نئی حکومت کے لئے چندتجاویز

August 06, 2018
 

الیکشن خیریت سے انجام پاگئے مگر حسب روایت ہارنے والوں نے فوراً ہی دھاندلی کا الزام لگا دیا اور یہ تک کہا کہ آج تک اتنی بے ایمانی، دھاندلی کسی الیکشن میں نہیں ہوئی۔بہرحال انتخابات تو ہوگئے اور نتائج سے اندازہ ہوتا ہے کہ عمران خان کی جماعت تحریک انصاف برسر اقتدار آئے گی۔ اقتدار میں آنے سے قبل عمران خان کی خدمت میںکچھ عرض کرنا چاہتاہوں۔
(1)سب سے پہلے ان کو اور ان کے رفقائے کار کو دلی مُبارکباد دیتا ہوں۔ اگر آپ غور سے دیکھیں تو ان کی جدّوجہد بھی قیام پاکستان کے حصول کی جدّوجہد اور میرے رفقائے کار اور میری ملک کو ایٹمی اور میزائل قوّت بنانے کی محنت و مشقت و جدّوجہد سے بہت مماثلت رکھتی ہے۔ سب سے پہلے اُنھوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی پھر کرکٹ کے میدان میں ملک کو پہلا (اور ابھی تک آخری) ورلڈ چیمپئن بنایا۔ شوکت خانم جیسے اعلیٰ اسپتال کی تعمیر کی اور تقریباً 22سال کی اَنتھک لگن و محنت سے اپنی منزل مقصود تک پہنچ گئے۔ میری دلی دُعا ہے کہ اللہ پاک ان کو اور ان کے اہل خانہ کو اور تمام رفقائے کار اور ان کے عزیز و اقارب کو تندرست، خوش و خرم رکھے، حفظ و امان میں رکھے، عمر دراز کرے، ہر شر سے محفوظ رکھے اور فرائض منصبی ایمانداری اور کامیابی سے ادا کرنے میں رہنمائی و سعادت عطا فرمائے۔ آمین۔

جیسا کہ بہت سے صحافی و تجزیہ نگار کہہ رہے ہیں عمران خان کو ملک چلانے میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا مگر اللہ کی رہنمائی شامل رہی اور نیک نیتی سے اُنھوں نے جدّوجہد جاری رکھی تو ان شاء اللہ ضرور کامیاب ہوجائیں گے۔ خوش قسمتی سے ان کے چند ساتھی تجربہ کار اور تعلیم یافتہ ہیں اگر انھوں نے صحیح کارکردگی دکھائی تو یقیناً کامیاب ہوجائینگے۔ اگر کسی کو نوازنا ہے تو خدا کیلئے اعلیٰ اہم عہدوں پر نا بٹھائیں۔جیساکہ ماضی میں ہوا پنجاب 100ملین کا صوبہ ہے صرف لاہور میں درجنوں نہایت اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تجربہ کار ڈاکٹر موجود ہیں ان کو نظرانداز کرکے انجینئر کو سربراہ بنایاگیاجواقربا پروری کی بدترین مثال اور عوام دشمنی کی بدترین سے بھی بدترین مثال تھی۔ ان کو اگر ہائی ویز یا موٹر ویز کا ایم ڈی بنا دیتے تو کسی کو اعتراض نہ ہوتا ۔عمران خان کو کچھ لوگ نمائشی کاموں کا مشورہ دیتے رہے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ وزیر اعظم ہائوس میں نہ رہو۔ یہ نہایت کم عقلی پر مبنی مشورہ ہے ۔ یہ ملک 22کروڑ کی آبادی کا ہے ایک قابل اعتماد ایٹمی اور میزائل کی قوّت ہے۔ آپ کے پاس ملکی سربراہ آتے رہیں گے ان کو خوش آمدید کہنے کے لئے اور عشائیہ دینے کیلئے حسب منصب پروٹوکول دینا پڑتا ہے۔ آپ دوسرے طریقوں سے کفایت شعاری کرسکتے ہیں۔ پورے محل کو ٹھنڈا کرنے کی ضرورت نہیں جہاں آپ کا قیام اور دفتر وغیرہ ہوں ان کو ٹھنڈا کرلیں۔ 26 ڈگری سینٹی گریڈپر درجہ حرارت رکھیں خرچ بھی کم اور آرام دہ بھی۔ نواز شریف نے بھی یہ اعلان کیا تھا اورایک وزیر صاحب میری چھوٹی بیٹی عائشہ کے چھوٹے سے گھر کے سامنے کھڑے ہوگئے تھے کہ میاں صاحب کے لئے مناسب رہے گا میں نے کہا اگر کفالت ہی کرنی ہے تو وزیر اعظم ہائوس کے پیچھے کچی آبادی ہے وہاں قیام کر لیں۔

اس موقع پر ایک سچا واقعہ بتانا چاہتا ہوں۔ 1990-1985 تک چین معاشی طور پر بہت کمزور تھا اور ہم سے بھی زیادہ پسماندہ لگتا تھا مگر لوگ نہایت محنتی، محب وطن تھے ۔ 1949 میں چین آزاد ہوا تھا اور اسکے فوراً ہی بعد اُنھوں نے دیائویوٹائی نامی اعلیٰ درجے کا مہمانوں کا کمپلیکس (21 بنگلہ) بنا لیا تھا جو کسی بھی 5 اسٹار ہوٹل سے کم نہ تھے اور ساتھ میں کئی اعلیٰ عمارتیں پیپلز گریٹ ہالز کے نام سے تیانَمِن اسکوائر پر بنا لیں۔ ایک مغربی صحافی نے این لائی وزیر اعظم سے کہا کہ آپ بے حد غریب ہو، یہ عیاشی کیوں؟ انھوں نے مسکرا کر جواب دیا کہ اگر آپ غریب ہو تو آپ کو فقیر کی شکل اختیار کرنے کی ضرورت نہیں۔ آج وہ گیسٹ ہائوس اور گریٹ ہالز چین کی دولت، ترقی اور عزّت کے آگے معمولی سی چیز بن گئے ہیں۔ ابھی ترکی کے صدر کی مثال آپ کے سامنے ہے انھوں نے کافی بڑی رقم سے ایوان صدر؍شاہی گیسٹ ہائوس کی تعمیر کرائی۔ کچھ لوگوں نے اعتراض کیا تو لاتعداد لوگوں نے حمایت میں بیان دئیے کہ دیکھو ہماری تاریخ کیا ہے ہمارا ماضی دیکھو اور اب صدر کی موجودگی میں ترکی نے جو ترقی کی ہے جو عوام کی سالانہ آمدنی بڑھی ہے (2500 ڈالر سے 11000 ڈالر) وہ دیکھو۔ ہمیں اپنا وقار اور ساکھ قائم کرنی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے عمران خان کوعزت دی ہے اور یہ ان کے لئے بہت بڑا امتحان ہے اگر خدانخواستہ وہ سیدھے راستہ سے بہکے تو ماضی کے حکمرانوںکا انجام ضرور یاد رکھیں۔ عمران خان کو علم ہے کہ ملک میں دو ناسور ہیں ایک خراب معیشت یا مالی حیثیت اور دوم نہایت ناقص فرسودہ تعلیمی نظام۔ آپ چاہیں تو اس میں تیسر ی لعنت رشوت خوری کو شامل کرلیں۔ آپ نے پڑھا ہوگا کہ بلوچستان کا سیکرٹری جس کے گھر سے 70 کروڑ سے زیادہ رشوت کی رقم نکلی تھی وہ ضمانت پر رہا کردیا گیا ہے جبکہ غالباً کئی جیب کترے اور سائیکل چور برسوں سے جیل میں سڑ رہے ہونگے۔ تعلیم کے معاملے میں نئی حکومت کی میں مدد کرسکتا ہوں۔ میں نے دنیا کی تین اعلیٰ یونیورسٹیوں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے۔ ٹیکنیکل یونیورسٹی برلن، ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی ڈیلفٹ (ہالینڈ) اور یونیورسٹی آف لیوون (بلجیم) نے مجھے اپنی ویب سائٹ پر ممتاز اسکالرز کی فہرست میں ڈالا ہے جن میں نوبل انعام یافتہ سائنسدان بھی شامل ہے۔ میری کارکردگی کسی سے پوشیدہ نہیں، میں نے دو سال میں GIKI بنایا جو ملک کا بہترین ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ تھا۔ میں اعلیٰ ٹیکنالوجی، سائنس، اعلیٰ تعلیم، بارشی پانی کو جمع کرنے کا نظام اور سب سے بڑی لعنت فرسودہ سول سروس اسٹرکچر ٹھیک کر سکتا ہوں۔ مجھے نا کسی تنخواہ کی ضرورت ہے اور نہ عہدے کی، ملک کی خدمت کو ہمیشہ حاضر ہوں، پہلے خون، پسینہ دے کر ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا ہے اب جان دے کر اس کی بہتری کے لیے حاضر ہوں۔

(2)اب آئیے اللہ تعالیٰ کے احکامات و انتباہ کے بارے میں کچھ بتاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے صاف صاف کئی آیات میں فرمایا ہے کہ ہم جس کو چاہتے ہیں عزّت دیتے ہیں جس کو چاہتے ہیں ذلّت دیتے ہیں جس کو چاہیں ہدایت دیتے ہیں جس کو چاہتے ہیں گمراہ کردیتے ہیں۔عمران خان صاحب یاد رکھیں کہ اللہ کا وعدہ کبھی جھوٹا نہیں ہوتا دیر یا بدیر وہ ضرور پکڑ لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آل ِعمران، سورۃ النساء، سورۃ المائدہ، سورۃ الممتحنہ میں صاف صاف حکم دیا ہے کہ کافروں، عیسائیوں اور یہودیوں کو دوست نا بنانا ورنہ ذلیل و خوار ہوگے۔ بجائے ان لوگوں سے قرضہ لینے کے آپ تارکین وطن سے پرخلوص درخواست کیجئے وہ بہ آسانی 20,15 بلین ڈالر بھیج دینگے اگر آپ نے World Bank, IMF سے قرضہ لیا تو گلے کا پھندہ مزید تنگ کردیا جائے گا۔ درآمد پر کنٹرول کریں اور جو اربوں روپیہ کی دالیں، پان چھالیہ، پیاز، ادرک، ٹماٹر، لہسن، پھل درآمد کئے جاتے ہیں ان کا نعم البدل ملک میں پیدا کروایئے۔ اللہ پاک آپ کو کامیاب کرے۔ آمین

(نوٹ) پچھلے ہفتے کے کالم میں ثوبیہ خان کی کتب پر تبصرہ کیا تھا اور ڈاکٹر اجمل نیازی اور ضیاء شاہد صاحب اور خالد شریف صاحب، عبدالستار عاصم اور سعید الظفر صاحب کے تبصروں کا ذکر کیا۔ میں جناب ندیم اختر ندیم صاحب کا ذکر کرنا بھول گیا وہ نوائے وقت کے مشہور کالم نگار ہیں اور ثوبیہ خان کے مدرس و ہدایت کار بھی۔ انہوں نے بھی بہت اچھا تبصرہ لکھا ہے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں