جودباؤ میں تھے، وہ دباؤ میں ہیں

August 07, 2018
 

نومنتخب وزیر اعظم عمران خان اگر ایوان کا اعتماد اور پارلیمنٹ میں نیک نامی چاہتے ہیں تو اس کے لئے ایک سادہ سا نسخہ حاضر ہے۔ فخر امام کی طرز کا غیر جانبدار، مضبوط مگر نرم خو اسپیکر بنا دیا جائے اور وزیر اعظم ایوان میں حاضری کو یقینی بنائیں۔ اگر وہ اجلاس کے پہلے چند منٹ سوالوں کے جواب خود دے سکیں تو ان کی مقبولیت ہر طرف پھیل جائے گی۔

عمران خان کی مخالفت میں ساری جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو کر اس عزم کا اظہار کر رہی ہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت کو اسمبلی کے اندر اور باہر احتجاج کرتے ہوئے اطمینان سے چلنے نہیں دیں گے۔ مگر یہ جماعتیں پہلے بھی عمران خان کی مخالفت میں ایک دوسرے سے الگ کب تھیں۔ جب وہ اپوزیشن میں چھوٹی پارٹی کی حیثیت سے موجود تھا اس وقت بھی اس کی مخالفت میں سب یک زبان تھے اور اب بھی ہیں۔ مذکورہ جماعتوں کے قائدین پارلیمنٹ میں تھے۔ تب بھی اس نے تنہا سب کا مقابلہ کیا اور سارا عرصہ حکومت اور اس کی اتحادی پارٹیوں کو دبائو میں رکھا۔ اس کا ایجنڈا بڑا مختصر تھا۔ بدعنوانی کی نشاندہی، اس کے تدارک پر زور، قانون کی حکمرانی اور انتظامیہ کی غیر جانبداری کا مطالبہ، یہ ساری جماعتیں کسی نہ کسی حوالے سے گزشتہ دس برس سے اقتدار میں تھیں۔ عمران خان نے عددی قلت کے باوجود انہیں مسلسل دبائو میں رکھا بالآخر حالیہ انتخابات میں ساری پارٹیوں کے بڑے بڑے لیڈر تحریک انصاف کے عام کارکنوں کے ہاتھوں عبرتناک شکست کھا گئے۔ لیڈر ایوان سے باہر ہیں۔ دوسرے، تیسرے درجے کے سیاستدانوں کا نئی حکومت کے سامنے چراغ کہاں جلے گا؟ حزب اختلا ف کی چھوٹی سی جماعت کا سربراہ ہوتے ہوئے عمران خان ان پر بھاری رہا۔ مرکز اور تین صوبوں کا حکمران عمران خان ان کے دبائو میں کیسے آجائے گا؟

مسلم لیگ نواز کی قیادت نے اپنے لئے جو انتخابی نتائج کا اندازہ لگا رکھا تھا اس کے مطابق ان کے کامیاب امیدواروں کی تعداد 45تھی۔ پیپلز پارٹی قومی اسمبلی کی 30نشستوں کی امید لئے بیٹھی تھی۔ دونوں سابق حکمران جماعتوں کو بالترتیب 19اور 13قومی اسمبلی کی زائد نشستیں مل گئیں۔ یہ ان کیلئے مقام شکر ہونا چاہیے نہ کہ احتجاج کا موقع۔مولانا فضل الرحمٰن نے بڑی آس اور امیدوں کے ساتھ کل جماعتی کانفرنس بلائی۔ کانفرنس کے بعد مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ نومنتخب ممبران اسمبلی حلف نہیں اٹھائیں گے۔ پیپلز پارٹی نے کانفرنس میں شرکت نہیں کی اور سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی مسلم لیگ نواز نے بھی حلف نہ اٹھانے کی رائے سے اتفاق نہ کیا۔ دونوں بڑی پارٹیوں کے لیڈر جانتے ہیں کہ منتخب ہونے والے جس مشکل مقابلے کے بعد کامیاب ہوئے وہ اسمبلی سے دستبرداری کسی صورت قبول نہیں کریں گے اور شاید پہلے اجلاس میں اپنی پارٹیوں سے منحرف ہونے والوں کی لمبی قطار لگ جائے۔

عمران خان بے تیغ ان کی صفوں کو روندتا چلا گیا اب جبکہ تین صوبوں میں اس کی اپنی یا اتحادیوں کی حکومت ہوگی تو وہ کیوں ان کے دبائو میں آنے لگا۔ اگر اس پر زیادہ دبائو ڈالا گیا تو منت، زاری کے بجائے انتخابی میدان میں مقابلے کو ترجیح دے گا۔ جونہی اس کی طرف سے نئے انتخاب کا عندیہ دیا جائے گا تو ایوان میں موجود اپوزیشن ارکان نئے انتخاب کے بجائے حکومت کے ساتھ غیر مشروط تعاون کو ترجیح دیں گے۔ انتخاب کا نعرہ اپوزیشن کا ہتھیار نہیں بلکہ عمران کے ہاتھ میں ترپ کا پتہ ہے جس کو کھیل کر وہ پارلیمنٹ میں قانون سازی کی راہ ہموار کر سکے گا۔کوئی وجہ نہیں کہ پنجاب یا مرکز میں اپوزیشن جماعتیں مل کر بھی اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر یا وزارت عظمیٰ پر ہاتھ صاف کر سکیں۔ اس طرح کے کسی ایڈونچر کی صورت میں نئے انتخاب کی راہ کھلے گی جو ایوان میں پہنچ جانے والے تھکے ماندے لیگیوں کو ہرگز منظور نہ ہو گی۔ تحریک انصاف تازہ دم اور پُرجوش ہے۔ صوبوں کی حکومتیں اس کے ہاتھ میں ہوں گی۔ اس کے ممبران نیا میدان سجانے کیلئے خوش دلی سے آمادہ ہو جائیں گے۔

ان حالات کو سامنے رکھیں تو اگلے پانچ سال کپتان کیلئے راوی چین لکھتا ہے، وسط مدتی انتخاب اس کی مرضی پر منحصر ہے اپوزیشن کی خواہش یا دبائو پر نہیں۔ رہ گئے مولانا فضل الرحمٰن اور اسفند یار ولی تو عمران خان کو انہیں پیش کش کرنی چاہیے کہ وہ کتنے حلقوں میں نیا انتخاب چاہتے ہیں۔ جتنے حلقے وہ تحریک انصاف سے مانگیں اتنے ہی حلقوں پر وہ اپنے ممبران کو بھی استعفیٰ کیلئے کہیں۔ فرض کریں فضل الرحمٰن کو اپنے دو حلقوں میں نیا انتخاب چاہیے، تحریک انصاف کے دونوں ممبران استعفیٰ دے کر پھر سے انتخاب لڑیں گے مگر جواباً ایم ایم اے بھی اپنے دو حلقوں سے دستبردار ہو جائے۔ اس طرح چار حلقوں میں از سر نو انتخاب کروا لیا جائے۔ اسی شرط کے ساتھ جس پارٹی کا دل چاہے وہ ’’سیاسی ڈوئیل‘‘ لڑنے کیلئے میدان میں آئے۔ مزید اطمینان اور شفاف انتخاب کیلئے انہیں پیشکش کی جاسکتی ہے کہ عدالتی افسروں کے بجائے ان حلقوں میں سراج الحق کی قیادت اور جماعت اسلامی کے کارکنوں کی حفاظت میں الیکشن منعقد کروا لیں تاکہ ریاستی اداروں پر ان کا اعتراض بھی ختم ہو جائے شرط صرف وہی ایک رہے گی کہ مولانا کیلئے دو حلقے خالی ہوں گے تو دو مولانا کی طرف سے بھی خالی کئے جائیں گے۔ ان شرائط کے بعد پوری قوم دیکھے گی کہ میدان چھوڑ کر بھاگتا کون ہے۔

نئے حکمران کے حلف اٹھاتے ہی پاکستانی قوم ایک نئے تجربے سے روشناس ہوگی۔ وہ ایسا حکمران دیکھے گی جو اپنے لئے ملیں لگائے، کارخانے بنائے نہ کمیشن اور کک بیک کی خاطر غیر پیداواری اخراجات کرے گا۔ وہ قوم کی ترقی، انصاف، تعلیم اور صحت کیلئے کام کر رہا ہو گا۔ معیاری یونیورسٹیاں بن جائیں گی۔ نوجوان جونیئر افسروں کو سینئر زکے سروں پر نہیں بٹھایا جائے گا۔ غیرملکی سربراہوں کی خوشامد اور چاپلوسی نہیں ہو گی۔ سب کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات استوار ہوں گے۔ پولیس، عدل اور احتساب کے نظام کو بہتر اور موثر بنادیا جائے گا۔ اس لئے کہ حکمران کو ان کے مضبوط ہونے سے کوئی ذاتی مسئلہ نہیں۔ بعض نقادوں کا خیال ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کی پہل کاری سے عمران خان سیاست میں تنہا رہ گیا ہے مگر 1996ء میں جب سے اس نے انصاف پر مبنی تحریک کی بنیاد رکھی اس کے ساتھ تھا کون؟ یہ سارا سفر اس نے تنہا طے کیا ہے مگر یہ ایسی تنہائی بھی نہ تھی۔ دوسرے قافلوں نے اس کی ہمنوائی نہ کی مگر اس کا اپنا قافلہ بنتا گیا جو بڑھتے بڑھتے اس حد تک آچکا ہے کہ موجودہ انتخاب میں اس نے ’’ایک کروڑ اڑسٹھ لاکھ‘‘ ووٹ حاصل کئے جو پاکستان کی پوری تاریخ میں کسی بھی جماعت کو ملنے والے ووٹوں سے زیادہ ہیں۔ عجیب تنہا ہے جس کے پہلو میں تقریباً سترہ ملین لوگ چل رہے ہیں۔ جو سب اس سے محبت کرتے اور اسے اپنا رہنما جانتے ہیں۔22برس کی مسلسل اور پُرمشقت جدوجہد کے باوجود ان کی آنکھوں میں چمک اور چہرے روشن ہیں۔ نصب العین کو پالینے کی امیدوں نے انہیں کہیں زیادہ پُرجوش بنا دیا ہے۔ اس قافلے میں کم از کم ایک کروڑ نوجوان ہیں جو طویل مسافت کو طے کرنے کا عزم اور رکاوٹوں کو اکھاڑ پھینکنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

کپتان کا سورج طلوع ہورہا ہے۔ برسوں جگمگانے اور وطن کو روشن رکھنے کیلئے اس کا ایک ماضی ہے وہ پردوں میں پروان چڑھا نہ اونچی دیواروں میں قید رہا۔ کھلے میدان میں پوری دنیا کے سامنے وجیہہ، قدآور، خوبصورت، مرکز نگاہ۔ تقریباً ہر پاکستانی اس کے ارادوں کو جانتا اور اس کی کامیابیوں سے آگاہی رکھتا ہے۔

جب وہ کہتا ہے کہ پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنائوں گا تو اس میں کوئی ابہام نہیںوضاحت کرتے ہوئے کہا کہ قانون کی حکمرانی، ہر شخص برابر کا شہری اور رحم دل حکومت جو طاقت اور جبر سے نہیں، رحم و مروت سے نظام کار چلایا کرے گی۔

حضرت ابوبکر صدیقؓ نے عنانِ خلافت سنبھالتے ہی ایک ذمہ دار حکومت کا چارٹر جاری کیا۔ فرمایا، میں تم میں سب سے بہتر نہیں مگر مجھے امیر مقرر کیا گیا ہے۔ میرے نزدیک آپ کا کمزور اس وقت تک طاقتور ہے جب تک کہ میں اس کا حق نہ دلا دوں اور طاقتور کمزور ہے جب تک کہ وہ دوسرے کا حق واپس نہ کردے۔ میں جب تک دین کے مطابق انصاف کے ساتھ چلوں تو میرا ساتھ دیں جب میں غلط ہو جائوں تو مجھے سیدھا کر دیں۔

عمرفاروقؓ نے فرمایا، میری ریاست میں فرات کے کنارے ایک کتا بھوکا مر جائے تو مجھے اللہ کے سامنے اس کا جواب دینا ہے۔ یہ احساس ذمہ داری ہے جو حکمرانوں کو سیدھی راہ پر رکھتا ہے۔

عمران کا تقابل ہم قرون اولیٰ کے مسلمان حکمرانوں ساتھ نہیں کر سکتے ہمیں موجودہ سیاستدانوں کے مقابلے میں رکھ کر دیکھنا ہے۔ زرداری اور نواز شریف کے ساتھ تقابل بہت ہلکی بات ہے۔ عمران خان کا مہاتیر محمد، طیب اردگان اور یورپ کے بہترین حکمرانوں کے ساتھ ضرور تقابل کریں گے۔ ان سے کم تر پایا تو وہ امیدوں سے فروتر رہا ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں