اپنے مقدر کے سنور جانے کی منتظر ہے۔ زخم کریدتے رہنے سے خون بھی رستا رہتا ہے اور وہ ناسور میں بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔ ہمیں سب سے پہلے نااُمیدی اور بے اعتباری کے زخم بھرنے کے ساتھ ساتھ اُمید کی شمعیں فروزاں رکھنا ہوں گی۔ اِس ضمن میں سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں اور شخصیتوں کی طرف سے دانش مندانہ اعلانات سننے میں آ رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اعلانات اجتماعی فیصلوں میں کب ڈھلتے ہیں اور اُن پر عمل درآمد کا مرحلہ کب آتا ہے۔ میرے اندر سے یہ خوش گمانی پھوٹ رہی ہے کہ ہماری قومی قیادت وقت کے تیور پہچان چکی ہے اور تاریخ سے سبق سیکھنے کا داعیہ بھی رکھتی ہے۔
جناب عمران خاں نے انتخابی کامرانی کے بعد قوم سے جو خطاب کیا ہے، اس میں بڑے بڑے دعوے انکسار کی زبان میں کیے ہیں۔ یہ خطاب اُن کے مزاج اور اُفتادِ طبع سے بڑا مختلف تھا جس نے لوگوں کو متاثر بھی کیا اور ایک ڈرامائی کیفیت کا احساس بھی دلایا۔ اُن کے جس عزم نے مجھے سب سے زیادہ سحرزدہ کیا، وہ ریاست ِمدینہ کی طرز پر نئے پاکستان کی تشکیل ہے۔ ریاست ِمدینہ کا حوالہ ہمارے لیے ایک عظیم المرتبت حوالے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اِس حیات افروز مقصد کی تکمیل کے لیے اہلِ پاکستان کو اُن سے تعاون کرنا چاہیے کہ یہی تو وہ بلند ترین نصب العین ہے جس کے حصول کے لیے ملت ِاسلامیہ میں بڑی بڑی تحریکیں اُٹھتی رہی ہیں۔ حکومت ِالٰہیہ کا قیام مجلسِ احرار کا بھی موٹو تھا اور جماعت ِ اسلامی کا دینی اور سیاسی منشور بھی۔ اِس تاریخی تناظر میں جناب عمران خاں نے اپنے لیے قابلِ فخر ہدف منتخب کیا ہے جس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ یہ ہدف اِس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ اُن کا اپنا کردار بھی مثالی ہو اور اُن کیٹیم بھی عظمت ِ کردار سے مرصع نظر آئے۔ اُمید کی جانی چاہیے کہ وہ ایک نیک نام ٹیم کا انتخاب کریں گے اور حسنِ سلوک سے اپنے مخالفین کے دل فتح کرنے کا عظیم الشان کارنامہ سرانجام دیں گے۔ اُنہوں نے قوم سے خطاب میں یہ عہد کیا ہے کہ وہ کسی سے انتقام نہیں لیں گے اور انصاف کا بول بالا کریں گے، مگر نگران حکومتیں اور الیکشن کمیشن کے اقدامات اور بیانات اُن کی امن دوستی کی راہ میں کانٹے بچھا رہے ہیں۔ 2013ء کی انتخابی مہم کے دوران عمران خاں زخمی ہوئے، تو نواز شریف عیادت کے لیے شوکت خانم اسپتال گئے اور مل جل کر پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے کام کرنے کی پیشکش کی جو اُنہوں نے خوش دلی سے قبول کی۔ اب نوازشریف جیل میں ہیں اور ان کی صحت حد درجہ تشویشناک ہے۔ خاں صاحب کو اُن کی تیمارداری کے لیے جانا چاہیے تھا جس سے یقینی طور پر کشیدہ سیاسی ماحول میں خوشگوار تبدیلی آتی، مگر پنجاب کے نگران وزیرِداخلہ نے تو صدرِ مملکت جناب ممنون حسین کو بھی عیادت کرنے کا موقع نہیں دیا۔
انتخابات کے دن کیا کچھ ہوا، اس کی رُوداد ہمارے قابلِ احترام دوست سلیم صافی نے اپنے کالم کے ذریعے بیان کر دی ہے۔ پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن نے اُن حلقوں کی تفصیلات جاری کر دی ہیں جن میں مبینہ سنگین بے قاعدگیاں ہوئی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے ممتاز رہنما جناب سعید غنی نے کراچی میں ہونے والی مبینہ شدید انتخابی بےاعتدالیوں کا کچا چٹھا بیان کر دیا ہے۔ ماہرین وضاحت سے کہہ چکے ہیں کہ رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم کی ناکامی الیکشن کمیشن کا ناقابلِ معافی جرم ہے۔ دراصل زخم اِتنے گہرے لگے ہیں کہ ایک سیاسی جماعت کے سوا تمام سیاسی پارٹیاں تلملا اُٹھی ہیں۔ بعض سیاسی قائدین درد کی تاب نہ لاتے ہوئے طیش میں آ گئے ہیں اور عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے اور چہیتوں کو انعام و اکرام سے نوازنے کی سخت زبان میں گفتگو کر رہے ہیں، مگر قومی دھاروں کی سیاسی جماعتوں نے پارلیمانی جمہوریت کو فروغ دینے اور جمہوری اداروں کو مستحکم بنانے کا فیصلہ کیا۔ مسلم لیگ نون، پیپلز پارٹی، جماعت ِاسلامی، اے این پی، بی این پی مینگل گروپ نے حلف اُٹھانے اور منتخب اداروں کے ذریعے غلط کاریوں کا احتساب کرنے اور نظام کے اندر اصلاحات لانے کو ترجیح دی ہے۔ اب مولانا فضل الرحمٰن بھی کسی قدر نرم پڑے ہیں۔ جمہوریت کے لیے یہ ایک نیک فال ہے اور اُمید پیدا ہوئی ہے کہ اِس بار منتخب اداروں میں اپوزیشن بہت مضبوط ہو گی جس کی بدولت حکومتوں کو اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔
پارلیمنٹ کو مضبوط کرنے سے الیکشن کمیشن کا احتساب بھی کیا جا سکے گا جس پر الزام ہے کہ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں بری طرح ناکام رہا ہے۔ اس نے انتخابات پر 21؍ارب روپے خرچ کیے اور انہیں ایک تماشہ بنا کے رکھ دیا۔
دراصل الیکشن کمیشن کے ارکان انتظامیہ سے لیے جانے چاہئیں جیسا کہ بھارت میں ہے۔ عوام نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ نگران حکومتوں کا تجربہ بری طرح ناکام رہا ہے۔ اس نے پاکستان کے امیج کو شدید نقصان پہنچایا اور انتظامی اور اقتصادی مشینری کی بنیادیں ہلا ڈالیں۔ پارلیمنٹ کے ذریعے ان خرابیوں کا مداوا کیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ یہ حقیقت بھی صاف نظر آ رہی ہے کہ مسلم لیگ نون کی قیادت اور اسکے پیروکاروں نے غیر معمولی استقامت اور قوتِ مزاحمت کا ثبوت دیا ہے۔ انتہائی سخت آزمائشوں کے باوجود وہ پنجاب اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت کے طور پر اُبھری ہے اور اس کی قیادت نے غیر معمولی شجاعت اور اصول پسندی کا ثبوت دیا ہے۔ جناب نوازشریف نے اسپتال پر جیل کو ترجیح دی اور محترمہ مریم نواز نے سہالہ ریسٹ ہاؤس کے بجائے اڈیالہ جیل میں رہنا پسند کیا۔ اس بے مثال کردار نے مسلم لیگ نون میں ایک نئی روح پھونک دی ہے جو کسی وقت بھی ’’کم بیک‘ ‘کا شاندار مظاہرہ کر سکتی ہے۔ اسکے علاوہ فی الحال ایسے کام نہیں کرنے چاہئیں جن سے حکومت کے اخراجات میںغیر ضروری طور پر بڑا اضافہ ہو جائے۔ اس وقت انقلابی اقدامات سے زیادہ بگڑی ہوئی سیاسی، انتظامی اور معاشی صورتِحال کو قابو میں لانا اور اچھی حکمرانی اور سادگی کو فروغ دینا ہو گا۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں